2020ءمیں کیا ہو گا؟
01 جنوری 2020 2020-01-01

میں جب اپنے پروگرام میں فلکیات اور نجوم کے کچھ ماہرین کو لے کر بیٹھا ہوں تو جانتا ہوں کہ ہم سب اپنے آنے والے دنوں کے بارے کچھ جاننا چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا آنے والا برس پہلے گزرے ہوئے بہت سارے برسوں جیسا مُشکل اور تکلیف دہ نہ ہو۔ ہمیں کچھ روشنی اور کچھ ُامید چاہئے مگر میں اپنے بہت سارے برسوں کے تجربات کے بعد پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آج شروع ہونے والا برس بھی گزرے ہوئے بہت سارے برسوں جیسا ہی ہو گا۔ اگر آپ کی زندگی کے پہلے بیس ، تیس اور چالیس برسوں میں کوئی معجزہ برپا نہیں ہوا تو آپ یہ امید اب کیوں لگا رہے ہیں۔ میں ستاروں کے علم کو ایک علم تو ضرور مانتا ہوں اور یہ بھی مانتا ہوں کہ کچھ دوسری سائنسز کی طرح اس کے بھی کچھ اصول ہیں مگر میں ابھی تک یقین نہیں کر پایا کہ وہ ستارہ جو ہزاروں، لاکھوں میل دور کھلے آسمان میں تیرتا پھر رہا ہے وہ میری زندگی پر اثرانداز ہوگا‘ وہ ستارہ جو اقبال کے مطابق خود فراخی افلاک میں خوار و زبُوں ہے۔

میرے لئے 2019ءکی رخصتی اور 2020ءکی آمد صرف اس لئے اہم ہے کہ میں اپنی تمام مصروفیات اور سرگرمیوں کا شیڈول اسی عیسوی کیلنڈر کو سامنے رکھ کر ترتیب دیتا ہوں ورنہ بطو ر مسلمان میرے لئے اسلامی کیلنڈر کی اتباع ہی درست ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہماری ریاست اس کیلنڈر کو نافذ کرتی ہے، اس کے مطابق فیصلے اور اعلانات کرتی ہے، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ میرا ملک’ ریاست مدینہ ‘بن چکا مگر یہاں اتوار کی ہی چھٹی ہوتی ہے جمعے کی نہیں جسے مسلمانوں کے لئے مسیحیوں کے مقابلے میں مبارک دن قرار دیا گیا ہے۔ فرمایا گیا، عوام اپنے حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں، مجھے اس بات کی حقیقی سمجھ یہی دیکھ کر آتی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ نوے فیصد مسلمانوں کو رمضان المبارک کے علاوہ کبھی یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ کون سا اسلامی مہینہ چل رہا ہے ، ننانوے فیصدکو یہی علم نہیں ہو گا کہ یہ کون سا اسلامی سال ہے؟

مجھے کوئی دلچسپی نہیں کہ میں نئے برس کی مبارکباد دینے کے جواز ڈھونڈوں یا آپ کو اس سے روکنے کے لئے دلائل، میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر میں اپنے عقیدے میں پختہ ہوں تو میرا ایمان کسی دوسرے مذہب والوں کو ان کے پیشوا کی پیدائش کی مبارکباد سے ہرگز متاثر نہیں ہوتا کہ میں خود چاہتا ہوں کہ جس جس ملک میں میری مسلمان بہنیں اور بھائی رہتے ہیں وہاں کے اکثریتی مذہب والے انہیں رمضان اور عیدین کی مبارکبادیں دیں۔ اس بحث سے ہٹ کر مجھے آپ کو یاد دلانے میں ضرور دلچسپی ہے کہ اس برس بھی گزرے ہوئے ہزاروں برسوں کی طرح سورج کے روایتی انداز میں طلوع و غروب ہونے کی طرح طاقتوروں کی حکومت بھی اسی انداز میں رہے گی جس طرح غریبوں اور کمزوروں کی بے بسی اور لاچاری، یہاں کچھ نہیں بدلے گا سوائے کیلنڈر پر لکھے ہوئے دو ہندسوں کے، ہم جس تبدیلی کے خواب دیکھ رہے ہیں اس میں تو ہندسے بھی پورے چار نہیں بدلیں گے۔ یوں کم از کم ہم پاکستانیوں کو کسی تبدیلی کے خواب سے اب پرہیز ہی نہیں کرنی چاہئے کہ اگر کوئی تبدیلی آئی بھی ہے تو یہی ہے کہ حکومت نے پندرہ ماہ کی حکمرانی میں پندرہ مرتبہ ہی بجلی مہنگی کی ہے۔

اگر آپ کسی ایسی تبدیلی کے منتظر ہیں جو باہر سے آئے، کسی حکومت کے ذریعے آئے، کسی پتھر کے پہن لینے سے آئے، کسی دوسرے برج کے شخص کی مدد سے آئے تو منتظر رہئے، ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں کاآج تک کبھی پرائز بانڈ نہیں نکلا اب نکل آئے، جس کسی کے گھر کے پچھواڑے سے سونے کی دیگ اب تک نہیں نکلی وہ شائد اب برآمد ہوجائے،لگے رہیں کہ ہمارے حکمران بھی کبھی ریکوڈک کی کانوں، کبھی تھر کے کوئلے، کبھی چکوال کے سونے اور کبھی کراچی کے سمندر میں گیس کے ذخائر کی باتیں کر کے ایسے ہی خواب دکھاتے رہے ہیںلیکن اگر آپ آ ج سے شروع ہونے والے برس میں کوئی حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں تو وہ آپ کو اپنے اندر سے لانی ہوگی۔اگر آپ نے کچھ بدلنا ہے تو اپنے زور بازو سے، اپنی محنت سے ہی بدل سکتے ہیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ مہنگائی آپ کو تنگ نہ کرے توحکمرانوں سے مہنگائی کم کرنے کی امیدیں مت رکھیں بلکہ اپنی آمدن بڑھائیں کہ اس سے مہنگائی واقعی کم ہوجائے گی۔ اس کی سیدھی سادی وضاحت یہ ہے کہ اگر آپ کی جیب میں صرف بیس روپے ہیں تو دو سو روپے کا چکن تکہ آپ نہیں کھا سکتے لیکن اگر آپ کے پاس ہزار روپے ہیں تو آپ اپنے ساتھ چار دوسروں کی بھی دعوت کرسکتے ہیں۔ یقین رکھئے کہ چکن تکہ سستا نہیں ہو گا مگر آپ کی آمدن میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

یہاں ایک دلچسپ مسئلہ درپیش ہوجاتا ہے کہ ہم ہر برس اور ہرمہینے نہیں بلکہ ہر ہفتے اور ہر روز ہی خود کو بدلنے اور انقلاب برپا کرنے کے ارادے باندھتے ہیں، خود سے پکے وعدے کرتے ہیں مگر پھر وہ ارادہ اگلے گھنٹے یا اگلے دن پر منتقل ہوجاتا ہے۔مثال کے طور پر میں بہت دنوں تک سوچتا رہا کہ مجھے قرآن پاک پڑھنا ہے اور ترجمے کے ساتھ سمجھ کر پڑھنا ہے مگر ہر مرتبہ یہی ہوتا رہا کہ ابھی کچھ دیر کے بعد کرتا ہوں۔ یہی مسئلہ واک یا ایکسرسائز کے ساتھ رہتا ہے کہ ابھی کچھ وقت کے بعد شروع کرتا ہوں مگر پھر وہ وقت نہیں آتا۔ اس کا حل یہ ہے کہ ہم نے جو کچھ بھی کرنا ہے وہ فوری طور پر صرف یہ سوچ کے کرلیں کہ صرف پانچ ، سات منٹ کے لئے کرنا ہے۔ قرآن پاک پڑھنا ہے تو پورا پارہ ترجمے کے ساتھ نہیں پڑھنا بلکہ صرف دو، تین ورق ہی پڑھنے ہیں ۔ یہی کام روزگار اور کمائی کے حوالے سے بھی ہوسکتا ہے کہ ہم نے بہت بڑا کام نہیں کرنا اور بہت بڑے پیمانے پر نہیں کرنا بس تھوڑا سا شروع کرنا ہے۔میں نے پانچ منٹ کے اس فارمولے کو بہت موثر دیکھا ہے جیسے ہم اپنا موبائل فون اٹھاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ صرف دو، چار منٹ واٹس ایپ کے میسجز، کچھ نئی ٹوئیٹس اور فیس بک کے کچھ نوٹیفیکیشن دیکھ کر موبائل رکھ دینا ہے اور پھر گھنٹہ ، دو گھنٹے گزر جاتے ہیں۔ یہ صرف سوشل میڈیا کے ساتھ نہیں بلکہ انسانی فطرت کا حصہ ہے کہ اصل مشکل کام کو شروع کرنا ہے، جب آپ کسی کام کو شروع کرلیتے ہیں تو پھر چار میں سے تین کام ہو ہی جاتے ہیں۔

مجھے نجومی ہی سمجھئے ، یہی سمجھئے کہ میرے سامنے آپ کا زائچہ کھلا پڑا ہے یا میں آپ کا ہاتھ تھامے اس کی لکیروں میںگُم ہوں۔ میں آپ کو بتا تا ہوں کہ 2020ءمیں وہی کچھ ہوگا جو آپ کرنا چاہیں گے اور اگر آپ اس برس کچھ مختلف کریں گے تو آپ کو نتیجہ بھی مختلف ملے گا لیکن اگر آپ وہ کچھ کرتے رہے جو بیس، تیس، چالیس یا پچاس برسوں سے کرتے چلے آ رہے ہیں تو پھر ان ساڑھے تین سو سے زائد دنوں میں بھی وہی کچھ ہو گا جو پہلے ہزاروں دنوں سے آپ کے ساتھ ہوتا چلا آ رہا ہے۔ آخر میں یہی کہوں گا کہ ایمان کے ساتھ پڑھی گئی نماز بہت بڑی تبدیلی لاتی ہے۔ اگر آپ رزق، عزت، اولاد اور زندگی کے لئے اللہ رب العزت پر اپنے ایمان کو پختہ کرتے ہوئے نماز پڑھنا شروع کر دیں تو بہت کچھ تبدیل ہوجائے گا۔ ایمان اور نماز ہماری زندگیوں میں بڑی تبدیلی لاتے ہیں، اس بارے تفصیل پھر کبھی سہی۔


ای پیپر