پنڈی کا لیاقت باغ۔۔۔!
01 فروری 2019 2019-02-01

تقریباً ہر بڑے شہر میں کچھ ایسی جگہیں یا مقامات ہوتے ہیں جو اپنی مخصوص حیثیت اور پس منظر و پیش منظر کے ساتھ پہچانے جاتے ہیں۔ پنڈی میں بھی کچھ ایسی جگہیں اور مقامات ضرور ہیں۔ اِن میں لیاقت باغ زیادہ نمایاں ہے۔ آج ہم اِسی کا تذکرہ کرتے ہیں۔ لیاقت باغ پنڈی کے عین قلب میں مری روڈ پر واقع ہے۔ اِس میں جہاں کم بلندی کے پہاڑی علاقوں میں پائے جانے والے چیڑ سمیت دُوسری قسم کے بُلند و بالا درخت ہیں وہاں پھولوں کے تختے ، کیاریاں اور چمن اِس طرح نہیں ہیں جس طرح باغوں میں یا سیر گاہوں میں ہوتے ہیں۔ اس میں لیاقت میموریل ہال اور راولپنڈی پریس کلب کی عمارات تو کب سے قائم ہیں لیکن پچھلے ایک دوعشروں میں اس کی مری روڈ کی سائیڈ پر راولپنڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور واسا نے اپنے دفاتر قائم کر رکھے ہیں تو ساتھ ہی پولیس کی ہیلپ لائن 15نے بھی اپنا مرکز بنا رکھا ہے۔ اِس کے لیاقت روڈ کے شمال مغربی کونے پر راولپنڈی میونسپل ایڈمنسٹریشن نے بھی اپنی کئی منزلہ وسیع و عریض عمارت تعمیر کر رکھی ہے۔ اس کے ساتھ پانی ذخیرہ کرنے کی اُونچی ٹینکی اور ٹیوب ویل بھی موجود ہیں۔ لیاقت باغ کے محلِ وقوع کو بیان کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس کے مشرق میں مری روڈ کے پار پنڈی کی قدیم درسگاہ گورنمنٹ اسلامیہ ہائیر سیکنڈری سکول نمبر1اور آریا محلہ ہے تو شمال لیاقت روڈ کے پار کالج روڈ اور اس سے ملحق مغرب میں 1893ء میں کرسچن مشنری کے تحت قائم کردہ تاریخی گارڈن کالج قائم ہے۔ جو اس وقت گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ گارڈن کالج کے نام سے موسوم ہے۔ مغرب میں نالہ لئی اس کے دامن کو چھوتا ہوا گزرتا ہے تو لئی کے پار گوالمنڈی کا قدیمی اور گنجان آباد علاقہ ہے۔ جنوب مغرب اور جنوب میں بھی نالہ لئی بہتا ہے جس کے پار موٹر گاڑیوں کی ورکشاپیں، سپئیرپارٹس کی دُکانیں اور مارکیٹیں ، آگے ذرا بلندی سے گزرنے والی ریلوے لائن تک پھیلی ہوئی ہیں۔

پاکستان قائم ہوا تو لیاقت باغ کمپنی باغ کہلاتا تھا۔ یہ کمپنی باغ کیوں کہلاتا تھا ؟ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ اُنیسویں صدی کے اواخر میں اِسے انگریزوں نے آباد کیا اور رونق بخشی اُس دور میں بسیں، لاریاں، ٹرک اور موٹر گاڑیاں نہیں ہوتی تھیں۔ تو مری روڈ، کوہالا کے راستے کشمیر جانے والے قافلے اپنی گھوڑا گاڑیوں، بگھیوں اور کوچوں سمیت یہاں پر پڑاؤ کیا کرتے تھے۔ اِس طرح اِس کو کمپنی باغ کا نام مِلا ۔ خیر کمپنی باغ کہلانے کی وجہ تسمیہ کچھ بھی ہو اِس کو لیاقت باغ کا نام ملنے کی وجہ تسمیہ بڑی واضح صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ وہ یہ کہ16 اکتوبر 1951ء کی سہ پہر کو یہاں جلسہ عام میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم قائدِ ملت لیاقت علی خان کی شہادت کا خونچکاں واقع پیش آیا۔ اَور اُس کے بعد سے اِسے شہیدِ ملت لیاقت علی خان کے نام سے منسوب کر کے کمپنی باغ کی بجائے لیاقت باغ کا نام دے دیا گیا۔ شہیدِ ملت لیاقت علی خان، بانی ء پاکستان حضرتِ قائد اعظمؒ کے بااعتماد ساتھی ، آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل اور تحریکِ پاکستان کے اہم رہنما تھے۔ پاکستان قائم ہوا تو وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بنے۔ اُن کی حکومت کواگرچہ شروع سے ہی گوناگوں مسائل کا سامنا تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ اُن کی حکومت کو ختم کرنے کے لئے کئی طرح کی سازشیں بھی شروع ہو گئیں ۔جو زیادہ تر ناکامی سے دو چار ہوئیں۔ مارچ 1951ء میں راولپنڈی سازش کیس کے نام سے موسوم ہونے والی ایک بڑی سازش بھی ناکام رہی۔ اکتوبر1951ء میں لیاقت علی خان نے پنڈی کے دورے کا پروگرام بنایا تو یہاں کے کمپنی باغ میں عوامی جلسے سے خطاب اُن کے پروگرام کا حصہ تھا۔ 16اکتوبر کی سہ پہر کو کمپنی باغ (موجودہ لیاقت باغ ) میں وہ جلسہ عام سے خطاب کرنے کے لئے آئے۔ اُنہوں نے ابھی اپنا خطاب شروع ہی کیا تھا اور برادارانِ ملت کے الفاظ ادا کیے تھے کہ حاضرین کی صفِ اول میں بیٹھے ایک شخص نے جس کا نام بعد میں سید اکبر معلوم ہوا اَور تعلق ایبٹ آباد سے سامنے آیا، اپنی پستول سے اُن کا نشانہ لے کر اُن پر فائر کیے۔ گولیاں لیاقت علی خان کے سینے ، پیٹ اور چہرے پر لگیں اور وہ سٹیج پر گِر گئے۔ اُنہیں اُس وقت کے پاکستان کے ویزداخلہ نواب مشتاق احمد گوروانی کی گاڑی میں CMHلے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ اُن کی میّت کو پاک فضائیہ کے طیارے میں کراچی پہنچایا گیا اور مزار قائد اعظم کے احاطے میں دفن ہوئے۔ اِس طرح شہیدِ ملت لیاقت علی خان کی پنڈی کے کمپنی باغ میں شہادت کی بنا پر کمپنی باغ کو لیاقت باغ کا نام ملا جو تقریباً پچھلے 6عشروں سے زبانِ زدِ خاص و عام ہے۔

لیاقت باغ عوامی جلسہ ء گاہ کے طور پر کب سے مستعمل ہے۔ میں نے بھی پچھلے پانچ/چھ عشروں میں یہاں پر منعقدہ کئی عوامی جلسوں میں شرکت کی۔ اِن کی یادیں کچھ کچھ میرے ذہن کے نیاں خانے میں موجود ہیں۔ لیکن اِن بھولی بسری یادوں کے تذکرے سے قبل

ایک بڑے عوامی جلسے کا ذکر جس کو دیکھنے، سُننے کے لئے اگرچہ میں نہیں گیا تھا لیکن اس کے اختتام پر جو انتہائی المناک اور خونچکاں حادثہ پیش آیا۔ اِس کی المناک یادیں میرے ہی نہیں ہر باشعور پاکستانی کے ذہن میں موجود ہیں۔ ایسا کیوں نہ ہو اِس المناک اور خونچکاں حادثے نے ہماری قومی زندگی اور سیاست پر انتہائی دُور رَس اَور منفی اثرات مرتب کیے۔ 27دسمبر 2007ء کو رونما ہونے والے اِس المناک حادثے کی رُوداد یہ ہے کہ لیاقت باغ میں پاکستان پیپلز پارٹی کا انتخابی جلسہ منعقد ہوا جس سے خطاب کے بعد پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو لیاقت باغ سے باہر لیاقت روڈ کی طرف روانہ ہوئیں تو وہ اپنی بلٹ پروف گاڑی کی چھت کی سکرین کھول کر استقبالی ہجوم کے نعروں کا ہاتھ ہلا ہلا کر جواب دے رہی تھی۔ وہ بمشکل لیاقت روڈ پر پہنچیں تو اُن کی گاڑی خود کش بمبار کا نشانہ بنی اور وہ شدید زخمی ہو کر ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ لیاقت باغ کی حدود میں پیش آنے والا یہ خونچکاں واقع بلا شبہ ہماری قومی تاریخ کا ایک انتہائی تکلیف دہ اور سیاہ باب ہے۔ جس کو فراموش کرنا آسان نہیں۔ تاہم میرے ذہن کے نیاں خانے میں لیاقت باغ سے وابستہ کچھ اور باتیں بھی موجود ہیں۔

لیاقت باغ ایک زمانے(پچھلی صدی کی ستر کی دہائی کے نصفِ دوم سے قبل) ٹرانسپورٹ کا اڈہ بھی ہوا کرتا تھا۔ راولپنڈی سے پنجاب، سرحد(موجود خیبرپختونخواہ) اور کشمیر کے بڑے شہروں اور قصبات تک ہی نہیں بلکہ راولپنڈی کے مضافاتی قصبات و دیہات تک یہاں سے لاریاں، بسیں اور ویگنیں چلا کرتی تھیں۔ ہمارے گاؤں جانے والی واحد بس بھی یہیں سے چلا کرتی تھی۔ گاؤں جانے کے لئے بس پکڑنے کے لئے اکثر ہم گوالمنڈی کے راستہ اختیار کرتے تھے۔ گوالمنڈی کی مین روڈ سے ہوتے ہوئے ہم سڑک نما بڑی گلی سے گزر کر گوالمنڈی اور لیاقت باغ کے درمیان بنے لئی کے چھوٹے، تنگ اور کم اُونچے پل کے کنارے پر پہنچتے ۔ وہاں ٹیکسی وغیرہ چھوڑ دیتے اور پیدل پل عبور کر کے آگے لیاقت باغ کی حدود میں بسوں کے اڈے کے عقبی حصے میں کھڑی اپنے گاؤں کی بس میں سوار ہو جاتے ۔ یہ غالباً 23مارچ 1973ء کا دِن تھا ۔ اُس دِن مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کی مخالف جماعتوں پر مشتمل متحدہ محاذ کا لیاقت باغ میں جلسہ ء عام منعقد ہو رہا تھا۔ میری چھوٹی ہمشیرہ ، چھوٹے بھائی اور بھتیجا ٹیکسی میں سوار گوالمنڈی کے راستے لیاقت باغ کے لئے روانہ ہوئے تا کہ وہاں سے گاؤں کی بس پکڑ سکیں۔ میں بھی اپنی سائیکل پر اُن کے پیچھے چلا کہ دیکھ سکوں کہ اُنہیں بس میں جگہ وغیرہ مل گئی ہے یا نہیں۔ گوالمنڈی اور لیاقت باغ کے درمیان لئی کا پل پار کیا۔ آگے بڑھا تو ایک افرا تفری مچی ہوئی تھی۔ بے پناہ فائرنگ کی آوازیں آرہی تھیں۔ لوگ بھاگ رہے تھے اور بسوں اور لاریوں کے پیچھے چھپ رہے تھے۔ کچھ زخمی بھی تھے۔ میں آگے اپنے گاؤں کی بس تک جانا چاہتا تھا تا کہ دیکھ سکوں میری بہن، بھائی اور بھتیجا تو خیریت سے ہیں لیکن مجھے کسی نے سختی سے پیچھے دھکیل دیا کہ پاگل تو نہیں ہو ۔ فائرنگ میں آگے جا کر مرنا ہے۔ میں واپس لئی کے پل پر آیا اور اِرادہ کیا کہ گوالمنڈی کے بیچ میں سے گزرنے والی مین روڈ سے ہو کر لیاقت روڈ اور وہاں سے مشرق کی طرف گارڈن کالج کے سامنے لیاقت باغ سے بسوں کے باہر نکلنے کے راستے (outer gate)تک پہنچوں اور وہاں گاؤں کی بس کی کیفیت جاننے کی کوشش کروں۔ میں لیاقت روڈ پر تاج کمپنی کے دفتر سے ذرا پیچھے ہی تھا کہ دیکھاکہ لیاقت روڑ پر بسیں آگے پیچھے فوارہ چوک راجہ بازار کی طرف جا رہی ہیں۔ بسوں کی چھتوں پر سوار افراد جن میں سے اکثر نے سُرخ ٹوپیاں پہن رکھی تھیں اور کچھ زخمی بھی تھے بڑے غیظ وغضب میں بھٹو، اُن کی پارٹی اور حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ میں بڑا ڈرا سہما یہ منظر دیکھتا رہا۔ اصل میں ہوا یہ کہ لیاقت باغ میں منعقدہ حزب مخالف کی جماعتوں پر مشتمل متحدہ محاذ کے جلسے کو پیپلز پارٹی کی حکومت نے ناکام بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ جس کی ذمہ داری پنجاب کے وزیر اعلیٰ غلام مصطفی کھر کو سونپی گئی۔ کھر نے جہلم سے پیپلز پارٹی کے اہم راہنما اور ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر غلام حسین اور کچھ دوسرے لوگوں کی ڈیوٹی لگائی ۔ منڈی بہاؤالدین اور ملحقہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد کو بطورِ خاص پنڈی لایا گیا۔ اُنہوں نے مریڑ چوک سے آگے مری روڈ اور اُس سے ملحقہ لئی کے کنارے پر پوزیشنیں لیں اور متحدہ محاذ کا جلسہ شروع ہوا تو فائرنگ شروع کر دی ۔مجھے افسوس ہے تاکید کے باوجود:1200الفاظ سے بڑھ چکا ہے لیکن لیاقت باغ کے حوالے سے میری یادوں کا تذکرہ مکمل نہیں ہو سکا۔


ای پیپر