mushtaq sohail columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
01 فروری 2021 (12:07) 2021-02-01

31 جنوری ٹھنڈا ٹھنڈا گزر گیا۔ ادھر سے استعفیٰ آیا نہ ادھر سے استعفے، ایک استعفیٰ نہ آنے پر 254 استعفے آنے تھے۔ رانا ثناء اللہ نے فیصل آبادیوں والی بڑھک ماری تھی کہ وزیر اعظم کا استعفیٰ نہ آیا تو پارلیمنٹ کے 254 استعفے آجائیں گے۔ جس کے بعد نئے انتخابات کرانے پڑیں گے ،کچھ نہیں ہوا کچھ نہیں پایا کھویا ہی کھویا۔ حکومت گرانے چلے تھے خود گر گئے۔ قرآنی حکم کہ ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کر نہیں سکتے۔ بزرگ کہا کرتے تھے ایسی بات نہ کرو جس سے گھنی مونچھیں نیچی ہو جائیں حافظ حسین احمد جے یو آئی (ف) کے ترجمان ہوا کرتے تھے مزے مزے کی باتیں کرنے کے ماہر، ایک بیانیہ پر ناراض ہو کر ایرینا سے نکل گئے اور ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر دل جلانے والی باتیں کرنے لگے کہا کہ اسپیکر کے منہ پر استعفے مارنے والے خود منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔ پی ڈی ایم فروٹ چاٹ، چنا چاٹ کے بعد تھوک چاٹ پر آگئی۔ ایک دوست اس پر سخت ناراض ہوئے کہنے لگے ’’استعفے آجاتے آصف زرداری آڑے آگئے ایک جماعت پی ڈی ایم کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہی ہے جو اپوزیشن اتحاد اور خود اس کے لیے نقصان دہ ہوگا۔‘‘ پتا نہیں مولانا فضل الرحمان نے کیسے کہہ دیا کہ پی ڈی ایم نے 70 فیصد مقاصد حاصل کرلیے ہیں۔ نیک آدمی ہیں سچ ہی کہتے ہوں گے ہم ہی نا سمجھ ہیں۔ بہت پہلے کسی نے کہا تھا ’’سیاست سازشوں کا ایک ایسا کھیل ہے جس میں ،کئی چالوں کو خود سے بھی چھپا کر چلنا پڑتا ہے‘‘ 31 جنوری تک کچھ نہیں ہوا تو پھر ہنگامہ ہے کیوں برپا؟ اجلاسوںمیں  خود وزیر اعظم اور ٹی وی چینلز پر ترجمانوں اور وزیروں مشیروں کا لشکر جرار دن رات پی ڈی ایم میں اختلافات ناکامی اور جلسوں ریلیوں سے عوام کی لا تعلقی کا پراپیگنڈا کیوں کر رہا ہے عوامی مسائل پر توجہ نہیں دیتے۔ اپنے نقائص پر نظر نہیں دوسروں کی آنکھ کا تنکا شہیتر نظر آتاہے۔ راحت اندوری نے کہا تھا’’ سب ہنر اپنی برائی میں دکھائی دیں گے۔ عیب تو سب میرے بھائی میں دکھائی دیں گے‘‘۔ بد قسمتی کہیے کہ وزرا اور ترجمانوں کی کارکردگی کا معیار کیا ہے۔ اجلاسوں میں مسائل کے حل پر بات نہیں ہوتی اپوزیشن پر لعن طعن اور گالیوں کی پنڈ (گٹھڑیوں) کا وزن کیا جاتا ہے جس کی پنڈ بھاری اس کی ’’کنڈ‘‘ مضبوط یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزرا بھی اپنا کام چھوڑ کر ترجمانوں میں شامل ہوگئے ہیں تاکہ وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جاسکے۔ طویل داستان ہے تاریخ لکھی جائے گی ،کشمیر ہاتھ سے گیا۔ ارد گرد کے ہمسائے دشمن بن گئے۔ دوستوں نے برے وقت میں جو امداد دی تھی واپس لے لی۔ ایک سے قرض لے کر دوسرے کو دینی پڑی۔ وزیر خارجہ اپنے تمام تر تجربے کے باوجود اطمینان بخش کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے۔ تنگ آکر ترجمانوں کی صف میں آگئے آج کل ٹی وی پر اپوزیشن کو گالیاں دے رہے ہیں۔ روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر، وزیر توانائی بجلی کا محکمہ نہ سنبھال پائے ڈھائی تین سال میں ٹرانسمیشن لائنیں ہی صحیح کرا دیتے۔ پورے ملک کی بجلی چلی گئی صلاحیت کی بات ہے کچھ نہ کرسکے تو اپوزیشن اور سابق حکومت کو صلواتیں سنا کر کلیجہ ٹھنڈا کرنے لگے۔ کوئی پالیسی 

نہیں ورنہ گردشی قرضہ 785 ارب سے 2785 ارب تک نہ بڑھتا۔ فواد چوہدری اور شیخ رشید سائنسی ترقی اور ریلوے کا خسارہ کم کرنے میں صفر ہوئے تو اپوزیشن کو سائنٹفک تنقید کا نشانہ بنانے لگے شیخ صاحب ریلوے میں ناکامی کے بعد وزیر داخلہ بنے تو کھل کھیلے، اپوزیشن کو دبوچنے کی سو ترکیبیں از بر لیکن ایک بھی کار آمد نہ ہوسکی۔ تیز مرچوں والی باتوں کے باوجود جلسوں اور ریلیوں میں اپوزیشن سے بھرپور تعاون کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیے۔ ریلوے میں کارکردگی صفر لیکن مرچ مصالحہ والی تنقید پر کارکردگی ’’ہنڈرڈ پرسنٹ‘‘ سب کا یہی حال ہے۔ کون سچا کون جھوٹا وقت بتائے گا، بقول غالب  ’’گوواں نہیں پہ واں سے نکالے ہوئے تو ہیں۔ کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی‘‘۔ سابق قبلہ گاہی کو برا بھلا کہنا ہی اعلیٰ کارکردگی کامعیار قرار پایا ہے۔ ورنہ ارد گرد نصب تمام لات ومنات اور  20 سے زائد بت ن لیگ اور پی پی سے لڑھک کر پہنچے ہیں۔ پرویز خٹک نے تو سیاست ہی پیپلز پارٹی سے شروع کی تھی۔ استعفے نہیں آئے، لانگ مارچ کا پتا نہیں سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان، پی ڈی ایم بقول خود ’’جعلی اسمبلیوں‘‘ کے ضمنی انتخابات میں بھی حصہ لے رہی ہے۔ شبلی فراز وزیروں پلس ترجمانوں میں نمبر ون دور کی کوڑی لائے کہا کہ اپوزیشن نے وزیر اعظم کو تسلیم کرلیا ہے۔ اب سلیکٹڈ نہیں الیکٹڈ کہا کریں، تسلیم کر کے ہی تحریک عدم اعتماد لانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ سو بار تحریک لائیں ہر بار ناکام ہوں گے‘‘۔ عقل کی بات ہے سو تحریکوں میں پانچ سال پورے پھر یار زندہ صحبت باقی، اس قدر اعتماد، اتنا یقین تو پھر اتنا ہنگامہ کیوں؟ ’’ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے‘‘ عوام کے سلگتے اور خون رلاتے مسائل پر توجہ، نہ ہی حل کے لیے عملی اقدامات، سر میں ایک ہی سودا سمایا ہوا ہے۔ اپوزیشن کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔ حالانکہ روز ازل سے اپوزیشن ناگزیر، ایک ہی ضد اپوزیشن والے ایوان وزیر اعظم سے گزرتے ہوئے ’’اکبر اعظم‘‘ کے سامنے سجدہ ریز کیوں نہیں ہوتے۔ کیوں جھکیں؟ سرتابی کی یہ جرأت، جرم ناقابل برداشت، برداشت کا جذبہ کبھی نہیں رہا اس لیے روز اول سے اپوزیشن نشانہ کرپشن بہانہ، پانامہ لیکس کی کوکھ سے ڈھونڈ نکالا اقامہ اور اس کی پاداش میں تا حیات نا اہلی کی سولی پر لٹکا دیا گیا۔ کرپشن کے بعد انوکھا فارمولا آمدن سے زائد اثاثے کس کے نہیں لیکن صرف اپوزیشن شکار حالیہ دنوں میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے کہہ دیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں کرپشن اور بد عنوانی میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک کسی آٹو میٹک نظام کے تحت چل رہا ہے کوئی ریورس گیئر لگ گیا ہے ملک کی گاڑی تیزی سے پیچھے کی طرف جا رہی ہے۔ بلندی سے پستی کی طرف ڈھلان سے پھسلتی کہاں رکے گی؟ اب تو عوام کی اکثریت کو بھی یقین ہوچلا ہے کہ کرپشن انتخابی نعرہ تھا کس کی کرپشن ثابت ہوئی؟ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے تو اپنوں کی نشاندہی کی ہے۔ غیروں کی کیا مجال کہ وہ بن بتائے اربوں کی کرپشن کریں گزشتہ دنوں اجلاس میں اپنے ہی ارکان وزیروں، مشیروں اور باہر سے درآمد کردہ ترجمانوں پر برس پڑے نور عالم نے تو وزرا کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر مشیر سبز باغ دکھا رہے ہیں۔ ٹینکو کریٹ چلے جائیں گے ہم ذلیل ہوں گے‘‘ اللہ نہ کرے لیکن آثار اچھے نہیں بیس پچیس تیس سال پرانے اسکینڈلوں کی بوسیدہ قبریں کھودنے سے خاک کے سوا کیا ملے گا۔ اسکینڈلوں پر اسکینڈل ملکی معیشت اور عوام کے اعتماد  بحال نہیں کرسکیں گے۔ جگتوں اور الفاظ کے آتشیں اسلحہ سے لیس، غیر مہذب لہجوں کی زرہ بکتر پہنے۔ نیب سمیت اداروں کے نوٹسز، طلبیوں اور نا گہانی حملوں کے خطرات سے بے نیاز، ٹی وی چینلز پر دن رات اپوزیشن کو نیچا دکھانے بلکہ نیست و نابود کرنے کی نیت سے سرگرم روز نئی منطق، نیا فلسفہ بگھارتے ہر دن کے سورج کے ساتھ نئے افسانوں اور غروب آفتاب کے بعد افسانوں کے دلکش اختتام کے ساتھ ٹی وی اسکرین پر جلوہ افروز لشکر جرار کی کوششوں سے ملکی معیشت نہیں سنبھلے گی۔ عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اس کے لیے کچھ مثبت سوچ اپنانی ہوگی۔ تصور کرلیجیے کہ پی ڈی ایم آپ کا بال بیکا نہیں کرسکے گی۔ سارے بیمار لیڈر ایک ایک کر کے نامعلوم قوتوں سے این آر او لے کر باہر چلے جائیں گے۔ میدان صاف ہے آپ بیٹنگ کریں عوامی مسائل کے حل کے لیے ماہرین کو بلائیں تجاویز اور سفارشات طلب کریں اور پوری دلجمعی سے ان سفارشات پر عملدآمد کرائیں بلا رو رعایت کارروائی کریں مسائل حل ہو گئے تو واہ واہ ورنہ گو گو کے دلخراش نعرے جگر چھلنی کر دیں گے۔ یقین کیجیے عوام بے رحم فیصلہ کریں گے تو کچھ نہ ہوسکے گا۔ 


ای پیپر