پولیس، پولیس ہوتی ہے۔۔۔ آئینی ہو یا غیر آئینی
01 فروری 2019 2019-02-01

امریکہ کی سفید فام پولیس سیاہ فام باشندوں کے ساتھ امتیازی رویہ رکھتی ہے انہیں پولیس مقابلوں میں ہلاک کر دیا جاتا ہے ۔ وہاں 2012 ء سے سیاہ فاموں کی تنظیم ’’Black lives matter ‘‘ کام کر رہی ہے ۔ اسرائیل کی یہودی پولیس بھی امتیازی ہے وہاں امتیاز رنگ کی بنیاد پر نہیں بلکہ مذہب کی بنیاد پر ہے ۔ اس لیے فلسطینیوں کو مار دیا جاتا ہے ۔ پاکستان کی پولیس کسی سے امتیازی سلوک نہیں کرتی ۔ شہری جتنا چاہے طاقتور ہو یا غریب ہو بلا امتیاز پولیس مقابلے میں مار دیا جاتا ہے ۔ پولیس کی اندھی طاقت کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ بے نظیر بھٹو ملک کی وزیر اعظم تھیں اور ان کے بھائی میر مرتضےٰ بھٹو کو ساتھیوں سمیت پولیس مقابلے میں پار کر دیا گیا اور آج تک کسی کو سزا نہیں ہوئی۔ دنیا بھر میں پولیس مقابلوں کے ریکارڈ اکھٹے کیے جائیں تو پاکستان کا نمبر پہلا ہے ۔مگر آج تک کسی پولیس والے کو سزا نہیں ہوئی اس کی وجہ یہ ہے کہ پولیس انتظامیہ اپنے ملازموں کا دفاع کرتی ہے اور ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات انہی قاتلوں کے پیٹی بند بھائیوں کے سپرد ہوتی ہے ۔ جو انکوائری میں انہیں بے گناہ ثابت کر دیتے ہیں۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ لوگ اپنی ذاتی رنجش یا دشمنی کا بدلہ لینے کے لیے پولیس کی خدمات Hire کرتے ہیں تاکہ قتل کے مقدمے سے بچ جائیں۔ پولیس ریاست کے اندر ایک ریاست ہے جو اصل ریاست سے زیادہ اختیار اور طاقت کی حامل ہے ۔ عابد باکسر سے لے کر راؤ انوار تک پولیس نے لا قانونیت کی ایسی داستانیں رقم کی ہیں کہ دہشت گردی میں شہید ہونے والے ہزاروں پولیس ملازمین اپنی جانوں کے نذرانے دے کر بھی اپنے خون سے پولیس کا امیج دھونے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک پولیس ریفارم کے لیے 21 کمیٹیاں اور کمیشن اعلیٰ ترین سطح پر بنائے گئے مگر پولیس کو سیدھا کرنے کی خواہش میں یہ کمیٹیاں اور کمیشن بنتے اور ٹوٹتے رہے مگر پولیس کا یہ سفر جاری رہا ہمارے جتنے آئی جی ریٹائر ہوتے ہیں نوکری ختم ہونے کے بعد احساس گناہ اور پچھتاوے سے نجات کے لیے انہیں پولیس ریفارم کی یاد ستاتی ہے ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی رپورٹس پڑھیں تو وہ 40-40 سال جس نظام کا حصہ رہے ہوتے ہیں اس سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں اور سسٹم کے ناقابل اصلاح ہونے اعتراف کرتے ہیں۔

اس پس منظر میں ساہیوال میں ہونے والے آپریشن پر نظر ڈالیں اور اب تک کی پیش رفت پر غور کریں تو نظر آ رہا ہے کہ کچھ بھی نہیں ہو گا ۔ اس واقعہ میں ملوث افراد کو سزا ملنے کیے امکانات آٹے میں نمک سے بھی کم ہیں جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے اور زندگی معمول پر آ رہی ہے یہ کیسی اپنے غیر منطقی انجام کی طرف بڑھتا جا رہا ہے ۔ کیس کی جزئیات بچے بچے کو معلوم ہیں

ان کی تفصیل میں جائے بغیر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ خلیل فیملی قطعی طور پر بے گناہ تھے یہ الگ بات ہے کہ ابھی تک ڈرائیور ذیشان کا بھی دہشت گردی سے براہ راست تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔

جس سطح کا یہ واقعہ تھا اور اس پر وزیر اعظم عمران خان کا جو بیان تھا کہ اس وجہ سے سو نہیں سکتے اور بچوں کے چہرے ان کے سامنے آ جاتے ہیں اور یہ کہ وہ ذمہ داروں کو عبرت کا نشان بنا دیں گے اس پر لگتا تھا کہ وہ ایکشن لیں گے لیکن بعد کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اس پر بات کرنے سے روک دیا گیا ہے اگر وہ اپنی بات پر قائم رہتے تو ضرور ایک دفعہ سو گوار خاندان سے ہمدردی کے لیے ان کے گھر جا کر ملاقات کرتے۔تحریک انصاف کے دوسرے لیڈروں اور وزراء کے بیانات سن لیں ۔چوہدری سرور گورنر پنجاب فرماتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات دنیا بھر میں ہوتے ہیں۔وزیر اعلیٰ بزدار کہتے ہیں کہ ہم بے گناہوں کو کیسے پھانسی لگا دیں رپورٹ آنے دیں۔ 72 گھنٹے میں رپورٹ کا دورانیہ 30 دن ہو چکا ہے ۔ پنجاب کے وزیر قانون نے تو اس کو collateral damage قرار دے دیا یہ وہ حربہ ہے جس کے تحت امریکہ نے عراق اور افغانستان میں شادی اور نماز جنازہ کے اجتماعات پر فضائی حملے کر کے ہزاروں بے گناہوں کو موت کی نیند سلا دیا ۔ وزیر قانون راجہ بشارت ابھی تک اپنی بات پر قائم ہیں کہ آپریشن 100 فیصد درست تھا ۔

ستم بالائے ستم یہ ہے کہ قتل اور دہشت گردی کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیاگیا ہے ۔ لواحقین نے تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ تحقیقاتی ٹیم اپنے انداز سے اگر پہلے دن ہی آئی جی پنجاب استعفیٰ دے دیتے تو حکومت کے لیے Face saving کا سامان مہیہ ہو جا تا مگر یہ نہ ہوا بلکہ جو محکمانہ کارروائی ہوئی اس میں آئی جی کو کلیئر کر دیا گیا ۔ آئی جی پنجاب کا تعلق ارائیں برادری سے ہے اور ان کا ڈومیسائل ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ہے یہ وہی ضلع ہے جہاں سے ارائیں برادری کے ایک سپوت چوہدری سرور گورنر پنجاب ہیں اور موجودہ آئی جی صاحب کی تعیناتی میں ان کا عمل دخل شامل ہے ۔ چوہدری سرور نے ملک کی آرائیں برادری کو ایک مضبوط غیر اعلانیہ سیاسی پلیٹ فارم دیا ہے ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں محسن رشید کو ڈپٹی کمشنر لگایا جا رہا ہے جن کا تعلق بھی آرائیں برادری سے ہے ۔ لیکن یہ ایک ضمنی فیکٹر ہے واقعہ ساہیوال پر نرمی کا مظاہرہ کرنے کے پس پردہ حقائق کا تعلق اس بات سے ہے کہ قانون کی بالادستی حکمرانی اور اختیارات کا سر چشمہ کہاں ہے ۔

ایک خاموش تاثر یہ پیدا کر دیا گیا ہے کہ اگر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD ) کے اہل کاروں کو سزا دی گئی تو یہ ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر کردار ادا کرنے والے سکیورٹی اداروں اور ایجنسیوں میں مایوسی اور Demoralization کے مترادف ہو گا اور ان کے حوصلے پست ہو جائیں گے اور سزا دینے کے بعد ان اداروں میں کام کرنے والے آفیسر اور اہل کار مستقبل میں دہشت گردوں سے لڑنے سے گریز کریں گے یہ ایک Misconception ہے جس کا فائدہ سانحہ ساہیوال کے ملزموں کو پہچاننے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے ۔ اس سلسلے میں بالادست اداروں کی مسلسل خاموشی آخر کسی چیز کا پیش خیمہ ہے ۔ CTD ذرائع نے واقع کے فوراً بعد کچھ اس طرح کے نا قابل یقین بیانات دیے تھے کہ وہ اس واقعہ کے ذمہ دار نہیں بلکہ انہیں کہیں اور سے حکم دیا گیا تھا بعد میں یہ بیانیہ متروک ہو گیا اور بات سیف سٹی کیمروں کی طرف موڑ دی گئی۔ جو جے آئی ٹی واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے اس میں بھی ایجنسیوں کی نمائندگی موجود ہے ۔ اس واقعہ پر جوڈیشل کمیشن بنائے جانے کی باتیں ہو رہی ہیں عوامی تاثر یہ ہے کہ اگر کسی واقعہ سے توجہ ہٹانا عارضی طور پر مقصود ہو تو کمیٹی بنائی جاتی ہے ۔ یہ واقعہ پولیس نظام میں ریفارم کا ایک اچھا موقع تھا جسے ضائع کر دیا گیا ہے ۔ جب سے ساہیوال واقعہ سیاست کی نذر ہوا ہے سمجھو کہ زندگی معمول کی طرف لوٹ آئی ہے ۔ جب یہ لائنیں لکھی جا رہی ہیں تو وزیر اعلیٰ پنجاب ملتان میں پولیس کی تقریب سے خطاب فرماتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ میرے بہادر جوانو!


ای پیپر