Golden Plover bird, pandemic, second wave, NCOC, Educational institutions
01 دسمبر 2020 (12:18) 2020-12-01

خدا کی قدرت کی عجب نشانی گولڈن پلوور ایک پرندہ ہے جو اپنی ہجرت کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ ہر سال امریکی ریاست الاسکا سے ہوائی کے جزیرے تک 4ہزار کلو میٹر کی پرواز کر کے ہجرت کرتا ہے۔ اس کی یہ پرواز 88 گھنٹوں پر محیط ہوتی ہے جس میں وہ کہیں نہیں ٹھہرتا۔ راستے میں کوئی جزیرہ نہیں اور یہ پرندہ تیر بھی نہیں سکتا۔ درمیان میں کہیں سستانا ناممکن ہے جب سائنسدانوں نے اس پرندے پر تحقیق کی تو ان کو پتا چلا کہ اس پرندے کو یہ سفر مکمل کرنے کے لیے 88 گرام چکنائی کی ضرورت ہے جبکہ حقیقت میں اس پرندے کے پاس پرواز کے ایندھن کے طور پر تقریباً 70 گرام چکنائی دستیاب ہوتی ہے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے کہ یہ پرندہ 800 کلو میٹر پہلے سمندر میں مر کر ختم ہو جاتا لیکن یہ کیسے پہنچتا ہے، اس کا جواب ششدر کر دینے والا ہے۔ اصل میں یہ پرندہ گروہوں کی شکل میں V کی شکل بنا کر پرواز کرتا ہے اور اپنی پوزیشن تبدیل کرتا رہتا ہے جس کی وجہ سے اسے ہوا کی رگڑ کا کم سامنا ہوتا ہے بہ نسبت اکیلے پرواز کرنے کے اور ان کی 23 فیصد انرجی سیو ہو جاتی ہے جو ان کو ہوائی کے جزیرے پر پہنچا دیتی ہے۔ 6 یا 7 گرام چکنائی ان کے پاس ریزرو فیول کی صورت میں بھی موجود ہوتی ہے۔ جو ہواؤں کا رخ مخالف ہونے کی صورت میں ان کے کام آ جاتی ہے۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ کون اللہ کے انکار کی جرأت کر سکتا ہے۔ ایک پرندہ یہ کیسے جان سکتا ہے کہ اس کو سفر کے لیے کتنی چکنائی درکار ہے۔ راستہ اسے کون بتاتا ہے۔ اتنے لمبے سفر کی اسے ہمت کیسے ہو جاتی ہے اور چکنائی کے استعمال کا اسے کیسے اندازہ ہے اور اس کو یہ کس نے بتایا کہ v شیپ میں سفر کرنے سے وہ کیسے انرجی بچا سکتا ہے۔

کرونا کا دوسرا مرحلہ بڑی شدت کے حملہ آور ہوا اور مریضوں کی تعداد میں آئے دن کے اضافے میں ہوش و حواس کی دنیا میں سنسنی خیز حالات پیدا کر دیئے۔ ہم نے سکول، کالجز، یونیورسٹیز بند کر دیں۔ ملک میں جاری تمام امتحانات لامحدود مدت کے لئے ملتوی کر دیئے۔ تعلیمی اداروں کے علاوہ ملک میں موجود تمام افراتفری، لاقانونیت، سیاسی میلے، سیاسی فائدے، لوٹ مار، سماجی بے روی، بھوک اپنے عروج پر ہے۔ شاپنگ مالز، بازاروں میں بے ہنگم رش بام عروج پر ہے۔ بے قابو اور آوارہ ٹریفک ہر روز سیکڑوں جانوں کو نگل رہی ہے۔ کئی ماؤں کی گودیں اجڑ رہی ہیں۔ کئی بہنوں کے بھائی زمین اوڑھ کے سو رہے ہیں اور کئی خاندانوں کے وارث اس ٹریفک کے حادثات کی بھینٹ چڑھ کر اپنے خاندان کے معاشی چراغ گل کر کے خود تو حیات کی سرحد پار کر کے گئے مگر پسماندگان اس ظالم سماج کے رحم و کرم پر رہ گئے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری حکومت، ہماری کابینہ اور ہماری قانون ساز اسمبلی نے اپنے کانوں ایسا کون سا تیل ڈالا ہے جو انہیں عوام کے تمام مسائل سے بے خبر رکھے ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے اژدہا عوام کو نگلنے کے درپے ہیں مگر حکومتی سپیرے اپنی بینوں کو زنگ آلودگی کی طرف دھکیل کر بے سرے، سروں کو الاپنے کے لئے ہر روز کمر کستے ہیں۔

اس وقت ملک کے تمام ادارے اپنی من مانی پر اترے ہیں۔ یہ ادارے اپنے ویژن، اپنی سوچ، اپنی فکر اور ترقی کے تمام قاعدے اور کُلیوں کو پامال کیے ہوئے ہیں۔ یہ آستین کے سانپ عوام کے لیے زہر قاتل ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنی سوچ اور فکر کو زنگ لگانے میں پیش پیش ہیں۔ دنیا بھر کے سائنس دان، ڈاکٹرز، استاد، مفکر، ماہر تعلیم اپنے ملک کی بہتری، اپنے ملک کی ترقی، اپنی قوم کی ترقی اور اس کی سوچ و فکر کو تبدیل کرنے میں لگے ہیں۔ ایسے تمام ممالک جو اسلام دشمن ہیں جو مسلم دشمنی کو اپنا اولین فرض گردانتے ہیں وہ مسلمانوں کو ہر حال میں نیچا دکھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ جیسا سلوک ہمارے ساتھ کرتے ہیں، اس صورت حال کو مسعود احمد نے یوں بیان کیا ہے:

مجھ کو مرے خلاف کیا اور چل دیا

اس نے یہ اعتراف کیا اور چل دیا

نوحہ روایتوں کا پڑھا زور شور سے

قدروں سے انحراف کیا اور چل دیا

ایک ہم ہیں کہ ان کی چالوں میں آتے جاتے ہیں۔ ہم ان کے دباؤ میں اپنی ملکی اور عوامی پالیسیاں زوال پذیر کر رہے ہیں۔ ہم اداروں کو زمین بوس کر رہے ہیں۔ آزادی کے چوہتر سال کے اس سفر میں ہم پیروں پر کھڑے نہیں ہو سکے۔ آبادی کو بہت بڑھا لینا، ڈیجیٹل اور الیکٹرانک عروج کی بھرمار، سفری سہولیات کا مزین ہونا ایک سہولت تو ہو سکتی ہے مگر یہ حقیقی ترقی نہیں ہے۔ ہماری حقیقی ترقی ہمارے دین، ہماری آخری کتاب اور ہمارے نبیؐ کی سنت پر عمل پیراہونے میں چھپی ہوئی ہے۔ اخلاقی، سماجی، فکری ، دینی، قومی، عملی اور ذہنی طور پر اعلیٰ و ارفع ہونا ہی ہمارے لیے قوم کے لیے اور ملک کے لیے ترقی کی منزل ہے۔ انفرادی کوشش، انفرادی سوچ اور انفرادی دلچسپی قوم اور ملک کے ترقی کا سبب بنتی  ہے۔ سیاسی مفاد پرستی، سیاسی ہتھکنڈے اور سیاسی کھینچا تانی ملک اور قوم کے  لیے نقصان اور زوال پذیر ثابت ہوتی ہے۔ کرونا آئے سال بھر ہونے کو ہے۔ ہمارا کوئی سائنسدان ویکسین بنانے کے لیے سنجیدہ نہیں ہوا۔ ہمارا کوئی ماہر تعلیم تعلیمی نظام کو از سر نو ترتیب دینے کے لیے سنجیدہ نہیں ہوا۔ ہماری عوام اور طالب علم خود سنجیدہ نہ ہوئے کہ تعلیمی پستی اور پسماندگی کس قدر زوال کی علامت ہے۔ اور ایک سال کا تعلیمی و علمی نقصان ایک نسل کو تباہ و برباد کر سکتا ہے۔ ہم سے تو وہ سائنسدان اچھے نکلے جنہوں نے ’’پلوور‘‘ پرندے پر تحقیق کر کے نتیجہ اخذ کر لیا کہ وہ اپنی چکنائی کس طرح بچا کر اپنا سفر مکمل کرتا ہے۔ ایک ہم ناقص العقل ہیں کہ کورونا کی آڑ میں تعلیمی ادارے بند کر دیتے ہیں حالانکہ ملک میں کورونا سے بچاؤ کے لیے ایس او پیز پر سب سے زیادہ پابندی تعلیمی اداروں نے کی ہے۔ لہٰذا ہمیں عملی کردار اور عملی غور و فکر کی ضرورت ہے۔ ہمیں سنجیدگی اور خلوص کی ضرورت ہے۔ یہ سب ممکن ہو گا تو ملک ترقی 


ای پیپر