میری سوچیں اور میری تمنائیں!
01 جنوری 2019 2019-01-01

(دوسری وآخری قسط)

میں یہ عرض کررہا تھا اس بار عدالت (نیب کورٹ) نے میرے ساتھ بڑی زیادتی کی، میری عمر کالحاظ بھی نہیں کیا۔ یہ بھی نہیں سوچا اڑسٹھ برس کا بوڑھا زیادتی کیسے برداشت کرسکتا ہے؟ العزیزیہ ریفرنس میں مجھے سات برس قید (بامشقت) اور دس سالوں کے لیے نااہل قرار دینے کے ساتھ ساتھ پونے چار ارب روپے جرمانہ اور جائیدادیں ضبط کرنے کی سزائیں بھی سنادیں۔ اس زیادتی پر ہم صرف یہی کہہ سکتے ہیں ان عدالتوں کو اللہ پوچھے۔ وہ زمانہ گیا جب ہم بھی اُنہیں پوچھ لیا کرتے تھے، ہم تو اب بھی اُنہیں پوچھنے کے لیے تیار ہیں کہ بتائیں ہم آپ کی کیا خدمت کرسکتے ہیں ؟ مگر اللہ جانے وہ دِن کہاں گئے جب ہماری مختلف اقسام کی خدمات کے عوض مختلف اقسام کے ہمیں اچھے خاصے ریلیف مِل جایا کرتے تھے، ایک بار لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج کو ہم نے چھوٹے جی اوآر سے بڑے جی اوآر کا گھر الاٹ کیا تو چھوٹی سی اِس خدمت کے بدلے میں دوبڑے بڑے ریلیف اُس نے ہمیں دے دیئے، ....اِس بارتو عدالتوں نے ہمارے ساتھ زیادتی کی حدہی مُکادی ہے، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے یہ اُمید ہرگز نہیں تھی۔ وہ تو کسی سے ڈرتے ہی نہیں ہیں، اُنہیں یہ خوف بھی نہیں ہے اُن کی ریٹائرمنٹ میں چند دن ہی باقی رہ گئے ہیں، ہمارے اقتدار کے دِن جب پورے ہورہے ہوتے ہیں ہمارے پسینے چُھوٹ رہے ہوتے ہیں، حیرت ہے چیف جسٹس پر کوئی اثر ہی نہیں ہورہا۔ اُن کے کام کرنے کی رفتار اور جذبہ دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے وہ تاحیات چیف جسٹس ہیں۔ ویسے ہم سوچ رہے ہیں اُن کی ریٹائرمنٹ کے بعد ایک ریفرنس ہم بھی اُن کے خلاف دائر کریں کہ وہ صرف دوسروں کے چھابوں میں ہی کیوں ہاتھ مارتے رہے ؟ ،جہاں اُنہوں نے بے شمار دوسرے لوگوں کے چھابوں میں ہاتھ مار کر اُن کے کام خراب کیے وہاں اپنے چھابے میں ہاتھ مارکر کچھ اپنے کام بھی مزید خراب کردیئے ہوتے ممکن تھا اُس کے نتیجے میں ہی کوئی ریلیف ہمیں مِل گیا ہوتا ....کل شہباز شریف نے بڑے دنوں بعد ایک واقعہ سناکر مجھے ہنسنے بلکہ قہقہے لگانے پر مجبور کردیا، میں نے اُس سے کہا یہ واقعہ تم اگر میاں ثاقب نثار صاحب کو سناﺅ وہ بھی یقیناًاِسے انجوائے کریں گے۔ ایک شخص چیف جسٹس صاحب کے خواب میں آیا اُن سے کہنے لگا”میں آپ کی جان نکالنے آیا ہوں“ ....چیف جسٹس بولے ”مگر یہ کام تو عزرائیل کا ہے ؟ وہ شخص بولا ”جب آپ دوسروں کے کام کرسکتے ہیں میں کیوں نہیں کرسکتا ؟“....خیر ہمارا کام تو میاں ثاقب نثار نے خراب کردیا مگر اُن کے خوف سے بے شمار ایسے اُلٹے کام بھی سیدھے ہوگئے جو ہمارے خوف سے بھی نہیں ہورہے تھے، .... میں نے شہباز شریف سے کہا ”تم تو زرداری کو سڑکوں پر نہیں گھسیٹ سکے یوں محسوس ہوتا ہے یہ کام بھی جاتے جاتے چیف جسٹس ہی کرکے جائے گا “۔ البتہ میری اور شہباز شریف کی مشترکہ دعا ہے اُنہوں نے جو ڈیم فنڈ بنایا ہے اُس میں اتنے گھپلے ہوں کہ اُن کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہم اُنہیں اور تو کسی کیس میں پھنسا نہیں سکتے کم ازکم اِسی کیس میں ہی پھنسا دیں۔ شہباز شریف یہ دعا بڑے دبے دبے الفاظ میں کررہا تھا جس پر میں نے اُسے زور سے کہنی ماری اور اُس سے کہا ایسی دعائیں رورو کر کرتے ہیں ،....ویسے میں شہباز شریف کی باتیں ہی نہیں اُس کی دعائیں بھی بڑے غور سے سنتا ہوں کہ کہیں وہ اُلٹی سیدھی کوئی دعا ہی نہ کردے۔ اگلے روز میں نے اُس سے کہا ”یار جیل کی ایک اچھی بات یہ بھی ہے ہمیں کچھ نہ کچھ سوچنے کا موقع مِل جاتا ہے جس کے نتیجے میں کبھی کبھی اتفاق سے کوئی اچھی سوچ بھی ذہن میں آجاتی ہے۔ ایسے ہی کل میں سوچ رہا تھا ہمیں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنا چاہیے کہ وزیراعظم عمران چار پانچ ماہ گزر جانے کے بعد بھی ایسی پرفارمنس نہیں دیکھا سکے جِس سے لوگ ہمیں بُھول جاتے، اگر اُنہوں نے بہتر پرفارمنس دکھائی ہوتی ہمیں عدالتوں سے بار بار مِلنے والی سزاﺅں پر بھی لوگوں نے خوش ہی ہونا تھا، شکر ہے اِس حوالے سے بھی خان صاحب نے لوگوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہیں کیا، اُن کے پاس صرف ایک ہی نعرہ ہے وہ مسلسل ہمیں چورڈاکو قرار دے رہے ہیں۔ اُن کی حکومت کے ابتدائی دِنوں میں یہ نعرہ بہت بِِکا۔مگر اب صورت حال مختلف ہے، بلکہ شُکر ہے اب لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ چور اور ڈاکو ملکی نظام زیادہ اچھا چلاتے تھے۔ لہٰذا ہماری واپسی کی اب خواہش اور دعائیں کی جارہی ہیں، بلکہ میرا تو دِل یہ بھی کہتا ہے خود خان صاحب بھی اپنی جان چھڑوانا چاہتے ہیں، اُنہیں پتہ چل گیا ہے کرکٹ اور حکومت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔ لہٰذا ہوسکتا ہے کچھ عرصے بعد وہ خود ہی بھاگ جائیں اور ہمیں ایک بار پھر اپنا لُچ تلنے کی اجازت کِسی ”ضرورت“ کے تحت ہی

عنایت فرما دی جائے، بس اِن ہی ”اچھی سوچوں“ کے سہارے جیل میں آج کل وقت تھوڑا اچھا گزر جاتا ہے ورنہ ہمیں اب جاکر احساس ہوا ہے سردیوں کی جیل بھی اُتنی ہی سخت ہوتی ہے جتنی گرمیوں کی ہوتی ہے، کل میں نے شہباز شریف سے پوچھا وہ طاہرہ سید کا ”سردیوں کی شاموں“ والا کون سا شعر ہے ؟ اُس نے بتایا یہ شعر طاہرہ سید کا نہیں شعیب بن عزیز کا ہے کہ ”اب اُداس پِھرتے سردیوں کی شاموں میں ....اِس طرح تو ہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں “....میں سوچ رہا تھا انسان بڑا ناشکرا ہے، شہباز شریف سے میں نے کہا شُکر ہے ہمیں ہماری اصل ”کرتوتوں کی سزا نہیں مِل رہی ، یہ سزا تو ہمیں صرف اِس لیے مِل رہی ہے اِس ملک کی اصل قوتوں کی ہم نے اُس طرح تابعداری نہیں کی جِس طرح وہ چاہتی تھیں۔ کل کلاں کچھ بیرونی قوتوں کو بیچ میں ڈال کر اصل قوتوں کو ہم ایک بار پھر یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو گئے آئندہ کوئی کمی کوتاہی نہیں ہوگی، ہمارے سارے جرائم ایک بار پھر معاف فرما دیئے جائیں گے، ہمیں اُس وقت سے ڈرنا چاہیے جب ہمیں ہمارے اصل جرائم کی سزادی جائے گی جو شاید اتنی سخت ہوگی لُوٹا ہوا سارا مال وزر خود بخود ہم اُگل دیں گے۔ تب کوئی اندرونی قوت ہمارے کام آئے گی نہ بیرونی قوت آئے گی ،....شہباز شریف کہنے لگا ”پائی جان کیسی بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں ؟ اللہ نہ کرے ایسا وقت کبھی آئے، آپ اتنے مایوس نہ ہوں، میری کوششیں جاری ہیں جو اُمید ہے جلد ہی رنگ لے آئیں گی“ .... میں نے اُس سے کہا ”ساری کوششیں اپنے لیے نہ کرلینا، کچھ نہ کچھ حصہ اُس میں مریم بیٹی کا بھی رکھنا ۔ اُس نے وعدہ تو کیا ہے اب دیکھیں کیا بنتا ہے ؟۔ کیونکہ وعدے کا وہ بھی اُتنا ہی کچا ہے جتنا میں ہوں، ہم وعدے کے پکے ہوتے آج ہمارے ساتھ یہ سلوک نہ ہورہا ہوتا۔ لگتا ہے محمد رفیع نے یہ گانا ہمارے لیے ہی گایا تھا ” کیا ہوا تیرا وعدہ ، وہ قسم وہ اِرادہ “ .... بہرحال 2018کی آج آخری رات ہے ، اللہ کرے اگلا سال ہمارے لیے کئی طرح کی خوشخبریاں لے کر آئے۔ جِس کی مجھے زیادہ اُمید نہیں کیونکہ چند روز بعد اگر موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان واقعی ریٹائرڈ ہوگئے اُن کے بعد جو چیف جسٹس بنیں گے، میں شہباز شریف سے کہہ رہا تھا کم ازکم تم اُن سے اچھی اُمید کوئی نہ رکھنا ۔ بلکہ تمہاری کچھ ” چولوں“ کی وجہ سے مجھے بھی اُن سے کوئی اچھی اُمید نہیں رکھنی چاہیے۔ اُوپر سے میرا یہ دِل کہہ رہا ہے 2019کے آغاز میں چیف جسٹس کو ایکسٹینشن نہ بھی مِلی 2019کے آخر میں آرمی چیف کو ضرور مِل جائے گی، جس کے بعد 2019میں بھی ہمارا تقریباً اللہ ہی حافظ ہوگا۔

(فی الحال ختم شد)


ای پیپر