dr ibrahim mughal columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
01 فروری 2021 (12:05) 2021-02-01

سب لو گ کھلی آ نکھو ں سے دیکھ رہے ہیں کہ دوسری بار برسراقتدار آنے کے بعد نریندر مودی کی پالیسیوں کے باعث بھارت میں داخلی بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔مودی حکومت کی جانب سے پہلے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کا یک طرفہ اقدام اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی نے بھارت کو بین الاقوامی سطح پر مسائل سے دوچار کیا۔ اسی برس میں مودی سرکار نے شہریت کا متنازع قانون بنایا جس میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔مگر کب تک؟آ خر مسلمان شہدا کا لہو رنگ لا کے رہا ،اور اس قانون کے خلاف بھی بھارت میں احتجاجی لہر پیدا ہوئی اور دہلی کے شاہین باغ میں طویل عرصے تک مسلمان مرد و خواتین کا دھرنا جاری رہا۔ کسان صرف اصلاحات کے لیے احتجاج نہیں کررہے بلکہ یہ تحریک بھارت کے پورے معاشی ڈھانچے کو تبدیل کردے گی، آج جو غصہ نظر آرہا ہے اس کے کئی محرکات ہیں۔اور پھر چھبیس جنو ری کو بھا رتی یومِ جمہو ریہ کا رو ز آ ن پہنچا۔ اس روز مشتعل کسان مظاہرین کی ٹریکٹر ریلی رکاوٹیں توڑ کر دارالحکومت دہلی میں داخل ہوگئی اور لال قلعہ پر خالصتان کا پرچم لہرادیا۔ کسان مودی سرکا رکی متنازع زرعی پالیسی کے خلاف تین ماہ سے نئی دہلی کی سرحدوں پرسراپا احتجاج تھے۔ بھارت میں ہونے والے ان تازہ ترین واقعات نے پوری دنیا کو مودی سرکار کی تباہ کن پالیسیوں کی جانب متوجہ کرلیا ہے۔ کسانوں کے احتجاج نے بھار ت کے قومی دن کی تقریب کو، جس میں وہ اپنی دفاعی قوت کی بھرپور نمائش کرتا ہے، پس منظر میں دھکیل دیا۔ 26 جنوری 1950ء کو بھارتی آئین منظور ہونے کی یاد منانے کے لیے منعقد ہونے والی فوجی پریڈ پر کسانوں کا احتجاج غالب آگیا ہے۔ کئی ماہ سے جاری کسانوں کی احتجاجی تحریک 120 لاشیں اُٹھا کر بھی زور شور سے جاری ہے، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی اصلیت بے نقاب ہوگئی ہے۔مودی سرکار نے گزشتہ سال ستمبر میں تین نئے زرعی قوانین منظور کیے تھے جس کے تحت اناج کی سرکاری منڈیوں تک نجی تاجروں کو رسائی دی گئی، اناج کی سرکاری قیمت کی ضمانت ختم اور کنٹریکٹ کھیتی کا نظام شروع کیا گیا۔ بھارتی سکھوں نے مودی سرکار پر واضح کیا کہ وہ کبھی ہندی، ہندو اور ہندوستان کا ایجنڈا پورا نہیں ہونے دیںگے۔ بھارتی سکھوں نے ایک بار پھر لے کے رہیں گے خالصتان کانعرہ لگادیا ہے۔ دوسری جانب بھارتی یوم جمہوریہ پر کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے یوم سیاہ منا کر دنیا کو پیغام دیا کہ وہ مادر وطن پر بھارتی غیرقانونی تسلط کو مسترد کرتے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں سخت پابندیاں نافذ اور انٹرنیٹ سروسز معطل رہی۔ ظالم ریاست مظلوم کشمیریوں کا جذبہ آزادی دبانے میں ناکام رہی، کشمیریوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک پر بھارت کو دنیا بھر کی مذمت کا سامنا ہے۔

تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو تقسیم ہند (1947ء) کے بعد بھارتی قیادت نے اقلیتوں کا اعتماد جیتنے کے لیے وقتی طور پر نعرہ بلند کیا کہ ہندوستان ایک سیکولر ریاست ہوگی جس میں ہندوئوں، مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو یکساں حقوق حاصل ہوں گے۔ لیکن ایسا عملی طور پر ہندوستان کی تاریخ میں کبھی نہیں 

ہوا اور اقلیتوں کو ہمیشہ انتہا پسند ہندوئوں کی طرف سے ظلم و جبر اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ ہندو بالا دستی قبول کرلیں۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ہونے کے دعوے دار بھارت میں اس کے دعوئوں کے برعکس انسانی حقوق کی پامالی ایک عام سی بات ہے، جو صرف مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں بلکہ پورا بھارت ہی مذہبی، لسانی اور معاشرتی تعصبات اور ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے مودی حکومت نے علیحدگی پسند تحریکوں میں نئی جان ڈال دی ہے۔ آسام میں بھی آزادی پسند عناصر مودی سرکار کے گلے کی ہڈی بن چکے ہیں۔ بھارتی فیصلے نے کشمیر سمیت بھارت میں علیحدگی پسند تحریکوںمیں نئی روح پھونک دی ہے۔ مودی سرکار نے آرٹیکل 370 ختم کرکے پورے بھارت کو ایسی آگ میں جھونکا ہے جس میں خود اسے جھلسنا ہوگا۔ہندوتوا کے فلسفے کی پیروکار بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کی تنگ نظری پر مبنی روش کی بنا پر دیکھتے ہی دیکھتے پورے بھارت میں اب تک 70 کے قریب علیحدگی پسند تحریکیں اُٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔ عالمی ماہرین ان تحریکوں کو محض بھارت کی اس ریاستی تنگ نظری، فکری گراوٹ، بے حسی اور متعصبانہ رویوں کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ بھارت میں کئی ریاستیں ایسی بھی ہیں جن پر اس نے برطانوی راج سے آزادی کے فوری بعد فوجی طاقت کے بل بوتے پر قبضہ جما کر انہیں ’’انڈین یونین‘‘ میں زبردستی شامل کرلیا تھا اور پھر ان علاقوں میں بزور بازو اپنی تہذیب، کلچر، ماحول، تمدن، سوچ و فکر، لٹریچر او رآرٹ و زبان کا نفاذ کرنا چاہا تھا، جس پر اسے ان ریاستوں کی اپنی تہذیب، ثقافت، ادب، زبان و طرزِ معاشرت بھارت سے بالکل مختلف ہے۔ شمال مشرقی بھارت کی سیون سسٹرز (سات بہنیں) کہلانے والی سات ریاستیں جن میں آسام، تری پورہ، ہماچل پردیش، میزورام، منی پور، میگھالیہ اور ناگالینڈعالمی طور پر باغی تحریکوں کا مرکز سمجھی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت کی دیگر ریاستوں جن میں بہار، جھاڑ کھنڈ، چھتیس گڑھ، مغربی بنگال، اڑیسہ، مدھیا پردیش، مہاراشٹر اور آندھرا پردیش میں بھی علیحدگی پسند گروپ سرگرم عمل ہیں۔ لیکن ناگالینڈ کے ناگا باغیوں اور نکسل باڑیوں کی تحریک اب بھارتی وجود کے لیے حقیقی خطرے کا روپ دھارچکی ہے۔ صرف آسام میں ہی 34 باغی تنظیمیں کام کررہی ہیں جو ملک کے 162 اضلاع پر مکمل کنٹرول رکھتی ہیں۔ دوسری جانب ایسی ہی تحریکیں ناگالینڈ، منی پور اور تری پورہ میں بھی جاری ہیں۔ ناگالینڈ میں نیشنل سوشلسٹ کونسل سب سے زیادہ موثر ہے، جب کہ منی پور میں بھی کئی تنظیمیں عملی طور پر بھارت سے آزادی کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔ اسی طرح تری پورہ میں آل تری پورہ ٹائیگر فورس، تری پورہ آرمڈ ٹرائبل فورس، تری پورہ مکتی کمانڈو اور بنگالی رجمنٹ جدوجہد کر رہی ہیں جبکہ ریاست میزورام میں پروفیشنل لبریشن فرنٹ علیحدگی کی تحریک کو آگے بڑھارہی ہے۔ یہ علیحدگی پسند تنظیمیں جن میں زیادہ تر مسلح تنظیمیں ہیں، ایک سیکولر سٹیٹ کا کچا چٹھا کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔ دوسری طرف قبائلی علاقوں میں مائو نوازوں کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل بھارت کی پانچ ریاستوں جھاڑ کھنڈ، چھتیس گڑھ، اڑیسہ، بہار اور مغربی بنگال میں مائو پرستوں پر ریاستی تشدد کے خلاف ہڑتال کو کامیاب بنانے میں ہرمکتبہ فکر کے افراد نے حصہ لیا۔ سکول، کالج و دیگر تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ سرکاری و نجی دفاتر، ٹرانسپورٹ یہاں تک کہ ٹرین سروس بھی بند رہی۔ مکمل پہیہ جام ہوا جس سے بھارت کی سرکار ہل کر رہ گئی۔ اس وقت بھارت میں اقلیتوں کے بیشتر افراد اپنے تعلیمی حق سے محروم ناخواندگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر بالفرض کہیں تعلیم دی بھی جاتی ہے تو صرف ہندو مت کی اور پورا نصابِ تعلیم ہندو مذہب کے گرد گھومتا ہے جو فی الحقیقت اقلیتوں (بالخصوص مسلمانوں) کی تہذیب و ثقافت ختم کرنے کے لیے ایک چال ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ مسلمان تیار ہوجائیں ان کے آثار مٹائے جارہے ہیں ۔تا ہم سامنے نظر آ نے وا لی حقیقت یہ ہے کہ وہ گھڑی قریب آن پہنچی ہے جب اکھنڈ بھارت کا خواب کئی آزاد ممالک کی شکل میں شرمندہ تعبیر ہوگا۔ بھارت میں چلنے والی آزادی کی تحریکیں حقیقت میں بھارتی وجود کو مسلسل کھوکھلا کر رہی ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔


ای پیپر