35صوبے بنا دیں
01 فروری 2019 2019-02-01

پنجاب کو تقسیم کرنے پرمسلم لیگ نواز والوں کے پاس ایک ہی دلیل ہے جس پر وہ شادیانے بجاتے پھر رہے ہیں کہ انہوں نے مخالف سیاسی جماعتوں کے دو صوبے بنانے کی تحریک کے جواب تین صوبے بنانے کی گُگلی کروا دی ہے لہذا انہیں اس کھیل میں ایکسٹرا پوائنٹس ملنے چاہئیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس چال نے تحریک انصاف میں تنازعہ پیدا کر دیا ہے کیونکہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی مہم چلانے والوں کو ابھی تک یہ علم نہیں کہ اس صوبے کی حدود کیا ہوں گی اور اس نئے کیک میں جہانگیر ترین صاحب کاحصہ کتنا ہو گا اور شاہ محمود قریشی کو کیا ملے گا۔ بات واقعی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئی ہے کیونکہ جب ملتان اور بہاولپور علیحدہ صوبے بن جائیں گے تو پھرراجن پور کو بھی حق ہو گا کہ وہ تخت ملتان سے بغاوت کا اعلان کر دے اور یہی مطالبہ ملتان سے کچھ پہلے میاں چنوں کا بھی ہو سکتا ہے۔

یہ ایک احمقانہ کھیل ہے کیونکہ کسی بھی ملک کو محض لسانی، علاقائی ، فرقہ وارانہ اور نسلی تعصبات کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جاتا، تقسیم ہمیشہ انتظامی ہونی چاہئے مگر جنوبی پنجاب کا صوبہ بنیادی طور پر سرائیکی صوبہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ بہاولپور والے دو گھنٹے کی ڈرائیو پر ملتان کو اس لئے اپنا صوبائی دارالحکومت ماننے کے لئے تیارنہیں کہ ان کی زبان ریاستی ہے اوریہ کہ ماضی میں نواب آف بہاولپور کی انتظامی صلاحیتیں قابل تعریف رہی ہیں لہذا اب انہیں ملتان کی بجائے اپنے نواب چاہئیں۔یہ کم و بیش وہی صورتحال پیدا ہوتی چلی جا رہی ہے کہ ہم مسلمان برصغیر میں ہندووں کی غلامی کے لئے تیار نہیں تھے اور ہماری تحریک کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم پر مسلمان حکمرانی کرنے لگے ہیں ورنہ کراچی سے لاہور اور پشاور تک انداز میں کوئی فرق نہیں ۔مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ جب نئے صوبے بن جائیں گے تو ان کے انتظامی اخراجات ہی چیخیں نکلوا دیں گے۔ ابھی یہ بات بہت آسانی سے کہی جا سکتی ہے کہ ملتان اور نواحی علاقوں والوں کو اپنی کپاس کی خوشبو لاہور کی سڑکوں سے آتی ہے جیسے بنگالیوں کو پٹ سن کی آتی تھی مگرڈھاکے اور ملتان میں ایک فرق ہے کہ ڈھاکے اورکراچی کے درمیان سمندر بھی تھا اور ایک دوسرا ملک ہندوستان بھی تھا مگر یہاں ایسی کوئی صورتحا ل نہیں۔ اس وقت کے آمر ایوب خان نے ون یونٹ بنا کے بہت بڑی غلطی کی تھی جس کا شدید ترین ردعمل سامنے آیا تھا۔ آپ اس وقت کے مالیاتی اعداد و شمار اٹھا کے دیکھ لیں، نئے صوبوں کو اپنی آمدن کے لئے وفاق پر ہی انحصار کرنا پڑے گا اوراس کے بعد وسطی پنجاب سے اکٹھے ہونے والے ٹیکس پر ان کاکوئی حق نہیں رہے گا۔ یہ ان علاقوں کے لئے ایک بڑا معاشی نقصان ہو گا۔

دوسری طرف جوسیاسی قوتیں خیبرپختونخوا اور سندھ کو اپنی طاقت کا مرکز سمجھتے ہوئے پنجاب کی قوت کو تقسیم کرنا چاہتی ہیں عین ممکن ہے کچھ ہی دنوں میں انہیں سمجھ آجائے کہ ان کے لئے کس حد تک گھاٹے کا سودا ہوگا کہ اس وقت پاکستان ایک وفاق کی صورت میں ہے اوروفاق کی اکائیوں میں اضافہ وفاق کی طرف سے ملنے والے وسائل کی تقسیم کو متاثر کرے گا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی زمین آسمان کا فرق آجائے گا کیونکہ وسائل کی تقسیم کی بڑی بنیاد آبادی ہے، پسماندگی وغیرہ کا اس میں نسبتا بہت کم شئیر ہے۔ میںآپ کو چند برس پرانا حوالہ دینا چاہتا ہوں جب این ایف سی ایوارڈ میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے لئے شئیرز مختص کرنے کی بات ہوئی کہ گلگت بلتستان کو ابھی تک ہم نے ایک جعلی او رعارضی صوبے کا درجہ دے رکھا ہے تو اس سے تمام صوبوں کے شئیرز میں چند فیصد کی کمی واقع ہو رہی تھی تو وہاں پنجاب ، گلگت بلتستان کو حصہ دینے کی حمایت کر رہا تھا اور پنجاب کو توڑنے کے خواہش مند صوبے ایک یا دو فیصد کمی بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں تھے حالانکہ یہ الگ بات ہے کہ آپ ان کی زبانوں اور بیانو ں سے کشمیریوں کے لئے ان کے لہو کی ندیاں بھی بہا دیں ۔ سوال یہ ہے کہ جب این ایف سی ایوارڈ میں دو نئے صوبے گھس جائیں گے تو یقینی طور پر وہ وسائل کی تقسیم اورصوبوں کے حصوں کو مساوی انداز میں متاثر کریں گے۔ جب میں نے یہ کہا کہ پاکستان ایک وفاقی پارلیمانی طرز حکومت کے طور پر چلایا جا رہا ہے تواس میں ایوان زیریں کے ساتھ ساتھ ایک ایوان بالا بھی ہے اور اس ایوان بالا میں وفاقی نظام کے بنیادی اصولوں کے تحت تمام صوبوں کی نمائندگی مساوی ہے۔جب ہم ایک ہی صوبے سے مزید دو صوبے نکالیں گے تو سینیٹ میں یقینی طور پر اتنے ہی علاقے اور لوگوں کی نمائندگی موجودہ کی نسبت تین گنا ہو جائے گی جو اپنے اثرات رکھے گی۔ میں یہ تونہیں کہہ سکتا کہ پنجاب کے تینوں صوبوں کے سینیٹڑز کوئی اتحاد بنا لیں گے مگر میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ انکے مفادات میں یکسانیت دوسروں سے کہیں زیادہ ہو گی۔

میری مسلم لیگ نون سے کہیں زیادہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے قائدین سے درخواست ہے کہ وہ مکھی پر مکھی مت ماریں، ان اہم ترین معاملات میں پوائنٹ سکورنگ نہ کریں بلکہ ان تمام اثرات اور مضمرات پر غور کریں جن کا سامنا ان کے غیر دانشمندانہ فیصلوں اور پالیسیوں کی وجہ سے کرنا پڑ سکتا ہے۔پنجاب کی تقسیم سے ایک پنڈورا باکس کھل جائے گا جس کا متحمل آئینی نظام نہیں ہو سکے گا۔چودھری پرویز الٰہی اور شہباز شریف ادوار سے جنوبی پنجاب کو اس کے آبادی اور آمدن سے زیادہ فنڈز دئیے جا رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب والے جمع تفریق کر کے دیکھ لیں کیا نیا صوبہ بننے کے بعد ان کے وسائل میں اضافہ ہو گا یا کمی ہو گی۔ فی الوقت تخت لاہور صرف ایک سیاسی نعرہ ہے ورنہ جنوبی پنجاب کراچی، پشاوراور کوئٹہ کے تختوں کے نیچے علاقوں سے دو، چار سے دس گنا تک بہتر ہے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ وسطی پنجاب کی ملازمتوں میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے رہائشیوں کی واضح تعداد موجود ہے مگراس کے بعد صوبے کی دیوار موجود ہو گی۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ نئے صوبے بہت بڑی تعداد میں ملازمتیں پیدا کریں گے تو آپ کے سامنے بلوچستان کی مثال موجود ہے۔

دنیا بھر میں ثقافتوں اور تہذیبوں کو محفوظ کیا جاتا ہے اور انہیں طاقتور بنایا جاتا ہے مگر پنجاب کے ساتھ المیہ ہے کہ اس کی بولی اور ثقافت تقسیم ہوچکی ہے۔ میں برصغیر کی تقسیم کو اس وقت کی اکثریتی ہندو آبادی کے جبر کا نتیجہ سمجھتا ہوں اوراس تقسیم نے پاک و ہند میں سب سے زیادہ پنجاب اور پنجابی کو ہی متاثر کیا۔ ہندوستانی پنجاب میں پنجابی گورمکھی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے جبکہ پاکستانی پنجا ب میں پنجابی کو عربی ( فارسی یا اردو) رسم الخط میں تحریر کیا جاتا ہے اور یوں ایک ہی بولی بولنے کے باوجودپنجابی ایک دوسرے کی زبان اور ادب کو پڑھ اور لکھ نہیں سکتے۔ جب ہم پنجاب کو مزید تقسیم کریں گے، پنجابیوں میں مزید فاصلے پیدا کریں گے تویہ مزید تباہی ہو گی۔وطن عزیز میں اس وقت صرف انتظامی مسائل ہیں اور انہیں نئے صوبے بنائے بغیر بھی بہت آسانی کے ساتھ حل کیا جاسکتا ہے۔ آپ صوبوں کے بہت سارے اختیارات کو ڈویژنوں کی سطح پر منتقل کر سکتے ہیں اور یوں آپ کے پاس صرف دو، چار نہیں بلکہ عملی طور پر کشمیر اور گلگت بلتستان کو ملا کے تمام پینتیس ڈویژنوں کو چھوٹے موٹے صوبوں کا درجہ دے سکتے ہیں۔ یہاں آپ کو ڈویژن کی سطح پر کوئی نیا گورنر لگانے اور کوئی نئی اسمبلی بنانے کی بھی ضرورت نہیں ہے بلکہ ڈویژنوں میں شامل اضلاع کی اسمبلیوں یا کم از کم ان کے مئیروں پر مشتمل ایک کونسل علاقے کو ترقیاتی کاموں ہی نہیں بلکہ سماجی اور اقتصادی رابطوں کے لئے بھی ایک پلیٹ فارم مہیا کر سکتی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ہمارے پاس ڈویژن میں پہلے ہی ایک سینئر اور تگڑا بیوروکریٹ کمشنر کی صورت میں موجود ہے۔


ای پیپر