2019ءکی رخصتی
01 جنوری 2020 2020-01-01

شام نگر کے ہمارے پڑوسی بشیر کتیاں والا سے بڑے دنوں بعد ملاقات ہوئی۔ علیک سلیک کے بعد میں نے پوچھا آج کل تمہارا کتے بیچنے کا کاروبار کیسا چل رہا ہے ؟۔ تو جھٹ بولا ! سر لوگوں کو اپنی روٹی پوری نہیں ہوتی تو کتوں کو کہاں سے کھلائیں! پہلے عام لوگ بھی مجھ سے کتورے خرید لیتے تھے۔ نسلی کتورا پانچ ہزار تک فروخت ہوجاتا تھا اب تو خود میرے لیے بھی کتوں کی خوراک پوری کرنا مشکل ہوگئی ہے۔ میں کرائے کے مکان میں رہتا ہوں۔ اب بجلی اور گیس کے بل بھی پورے نہیں ہوتے مہنگائی نے مت ماررکھی ہے ۔ بس کوئی حال نہیں۔ آپ سنائیں کیسی گزررہی ہے آپ تو اس علاقے کو بھول گئے ہیں۔ سناہے بحریہ کی طرف جا بیٹھے ہیں۔

میں نے کہا بس یہ تبدیلیاں تو ہوتی رہتی ہیں تم سناﺅ !اگر کتوں کا کام ٹھپ کیا ہے تو پھر کیا کرتے ہو؟ میرا مطلب ہے گزربسر کیسے ہوتی ہے۔؟

بشیر بولا !سچی بتاﺅں۔ میں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا۔ اب بھی میری ہمدردیاں عمران خان کے ساتھ ہیں الیکشن کے دنوں میں تبدیلی کے نعرے لگا لگا کر میرا بھی گلا بیٹھ جاتا تھا۔ الحمد للہ حکومت تو ہماری پارٹی کی آگئی ہے مگر ........

مگر کیا میں نے پوچھا!تو دھیرے سے بولا!اب کیا بتاﺅں جی میں شیلٹر ہوم میں شفٹ ہونے کا سوچ رہا ہوں دوراتیں بطور تجربہ گزار کر دیکھی ہیں۔ ہمارے لیڈر نے کم ازکم بے گھر پردیسی اور مفلوک الحال لوگوں کے لیے کچھ تو کیا ہے۔ وہاں بستر ملتا ہے کھانا ملتا ہے گھر میرا پہلے ہی کرائے کا ہے۔ شادی میں نے نہیں کی۔ بوڑھی والدہ تھی پچھلے محرم میں اللہ کو پیاری ہوگئی اب میرا کیا ہے؟ میرے لیے تو گھر کا کرایہ، بجلی اور گیس کے بل دینا مشکل ہوگیا ہے۔ مجھ سے زیادہ شیلٹر ہوم کا کون مستحق ہے۔ تحریک انصاف میں میرا ایک مقامی لیڈر بہت خیال کرتا ہے اس کی وساطت سے میں جلد ہی شیلٹر ہوم میں شفٹ ہو جاﺅں گا۔

میں نے کہا بشیرے بات تو تیری ٹھیک ہے۔ بجلی اور گیس کے بل اگلے مہینے 15فیصد مزید زیادہ آیا کریں گے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں پندرہ فیصد اضافہ ہونے والا ہے۔ اب لوگ کہاں جائیں گے؟۔ اس سردی میں گیس آتی نہیں بس بل باقاعدگی سے آتا ہے۔ پیٹرول مہنگا ہوگیا۔ کھانے پینے کی اشیاءبھی بہت مہنگی ہوچکی ہیں۔ سنا ہے اب راشن کارڈ کا نظام بھی لایا جارہا ہے اب تو ہر عام آدمی ”عافیت گاہوں“ یعنی حکومت کے بنائے گئے شیلٹر ہومز میں شفٹ ہونا پسند کرے گا۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں 50کروڑ تک ”کرپشن“ کسی حدتک جائز قرار دی جاچکی ہے آرڈیننس کے ذریعے ”نیب“ کو 50کروڑ کرپشن کرنے والوں کو پکڑنے کی اجازت نہیں ہوگی، اس وقت نیب کے گرفتار کیے جانے والے تقریباً سارے سیاستدان اور بیوروکریٹ چھوٹ جائیں گے۔ یہ درست ہے کہ 50کروڑ کی کرپشن کے لیے ایف بی آر ایف آئی اے یا عدالتیں کام کریں گی اور عام آدمی تو ان عدالتوں سے سزا پاتا ہے مگر بڑے لوگ اور پیسے والے اب وکیل کرنے کے بجائے جج کرلیتے ہیں وہ آسانی سے بچ نکلیں گے۔ یہ تاثر ہے۔ کرپشن اور چوری چاہے ”دھیلے“ کی ہو وہ جُرم ہے اور اس کی سزا ضروری ہے۔ سزا سے بچانے کے لیے نظام بنانا کوئی مستحسن فیصلہ نہیں ۔

کیوں بشیرے تم کیا کہتے ہو۔؟

بشیر کتیاں والا بولا:سر بات تو آپ کی بھی دل کو لگتی ہے مگر مجھے تو چھت چاہیے، مفت خوراک بھی اگر وہ عمران خان مجھے دے رہا ہے تو آپ بھی جانے دیں یہ کہہ کر اس نے چادر کی بکل ماری اور سلاماں لیکم کہہ کر رخصت ہوگیا۔

میں اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا یوں لگ رہا تھا 2019ءرخصت ہورہا ہے۔


ای پیپر