PTI government, Imran Khan, General Bajwa, PDM, Maryam, Bilawal, Fazal ur Rehman,
01 دسمبر 2020 (12:54) 2020-12-01

عمران خان کی وزارت عظمیٰ کا تیسرا سال شروع ہوا تو بہت سے مسائل جو ان کی وزارت عظمیٰ کے لیے خطرنا ک ہو سکتے ہیں، وہ ایک ایک کر کے پوری شدت سے سر اٹھانے لگے ہیں۔ اگر کپتان نے دو سال سکون سے گزارے ہیں تو اس کی وجہ اسٹیبلشمنٹ اور خاص طور پر سپہ سالار ہیں۔ جو عمران خان کی کامیابی کے لیے ان کی پشت پر کھڑے رہے۔ اظہار تشکر کے طور پر وزیر اعظم نے سپہ سالار کو تین سال کی توسیع اس لیے دی تھی کہ ان کی حکومت کو کوئی خطرہ آنے والے برسوں میں نہیں ہو گا۔ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد جب پی ڈی ایم کی بنیاد پڑی تو اس اجلاس کی میزبانی کی ذمہ دار ی پیپلز پارٹی کی تھی۔ ویڈیو لنک کے ذریعے نواز شریف نے ایک ایسا خطاب کیا کہ جس نے سیاست کے ٹھہرے پانیوں میں طوفان برپا کر دیا، جس کے بعد نواز شریف کے خلاف غداری کی ایک مہم شروع ہوئی۔ پھر دوسرا جلسہ، پھر بلوچستان کا جلسہ، پھر سوات کا جلسہ، نواز شریف تو لندن میں بیٹھے حکومت کے لیے ایسی مشکل بن گئے کہ حکومت نے پیمرا کے ذریعے پی ڈی ایم کی تحریک کو ڈی فیوز کرنے کے لیے نواز شریف کی تقریروں کو نشر کرنے پر پابندی لگا دی بلکہ یو ٹیوب چینلز کے خلاف بھی حکومت نے اپنی حکمت عملی بنا لی۔ نواز شریف مفرور ہیں اس لیے یہ ساری پابندی ہے۔ جب ہمارے وزیر اعظم کئی مقدمات میں مفرور تھے وہ پابندی کی زد میں نہیں آئے۔ پرویز مشرف بیماری کا بہانہ کر کے گئے وہ آج تک نہیں لوٹے۔ جس دن ان کو سزا ہوئی، اس سزا کے وقت جو منظر نامہ مشرف کے خلاف تین وزیروں، شہزاد اکبر، فروغ نسیم اور فردوس عاشق اعوان نے ٹی وی پر اور سرکاری ٹی وی پر بنایا اس کا پیمرا نے نوٹس نہیں لیا۔ اب ان تینوں وزیروں کو پشاور ہائی کورٹ نے طلب کر رکھا ہے جس میں وزیروں کو توہین عدالت کے مقدمے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جب وزیر عدالتوں پر برس رہے تھے اس وقت بھی ایک پیج کا دعویٰ بڑے عروج پر تھا۔ بالکل اسی طرح جب مسلم لیگ ق اور ان کے اتحادی فیصل صالح حیات، راؤ سکندر اور پرویز الٰہی مشرف کو وردی نہ اتارنے اور وردی میں صدر پاکستان کو رہنے کا مشورہ دے رہے تھے۔ اب وزیر اعظم عمران خان نے تازہ انٹرویو میں اور اہم باتوں کے علاوہ فرمایا ہے۔ ’’مجھ پر فوج کا کوئی دباؤ نہیں، خارجہ پالیسی کے فیصلے خود کرتا ہوں‘‘ یہ بات انہوں نے ایک ایسے موقع پر کی ہے جس سے مجھے 2004 کے وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی یاد آ گئے۔ انہوں نے بظاہر تو ملک کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے معاملات کو قابو میں کر لیا تھا مگر ملک کی خارجہ پالیسی ہی نہیں بلکہ مسلم لیگ ق کی ساری سیاست اور صوبوں کی حکومتوں کے فیصلے ایوان صدر میں مشرف کرتے تھے۔ 2004 کا بجٹ پاس کرانا بھی ظفراللہ جمالی کا بڑا کارنامہ تھا۔ ایل ایف کو پارلیمنٹ میں لانا اور 17ویں ترمیم کا بڑا کریڈٹ بھی جمالی کو جاتا تھا۔ مشرف نے 31 دسمبر 2014 تک وردی اتار کر متحدہ مجلس عمل سے کیے وعدے کے مطابق سول صدر بن جانا تھا۔ خوف زدہ سیاست دانوں نے مشرف کو ڈرایا کہ حضور آپ وری نہ اتاریں اسی وردی سے تو حکومت کی ساری بہاریں ہیں، وردی کے بغیر اپوزیشن والے آپ کو 

اکھاڑ دیں گے۔ بات تھی بھی سچ، مشرف نے صدارت پکی کرنے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا تھا۔ پورے پانچ سال کے لیے آئین پاکستان کے تحت صدر پاکستان بنے تھے۔ جب انتخاب میں مشرف کی جماعت ہار گئی اور مشرف کے کٹر سیاسی دشمن اقتدار میں آ گئے تو مشرف ایک سال بھی نہ نکال سکے اور امریکہ جو مشرف حکومت کا پشت بان تھا وہ بھی پیچھے ہٹ گیا۔ جو پاکستان کے دفاع کے ذمہ دار ہیں وہی ملک کو درست سمت چلانے کا دعویٰ کرتے آئے ہیں۔ جنرل شاہد عزیز بھی مشرف کی ہوس اقتدار کی حقیقت بتا گئے کہ وزیر اعظم کارگل کے ایشو پر دعویٰ کے باوجود کتنا ایک پیج پر تھے۔ ہمارے کپتان کے سمجھنے کے لیے اشارے ہی کافی ہیں۔ جس ایمپائر کی بات کپتان اسلام آباد کے دھرنوں میں کرتے تھے۔ سب کو پتا ہے۔ کپتان کے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست کا جو نظام چلتا ہے اس میں مداخلت پسند نہیں کی جاتی بھٹو نے جس طریقے سے جنرل (ر) گل حسن کو نکالا اس سے بُرے طریقے سے بھٹو نکلے۔ نواز شریف نے جنرل جہانگیر کرامت کو نکالا، ان کا نکلنا بھی یاد ہے۔ آرمی چیف ٹکا خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھٹو کو انہی کی طرح وفادار، حکم بجا لانے والے، اپنے کام سے کام رکھنے والے جنرل کی تلاش تھی جس کے بارے میں شبہ تک نہ ہو کہ اس کے دل میں کوئی لالچ یا خواہش ہے۔ جب ناموں کی سلیکشن کا مرحلہ آیا تو سنیارٹی کے اعتبار سے علی الترتیب محمد شریف، محمد اکبر خان، آفتاب احمد خان، عظمت بخش اعوان، آغا ابراہیم اکرم، عبدالمجید ملک، غلام جیلانی خان اور محمد ضیاء الحق کا نام تھا۔ بھٹو صاحب نے یہ آسان حل نکالا کہ سب سے سینیئر جنرل کو نو تشکیل جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا پہلا چیئرمین مقرر کر دیا اور سب سے جونیئر کو سب سے بااختیار چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ سونپ دیا۔ پھر اسی وفادار ضیا ا لحق نے بھٹو کے ساتھ جو بے وفائی نبھائی، اس کو ضیاالحق اردو ڈائجسٹ میں بیان کرتے ہیں، آج پی ڈی ایم عمران خان اور باجوہ صاحب کے بیانات میں حیرت انگیز مماثلت ہے۔ ضیا الحق اس وقت کا منظر پیش کرتے ہیں ’’وہ ایک خاموش اور پُرسکون رات تھی مگر اس کے بطن سے سربستہ راز تخلیق ہوئے۔ دراصل ہمارا مشن بہت کٹھن تھا۔ وہ اس لئے کہ میں نے تہیہ کر رکھا تھا کہ فوج کو سیاست میں داخل نہ ہونے دوں گا اور نہ ہی اقتدار سنبھالوں گا اور سیاسی مسائل یا بحران کو سیاسی عمل کے ذریعہ حل ہونے میں مدد دوں گا۔ 10 مارچ 1977ء کو اپوزیشن نے صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تو صورت حال سنگین ہو گئی۔ چنانچہ ہم نے راولپنڈی میں اعلیٰ فوجی افسروں کا ایک اہم اجلاس بلایا اور معاملات کے سارے پہلو زیربحث آئے۔ اس وقت ہم نے کئی متبادل تجاویز پر غور کیا۔ ان تجاویز میں اقتدار سنبھالنے کی بات بھی تھی۔ مئی کے پہلے ہفتے میں انار کلی لاہور میں گولی چلی تو حالات نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔ تین بریگیڈیئر بڑے مضطرب تھے۔ چنانچہ میں خود لاہور پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ خدا کے لئے ہمیں یہاں سے تبدیل کر دیجئے۔ ان کی خواہش کا احترام کیا گیا جون کے پہلے عشرے میں ہمیں احساس ہو گیا کہ حکومت مذاکرات میں مخلص نہیں چنانچہ جون کے وسط میں اہم ترین فوجی افسروں کا اجلاس اس مکان (چیف آف سٹاف ہاؤس) میں ہوا۔ میں نے تمام کور کمانڈروں کو رات کھانے پر بلایا اور ساری تفصیلات ان کے سامنے رکھ دیں۔ ہم سب نے اتفاق رائے سے طے کیا کہ اب آپریشن پہلے سے زیادہ ناگزیر نظر آتا ہے۔ تاہم سیاسی جماعتوں کو ابھی اور مہلت دی جائے۔ اگر معاملات خوش اسلوبی سے طے پا جاتے ہیں تو فوج کا کام ختم۔ اگر حالات کے بگاڑ میں اور شدت اور وسعت پیدا ہو جائے تو پھر آپریشن سے اجتناب نہ کیا جائے۔ اس رات آپریشن کا نام ’’فیئر پلے‘‘ تجویز ہوا۔ جون کے آخری دنوں میں مسٹر بھٹو نے فوجی جرنیلوں کو کابینہ کے اجلاس میں بلانا شروع کر دیا۔ بعض مواقع پر عجیب وغریب باتیں سننے میں آئیں۔ ایک رات مسٹر کھر اور مسٹر پیرزادہ نے کہا کہ ’’اپوزیشن شرارت سے باز نہیں آتی، اس کے لیڈر فتنے اٹھا رہے ہیں، ہم ان سب کو قتل کر دیں گے۔‘‘ ٹکا خان کے لب و لہجہ میں اور بھی تیزی تھی۔ ان کا ارشاد تھا کہ ’’دس بیس ہزار افراد پاکستان کی خاطر قتل بھی کر دینا پڑیں تو کوئی بات نہیں۔‘‘ مسٹر بھٹو بار بار کہتے ’’جنرل صاحب دیکھا آپ نے میری کابینہ کا موڈ۔ میں ان حالات میں اپنے وزیروں کا ساتھ دینے کے سوا اور 


ای پیپر