Rahim Baksh Sultaniwala, famous wrestler, subcontinent
01 دسمبر 2020 (12:32) 2020-12-01

سماج میں جب اقدار، روایات اور ضمیر زندہ تھے تو اہل حق اور زندہ ضمیر افراد انصاف اور خود احتسابی کے ساتھ اپنے نام، کام اور کردار کو مال و متاع پر فوقیت دیتے تھے، گزرے ہوئے اگلے وقتوں کا واقعہ ہے کہ گوجرانوالہ میں پیدا ہونے والے برصغیر کے نامور پہلوان رحیم بخش سلطانی والا جن کا آج تک فن پہلوانی میں کوئی ثانی پیدا نہ ہوااور جنہوں نے بین الاقوامی شہرہ آفاق امام بخش پہلوان اور گاماں سمیت کئی دوسرے پہلوانوں سے پنجہ آزمائی کی۔ 76 سال کی عمر میں اپنی آخری کشتی میں یورپین چمپئن کو رنگ سے باہر پھینک دیا، کوئی ان کو گرا نہ سکا۔ رحیم بخش سلطانی والا رستم ہند سیالکوٹ کے شہرہ آفاق بالی پہلوان کو عہد شباب میں چت کر چکا تھے۔ ڈھلتی عمر میں ان کا مقابلہ بالی پہلوان کے شہ زور اور جواں سال بیٹے گونگا پہلوان سے ہوا یہ طاقت اور تجربے کا عجب مقابلہ تھا، ہر پہلوان کا اپنا مخصوص دائو پیچ ہوتا ہے جس میں اسے خاص مہارت حاصل ہوتی ہے۔ جیسے بھولو پہلوان کا (چولی، جھاکا کرانا) لالہ راج کی (ملتانی) جھارا پہلوان کا (سرونٹہ) گوگا پہلوان گوجرانوالیہ کا (کنڈا) اور را کی پہلوان کا (پٹھی) مارنا مشہور ہے، اسی طرح رحیم بخش سلطانی والا کا مشہور دائو (ٹانگ کرانا) تھا۔ جواں سال گونگے پہلوان کا جب یدھ شروع ہوا تو رحیم بخش نے اپنے تجربے کے زور پہ مخصوص دائو ٹانگ کرا کر اس کو الٹا دیا اور چت کر کے بھنگڑا ڈالتے ہوئے فاتح کی صورت شان سے اکھاڑے سے چلے گئے لیکن گونگا پہلوان کی (دف) کے لوگوں نے شور مچا دیا کہ گونگا چت نہیں ہوا بلکہ سائیڈ کے بل گرا ہے۔ لہٰذا فوری طور پر اسی میدان میں کشتی دوبارہ ہو۔ بات بڑھتی ہوئی یہاں تک چلی کہ لوگ رحیم بخش سلطانی کے پاس چلے آئے اور کہا کہ آپ بے مثال پہلوان ہیں اگر گونگا اور اس کے حامی شکست نہیں مان رہے تو دوبارہ کشتی کریں۔ سلطانی والا نے اطمینان اور اعتماد سے کہا کہ منصف میرے حق میں فیصلہ دے چکا ہے لیکن پھر بھی میں فیصلہ بالی پہلوان پر چھوڑتا ہوں اگر وہ بیٹے کی شکست کو تسلیم نہیں کرتا تو میں دوبارہ کشتی کے لیے تیار ہوں۔ بالی پہلوان جو اپنی جوانی میں سلطانی والا سے شکست کھا چکے تھے نے بطور باپ نہیں منصف کا کردار ادا کرتے ہوئے فیصلہ دیا ایک طرف انصاف دوسری طرف بیٹے کا مستقبل اور خاندانی عزت ۔ داد صد داد کہ بالی 

پہلوان نے اعلان کیا کہ میرا بیٹا شکست کھا چکا اور میں اپنے بیٹے کے خلاف فیصلہ دیتا ہوں اور کہا یہ میرا ایمان ہے کہ رحیم بخش گوجرانوالیہ کی ٹانگ پر اگر پہاڑ بھی چڑھا ہوتا تو الٹ جاتا۔ اس یدھ میں شکست و فتح ان سادھو پہلوانوں کے لیے اتنی ہی اہم تھی جتنا حکمران طبقوں کے لیے اقتدار اہم ہے۔ تب وہاں کمپیوٹر تھا، نہ مووی کیمرے، میڈیا اور نہ ٹی وی چینل اور نہ ہی کوئی اینکر پرسن، اُس وقت صرف روایات، اعلیٰ اقدار اور انصاف پر مبنی فیصلہ تھا۔مخالف نے بھی کردار کی گواہی دے رہی ۔ 

حاجی امان اللہ گوجرانوالہ کی بہت ہی شریف اور انسان دوست شخصیت تھے۔ پیپلزپارٹی میں غالباً 1976ء بلکہ اس وقت شامل ہوئے جب جناب بھٹو صاحب کے خلاف بین الاقوامی اور ملکی اسٹیبلشمنٹ کی سازش سے تحریک چل رہی تھی ۔ 

دوسری جانب جناب دستگیر خان گوجرانوالہ کی سیاست میں اعلیٰ مقام رکھتے تھے۔ شرافت اور دیانت داری ان کی شخصیت کا خاصہ رہا ہے۔ البتہ خان صاحب ایوب اور ضیاء الحق کے ادوار میں کلیدی عہدوں پر فائز رہے جبکہ پرویز مشرف کے دور میں میاں نواز شریف کے ساتھ رہ کر ڈکٹیٹروں کی سابقہ حمایت کا ازالہ کر دیا۔حاجی امان اللہ سے دستگیر خان کو 88 میں شکست ہوئی مگر 1990ء میں خان صاحب انتخاب میں کامیاب ہوئے۔ ایک دفعہ خان صاحب کی رہائش گاہ کے باہر ہوائی فائرنگ ہوئی رات کا وقت تھا لہٰذا معلوم نہ ہو سکا کہ فائرنگ کس نے کی ہے۔ ورکر، احباب رشتہ دار اکٹھے ہوئے باغبانپورہ سے حاجی محمد سعید بھٹی موجود تھے کہ کس پر مقدمہ درج کرایا جائے کچھ احباب نے مشورہ دیا کہ سیاسی مخالف حاجی امان پر مقدمہ کرایا جائے محمد سعید بھٹی بتاتے ہیں کہ خان صاحب نے فوراً منع کر دیا اور گواہی دی کہ نہیں حاجی امان ایسا نہیں کر سکتے یہ تھی کردار کی گواہی جو سیاسی مخالف بھی دے رہے تھے۔ اپنے سیاسی مخالف کی شرافت اور کردار کی گواہی خان صاحب نے بھی اپنے اعلیٰ کردار کا اظہار کیا ورنہ مخالف کو خواہ مخواہ پھنسانے کے لیے ایسی بے ہودگی اور الزام تراشی کا سہارا سیاست میں معمول کی بات ہے۔ 

دوسرے شہروں کی طرح لاہور میں بھی لوگوں کی کاروباری، سیاسی اور ذاتی دشمنیاں رہی ہیں اور اب بھی ہیں۔ 

پندرہ سولہ سال پہلے ایک وقوعہ ایوان عدل کے باہر ہوا جس میںپانچ /چھ افراد موقع پر قتل ہوگئے اور پانچ /چھ لوگ زخمی ہو کر ڈیتھ بیڈ پر چلے گئے۔ اس واقعہ کا مقدمہ خواجہ عقیل احمد (شیر لاہور گوگی بٹ) کے علاوہ دیگر افراد پر قائم ہوا۔  بہت بڑا مقدمہ تھا۔ پولیس متعلقہ ،ایس پی، ایس ایس پی، اور ایس پی سی آئی اے سمیت ایس ایس پی انوسٹی گیشن، ایس پی آپریشن اور دیگر ہائی فائی افسران نے اکٹھے انکوائری کی۔ پولیس افسران بھی شیر لاہور گوگی بٹ اور مدعی مقدمہ بھی موجود تھے۔ مدعی مقدمہ نے کہا کہ گوگی بٹ اپنا حلف خود دے دے کہ وہ بے گناہ ہے تو ان کے بیان اور حلف پر میں مقدمہ کی تفتیش مان لوں گا۔ اتفاق سے مجھے ان میں سے ایک پولیس آفیسر نے بتایا کہ جب ہم نے خواجہ عقیل احمد گوگی بٹ سے کہا کہ آپ اپنا حلف خود دیں تو شیر لاہور گوگی بٹ نے ایک لمحہ سوچا اور خیال کیا کہ میں نیک اور عبادت گزار ماں باپ کی اولاد ہوں میری والدہ تسبیح اور قرآن نماز روزہ اور شعار دین کی پابند ہے لہٰذا دنیا داری اور مقدمہ بازی میں اللہ کی کتاب کا سہارا نہیں لوں گا ۔ شیر لاہور گوگی بٹ نے کہا کہ آپ بھلے مجھے گناہ گار لکھ دیں تفتیش میرٹ پر کریں مگر میں حلف نہیں دوں گا۔ گویا قتلوں کی دشمنی تھی مدعی مقدمہ گوگی بٹ شیر لاہور کے لیے یہ یقین رکھتے تھے کہ یہ جان بچانے کے لیے حلف نہیں دیں گے اور انہوں نے حلف نہ دیا۔ اپنے آپ کو گناہ گار لکھوا لیا،اللہ کی کتاب قرآن عظیم کی عظمت کا خیال رکھا بہرحال یہ دنیا کا شاید واحد مقدمہ ہو کہ پانچ/چھ قتل اورپانچ/چھ زخمی اور ملزم ایک گھنٹہ بھی تھانے میں بند نہ ہو اور میرٹ پر عدالت سے بری ہو جائے ۔ میں سوچتا ہوں کہ کردار ایسی ناقابل تردید حقیقت ہوا کرتی ہے کہ مخالف بھی اس کی گواہی دے دیا کرتے ہیں۔ آج کوئی بالی پہلوان اور رحیم بخش سلطانی والا ہے اور نہ ہی کوئی غلام دستگیر خان اور حاجی امان حتیٰ کہ نہ ہی آج شیر لاہور گوگی بٹ ایسا یقین ہے کسی میں اور نہ اس مقدمہ جیسا مدعی کہ مخالف کے کردار پر بھروسہ کرتے ہوئے کہے کہ یہ خود حلف دے دیں۔ کہنے کو ہماری معاشرت ارتقائی منازل طے کر رہی ہے۔ ضرور کر رہی ہے مگر تنزلی کی جانب نہ کہ ترقی کی جانب۔ چلتے لمحے میں وطن عزیز کے تمام سٹیک ہولڈرز،اشرافیہ کے سرکردہ ،سیاسی رہنماؤں حتیٰ کہ مذہنی رہنماؤں 


ای پیپر