گھوڑے کا کمال
01 فروری 2019 2019-02-01

تھانہ ککرالی کی حوالات میں دم توڑنے والاچڑیاولہ کا ارشدبلاشبہ پولیس کا ریکارڈ یافتہ ہے اور قبل ازیں کئی مقدموں میں نامزد رہا ہے مگر عادی مے نوش کو پولیس پابندِ سلاسل کرنے سے ہچکچاتی ہے اسی لیے ایف آئی آرکے باوجودکوئی کاروائی کرنے کی کوشش نہ کی تھانہ ککرالی کے ایس ایچ او امیر عباس چدھڑکو بھی جب ارشد سے آٹھ لاکھ روپے لینے کی درخواست دی گئی توایس ایچ اونے ملزم کی حالت دیکھتے ہوئے ایف آئی آر درج کرنے کی بجائے مصالحتی کمیٹی کے زریعے مسلہ حل کرنے کا حکم صادر کر دیا یہ بہت اچھا فیصلہ تھا کیونکہ لین دین کے معاملات سے جتنا پولیس دور رہے گی اُتنا ہی وہ فرائض کی ادائیگی کے لیے زیادہ وقت صرف کر سکتی ہے یہاں سے ایک اور کردار مداخلت کرتا ہے خواتین کی عادات و خصائل کے حامل کالرہ کے رضا نامی شخص کے ڈی ایس پی کھاریاں میاں ارشد سے بہت ہی قریبی مراسم ہیں اُس نے ڈی ایس پی کو مدعی سے دس لاکھ مالیت کا گھوڑا تحفہ میں دلا یا اورمدعی کو یقین دہانی کرائی کہ آئیندہ بھی ڈی ایس پی آپ کا خاص خیال رکھا کریں گے کچھ کھانے بھی مدعی کی جیب سے کرائے گئے آٹھ لاکھ کی وصولی کے لیے دس لاکھ کا تحفہ دلانے کی حماقت کرائی گئی ۔

ڈی پی اسیدعلی محسن کاظمی سے بھی ایف آئی آر درج کرانے کے لیے رابطہ کیا گیامگر انھوں نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بتا دیا کہ زاتی کاموں میں پولیس کو گھسیٹنے سے گریز کریں اور ہمیں قانون کی رٹ قائم کرنے دیں سادات گھرانے کے چشم و چراغ ڈی پی او کے بارے عام تاثر یہ ہے کہ وہ اچھے پولیس آفیسر ہونے کے ساتھ اچھے انسان بھی ہیں اور اُن کی اولیں کوشش یہی ہوتی ہے کہ آنے والے سائلین کی داد رسی کی جائے نیز ٹاؤٹ مافیا کی حوصلہ شکنی کی جائے اسی لیے آتے ہی پولیس تبادلے کرنے کی بجائے پہلے ضلع بھر کے متعلق تفصیلات معلوم کیں اور اسلحہ بردار جتھے لے کر چلنے والوں کو پیغام بھجوایاکہ شرفا کا کام اسلحہ لے کر چلنا نہیں نہ ہی یہ بڑائی کا پیمانہ ہے اِس لیے کوئی بندہ بندوق بردار وں کو ساتھ لے کر نہ چلے جس پر دشمنیاں رکھنے والوں نے اپنے تعلقات کے زریعے ڈی پی اوکو رام کرنے کی کوشش کی مگر بات نہ بنی اور پولیس آفیسر نے کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا اسی دوران کچھ ممبرانِ اسمبلی اور کچھ سابق ممبران نے دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دورانِ سفر اسلحہ کی نمائش کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے قانون کے مطابق کاروائی کردی جس پر کچھ سیاسی لوگ تلملائے اور اُن کی جبین شکن آلود ہوئی وہ اسی طاق میں تھے کہ پولیس پر برسنے کاکوئی موقعہ ملے اور وہ پولیس کو بدنام کریں تھانہ ککرالی واقعہ کی صورت میں ایسے لوگوں کی دل کی مراد پوری ہوئی حالانکہ انھیں خود بھی معلوم ہے کہ پولیس نے کسی قسم کی سختی نہیں کی اور نہ ہی تشدد کیا ہے مگر وہ تشدد پر مُصر رہ کر دو مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں اول شور مچا کر ایک طرف تو پولیس کی غیرجانبداری پر اُنگلیاں اُٹھائیں جائیں دوم قانون پسند اور میرٹ پسند ڈی پی او کو دباؤ میں لایا جائے مگر میرے خیال میں دونوں مقاصد کا پوراہونا محال ہے کیونکہ سید زادہ پولیس آفیسر جتنا سائلین کے لیے رحمدل ہے بلیک میلروں کے لیے نہیں ڈسپلن،میرٹ اور قانون پسندی پر یقین رکھنے والے ڈی پی او کسی کے آگے جھک جائیں ممکن نظر نہیں آتا۔

امیر عباس چدھڑ ایک جرات مند ،اہل اور صیح معنوں میں پولیس آفیسر ہے اگر اُس نے تشدد کرنا ہوتا تو رقم وصولی کی بابت درخواست ملنے پر مصالحتی کمیٹی کے زریعے مسلہ حل کرانے کی بجائے فوری ایف آئی درج کرتا مصالحتی کمیٹی پرخود درخواست دہندہ بھی راضی تھاکہ ملزم کو ادائیگی کے لیے وقت دیا جائے جب میاں ارشد ڈی ایس پی نے چوہدری ارشد چڑیاولہ کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تو ملزم کی حالت دیکھتے ہوئے ایس ایچ او نے چھوڑ دینے کا حکم دیا مگرگھڑی اور گھوڑا تحفہ کا اثر کام کر گیا اسی لیے ڈی ایس پی نے ادائیگی تک ملزم کونہ چھوڑنے کا حکم دیا۔

وقوعہ کی را ت تقریباََ بارہ سوا بارہ بجے کے لگ بھگ محرر نے حوالات کا جائزہ لیا تمام حوالاتی خوش گپیوں میں مصروف تھے اسی لیے اطمنان کرنے کے بعد وہ بھی جا کر سو گیا کچھ دیر مزید باتیں کرنے کے بعد حوالاتی بھی سو گئے صبح ہوتے ہی محرر نے حوالات کا دوبارہ جائز ہ لیا اور سب کی خیریت دریافت کی تو دو نے ناشتہ آنے کا بتایا مگر چوہدری ارشد کے ہاتھ سینے پر تھے اور ہنوز لیٹا ہوا تھا جب محرر نے پوچھا کہ یہ کیوں نہیں جاگے تو حوالاتیوں نے بتایا کہ رات کو ہم باتیں کر تے رہے اور پھر سو گئے لیکن یہ ابھی تک نہیں جاگے جانے کیوں اتنی دیر تک سو رہے ہیں محرر نے ہلا نے جلانے کا کہا لیکن چوہدری ارشد نے کوئی حرکت نہ کی جس پر فوری حوالات کا دروازہ کھولا گیا اور نبض چیک کرنے کی گئی لیکن زندگی کی رمق نظر نہ آئی فوری ایس ایچ کو مطلع کیا گیاانھوں نے بات چھپانے کی بجائے سچ سچ ورثا کو بتادیا ڈی ایس پی کو جب بتایا گیا کہ آپ نے جسے رات کو گرفتار کرایا تھا وہ حوالات میں دم توڑ گیا ہے تو انھوں نے لاتعلقی اختیار کر لی شاید گھڑی اور گھوڑے کا نشہ برقرار تھا جب کوٹلہ میں احتجاج شروع ہو گیا اور سیاسی لوگوں نے سیاست چمکانا شروع کردی تب بھی ڈی ایس پی نے نے کان نہ دھرے مگر ڈی پی او نے وقت ضائع کیے بغیر موقع پر جاکر مظاہرین سے بات چیت کی اور کیس کی میرٹ پر تفتیش کرنے کا وعدہ کیا سچ یہ ہے کہ پولیس نے کوئی تشدد نہیں کیالیکن یہاں یہ بات لوگوں کے دلوں میں راسخ ہو گئی ہے کہ پولیس تشدد پسند ہے اسی لیے لوگوں کے جذبات پولیس کے حق میں نہیں سیاستدانوں نے سیاست چمکا لی لیکن سچ کیا ہے پوسٹ مارٹم رپورٹ سے سب کچھ واضح ہوجائے گا۔

پولیس میں بڑی مثبت تبدیلی آئی ہے تھانوں میں خوش اخلاق عملہ تعینات کیا جارہا ہے جدید طریقہ سے تفتیش کرنے کی تربیت ہو رہی ہے کرپٹ اور بداخلاق عملہ کو ڈی پی او سخت سزا ئیں دے رہے ہیں بلکہ کچھ کرپٹ پولیس اہلکاروں کی گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں ہر قسم کے حالات میں اعصاب کو کنٹرول میں رکھنے کے قابل بنانے کے لیے نفسیات داں کی خدمات لی گئی ہیں مصالحتی کمیٹیوں کے زریعے چھوٹے چھوٹے جھگڑے پنچائیت کے زریعے حل کرانے کی کوشش کی جارہی ہے جس پر سید علی محسن کاظمی کی خدمات کو سراہا جارہا ہے مگر گھوڑے کا کمال تھانہ ککرالی واقعہ کا باعث بنا ہے اور سادات گھرانے کے چشم چراغ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو جرائم پیشہ لوگ دفاعی پوزیشن پر لے آئے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ حقائق معلوم ہونے سے پہلے ہی تشدد کا بہتان لگانے والے اچانک مشتعل کیوں ہوئے ؟پوسٹ مارٹم رپورٹ سے قبل ہی لوگوں کو تشدد کا یقین دلانے میں کون سے عوامل تھے سبھی سوالوں کے مختصر جواب یہ ہیں کہ اگرکالرہ کا رضا نامی زنانہ کردار گھوڑے کا تحفہ نہ دلاتا تو صورتحال یکسر مختلف ہوتی ۔


ای پیپر