سندھ میں اپوزیشن کا کردار
01 فروری 2019 2019-02-01

سندھ کے عوام حکمرانی، پالیسی سازی، عوام کے مصائب کے حوالے سے متعدد مسائل کا شکارہیں۔ سرکاری اعداد شمار اور رپورٹس کے مطابق صوبے میں دیہی اور شہری علاقوں میں غربت بڑھ رہی ہے۔ لوگ پینے کے صاف پانی اور نکاسی آب کی سہولیات سے محروم ہیں۔ ا س کا سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں قائم واٹر کمیشن کی رپورٹس سے اندازہ ہوسکتا ہے۔ صوبے میں اڑھائی سال پہلے سے نافذ کی گئی تعلیمی ایمرجنسی بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی۔ زراعت پانی کی قلت، انتظام کاری اور مارکیٹنگ میں گڑبڑ کی وجہ سے مسائل کا شکار ہے، یہاں تک کہ کاشتکار گنے اور کپاس کے بجائے دیگر چھوٹی فصلیں کاشت کرنے کی طرف جارہے ہیں۔ صحت سمیت مختلف ادارے اپنے وجود کی حیثیت کھو بیٹھے ہیں۔اس صورتحال پرحکومت اور اپوزیشن سندھ اسمبلی میں بات چیت نہیں کررہیں۔ ایک دوسرے پر تنقید اور گالیاں دینے کا الزام لگا کر ایوان کو مچھلی مارکیٹ بنائے ہوئے ہیں۔ وہ عوام کو تو بھول بیٹھے ہیں بلکہ دونوں فریقین ایوان کا تقدس بھی بھول گئے۔ گزشتہ روز معاملہ کا آغازجی ڈی اے کے رکن عارف مصطفیٰ جتوئی کے اس سوال سے ہوا کہ کیاجیل میں ایک وائرس کی وجہ سے ایک سیاستدان متاثر ہوئے ہیں۔ پھر یہی الزام تراشی ہوتی رہی کہ کس نے کس کو گالی دی ۔

اپوزیشن کی جانب سے صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ پر گالی دینے کے الزام کے بعد ہنگامہ، شورشرابہ شروع ہوا۔ اپوزیشن لیڈر اورسعیدغنی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور ہنگامہ آرائی اورشور شرابے کے باعث ایوان کا ماحول سخت کشیدہ ہوگیا۔ ایوان میں اپوزیشن ارکان کی جانب سے یہ شکایت کی گئی کہ سرکاری بنچوں پر موجود ایک وزیر کی جانب سے گالی دی گئی ہے۔صوبائی وزیرمکیش کمار چاولہ اور امتیاز شیخ نے اپوزیشن کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کسی نے کوئی گالی نہیں دی۔اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرائیں گے۔تعجب کی بات ہے کہ اپوزیشن کے پاس سرکاری بنچوں سے پوچھنے کے لئے یہی سوال رہ گیا تھا؟ اس طرح کی صورتحال ممکن ہے کہ حکومت کے حق میں جائے کہ اصل مسائل پر اس سے نہ پوچھا جائے، اس کے بجائے فروعی معاملات پر بحث ہو، یا ہنگامہ آرائی ہو۔ اس معاملے میں اپوزیشن کا کردار زیادہ اہم اور ذمہ دارانہ بنتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح سے حکومت کو سوالات سے بھاگنے کا موقع نہ دے ۔اور اس کو اس طرف لے آئے کہ وہ عوام کے حقیقی مسائل، اداروں کی کارکردگی، سرکاری پالیسیوں پر بحث کرے تنقید کرے۔ لگتا ہے کہ اپوزیشن نان ایشو کو ایشو بنا رہی ہے۔

سندھ میں نیب کے دائر کردہ مختلف مقدمات میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔ سکھر میں ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن اور اسسٹنٹ کمشنر کے خلاف نیب انکوائری ختم کرنے کی رپورٹ پر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ نے ریماکس دیئے کہ نیب نے ادارے کو کیوں مذاق بنایا ہوا ہے۔نیب تین تین سال انکوائریاں کرتاہے اورچوتھے سال کہتاہے ملزم مطلوب ہی نہیں‘نیب کے تفتیشی افسران کوئی دودھ کے دھلے ہوئے نہیں۔ دریں اثناء قومی احتساب بیورو (نیب) کراچی ریجن کے تمام پراسیکیوٹرز نے استعفیٰ دے دیا۔بظاہر یہ کہا جارہا ہے کہ مستعفی ہونے والے تمام پراسیکیوٹرز نے تنخواہیں بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا۔ نیب پراسیکیوٹرز ایک لاکھ دس ہزار سے چالیس ہزار کے درمیان تنخواہیں لے رہے تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ تنخواہیں بڑھا کر ایڈووکیٹ جنرل کے پراسیکیوٹرز کے برابر کی جائیں۔

قومی ادارہ امرض قلب کراچی وفاقی حکومت کے ماتحت ہو یا سندھ حکومت کے ؟اس معاملے پر دونوں حکومتوں کے درمیان تنازع چل رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے مطابق جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر وفاق حکومت کے ماتحت ہیں۔ سندھ حکومت نے این آئی وی سی ڈی سے متعلق بل صوبائی اسمبلی سے منظور کرایا۔ لیکن گورنر سندھ نے دستخط کرنے کے بجائے بل واپس کردیا تھا۔ سندھ اسمبلی نے دوبارہ بل پاس کرلیا ہے۔ سندھ حکومت کا موقف ہے کہ محکمہ صحت صوبائی حکومت کے ماتحت ہے۔ لہٰذا صوبائی حکومت اس پر قانون سازی کر سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ عدالتی حکم کے بعد وفاقی سیکریٹری صحت نے خط لکھ کر بتایا ہے کہ وفاق اس ادارہ کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتا۔ حیرت کی بات ہے کہ صرف ریسرچ کی وجہ سے اس ادارے کو وفاق کے حوالے کیا جارہا ہے۔

گزشتہ دنوں خبر آئی تھی کہ وزیراعظم کے 130 مختلف احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ یہ صورتحال صرف وفاقی حکومت تک محدود نہیں۔ سندھ میں مختلف محکمہ جات میں 957 عدالتی حکم نامے التوا میں پڑے ہوئے ہیں ۔ مجموعی طور پر حکمرانی کا یہ حال ہے۔

وفاق کی طرف منتقل ہوتے ہوئے ادارے اور حکومت سندھ کی خاموشی کے عنوان سے ’’ روزنامہ کاوش‘‘ لکھتا ہے کہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ گزشتہ ایک عشرے سے سندھ میں خراب حکمرانی ہے۔ نیتجۃ صوبے کا کوئی بھی محکمہ یا وزارت روایتی کام کرنے کے انداز سے باہر نکل نہیں سکتے ہیں۔ خراب حکمرانی کی وجہ سے سندھ زوال کا شکار ہوا۔ جس سے معاشی، سماجی ، نفسیاتی اور سیاسی بدحالی کی علامات بھی واضح طور پر نظر آرہی ہیں۔ خراب حکمرانی اور صوبے کے مفادات کی صحیح طور پر نمائندگی نہ کرنے کی وجہ سے اب صورتحال یہ بنی ہے کہ سندھ سے سرکاری اور نجی اداروں کے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد منتقل کئے جا رہے ہیں۔ جب تمام دفاتر اسلام آباد منتقل ہو جائیں گے تو پھر اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات دینے کی کیا معنیٰ رہ جائیں گی؟ کراچی اسٹاک ایکسچینج کا نام تبدیل کر کے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کر کے ہیڈکوارٹر اسلام آباد منتقل کردیا گیا۔ نیوی کے بعد مسلم کمرشل بینک، الائیڈ بینک کے ہیڈ کوارٹر سندھ سے منتقل کئے گئے۔ اب پی آئی اے کا ہیڈکوارٹر بھی اسلام آباد لے جایا جارہا ہے۔ اس طرح سے چھوٹے بڑے اداروں کے دفاتر اسلام آباد منتقل کر کے وسائل پرکنٹرول ، انتظام کاری اورحاکمیت مرکز کی طرف منتقل کی جارہی ہے۔ اس طرح کی منتقلی سے صوبے میں روزگار اور مستقبل کی ترقی کے سوالات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ سندھ کے منتخب نمائندے اور سندھ اسمبلی اس ضمن میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکی ہے۔ یہ سوال صرف سندھ کا نہیں بلکہ ملک کے تمام جمہوریت پسندوں کا سوال ہے۔ انہیں اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔


ای پیپر