American, Britain, independent republic, Brexit deal, Boris Johnson
01 دسمبر 2020 (11:43) 2020-12-01

بریگزٹ سے بہت پہلے ایم ایگزٹ ہوا تھا یعنی امریکی ایگزٹ جب 1776ء میں امریکیوں نے برطانوی شاہ جارج کے خلاف بغاوت کا فیصلہ کیا اور یکطرفہ طور پر اپنی آزاد جمہوریہ کے قیام کا اعلان کیا۔ ماضی کا جائزہ لیا جائے تو یہ ایک ایسا منفی اقدام تھا جسے ٹھیک کرنے میں کافی وقت لگا۔ فرانسیسی فلسفی والٹیئرجو کہ ان دنوں لندن میں رہتا تھا، اس نے لکھا کہ ان دنوں برطانیہ بڑے ملکوں میں لبرل ترین تھا، وہاں اظہار اور پریس کہیں زیادہ آزاد اور دنیا کسی بھی ملک کے مقابلے زیادہ پارلیمنٹ اہم کردار ادا کر رہی تھی۔ برطانیہ غلاموں کی تجارت کے خلاف سرگرم  اور جنوبی امریکی ریاستوں میں سیاہ فاموں کے ساتھ بدسلوکی پر کڑی تنقید کر رہا تھا۔ مختصر یہ کہ امریکی انقلاب میں قدامت پسندی کا عنصر نمایاں تھا۔

نئی امریکی ریاست مغربی اور جنوبی ریاستوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی تھی جس کیلئے اسے غلامی پر سمجھوتا کرنا پڑا، تاہم صورتحال زیادہ دیر تک برقرار نہ رہی۔ شمال ریاستوں میں غلامی کے خلاف تحریک نے تیزی سے زور پکڑا، جس کا نتیجہ 1861-65 تک کی خانہ جنگی کی صورت میں برآمد ہوا ۔ یہ مغربی تاریخ کی وہ جنگ ہے جس میں سب سے زیادہ خونریزی ہوئی۔ کیا وہ امریکی بریگزٹ تھا؟ اگر امریکا برطانوی سلطنت کا حصہ رہتا تو غلامی پر بہت پہلے پابندی لگ جاتی، سنگین خونریزی نہ ہوتی اور امریکا میں جمہوری اقدار بہت پہلے مستحکم ہو چکی ہوتیں۔ پھر تقریباً دو صدیوں بعد مارٹن لوتھر کنگ اور صدر لنڈن جانسن نے حقیقی جمہوری اقدار کو مستحکم کیا۔

برطانیہ میں بریگزٹ پر جاری بحث کا افسوسناک پہلو اس کے بااثر حامیوں کا ان جمہوری 

اصولوں اور اقدار کو نظر انداز کرنا ہے جن کی آبیاری 17ویں صدی میں ہوئی تھی۔ وزیراعظم بورس جانسن اور ان کی دائیں بازو کی حکمران کنزر ویٹیو پارٹی رائے عامہ کے ساتھ ایک غیر ذمہ دارانہ کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ چار سال قبل جب بریگزٹ پر ریفرنڈم ہوا، اس میں بریگزٹ کے حامی معمولی اکثریت سے کامیاب رہے، جسے انہوں نے ایک ناقابل تنسیخ مینڈیٹ سمجھ لیا۔ اب تک کے مختلف پول سروے بتاتے ہیں کہ بریگزٹ پر چار سال سے جاری بحث کے بعد اس کی حمایت کرنے والے ووٹرز، جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے، کی بریگزٹ کے ثمرات سے متعلق سوچ بدل چکی ہے۔ یہ بات بریگزٹ کے حامی اچھی طرح جانتے ہیں، مگر نئے ریفرنڈم کے مطالبے کیلئے وہ تیار نہیں۔ ایک حکومت جس کی پارلیمنٹ میں کبھی اکثریت نہ تھی، اپنی قیادت میں بریگزٹ کا عمل نتیجہ خیز بنانے پر مصر ہے۔

یہ ایسا فیصلہ ہے جو کہ برطانیہ اور یورپ کو کم از کم اگلے 100سال تک متاثر کرتا رہے گا۔ اس کے متاثرین میں اکثریت آج کے نوجوانوں کی ہو گی، جو کہ پوچھنے پر صاف کہیں گے کہ وہ اپنا مستقبل یورپی یونین میں چاہتے ہیں۔ برطانیہ شاید وہی تنگ نظری پر مبنی ناقص فیصلہ کرنے والا ہے جو کہ 250 سال قبل امریکی ایگزٹ کے حامیوں نے کیا تھا۔ عام انتخابات کی کال دے دی گئی ہے۔ بریگزٹ کے حامیوں کے مابین کشمکش چل رہی ہے۔ ایک قدرے نئی بریگزٹ پارٹی جو کہ بغیر کسی ڈیل کے یورپی یونین سے علیحدگی چاہتی ہے، کنزر ویٹیو پارٹی کے ووٹ بینک پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جو کہ ایک باضابطہ ڈیل کے تحت علیحدگی چاہتی ہے۔

کنزر ویٹیو رائے دہندگان جو کہ یورپی یونین میں رہنا چاہتے ہیں، وہ چھوٹی لبرل جمہوری پارٹی کے گر د جمع ہو رہے ہیں جو ہمیشہ سے یورپی یونین کی حامی رہی ہیں۔ امکان ہے کہ وہ چھوٹی جماعت نہیں رہے گی۔ سکاٹ لینڈ میں سکاٹس قوم پرست جو کہ پہلے سے ایک مضبوط پارٹی ہیں، سکاٹ لینڈ کی نشستوں سے کنزروٹیو پارٹی کو محروم کر دیں گے۔ شمالی آئرلینڈ کی دائیں بازو کی پروٹسٹنٹ ڈیموکریٹک یونین پارٹی جسے لگتا ہے کہ کنزر ویٹیو حکومت نے اسے دھوکہ دیا، وہ کنزر ویٹیو حکومت کو سپورٹ نہیں کرے گی۔ اگر بریگزٹ ہو جاتا ہے تب ایک مسئلہ سکاٹ لینڈ کی برطانیہ کی علیحدگی کی صورت میں نکل سکتا ہے تاکہ سکاٹ لینڈ یورپی یونین کا حصہ رہ سکے۔ سکاٹ اکثریت اس مسئلے کا فیصلہ ریفرنڈم کے ذریعے کرنا چاہتی ہے۔ لیبر پارٹی انتخابی کامیابی کی صورت میں اس کا وعدہ کر چکی ہے۔ کنزر ویٹیوز کہتے ہیں کہ وہ سکاٹس کو ایسا کرنے کی  اجازت نہیں دیں گے۔ مگر سکاٹس کنزر ویٹیوز کا فیصلہ تسلیم نہیں کریں گے۔ جواب میں کیا انگلینڈ سکاٹش رہنماؤں کو گرفتار کرے گا؟ کاتالونیا اور سکاٹ لینڈ میں بہت فرق ہے۔ کاتالونیا کے برعکس سکاٹ لینڈ زیادہ بااختیار ہے، اس کی اپنی آزاد عدلیہ اور پولیس فورس ہے۔

درحقیقت بورس جانسن حکومت کو بریگزٹ پر صرف شکست نہیں، علیحدگی کے خطرے کا بھی سامنا ہے۔ برطانویوں کی اکثریت بریگزٹ نہیں چاہتی۔ نوجوان نسل بلاک کے 27 ممالک میں گھومنے پھرنے، تعلیم حاصل کرنے اور کام کرنے کی آزادی سے لطف اندوز ہونا چاہتی ہے۔ ان کی دوستیاں، کاروباری روابط اور نئی رشتہ داریاں سب ملی جلی ہیں۔ پرانی تعلیم یافتہ نسل جس نے یورپی سرزمین پر جنگیں دیکھ رکھی ہیں، وہ بھی یورپ کو دوبارہ میدان جنگ دیکھنا نہیں چاہتی۔ ان کی 


ای پیپر