2018ءکی آخری ادبی وفات ” ڈاکٹر سلیم اختر“
01 جنوری 2019 2019-01-01

گزشتہ دنوں ایک کالم میں لکھا تھا کہ سال کے آخری دوماہ ہمیشہ اہلِ قلم کے لیے بہت بھاری ثابت ہوتے ہیں۔ اس برس بھی ممتاز ادبی ہستیاں اللہ کو پیاری ہوئیں۔ سال کا آخری روز بھی خالی نہ گیا اور ہمارے نہایت مہربان، شفیق بزرگ دوست ڈاکٹر سلیم اختر اِس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ گویا جاتے جاتے یہ سال کئی کتب کے مصنف، نامور نقاد محقق استاد اور افسانہ نگار ڈاکٹر سلیم اختر کو بھی ہم سے چھین کر لے گیا ۔ وہ جو ادبی محافل کی جان ہوا کرتے تھے، پچھلے چند برسوں سے اپنے کمرے تک محدود ہوگئے تھے۔ ہمارے ادبی جریدے کو ذرا سی تاخیر ہوجاتی یا پرچہ ملنے پر سب سے پہلے ان کا فون آیا کرتا تھا وہ مختصر بات کرتے اور بقول ان کے بجنگ آمد کو اس لیے پسند کرتے کہ اس سے انہیں ادبی دنیا کے بارے میں ”اپ ڈیٹس“ (Up Dates)مل جاتی ہیں۔ ایک عرصے سے وہ علیل تھے بس فون پر دوستوں سے رابطہ رکھتے۔ آخری انٹرویو جو ہم نے ان کے گھر جاکر کیا اس میں انہوں نے اپنے کرب کا اظہار کیا۔ وہ کہہ رہے تھے : اہلِ ادب بھی کچھ مصروف ہوگئے ہیں اب تو بعض دوست فون پر بھی نہیں ملتے۔ بہت سے ان کے دوست ڈیفنس سدھار گئے ۔ ایک زمانے میں سبھی اہل قلم علامہ اقبال ٹاﺅن میں رہتے تھے اور صبح وشام ملاقات رہتی ۔ عطاءالحق قاسمی تو ان کے ہمسائے میں رہائش پذیر تھے، کشور ناہید اور عطاءالحق قاسمی کی گھریلو ادبی محافل میں سبھی اہم اہلِ قلم شریک ہوتے۔

کشور ناہید کے بارے میں لکھا : علامہ اقبال ٹاﺅن میں ہم تقریباً پڑوس تھے جس کا فائدہ یہ تھا کہ وقت بے وقت گھر پر ملاقات ہو جاتی ۔ کسی کام سے صبح سویرے گھر گیا تو کشور غسل خانے میں کپڑے دھورہی تھی، میں پاس کھڑا ہوگیا، باتیں بھی ہوتی رہیں اور کپڑے بھی دُھلتے رہے۔ اتنے میں اُس نے سبزو(بیٹا) کی نچڑتے پانی والی جین اٹھائی جین نچوڑنے میں اس کی مدد کرنے کا سوچا مگر پھر مددسے باز آیا۔ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ خود اپنے وزن جیسی بوجھل جین کو وہ کیسے نچوڑتی ہے۔ اس نے دونوں ٹانگوں میں جین کو دباکر جو بل دیئے تو سارا پانی نچڑ گیا۔ گھر سے باہر مستعد اور تروتازہ کشور دیکھنے والے کبھی بھی اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ گھر کو صاف ستھرا خوبصورت اور آرام دہ بنائے رکھنے کے لیے وہ کتنا کام کرتی ہے۔

ڈاکٹر سلیم اختر پر خور اور خوش خوراک نہ تھے سو دعوتوں میں عموماً میری طرح ایک طرف سلاد یا سویٹ ڈش کھاتے دکھائی دیتے ۔ ایک زمانے میں اے جی جوش اور عطاءالحق قاسمی کی پارٹیوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتے۔ انہوں نے بھرپور زندگی گزاری بس آخری ایام میں وہ ادبی احباب کو بہت مِس کرتے تھے اپنے انٹرویو میں بھی کہا کہ زمانہ بہت تیز رفتار ہوگیا ہے۔ اور جو ادیب شاعر یا تخلیق کار گھر میں بیمار پڑ جائے وہ مزید اکیلا اور اداس ہو جاتا ہے اس لیے کہ وہ ان محفلوں کو مِس کرتا ہے جن کا کبھی وہ بہت عادی تھا۔

بتارہے تھے کہ ایک محفل میں منیر نیازی سے کہا :

”نیازی صاحب !آج تو آپ بہت اچھے لگ رہے ہیں۔

یہ سن کر انیس ناگی کو برا بھلا کہنا شروع کردیا۔

میں نے کہا : ”تعریف تو میں کررہا ہوں یہ انیس ناگی بیچ میں کہاں آگیا ؟“

کہنے لگے :”صبح ملا تو کہنے لگا، میں کمزور کمزور اور بیمار نظر آرہا ہوں ۔“

میں نے ہنس کر کہا : نیازی صاحب !اصل میں وہ آپ کے حسن سے جلتا ہے ۔

یہ سن کر خوش ہوئے اور بولے ! ایہہ گل توں ٹھیک کیتی اے “

ڈاکٹر سلیم اختر دوستوں کی فقرہ بازی پسند کرتے:اپنی کتاب میں مشفق خواجہ کی فقرہ بازی کے حوالے سے لکھا :

کراچی سے ایک طرار خاتون کا فون آیا :

”میں آپ سے ملنے کے لیے گھر آنا چاہتی ہوں ۔“

مت آئےے“

کیوں؟

”میری بیوی کو اعتراض ہوگا“۔ یہ بات ہے تو میں اپنے خاوند کے ساتھ آجاتی ہوں۔

اِس پر مجھے اعتراض ہوگا۔“

سلیم اختر کہتے ہیں ایک مرتبہ دوستوں میں بحث ہورہی تھی کہ نئی صدی میں کیسے داخل ہوا جائے۔ تو میں نے برجستہ کہا : میں تو انہی پرانے جوتوں کے ساتھ نئی صدی میں داخل ہو جاﺅں گا۔

ایک بار کہنے لگے کہ :”کھانے پینے کے معاملے میں نِرا ”سادھو“ ہوں۔ میری کوئی خاص حِس ذائقہ نہیں، اچھا بُرا ، ٹھنڈا گرم باسی بدمزہ ہرطرح کا کھانا خاموشی سے کھالیتا ہوں۔ سعیدہ (بیگم) اگر کپڑوں کا دھیان نہ رکھتی تو میں شاید چاک گریباں نظر آتا، ڈاکٹرسلیم اختر اور انور سدید کے درمیان ادبی نوک جھونک بھی ادب کی تاریخ کا حصہ ہے۔ انور سدید کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے، میرے ایک سوال پر سلیم اختر نے کہا :

”میں ہمیشہ ہی سے حاسدین کے بغض وحسد کا شکار رہا ہوں، اب تو خیر عادی ہوچکا ہوں بلکہ دشنامی کالم میرے لیے (کھانے کے بعد) فروٹ کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ اس سلسلے میں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کا قول مدنظر رکھا کہ : وہ شخص بڑا بدقسمت ہے جس کا کوئی حاسد نہیں۔“

میں تو گالیوں کو شہرت کی زکات بلکہ صدقہ سمجھتا ہوں۔

ڈاکٹر سلیم اختر کی کتابیں تو بہت سی ہیں مگر جو شہرت ”اردوادب کی مختصر ترین تاریخ“ کو نصیب ہوئی وہ کسی اور کتاب کے حصے میں نہ آئی، سالانہ ادبی جائزے ، افسانے، نفسیاتی تنقید کیا کیا کچھ لکھا ان کے تلامذہ میں سینکڑوں ادب کے اساتذہ کے علاوہ کئی نامور اہل قلم بھی شامل ہیں۔

کہا کرتے تھے کہ مجھے ادیبوں کی اکثریت کی مانند کبھی گلہ نہیں رہا کہ میرے کاموں کو سراہا نہ گیا ۔ مجھ پر اتنا لکھا گیا جتنا لکھا جانا چاہیے تھا جبکہ ان کے برعکس میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ مجھ میں اتنی صلاحیتیں نہ تھیں جتنی مجھے عزت ملی۔ میں اقبال کا شاہین تو نہیں مگر فخر ہے کہ میں گدھ بھی نہیں، اسی لیے کبھی بھی مردار خور نہیں رہا“۔

ڈاکٹر سلیم اختر کے بعد ان کے واحد محبوب ترین شاگرد ڈاکٹر طاہر تونسوی بہت زیادہ ”تنہا“ ہوگئے ہیں اگرچہ وہ ملتان میں خود بھی علیل رہتے ہیں مگر ٹیلیفون سے وہ ہمیشہ اپنے استاد اور دوست ڈاکٹر سلیم اختر سے رابطے میں رہے۔ ان کی نماز جنازہ میں ان کے کئی قریبی احباب نے شرکت کی۔ اب ان کی وفات پر کتنے ہی کالم لکھے جائیں گے۔ ادب میں یہی ہوتا ہے جیتے جی ہمارے پاس بیمار احباب کی مزاج پرسی کے لیے بھی وقت نہیں ہوتا مگر ان کے جاتے ہی ہم سب انہیں ایسے یاد کرتے ہیں کہ ہم ہی ان کے سب سے زیادہ قریب رہے۔ کاش دوست ان کی زندگی میں ہفتہ وار ہی ان کی خبرگیری کرتے تو شاید وہ اتنی جلدی الوداع نہ ہوتے۔ مگر ہمارے پاس بستر پر پڑے بیمار دوستوں کے لیے وقت نکالنا بھی دشوار ہوگیا ہے میں بھی انہی میں شامل ہوں۔ روز پروگرام بناتا ہوں افتخار مجاز کا پتہ کرنا ہے۔ ڈاکٹر انور سجاد کی عیادت کو جاتا ہے مگر ....

امیر جمع ہیں احباب دردِ دل کہہ لے

پھر التفاتِ دل دوستاں رہے نہ رہے


ای پیپر