وزیر اعلیٰ پنجاب موزوں قرار!
01 فروری 2019 2019-02-01

کوئی بھی سیاسی جماعت ہو اس کا ایک ہی سر براہ ہوتا ہے۔ جو اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اس کی سر براہی کرتا ہے لوگ اس کو اپنا سیاسی رہنما بھی اس لیے تسلیم کرتے ہیں کہ وہ آنے والے لمحوں پر گہری نگاہ رکھتا ہے اور اس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان کے مستقبل کے فیصلے کرتا ہے ۔ !

عمران خان وزیر اعظم پاکستان جب پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار بارے کہتے ہیں کہ کل وہ وسیم اکرم کی طرح ابھر کر سامنے آئے گا تو اس میں انہیں کچھ نہ کچھ ضرور نظر آ رہا ہو گا لہٰذا ان کے مخالف یا ان کے کچھ ساتھی لاکھ کہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میں امور حکومت چلانے کی اہلیت نہیں تو اسے جائز اور درست نہیں کہا جائے گا ۔ !

بلاشبہ وہ ظاہری طور سے تیز طرار نہیں دکھائی دیتے خاموش طبع واقع ہوئے ہیں مگر اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ انہیں اپنے عہدے سے ہٹا دیا جائے اور ان کی جگہ ایسے کسی شخص کو مسند پر بٹھا دیا جائے جو عوام کو صرف وعدوں اور دعوؤں پر مطمئن کرنے کا ملکہ رکھتا ہو یا یوں کہہ لیجیے کہ وہ چکنی جپڑی باتوں سے عوام کے دل موہ لینے کا فن جانتا ہو تاکہ وہ سہولتوں کے فقدان کے باوجود اسے ہدف تنقید نہ بنائیں اور وہ خاموشی سے ریاستی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے اپنی ذات کی تعمیر و ترقی کرتا چلا جائے۔ جس سے متعلق بعد میں پتا چلے کہ اس نے خرابیوں کی نشاندہی کرنے والے مراکز سے راہ و رسم کر کے حکمرانی کی مگر عوامی مفادات کو پس پشت ڈال کر مسائل میں کمی کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کرتا گیا ۔ جس پر عوام نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا شروع کر دیا ۔۔۔؟

در اصل عمران خان اشرافیہ کی اس سوچ کے برعکس عمل پیرا ہیں جو تسلسل کے ساتھ ہمارے اوپر حکمرانی کرتی چلی آ رہی ہے۔ اس کے مطابق اسے ہی عوام کی قیادت کا

حق حاصل ہے کیونکہ کوئی بھی شخص پوری طرح سیاست کا اہل نہیں ہوتا، جب تک وہ اس فضا میں رچی بسی نہ ہو جس میں وہ پرورش پاتا ہے۔! نطشے کا بھی یہ خیال ہے کہ ’’ حکمرانی کے لیے اشرافی خاندانوں کی ضرورت ہے جن میں حکومت اور نظم و نسق کی روایات ر چ بس گئی ہوں‘‘۔ اشرافیت کا علمبر دار کہتا ہے کہ جمہورت میں لوگوں کو سیاست کے لیے تیارکرنا بے سود ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ وہ رواج اور انتخابات کے امتحان میں کامیاب ہو جائیں گے‘‘

وِل ڈیورانٹ اشرافیت کے حوالے سے اظہار کرتا ہے کہ طاقت اپنی غیر ذمہ داری اور احساس کی شدت سے لوگوں کو خراب کرتی ہے یہ کہ اشرافیت اکثر ظالم ہوتی ہے، اشرافیت اگر یہ سمجھتی ہے کہ عوام کی ترقی اس کی وجہ سے ہے تو یہ غلط ہے!

عرض کرنے کا مقصد اگر عثمان بزدار اس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو غیر اشرافیہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ وہ تخلیقی صلاحیتوں سے بے بہرہ ہیں انہیں عام آدمی کے احترام ، مصائب اور پریشانیوں کا ادراک نہیں اور انہیں یہ معلوم نہیں کہ ان کو کیسے لوگوں کی زندگیوں میں خوشیاں لانا ہے۔ اب تو کسی مزدور، کسان اور ملازم سے پوچھ لیا جائے کہ اس کے مسائل کیسے حل ہو سکتے ہیں تو وہ اس کا بھر پور موزوں و مناسب جواب دے گا ۔ کیونکہ جو مسئلہ جس بنا پر پیدا ہوا ہے اسے بہتر طور سے وہی جانتا ہے لہٰذا یہ جو اہل زر اور جاگیردارانہ سوچ کے حامل افراد ہیں، مضافات کے کھلے پُر فضا مقام میں پل کر جوان ہونے والے کو غیر اہم اور نا اہل تصور کرتے ہیں انہیں اپنی فکر کو بدلنا ہو گا کیونکہ سائنس جدید رجحانات کو جنم دے رہی ہے اور سماجی شعور کو بھی بلند کر رہی ہے یعنی اہلیت کی بنیادخاندان نہیں ذہنی استعداد ہے۔ اب ذرا غور کر لیجیے کہ اس وقت اعلیٰ ترین عہدوں پر جو بیورو کریٹ فائز ہیں کیا وہ کسی نواب یا دولتمند گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں ایسا نہیں ہے اور پھر یہ بھی ذہن میں رہے کہ عثمان بزدار تنہا نہیں ہے اس کے ساتھ ایسے مشیر ہیں جو انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میری گا ہے گا ہے اکرم چوہدری سے ملاقات ہوتی رہتی ہے جو ایک لکھا ری بھی ہیں جب کسی موضوع پر بولتے ہیں تو حیران کر دیتے ہیں سماجیات پر ان کی گہری نظر ہے پھر وہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کی بھی اخلاقی جرات رکھتے ہیں لہٰذا عمران خان وزیر اعظم نے جو کہا بالکل ٹھیک کہا۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ پہلے وزرائے اعلیٰ نے کون سے عوامی خدمت کے ریکارڈ قائم کیے ہیں عوام کے بنیادی مسائل تو اب بھی موجود ہیں۔پولیس جسے عوام دوست بنانا تھا اس میں وہ ناکام رہے ہیں۔ مافیاز کو بھی قابو میں نہیں کر سکے بجلی کی چوری سے لیکر پانی کی چوری تک ان کے ادوار میں بھی ہوتی رہی‘ ناجائز منافع خوری ہو یا جعل سازی اس کی طرف کسی نے آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ ان کے ما تحت سرکاری وغیر سرکاری اداروں میں رشوت عام ہوتی اور ٹھیکے پر دی گئیں سڑکیں اور عمارتیں ادھر تعمیر ہوئیں ادھر ٹوٹ پھوٹ اور ڈھیر ہو جائیں۔!

لہٰذا جمہوریت کا تقاضا ہے ( جیسی بھی ہے) اقتدار کے اعلیٰ عہدوں پر غریبوں اور درمیانے طبقے کے افراد کو بھی بٹھایا جائے۔ ہر بڑا اختیار کسی مستحکم و معروف خاندان کے لیے ہی مختص کیوں؟ یہ روش اب ختم ہو جانی چاہیے جب دوسروں کا نقطہ نظر عوام کی خدمت ہے تو عثمان بزدار یہ کام بخوبی کر سکتے ہیں کر رہے ہیں۔ مجھے بعض دانشوروں پے بھی حیرت ہے کہ وہ ‘ عوام کی بات کرتے کرتے خواص کی تعریفیں کرنے لگے ہیں اس سے یہی لگتا ہے کہ وہ ان کے لیے ہی راہ ہموار کرتے ہیں اور فیض یاب ہوتے ہیں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ انہیں کیوں نہیں اپنے پہلو میں بٹھا کر باتیں کرتے اور وہ جب وہاں سے اٹھ کر باہر آئیں تو وہ کہیں، انہوں نے وزیر اعلیٰ کو فلاں فلاں مشورہ دیا ہے اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ ان پر عمل در آمد ہو گا ۔ ماضی میں جو ہو گیا سو ہو گیا اب رُت بدل گئی ہے اور اُسے بدلنا ہی تھا لہٰذا اب امید کی جاتی ہے کہ پھول ضرور کھلیں گے!


ای پیپر