نیب ترمیمی آرڈیننس اورانسانی ہمدردی کے تقاضے
01 جنوری 2020 (16:30) 2020-01-01

ہم دیکھ رہے ہیں کہ حکومت کی جانب سے نیب ترمیمی آرڈیننس کے فیصلے کی بعد سے اپوزیشن کی جانب سے ملک بھر میں ایک شور سابرپا ہے،جبکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس آرڈیننس میں ترمیم کی وجہ سے ان لوگوں کو خوش ہونا چاہیے اور خاص طورپر ایسے سیاستدانوں کو خوش ہونا چاہیے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا اس کے باوجود ہمیں بلاوجہ خوف زدہ کیا جارہاہے اس آرڈیننس کی وجہ سے بیوروکریٹس،بزنس مین طبقہ اور وہ لوگ جنھوں نے ماضی اور حال میں حکومتی عہدے سنبھالے اور نیک نیتی کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دی انہیں نیب اب زیادہ خراب نہیں کرسکے گا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات اب سامنے آئی ہے کہ نیب کے اصل قانون میں کچھ ایسی شقیں موجود ہیں جو آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق جس میں شخصی آزادی نمایاں ہے اس کی نفی کی گئی ہے ،اب اس ترمیم کے ذریعے اس صورتحال کو بہتر کرنے کی کوشش کی گئی ہے اگران ترامیم کے نفاذسے کچھ نئے معاملات پیدا ہوتے ہیں تو اسے اسی وقت حل کیا جاسکتاہے جب یہ آرڈیننس پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے آئیگا۔ ماضی میں اگر بغیر واضح ثبوت کے ایک عہدیدار کے فیصلے سے حکومت کو مالی نقصان ہواہوایسے شخص کو نیب پکڑ کر کم ازکم نوے دن کے لیے اپنی تحویل میں رکھ سکتاتھااگرچہ اب بھی نیب کے پاس گرفتاری کا اختیار موجود ہے کہ وہ شک اور ثبوت کی بنیاد پر کسی بندے کو پکڑ کر ریمانڈ کے لیے اپنے پاس رکھ سکتاہے مگر اس کے لیے ان کے پاس واضح ثبوت ہونا چاہیے کہ اس بندے نے یا اس کے قریبی ساتھیوں نے اپنے اقتدار کے دوران واضح فائدہ اٹھایا ہو،لہذاایسے لوگ جنھوں نے ماضی میں سرکاری عہدے سنبھالے اور گرفتارہوئے توان کی رہائی ممکن ہوجائے گی خواہ وہ اپوزیشن میں سے کوئی ہو یا پھر کسی اور طبقے سے مگر شرط یہ ہے کہ اس کی جانب سے کوئی ہیراپھیری نہ ہو یعنی نیب اگر یہ ثابت نہ کرسکے کہ اس شخص نے یا اس کے قریبی ساتھیوں نے کوئی ناجائز فائدہ اٹھایاہو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس نیب ترمیمی آرڈیننس میں حکومت کی نیت میں کوئی کھوٹ نہیں ہے بلکہ حکومت نے اس ترمیم کو کرکے اس آرڈیننس میں انسانی ہمدردی کے عنصر کو ڈالا ہے تاکہ نیب کی جانب سے جو ایسے لوگوں میں خوف کی فضا قائم ہے اس میں کچھ کمی لائی جاسکے اور بہت سے بے گناہ لوگوں کو ریلیف مل سکے ہم دیکھتے ہیں کہ کسی غلط فہمی کی وجہ سے بہت سے لوگ نیب کی حراست میں مہینوں پڑے رہتے ہیں اور ان کا کچھ نہیں بن پاتانہ تو ان کا کیس احتساب عدالتوں میں جاتاہے اور نہ ہی رہائی مل پاتی ہے اور وہ بے چارے نیب کے ریمانڈ اوجوڈیشل ریمانڈمیں الجھے رہتے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ایم ایل این اور پیپلزپارٹی کے بہت سے رہنماناراض ہوتے تھے جب ان کے کسی لیڈر کو نیب کی جانب سے پکڑ لیا جاتاتھاجس پر وہ یہ الزام لگاتے تھے کہ یہ ایک سیاسی گرفتاری ہے اوریہ کہ پی ٹی آئی کی حکومت نیب سے ملکر اپنے سیاسی مخالفین کو ہراساں کررہی ہے اور بعض دفعہ تو یہ سیاسی جماعتوں والے یہ بھی کہتے تھے کہ نیب کا یہ قانون مشرف کا بنایا ہواسیاہ قانون ہے اب جب کہ حکومت نے نیب کے قانون میں چند اصلاحات کی ہیں تواس اصلاح پر بے جااعتراضات بھی آناشروع ہوچکے ہیں جس سے ظاہر ہوتاہے کہ حکومت کوئی بھی کام کرے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے اس فیصلے کی مخالفت کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ شور مچانے والے یہ ہی وہ لوگ ہیں جو نیب قوانین میں ترمیم لانے کا مطالبہ کرتے رہے اور اب جب ان کا ایک دیرینہ مطالبہ پوراکیا جارہاہے تو اس پر بھی پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کا شوروغوغا سمجھ سے بالا تر ہے جنھوں نے ٹھان رکھی ہے کہ حکومت کی جانب سے کیے گئے تمام فیصلے خواہ

وہ ان کے حق میں ہوں یا پھر ملکی مفاد میں حکومت کے تمام معاملات کو آڑے ہاتھوں لیناہے اور ان کے تمام فیصلوں کو منفی انداز میں عوام کے سامنے پیش کرناہے جب کہ یہ لوگ اگر اس نیب ترمیمی آرڈیننس کا مطالعہ کرلیں یعنی ایک بارپڑھ لیں تو انہیں اندازہ ہوجائے گاکہ حکومت نے اس عمل سے کسی کو کوئی این آر اویا فائدہ دینے کی کوشش نہیں کی ہے اورنہ ہی کسی حکومتی بیڑے میں شامل لوگوں کو اس میں تحفظ دیا گیاہے،بلکہ آرڈیننس کے تحت نیب خود بھی بغیر کسی رکاوٹ اور

خوف کے اپنا کام سرانجام دے سکے گی ،اس عمل سے نہ صرف ملک کا معاشی ماحول درست ہوگا بلکہ اس سے ملک میں جاری تجارتی عمل بھی تیزی سے پھل پھول سکے گا،اس عمل سے تاجر برادری کے خدشات کو ضرور کم کیا گیاہے مگر چیئرمین نیب کسی بھی وقت کسی کی ایک عرصے سے بند انکوائری کو کھول سکتے ہیں جو کہ ایک بہت بڑا اختیار ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن کے کچھ لوگ لوگ بغیرکسی تصدیق کے اس لیے واویلا شروع کردیتے ہیں کہ ان کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں کہ وہ بس حکومت کے ہر ایک فیصلے میں اپناشور شرابا جاری رکھیں ، جب کہ ایک وقت یہ بھی تھا کہ یہ ہی مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے لوگ آئے روز نیب کے خلاف ایک محاذ کھولے رکھتے تھے، خیر عوام یہ بات اب اچھی طرح جان چکی ہے کہ نیب اپنی ذمہ داریوں کو بھرپور انداز میں اداکرنے کے لیے مکمل آزاد ہیں کرپشن کے خلاف جہاد میں حکومت اور نیب اپنے اپنے انداز میں اسی طرح کام کررہے ہیں ۔ حالانکہ یہ لوگ اس ترمیمی آرڈیننس کا مطالعہ کرے تو انہیں اندازہ ہوگا کہ نیب کے قانون میں ترمیم سے اپوزیشن پارٹیوں سے تعلق یا ہمدردیاں رکھنے والوں کوبھی اس ترمیم سے فائدہ حاصل ہوگااگرچہ اپوزیشن پارٹیوں کے کچھ لوگ اس بات کو جانتے ہوئے بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس آرڈیننس میں ترمیم کے بعد ملک میں بزنس مین طبقہ بھی خاصہ خوش دکھائی دیتاہے کیونکہ یہ فضاہموارہوئی ہے کہ اس عمل کے بعد بزنس مین طبقہ اوربیوروکریٹس اب اطمینان کے ساتھ اپنا کام کرسکے جبکہ وہ سرمایہ کار لوگ جوملک میں سرمایہ کرنے سے ڈرنے لگے تھے ان کا خوف بھی اب دور ہوچکاہے یعنی ملک میں سرمایہ کاری بڑھنے کا ماحول بھی مزید سازگار ہوگا۔دوسری جانب یہ بات جاننابھی ضروری ہے کہ نیب کاجو آرڈیننس ہوتاہے وہ صرف مخصوص مدت کے لیے ہوتاہے اوراس کی مدت سے اختتام سے پہلے اسے پارلیمنٹ میں پیش کرنا ہوتاہے اسی طرح جب یہ آرڈیننس اپنی مخصوص مدت کے بعد پارلیمنٹ میں آئیگا تواپوزیشن اس میں مزید بہتری لانے کے لیے اس قانون میں تبدیلیاں لاسکتی ہے اور اپنے ہر طرح کے خدشات کو دور کرسکتی ہے لہذا اس آرڈیننس کے جاری ہونے سے پارلیمنٹ کی بالادستی کی نفی نہیں ہوسکتی کیونکہ آرڈیننس جاری کرنے کااختیارخود آئین نے حکومت کو دیاہے۔


ای پیپر