Court, details report, Billion Tree Tsunami, PTI government
01 دسمبر 2020 (15:15) 2020-12-01

اسلام آباد: چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس ملک میں حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں، ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کیلئے کچھ کرنا ہے۔ شہروں میں گندگی ہونے کے باعث زیادہ درخت لگائے جائیں، ہمیں زمین پر لگے درخت نظر آنے چاہئیں۔ رپورٹ کے مطابق لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر ہے۔

تفصیلات کے مطابق سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی عدالت میں پیش، چیف جسٹس نے سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی سے 10 بلین ٹری سونامی سے متعلق پوچھا۔ جس پر انہوں نے بتایا کہ 430 ملین درخت ملک بھر میں لگا چکے ہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتائیں 430 ملین درخت کہاں لگے، عدالت نے بلین ٹری سونامی کیس سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔

واضح رہے کہ عدالت نے وزارت موسمیاتی تبدیلی سے کہا کہ بلین ٹری کے اخراجات بارے رپورٹ جمع کرائے، درخت کہاں لگے ، کون تصدیق کرتا ہے تمام تفصیلات دی جائیں۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ بلین ٹری سونامی کی سیٹیلائٹ تصویریں بھی دی جائیں۔

اس کے علاوہ عدالت نے کلر کہار کی پہاڑیوں پر تعمیرات روکنے کا حکم دے دیا، کلر کہار میں ہاؤسنگ سوسائٹیز سمیت کوئی تعمیرات نہ کی جائیں، کلر کہار کی پہاڑیوں پر درخت لگائے جائیں، کلر کہار میں نجی و سرکاری تمام ایریا پر تعمیرات نہیں ہوں گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر 430 ملین درخت لگ چکے ہوتے تو پاکستان کی تقدیر بدل جاتی۔ اتنے درخت لگنے سے ہمارا موسم بالکل بدل جاتا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ رپورٹ جمع کرائیں کہ درختوں کی دیکھ بھال اور تحقیقات کون کر رہا ہے، 430 ملین درخت کہاں سے لائے گئے۔ سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ اپنے ملک کی نرسریوں سے تمام درخت منگوائے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عجیب بات ہے اتنے زیادہ درخت نرسریوں میں کیسے پڑے ہوئے تھے، انہوں نے ریمارکس دیئے کہ پنجاب، سندھ اور دیگر صوبوں کے مختلف شہروں میں سانس لینا مشکل ہے، ملک میں اتنی گندگی ہے کہ بندہ سانس نہیں لے سکتا۔ پورے ملک میں مجسٹریٹ بھجوا کر 430 ملین درخت لگنے کی تحقیقات کرائیں گے، جنگلات سے متعلق اختیارات تو صوبوں کے پاس ہیں وفاق کی کوئی سنتا ہی نہیں۔

سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ بلین ٹری سونامی میں صوبوں کے ساتھ 50 فیصد شراکت داری وفاق کی ہے۔ عدالت نے پوچھا کہ سیکرٹری جنگلات پنجاب اور سندھ بتائیں کہ 430 ملین درخت کہاں لگے ہیں، نہروں اور دریاؤں کے اطراف درخت عدالت نے لگوائے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بلوچستان میں تو بلین ٹری منصوبے کا وجود ہی نہیں، آگاہ کیا جائے منصوبے پر اب تک کتنے فنڈز خرچ ہوئے، فنڈز خرچ ہونے کا جواز بھی بمعہ ریکارڈ پیش کیا جائے۔ اسلام آباد پشاور موٹروے پر درختوں کا وجود ہی نہیں، ملک کی کسی ہائی وے کے اطراف درخت موجود نہیں ، بلین ٹری منصوبے کے حوالے سے دعوے کے شواہد بھی دیں۔

عدالت نے کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی، عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکرٹری پلاننگ، چاروں صوبائی سیکرٹریز جنگلات کو طلب کر لیا۔


ای پیپر