سانحہ ساہیوال اور مائی جندو۔۔۔
01 فروری 2019 2019-02-01

حضرت عمر رضی اللہ کا دور خلافت ہے۔۔۔ یمن کے مرکزی شہر صنعاء سے خبر ملتی ہے کہ۔۔۔ ایک نوجوان قتل ہو گیا لیکن اس کے ذمہ دار کیفر کردار تک نہیں پہنچائے جا سکے۔۔۔کچھ دن بعد ورثاء حاضرِ خدمت ہوتے ہیں۔۔۔ امیر المومنین فرمان لکھواتے ہیں کہ۔۔۔ اتنے دن میں قصاص کی خبر مجھ تک پہنچنی چاہیے۔۔۔ تاریخ گزر جاتی ہے۔۔۔ پھر ایلچی وہی جواب لاتا ہے کہ تاخیر ہے۔۔۔ اب کی بار گورنر کا خط بھی ملتا ہے۔۔۔جس میں کچھ اس قسم کے الفاظ ملتے ہیں کہ قاتل اکیلا نہیں ہے۔۔۔ اور اس واقعے کے پیچھے ایک با اثر خاندان کا ہاتھ معلوم ہوتا ہے۔ اگر ان کے خلاف کارروائی کی گئی تو۔۔۔ اہل یمن کے بپھر جانے کا خدشہ ہے۔۔۔، سیاسی انتشار متوقع ہے۔۔۔

امیر المومنین جواب لکھواتے ہیں :’’اگر تمام اہل صنعاء اس قتلِ ناحق کے ذمہ دارہوں تو میں قصاص میں سارے شہر کو قتل کروا دوں گا۔۔۔!!‘‘

پھر چشم فلک نے دیکھا کہ صنعاء کی جامع مسجد کے سامنے۔۔۔ ایک جان کے قصاص میں سات لوگوں کو قتل کیا گیا۔۔۔جنہوں نے نوجوان کو فریب دے کرقتل کر دیا تھا، کوئی بغاوت اٹھی نہ انتشار برپا ہوا۔۔۔!!

و لکم فی القصاص حیاۃ اولی الالباب لعکم تتقون (آل عمران: 179)

عقل و خرد رکھنے والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے امید واثق ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے۔

یہ 5 جون 1992 تھا، ٹنڈو بہاول سندھ کے گاؤں میں ایک حاضر سروس میجر ارشد جمیل نے پاک فوج کے دستے کے ساتھ چھاپہ مار کر 9 کسانوں کو گاڑیوں میں بٹھایا اور جامشورو کے نزدیک دریائے سندھ کے کنارے لے جا کر گولیاں مار کر قتل کر دیا، فوج نے الزام لگایا کہ یہ افراد دہشت گرد تھے اور ان کا تعلق بھارت کے ادارے ریسرچ اینڈ اینالائسس ونگ سے تھا۔

لاشیں گاؤں آئیں تو نہ صرف گاؤں بلکہ پورے علاقے میں کہرام مچ گیا ہر ماں اپنے بیٹے کی لاش پر ماتم کر رہی تھی ان کے بین دل دہلا رہے تھے، ان ماؤں میں ایک 72 سال کی بوڑھی عورت مائی جندو بھی تھی، اس کے سامنے اس کے دو بیٹوں بہادر اور منٹھار کے علاوہ داماد

حاجی اکرم کی لاش پڑی تھی مگر وہ خاموش تھی، عورتیں اسے بین کرنے پر اکسا رہی تھیں ، مائی جندو سکتے کے عالم میں بیٹوں اور داماد کے سفید ہوگئے چہرے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔

ہر شخص کہہ رہا تھا کہ خاموشی سے میتیں دفنا دی جائیں قاتل بہت طاقتور تھے ان غریب ہاریوں کا ایسی طاقت والوں سے کیا مقابلہ، مائی جندو کو بار بار رونے کے لیے کہا گیا تو اس نے وحشت ناک نگاہوں سے میتیوں کی طرف دیکھا اور بولی بس ! مائی جندو ایک ہی بار روئے گی جب بیٹوں کے قاتل کو پھانسی کے پھندے میں لٹکتا دیکھے گی، سب جانتے تھے ایسا ممکن نہیں تھا مگر آخر لوگ خاموش ہوگئے، مائی جندو کی بیٹیاں کرلا رہی تھیں مگر مائی جندو ساکت بیٹھی قتل ہونے والوں کو تکے جا رہی تھی۔

جنازے اٹھے تو مائی جندو نے سر کی چادر کمر سے باندھی سیدھی کھڑی ہوئی اور لہو ہوتے جگر کے ساتھ بیٹوں کو الوداع کیا۔۔۔

مسئلہ یہ تھا کہ یہ ٹنڈو بہاول اندرون سندھ کا ایک دور دراز گاؤں تھا اور تب دریائے سندھ کے اس کنارے پر قتل ہونے والوں کی ویڈیو بنانے کے لیے موبائل کیمرہ بھی نہیں آیا تھا، ملک اور سندھ بھر میں خبر چلی کہ دشمن کے ایجنٹ مار کر ملک کو بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔ جس نے پڑھا سنا اس نے شکر کیا۔

جب سارا ملک شکرانہ ادا کر رہا تھا تب مائی جندو نے احتجاجی چیخ ماری۔ اس چیخ نے پرنٹ میڈیا کی سماعتیں چیر کے رکھ دیں، مائی جندو بوڑھی تھی جسمانی لحاظ سے کمزور مگر وہ تین مقتولوں کی ماں تھی اس نے طاقت کے مراکز سے جنگ کا فیصلہ کیا اور اپنی دو بیٹیوں کو ساتھ لے کر قاتلوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا، سوشل میڈیا کی غیر موجودگی میں یہ جنگ آسان نہ تھی مگر نقارے بج چکے تھے کشتیاں جل چکی تھیں اور واپسی محال تھی، اخباروں اور صحافیوں کے ہمراہ مائی جندو نے اس چیخ کو طاقتی مراکز کے سینوں میں گھونپ دیا، پہلی جھڑپ ختم ہوئی اور گرد چھٹی تو معلوم ہوا کہ قتل ہونے والے دہشت گرد نہ تھے بلکہ میجر ارشد جمیل کا ان کے ساتھ زرعی زمین کا جھگڑا تھا، جس کی سزا میں انہیں قتل ہونا پڑا تھا۔

24 جولائی 1992ء کو جنرل آصف نواز اور نواز شریف نے ملاقات کی اور جنرل آصف نواز نے میجر ارشد جمیل کا کورٹ مارشل کرنے کا حکم دے دیا، 29 اکتوبر کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے میجر ارشد جمیل کو سزائے موت اور 13 فوجی اہلکاروں کو عمر قید کی سزا سنائی۔۔۔ میجر نے پاک فوج کے سپہ سالار کو رحم کی اپیل کی جو 14 ستمبر 1993ء کو مسترد ہوئی، اس کے بعد رحم کی اپیل صدر فاروق لغاری سے کی گئی جو 31 جولائی 1995ء کو مسترد تو کر دی گئی لیکن سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا، اس کے بعد میجر ارشد جمیل کے بھائی کی اپیل پر سپریم کورٹ کے جج سعید الزمان صدیقی نے حکم امتناع جاری کیا اور سزا روک دی۔

سزائے موت پر عمل نہ ہونے پر 11 ستمبر 1996ء کو مائی جندوپھر میدان میں نکلی۔ اس کی دو بیٹیوں نے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے جسموں پر تیل چھڑک کر خود کو آگ لگا لی، ان کو نازک حالت میں ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ بچ نہ سکیں۔۔۔ پورے ملک میں ایک بار پھر کہرام مچ گیا، بالآخر 28 اکتوبر 1996ء کو طاقت کی دیواریں مائی جندو کے مسلسل دھکوں کے سامنے ڈھیر ہوگئیں۔۔۔یہ حیدر آباد سنٹرل جیل تھی جب مائی جندو کو پھانسی گھاٹ پر لایا گیا، سامنے تختہ دار پر اس کے گاؤں کے 9 بیٹوں کا قاتل میجر ارشد جمیل کھڑا تھا۔۔۔دار کا تختہ کھینچا گیا تو قاتل میجر ارشد جمیل کا جسم دار پر جھول گیا عین اسی وقت سامنے کھڑی مائی جندو کی بوڑھی مگر زورآور آنکھ سے ایک اشک نکلا اور اس کے رخسار کی جھریوں میں تحلیل ہوگیا۔۔۔ مائی جندو تمہیں دنیا کے تمام کمزور اور مظلوم سلام کرتے ہیں۔۔۔

پہلے واقعہ کا تعلق مدینہ کی ریاست سے ہے اوردوسرے واقعہ کا تعلق پرانے پاکستان سے ہے۔ اور اب سانحہ ساہیوال کا تعلق نئے پاکستان ہے۔ اگر نئے پاکستان کو بچانا ہے تو سانحہ ساہیوال کا فیصلہ میرٹ اورانصاف پر کرنا ہو گا۔ حکومت اگر اس فیصلے کو انصاف کے تقاضوں کو پورا کر کے نپٹاتی ہے تو واقعی ہی تبدیلی آئی ہے اور تبدیلی کا نعرہ بھی سچ ہے۔ اگر حکومت ناکام رہتی ہے اور ’’منڈا منڈا‘‘ ڈالتی ہے تو حکومت کوکوئی حق نہیں ہے کہ سابق حکومتوں پر تنقید کرے اور اُنہیں کرپٹ کہے تبدیلی نعروں سے نہیں انصاف اور شفافیت سے آتی ہے۔ اگر پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانا ہے تو حکومت کو فیصلے بھی مدینہ کے حکمرانوں جیسے کرنا ہوں گے۔ قارئین ہمیں بلکہ ہم سب کو دیکھنا ہے کہ سانحہ ساہیوال کا اونٹ اب کس کروٹ بیٹھتا ہے۔


ای پیپر