بابا جی محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ
01 جنوری 2020 (16:30) 2020-01-01

25 دسمبر پر یومِ قائدؒ کے موقع پر نصیرشیرازی نے اپنے اوپن فورم میںدعوتِ صدارت و خطابت دی۔ سرد موسم کے اس سرد ترین دن میں کوشش کے باوجود میں سرد مہری نہ دکھا سکا۔ اس دعوت کو قبول کرنے کی دو اہم وجوہات تھیں، ایک قائد اعظم محمد علی جناح علیہ الرحمۃ کا نام ِ نامی ، اور دوسری اور اہم وجہ وہاں معلمین کا اجتماع تھا۔ میں ایک معلم کا بیٹا ہوں، میرے والد بھی معلم تھے اور دادا، نانا ، دادا نانا کے سب بھائی بھی معلم، سب چچا تایا، پھوپھا، غرض یہ خاندان معلمین کا خاندان ہے…اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میرے مرشد حضرت واصف علی واصفؒ بھی معلم تھے، لاہور انگلش کالج میں صبح و مسا تعلیم و تدریس کی محافل بپا رکھتے، صبح اہلِ ظاہر کو انگریزی پڑھاتے اور رات گئے باطن کی خوشبو کے متلاشیوں کو باطنی تعلیم سے آراستہ کرتے۔ گویا تعلیم اور علم ‘ دونوں کی ترویج میں عمر بھر کوشاں رہے… شب و روزکی ان مساعی کے صلے میں بلآخر قدرتِ کاملہ نے انہیں عمر ِ جاوداں عطا کی۔ میں نے جانا کہ معلم دراصل ایک مفکر ہوتا ہے، اس کے ذمے ایک فکر کی ترسیل ہے۔ ایک نسل سے دوسری نسل تک اور پھر مابعد تک ‘وہ ایک طرزِ فکر کا محافظ ہوتا ہے۔ لوگ ڈاکٹروں کو مسیحا کہتے ہیں، میں کہتا ہوں‘ مسیحا تو معلم ہوتا ہے۔ وہ بیمار روحوں اور لاچار اخلاق و احوال کو شفایاب کرتا ہے۔ ہم یہ آیت پڑھتے ہیں، اور گزر جاتے ہیں: ومن احیاھا فکانما احیاالناس جمیعا… اور جس نے ایک شخص کو زندگی عطا کی‘ اس نے گویا پوری انسانیت کو زندگی عطا کردی۔ یہاں جان پچانے والا ترجمہ دراصل جان بچانے کی کوشش ہی لگتی ہے،’’ احیاھا ‘‘کا لفظی ترجمہ تو یہی ہے’’ زندہ کرنا‘‘۔ صاحبو! علم زندگی ہے ، اور جہالت موت۔ معلم علم عطا کرکے ایک انسان کو جہالت کی موت مرنے سے بچا لیتا ہے، وہ اسے واقعی ایک نئی زندگی عطا کرتا ہے… اگر اس علم کی کرن’’الحی‘‘ کے عرش کے کنگرے تک جا پہنچے ‘ تو عین ممکن ہے صاحبِ علم الحی القیوم کے اذن سے حیات جاوداں سے ہمکنار ہو جائے۔ معلم قوم کا ایک قیمتی اثاثہ ہے، کہ معلم ہی طرزِ فکر کو تشکیل دیتا ہے۔ قومیں طرزِ فکر سے بنتی ہے۔ معلمِ روحانی کا منصب یہ ہے کہ وہ اپنے متعلم کو مادّی طرزِ فکر سے نکال کر روحانی طرزِ فکر میں داخل کر دے۔ سارے اخلاقی محاسن و کمالات روحانی طرزِ فکر میں میسر ہوتے ہیں۔ معلم معمارِ اخلاق ہوتا ہے، اس لیے قوموں کی تعمیر میں اسے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ معلم اور مولوی اگر قبلہ رو ہو جائیں تو صفیں درست ہونے لگتی ہیں۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اگر ان کا قبلہ درست ہو جائے تو قوم کا قبلہ درست ہو جائے گا، قبلہ تو ہمیشہ درست ہی ہوتا ہے ، بس یہ غافل انسان ہے جو وقتی مفاد ات و ترغیبات میں الجھ کر غیر درست راستوں کی راہ لیتا ہے۔

ہم ساری عمر قائد اعظمؒ کو بابائے قوم لکھتے رہے ہیں، لیکن آج مجھے اجازت دیں ‘ میں انہیں بابا جی قائد اعظمؒ کہہ کر یاد کروں۔ اِس تقریب میں جب مقررین قائد اعظمؒ کے ذاتی واقعات بیان کر رہے تھے تو سچ پوچھیں‘ میرے قلب و روح میں ایسی ہی کیفیات مرتب ہورہ تھیں جیسے ہم کسی ولی اللہ کی یاد میں کوئی مجلس بپا کرتے ہیںاور روحانی حظ اٹھاتے ہیں۔ مجھے آج قائدِ اعظمؒ کے روحانی تعارف کے حوالے سے کچھ عرض کرنا ہے۔ کہتے ہیں ولی را ولی می شناسد… پیر جماعت علی شاہؒ نے جب قائد اعظمؒ کو قرآن کریم اور جائے نماز کا تحفہ دیا اور قائدِ اعظمؒ نے اپنے جوابی خط میں ان تحائف کی عین درست وجہ بیان کر دی تو سید جماعت علی شاہؒ کے تاریخی الفاظ تھے’’ خدا کی قسم! محمد علی جناح اللہ کے ولی ہیں‘‘۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ نے قائدِ اعظمؒ کو صاحبِ حال اولیا میں شمار کیا ہے۔آپؒ فرماتے ہیں’’ جس طرح ہمارے ہاں طریقت کے سلاسل ہیں‘ چشتی، قادری، نقشبندی، سہروردی وغیرہ اور ہر سلسلہ کا کوئی بانی ہے‘ اسی طرح قائدِ اعظمؒ سے ایک نئی طریقت کا آغاز ہوتا ہے اور وہ طریقت ہے پاکستانی، اس طریقت میں تمام سلاسل

اور تمام فرقے شامل ہیں‘‘ آپؒ نے فرمایا کہ پاکستان بچانے کیلئے ہمیں اتنا ہی اسلام کافی ہے ‘جتنا قائدِ اعظمؒ کے پاس تھا۔ یہ ایک بہت بلیغ بات ہے۔ اسلام جس کردار کا تقاضا کرتا ہے وہ کردار قائدِ اعظمؒ کے پاس تھا۔ اسلام دینِ صداقت و امانت ہے اور قائدِاعظمؒ پیکرِ امانت و صداقت تھے۔

پاکستان بننے کے بعد جب احباب نے قائدِ اعظمؒ سے دریافت کیا کہ آپ کو اِس قدر وثوق کیسے حاصل تھا کہ پاکستان معرض وجود میں ضرورآئے گا؟ قائدِ اعظمؒ نے مسکراتے ہوئے فرمایا جب مجھے رسولِ کریمؐ نے بتا دیا کہ تم پاکستان بناؤ گے تو مجھے یقین ہو گیا کہ پاکستان میری زندگی ہی میں بنے گا۔ اِس کے سیاق و سباق میں ایک مشہور ثقہ واقعہ ریکارڈ پر موجودہے۔ لندن میں جب قائد اعظمؒ قوم سے بددل ہو کر سیاست سے کنارہ کش ہو چکے تھے تو آپؒ فرماتے ہیں کہ ایک رات مجھے کمرے میں ارتعاش سامحسوس ہوا، میرا پلنگ جیسے کسی نے جھنجھوڑ دیا ہو،کمرہ ایک عجیب خوشبو سے بھر گیا، مجھے ایسے لگا جیسے کمرے میں کوئی موجود ہے، میں نے آواز دے کر پوچھا Who are you? ، انگریزی ہی میں جواب آیا، I am your prophet ، بعد کی تفصیلات سے اتنا معلوم ہوا کہ رسولِ کریمؐ کی طرف سے قائد اعظمؒ کی ڈیوٹی لگائی گئی، بس پھر کیا تھا، انگریزی میں کہتے ہیں … وہ آیا ، اس نے دیکھا اور فتح کر لیا۔ قائد اعظمؒ نے جنہیں یہ واقعہ سنایا اُنہیں سختی سے یہ تاکید کی کہ اُن کی زندگی میں اِسے نشر نہ کیا جائے۔ اولیا اللہ کو ایسی ڈیوٹیاں بارگاہِ رسالتؐ سے تفویض کی جاتی ہیں، تاریخی اعتبار سے دیکھیں توبرصغیر میں حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کو بھی ایسا ہی بارِ امانت سونپا گیا تھا۔ اللہ کے ولی بتاتے ہیں کہ جاگتے میں رسولِ کریمؐ کی زیارت کااعزاز صرف ایک ولی اللہ کا نصیب ہوتا ہے۔ کشف المحجوب کے اصول ہائے طریقت کے مطابق ولی پر اپنا اخفا فرض ہے، چنانچہ قائدِ اعظمؒ نے اپنے اس روحانی مشاہدے کو اخفا میں رکھا اور اپنی زندگی میں اسے مشتہر نہ ہونے دیا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اپنا روایتی مکتبہ فکر چھوڑ قائد اعظمؒ کے جانثاروں میں شامل ہو گئے، مولانا کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ مجھے رسولِ کریمؒ کی زیارت ہوئی اور مجھے آپؐ نے قائد اعظمؒ کا ساتھ دینے کا حکم دیا تھا۔ قائداعظم کا نمازِ جنازہ پڑھانے کی سعادت بھی مولانا کے حصے میں آئی۔

یہ بات اس سے پہلے بھی کئی بار دہرا چکا ہوں کہ ہمیں نظریۂ پاکستان کی ترویج و اشاعت قائد اعظمؒ کے حوالے سے کرنی چاہیے۔ نظریہ ٔپاکستان کو عام طور پر علامہ اقبال کے حوالے سے پیش کیا جاتا ہے لیکن علامہ اقبالؒ کے بیانات میں لفظ پاکستان موجود نہ تھا، ویسے اس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی… ماسوائے ناقدین و منافقین کے۔ بچہ پہلے پیدا ہوتا ہے ، اس کا نام بعد میں رکھا جاتا ہے۔ علامہ اقبالؒ لکھتے ہیں‘ وہ صاحبِ کشف المحجوب حضرت علی ہجویری المروف داتا گنج بخشؒ کے مزار اقدس پربعد از نماز فجر مراقب تھے کہ دل میں خیال اِلقا ہوا‘ برصغیر میں جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے‘ انہیں ایک الگ سیاسی وحدت اور شناخت دی جانی چاہیے تاکہ مسلمانِ ہند وہاں اپنے دین کے بتائے ہوئے اجتماعی ضابطوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔حکیم الامت علامہ اقبالؒ ایسے عاشقِ رسول ؐدرویش ساری عمر خود کو جناح کا ایک ادنیٰ سپاہی قرار دیتے رہے۔ نظریۂ پاکستان کی جامع تعریف قائد اعظم ؒنے کی،اس تعریف میں لفظ کلمہ، اسلام اور پاکستان تینوں موجود ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ انہی تین عناصر سے مل کر نظریہ ٔپاکستان کی تعریف مکمل ہوتی ہے۔ قائد اعظم ؒکا ایک معروف بیان ہے کہ پاکستان اسی دن بن گیا تھا جس دن برصغیر میں پہلا مسلمان کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوا تھا۔ نظریہ ایک مجرد حقیقت ہوتی ہے ، اسے جب تک کوئی مجسم دلیل میسر نہ آئے نظریہ ہوا ہو جاتا ہے ،ہائی جیک ہو جاتاہے ، اور بالاآخر متنازعہ ہو جاتا ہے۔ معلمین اور مرتبین نصاب سے درخواست ہے کہ نظریہ ٔپاکستان کو قائد اعظمؒ سے منسوب کر کے پڑھایا جائے۔ اس نظریے کے شایان شان یہی ہے کہ اس کا انتساب بھی قائدِ اعظمؒ کے کردار کی طرح شاندار ہو۔ پاکستان مشیت ِ الٰہیہ کا ایک جغرافیائی اظہار ہے اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ اس کارِ خاص کیلئے ایک تکوینی انتظام ہیں۔ یہ ازلی فیصلے ہیں۔ آج بھی ہر سال شمسی کیلنڈر میںیوم آزادی ،قائد اعظم ؒکا یوم پیدایش اور ان کا یوم وصال ہفتے کے ایک ہی دن آتا ہے۔ یہ تکوین اور تقویم قیامت تک کیلئے ہے۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم قائد اعظمؒ کی عظمت کو اجاگر نہیں کر سکے، ہم ان کے روحانی مقام مرتبے سے بھی قوم کو آگاہ نہ کر سکے۔ ہم ایسے ظاہر پرست لوگ ان کے کوٹ پینٹ، ٹائی اور سگار میں الجھے رہے، اوراُن سے وہ کردار اَخذ نہ کر سکے جس کردار کا تقاضا ہم سے ہمارا دین کرتا ہے۔ آج ہم اپنے بابا جیؒ کے اقوال سے یکسر غافل ہیں۔ پاکستان جس مقصد کیلئے بنایا گیا‘ اُس مقصد کے عرفان اور حصول کیلیے ہمیں قائد اعظمؒ کے خطبات اور اقوال سے رہنمائی لینی چاہیے۔ دنیا میںہر قوم اپنے بابائے قوم سے فکری راہنمائی حاصل کرتی ہے۔ پاکستان کی حفاظت نظریۂ پاکستان کی حفاظت سے ممکن ہے، اور نظریۂ پاکستان کی حفاظت بانیانِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور حکیم الامت علامہ اقبالؒ کی عزت و ناموس کی حفاظت سے ممکن ہے۔ ہم محسن کشن قوم نہیں کہ اپنے محسنین کے احسانات بیان نہ کریں، یہ دن اپنے محسن کے احسانات بیان کرنے کا دن ہے۔ معلمینِ کرام! قائدِاعظم ؒ ہمارے معلم بھی ہیں۔ ملکی پالیسیاں بناتے ہوئے قائدِاعظمؒ کے بتائے ہوئے راہنما اصولوں سے راہنمائی لینی چاہیے۔ اگر قائد اعظمؒ کے خطبات حرزِ جاں بنا لیے جائیں تو قرار داد مقاصد نہ بھول سکتے ہیں اور نہ اسے کبھی متنازعہ ہی بنا سکتے ہیں۔ فکری تنازعات سے نکلنے کا واحد راستہ اپنے محسن کے ساتھ فکری وفاداری ہے، اوراس سے فکری و روحانی اکتسابِ فیض ہے۔ قائدِ اعظمؒ کے روحانی مقام کی شہادت اس سے بڑھ کو اور کیا ہو سکتی ہے کہ آج بھی سالکینِ طریقت کو خواب میں قائدِ اعظمؒ کی زیارت ہوتی ہے۔

( یوم قائد ؒ کے موقع پر معلمین کے ایک اجتماع سے گفتگو)


ای پیپر