اب اُداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں !
01 فروری 2020 2020-02-01

(پانچویں قسط، گزشتہ سے پیوستہ)

اپنے گزشتہ کالم میں ، میں مخدوم جاوید ہاشمی کا ذکر کررہا تھا، وہ چونکہ ایک روز پہلے ہی نون لیگ چھوڑکر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے لہٰذا کراچی کے پی ٹی آئی کے تاریخی جلسے میں اُن کا تاریخی استقبال ہوا، شاید اِسی تاریخی استقبال کو پیش نظر رکھتے ہوئے جلسے کے اگلے روز عمران خان نے جہانگیر ترین کے گھر ناشتے کی میز پر یہاں تک اُن سے کہہ دیا ”ہاشمی صاحب آپ کا استقبال تو مجھ سے بھی زیادہ ہوا، میں سوچ رہا ہوں پی ٹی آئی کا چیئرمین آپ کو ہونا چاہیے“.... ویسے عمران خان اگر اپنی اُس وقت کی سوچ کے مطابق جاوید ہاشمی کو پی ٹی آئی کا چیئرمین بنادیتے، یہ جماعت جو اب اقتدار میں آنے کے بعد ختم ہورہی ہے، اقتدار میں آنے سے پہلے ہی ختم ہوجاتی، کیونکہ جاوید ہاشمی کی اُن قوتوں بلکہ ”اصل قوتوں“ سے بالکل بھی نہیں بنتی تھی جن سے خان صاحب کی بھی اب نہیں بن رہی، .... بہرحال نوائے وقت کے دفتر سے نکل کر میں سیدھا جاوید ہاشمی صاحب کے پاس پہنچا میں نے اُنہیں نوائے وقت میں اپنی مشکلات کی تفصیلات سے آگاہ کیا، وہ بولے ” کل میں آپ کے ساتھ مجیدنظامی صاحب کے پاس جاﺅں گا“ ، اگلے روز ہم نظامی صاحب سے وقت لے کر ان کے پاس گئے، ہم دونوں جب کمرے میں داخل ہوئے، نظامی صاحب نے مجھ سے کہا ”آپ ذرا دوسرے کمرے میں تشریف رکھیں، میں نے ہاشمی صاحب سے کوئی ضروری بات کرنی ہے “، ہاشمی صاحب نے نظامی صاحب کی طرف اِس انداز میں دیکھا جیسے وہ اُن سے یہ کہنے لگے ہوں ”ضروری بات توفیق بٹ کی موجودگی میں بھی ہوسکتی ہے“ .... میں نے ہاشمی صاحب کو اشارے سے منع کردیا، میں اُن کے کمرے سے نکل کر نظامی صاحب کے پی اے کے کمرے میں آکر بیٹھ گیا، کچھ دیر بعد نظامی صاحب کے چپڑاسی منیر نے مجھ سے کہا ”آپ کو نظامی صاحب اندر بُلارہے ہیں“ ، منیر جسے اکثر لوگ ” منیر نظامی“ کہتے تھے تکبر کے اعتبار سے نظامی صاحب سے بھی دو ہاتھ آگے تھا، نوائے وقت میں بڑے بڑے سینئر لوگوں کو وہ منہ نہیں لگاتا تھا، نظامی صاحب نے اُسے بہت سرپر چڑھایا ہوا تھا، منیر نظامی نے جب مجھ سے کہا”آپ کو نظامی صاحب اندر بُلا رہے ہیں، ایک لمحے کے لیے مجھے لگاجیسے وہ مجھ سے یہ کہہ رہا ہو ”آپ کو نظامی صاحب اندر کروارہے ہیں “ ، میں اندر گیا تو وہ جاوید ہاشمی سے خوش گپیوں میں مصروف تھے، ہاشمی صاحب نے اچانک میرے کالموںکی تعریفیں شروع کردیں تو مجھے کمرے سے کچھ جلنے کی بُو آنے لگی، نظامی صاحب اصل میں اپنے منہ پر اپنے علاوہ کسی اور کی تعریف برداشت ہی نہیں کرتے تھے، جیسا کہ گزشتہ کالم میں بھی میں نے عرض کیا وہ ذرا اُونچا سنتے تھے مگر ان کے اخبار کے کسی کالم نگار کی ان کے سامنے کوئی دبے دبے لفظوں میں بھی تعریف کرتا وہ فوراً سن لیتے اور پھر خوامخواہ اُس کے خلاف ہوجاتے، چنانچہ میں نوائے وقت میں موجود اپنے اکثر خیرخواہوں اور دیگر دوستوں سے ہاتھ باندھ کر گزارش کیا کرتا تھا ”آپ نے نظامی صاحب کے سامنے میری تعریف نہیں کرنی، اور میرے کسی کالم کی تو بالکل ہی نہیں کرنی، ورنہ کوئی پتہ نہیں آگے سے نظامی صاحب فرما دیں ”توفیق بٹ کا یہ کالم اصل میں ، میں نے لکھا ہے “، ....یہاں میں بطور خاص عرض کرنا چاہتا ہوں کسی کالم میں کوئی جملہ یا پیرا گراف حذف کرنا ایڈیٹر کا حق ہوتا ہے، نظامی صاحب یہ حق ناحق طورپر اس طرح استعمال کرتے تھے کہ اپنے اخبار میں لکھنے والے کالم نگاروں کے اکثر کالموں میں کچھ جملے اپنی طرف سے شامل کردیتے تھے، اگلے روز کالم چھپتا بے چارہ کالم نگار سرپکڑ کر بیٹھ جاتا کہ یہ تو میں نے لکھا ہی نہیں تھا، میرے ساتھ اِس حوالے سے بطور خاص بڑی زیادتی ہوتی تھی، ایک بار میں نے اپنے ایک کالم میں ایک جملہ چودھری شجاعت حسین کے حق میں لکھا، نظامی صاحب نے اُس جملے کو کاٹ کر اپنی طرف سے ایک جملہ شامل کردیا جو اُن کے خلاف تھا، اگلے روز مجھے چودھری صاحب کا فون آگیا، میں نے اُنہیں یہ نہیں بتایا یہ نظامی صاحب کی کارستانی ہے، پر مجھے اِس پر افسوس بہت ہوا، میں نے اِس پر نظامی صاحب کو خط لکھا جس کا اُنہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، .... میں اور جاوید ہاشمی، نظامی صاحب سے ملاقات کے بعد نوائے وقت کے دفتر سے نکلنے لگے، دوسرے فلور پر خواجہ فرخ سعید مل گئے، وہ ہاشمی صاحب کو اپنے کمرے میں لے گئے، واپسی پر گاڑی میں ہاشمی صاحب سے میں نے کہا ”اخلاقی طورپر مجھے آپ سے پوچھنا تو نہیں چاہیے کہ مجھے کمرے سے نکال کر نظامی صاحب نے کیا ضروری بات آپ سے کی ؟ آپ مناسب سمجھیں تو بتادیں“ وہ بولے ”نظامی صاحب فرما رہے تھے آپ کا نون لیگ کو چھوڑنے کا فیصلہ بہت اچھا ہے“ .... ہاشمی صاحب کی یہ بات سن کر نظامی صاحب کے حوالے سے میری حیرتوں میں مزید اضافہ ہوگیا، میں نے سوچا یہ کیسی منافقت ہے ایک طرف وہ مجھے عمران خان کے حق میں لکھنے سے مسلسل منع کررہے ہیں، دوسری طرف وہ ہاشمی صاحب سے کہہ رہے ہیں آپ نے نون لیگ چھوڑ کر اچھا کیا، جس کا صاف صاف مطلب ہے کہ آپ نے پی ٹی آئی جائن کرکے اچھا کیا.... بہرحال نظامی صاحب کو اللہ اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے، اُن کی شخصیت کے کئی دلچسپ اور بڑے پُراسرار پہلو ہیں، میں نے اس پر باقاعدہ ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کیا تھا جو اُن کی وفات کے بعد میں نے بدل دیا، .... نظامی صاحب کی طرف سے جب حتمی طورپر مجھے یہ حکم جاری ہوگیا میں عمران خان کے حق میں ایک لفظ نہیں لکھوں گا تو میں نے نوائے وقت کو مستقل طورپر خیر باد کہہ دیا، اُس کے بعد نظامی صاحب نے میری واپسی کی بڑی خواہش اور کوشش کی پر دل بہت بھرا ہوا تھا، دوبارہ نوائے وقت جائن کرکے میں خود کو اذیت کے اُس مقام پر واپس نہیں لانا چاہتا تھا جس سے بڑی مشکل سے چھٹکارا حاصل کیا تھا، نوائے وقت چھوڑنے کے بعد کچھ عرصے تک میں نے کالم نہیں لکھا، عمران خان کو جب پتہ چلا اُن کی وجہ سے نوائے وقت میں نے چھوڑ دیا ہے وہ میرے گھر آئے اور کہنے لگے ” میں نے آپ سے کہا تھا ناں یہ دُم کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی، آپ خوامخواہ مجھے ان کے پاس لے جانا چاہتے تھے“.... پھر جناب حفیظ اللہ نیازی نے میرے اعزاز میں ایک زبردست عشائیے کا اہتمام خان صاحب کے گھر واقع زمان پارک میں کیا، تھوڑی دیر کے لیے عمران خان بھی تشریف لائے، بے شمار دانشور اور کالم نویس بھی شریک ہوئے، سوائے ان کالم نویسوں کے جو اس وقت نوائے وقت سے وابستہ تھے، وہ نظامی صاحب کے خوف سے نہیں آئے تھے کہ کہیں وہ اُن سے ناراض ہی نہ ہوجائیں ،.... کچھ روز بعد برادرم مبین رشید نے مجھ سے رابطہ کیا، انہوں نے کچھ ہی روز پہلے نوائے وقت چھوڑکر نئی بات میڈیا گروپ جائن کیا تھا، ان کے علاوہ جناب عطا الرحمن بھی نوائے وقت سے الگ ہوکر بطور ایڈیٹر روزنامہ نئی بات میں جاچکے تھے، حتیٰ کہ جناب عارف نظامی نے بھی بطور کالم نگار اس گروپ کو جائن کرلیا ، پھر جناب سجاد میر بھی نوائے وقت چھوڑ کر نئی بات سے وابستہ ہوگئے، مستنصر حسین تارڑ، بشریٰ اعجاز، وصی شاہ اور کئی نامور لکھنے والوں نے بھی روزنامہ نئی بات جائن کرلیا، برادرم مبین رشید کئی روز تک میرے پیچھے پڑے رہے کہ میں دوبارہ لکھنا شروع کروں اور نئی بات میڈیا گروپ جائن کرلوں، پھر اِک روز وہ ضد کرکے مجھے نئی بات کے چیف ایڈیٹر چودھری عبدالرحمن صاحب سے ملوانے لے ہی گئے ۔ (جاری ہے)


ای پیپر