نا ممکنات کو ممکنات میں تبدیل کرنے والے ڈاکٹر امجد ثاقب
01 جنوری 2020 (16:29) 2020-01-01

یہ دیوانے کا خواب یا کسی حاکم کی حقیقت سے کوسوں دور کی بڑھکیں نہیں بلکہ یہ حقیقت ہے۔ حقیقت جو آنکھوں سے دیکھی جا سکتی ہے اور پھر اپنی مٹی کے ان جانثاروں پر فخر محسوس ہوتا ہے کہ ابھی بھی میری مٹی میں زرخیزی موجود ہے جو ڈاکٹر امجد ثاقب جیسے سپوت پیدا کر نے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے قرضوں سے لوگوں کی زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے والے’’اخوت‘‘ کو ویسے تو دنیا کے سب سے بڑے بلا سود قرضے دینے والے ادارے کی فہرست میں جگہ مل گئی ہوگی لیکن مرشد کامل جناب ملک خالد یعقوب کے بقول:’’وہ وقت بہت قریب ہے کہ ڈاکٹر امجد ثاقب کو بھی ان کی انسانی خدمات کے عوض نوبل ایوارڈ سے نوازا جائے گا‘‘۔ یہ جس محبت، خلوص ، مستقل مزاجی اورعاجزی کے ساتھ نوبل کاز پر کام کر رہے ہیں بلا شبہ یہ ان ہی کو سجتا ہے اور خلوص نیت کے ثمرات کی بدولت عام اور غریب لوگوں کو قرضہ دینے والی رقم اب اربوں سے آگے کھربوں کو چھو رہی ہے اور حیرت کو گم کر نے والی بات تو یہ ہے کہ قرضے کی رقم کی واپسی کی شرح 99.9فیصد ہے ۔ میں خود کئی ایسے لوگوں کی کامیابیوں کی داستانوں کا گواہ ہوں جنہوں نے اخوت سے قرضہ لیا اور خلوص نیت کے ساتھ کام شروع کر دیا اور پھر ستر مائوں سے زیادہ محبت کر نے والے رب نے ان کی سچائی، ایمانداری اور خلوص نیت کو دیکھتے ہوئے ،انہیں سرفراز فر مایا اور وہ قرض کی قسط کے علاوہ اپنی استطاعت کے مطابق علیحدہ سے کچھ رقم جذبہ اخوت کے تحت اپنے باقی بھائیوں کی امداد کے لئے اخوت کے اکائونٹ میں جمع کرواتے ہیں اور ان میں اس جذبے کو فروغ دینے والے کا نام بھی ڈاکٹر امجد ثاقب ہے ۔

قارئین !صرف بلا سود آسان قرضوں سے آگے نکل کراخوت یونیورسٹی کاقیام جہاں غریب اور عام انسان کا بچہ کسی بہترین ادارے جیسی تعلیم اور سہولیات سے مستفیدہو کر معاشرے کا ایک کامیاب انسان بن سکے اور پھر یہ اپنی فیس بھی کامیاب ہوکر ،کاروبار یا کسی ملازمت کے دوران دے گا۔ غریب اور عام آدمی کے بچوں کو کامیابی کے ذرائع باہم پہنچانے کے لئے اتنے بڑے، مشکل اور کٹھن کام کا سہرا بھی ڈاکٹر امجد ثاقب کے سر سجتا ہے جنہوں نے نا ممکن کو ممکن بناتے ہوئے کچھ ہی عرصے میں ایک عظیم الشان اور کسی بڑے پرائیویٹ تعلیمی ادارے جیسی سہولیات سے مزین اخوت یونیورسٹی کی بنیاد رکھی اور وہ اب آخری مراحل میں ہے ۔ اس میں2016سے کالج کا آغاز بھی ہوا ہے جہاں پورے ملک سے میرٹ پر 400بچے لئے گئے ہیں جنہیں بورڈنگ سمیت ایچی سن جیسی تمام سہولیات بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہیں گیارہویں اور بارہویں کی کلاسزمیں سائنس کے مختلف گروپس میں بچے زیر تعلیم ہیں اور صبح سے شام تک ان کی تمام ایکٹوٹیزکو سن کو اور دیکھ کر انسان اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ چھوٹے اور کچے گھروں سے آئے یہ بچے مستقبل کے بڑے انسان بنیں گے۔ صبح سب سے پہلے فجر کی نماز با جماعت اداء کی جاتی ہے ، اس کے بعد ورزش وغیرہ، اس کے بعد ناشتہ اور پھر یونیفارم تبدیل کر نے کا وقت ، صبح 8بجے کلاسز اور پھر نماز ظہر اور کھانا پھر آرام کا اور کھیل کا وقت ، پھر رہائشی کمروں میں اساتذہ کے زیر نگرانی پڑھائی ، نماز عشا اور کھانا اور پھر جو پڑھنا چاہے پڑھ لے اور جوسونا چاہے سو سکتا ہے ۔ کھانے کا تمام مینو معروف نیوٹریشن سے منظور ہوتا ہے اور حفظان صحت کے تمام اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سب امور سر انجام دئیے جاتے ہیں ۔بچوں کی اخلاقی تربیت کے لئے علیحدہ سے نظام متعار ف کر وایا گیا ہے اور روزانہ کی بنیادوں پر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے ۔

قارئین محترم ! اخوت کالج کی جانب سے ری یونین کے موقع پر ہم بھی مدعو تھے اور اس دن اس قدر خوبصورت، کشادہ اور اپنے اندر ایک کشش رکھنے والے اتنے بڑے تعلیمی ادارے جو بغیر کسی فیس اور دوسرے اخراجات کے بغیر تعلیم دیتا ہے کو دیکھ کر دل و روح کو تسکین حاصل ہو رہی تھی ۔ دنیا بھر سے معروف شخصیات اور زعما یہاں موجود تھے اور بالخصوص میری مٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی جنہوں نے اپنے حصے کا دیا جلاتے ہوئے ، اپنے مال میں سے اخوت یونیورسٹی کو پہلی اینٹ سے آخری اینٹ تک فراہم کی اور عام اور غریب لوگوں کے بچوں کو اعلیٰ اور مفت تعلیم حاصل کر نے کا موقع فراہم کیا۔ اس بیٹھک میں ڈاکٹر امجد ثاقب

کے ایک اور کارنامے کا معلوم ہوا کہ قصور شہر میں چھ گائوں میں اخوت نے انقلاب بر پا کر دیا ہے ۔ یہاں سڑکیں پکی کروا کر اور ٹیوب ویلز کو ڈیزل کی بجائے سولر سسٹم پر منتقل کیا گیا ہے ۔ یہاں ہر طرح کی آسانیاں فراہم کی گئیں ہیں کہ جس کی وجہ سے اب یہاں ترقی ہی ترقی ہے اور اہل دیہات نے جو قرضہ تین سالوں میں دینا تھا وہ انہوں نے صرف ایک سال میں ہی واپس کر دیا۔ اب قارئین اس سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان دیہاتوں کی ترقی کر نے کی رفتار کیا ہو گئی ہو گی۔ ڈاکٹر صاحب مستقبل میں مزید ایسے کار نامے سرانجام دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اس کے علاوہ چکوال میں زیتون کی کاشت اور اس جیسے ناممکن کاموں کو ممکن بنا نے کا سہرا ڈاکٹر امجد ثاقب کو ہی سجتا ہے ۔ یہ ناممکنات کو ممکنات میں تبدیل کر نے والے جادوگر ہیںاوربلا شبہ وہ وقت بہت قریب ہے جب ان کی اس جادوگری کے عوض نوبل ایوارڈ ان کے نام ہوگا کیونکہ اللہ والوں کا کہا ہوا ضرور شرف قبولیت حاصل کر تا ہے ۔


ای پیپر