Mohsen Fakhrizadeh, robotic machine, Israel, Iran, Hassan Rouhani, investigation
01 دسمبر 2020 (11:03) 2020-12-01

تہران : ایران کے مشہور سائنسدان کے قتل کی ابتدائی رپورٹ نے سب کو حیران کر دیا، ایرانی تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ محسن فخری زادہ کو روبوٹک آرمی کے تربیت یافتہ مشین کے ساتھ قتل کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی سائنسدان کو جدید ترین روبوٹک مشین کی مدد سے قتل کیا گیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس قتل میں کسی انسان کے ملوث ہونے کے ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔ اس کے علاوہ تفتیشی افسران کا کہنا تھا کہ اس قتل کو کرنے کے لیے روبوٹ کو کافی دور سے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔ 

ادھر ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ محسن فخری زادہ کو جس ہتھیار سے مارا گیا وہ اسرائیل کا ہے۔ ایران کو پہلے ہی اس بات کا پورا یقین تھا کہ اُن کے بہترین سائنسدان کے قتل کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ اس لیے ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ایران اس قتل کا بدلہ اسرائیل سے ضرور لے گا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق فخری زادہ کو ریموٹ کنٹرول کی مدد سے خود کار مشین گن کے ذریعے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور یہ اسرائیلی کاروائی تھی۔

دوسری جانب اسرائیل نے معمول کے مطابق ایرانی سائنسدان کو مارنے سے صاف انکار کر دیا ہے، اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ محسن فخری زادہ کے قتل میں اُن کا ہاتھ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی سائنسدان محسن فخری زادہ کو سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ انہیں تہران میں امام زادہ صالح قبرستان میں دفنا دیا گیا ہے۔

اس سے قبل نماز جنازہ پر موجود ایرانی وزیر دفاع نے کہا کہ دشمن جانتے ہیں کہ ایرانی عوام کسی بھی جرم ، کسی بھی دہشتگردی اور کسی بھی احمقانہ حرکت کو برداشت نہیں کرے گی، اور اس کا بھر پور جواب دیا جائے گا۔


ای پیپر