دلدار یاں!
01 دسمبر 2020 2020-12-01

گزشتہ روز ملک کے نامور ٹی وی کمپیئر، کالم نویس ، شاعر اور انگریزی ادب کے اُستاد مرحوم دلدار پرویز بھٹی کی سالگرہ تھی، پچھلے مہینے 30اکتوبر کو اُن کی چھبیسویں برسی تھی، 1994ءمیں اُن کا انتقال ہوا، 1994ءسے لے کر پچھلے برس تک اُن کی کوئی برسی ایسی نہیں جس پر کالم لکھ کر اُن کی یادوں کو میں نے تازہ نہ کیا ہو، پر اِس برس اُن کی برسی پر میں نہیں لکھ سکا، یہ نہیں کہ مجھے لکھنا یاد نہیں رہا، اصل میں اُن دِنوں میں کسی اہم موضوع پر قسط وار لکھ رہا تھا، جب کسی موضوع پر قسط وار لکھ رہا ہوں بیچ میں کسی اور موضوع پر لکھنے سے پہلے موضوع کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے، دل ہو یا قسط وار کالم، کوشش کرتا ہوں مجھ سے کچھ نہ ٹوٹے۔ اُن کی برسی پر کالم نہ لکھ سکنے کی اپنی محرومی کو اب میں اُن کی سالگرہ پر کالم لکھ کر دُور کرنے کی کوشش کرنے لگاہوں، دلدار بھٹی جیسا کوئی نہیں تھا، اُن جیسا کوئی پیدا ہوا ، نہ شاید ہوگا، ہماری زندگی میں تو شاید نہ ہو، اُن کی وفات پر معین اختر نے مجھ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا تھا ” میں نے انور مقصود سے کہا ہم جو کچھ کرتے ہیں دلدار بھٹی وہ سب کچھ کرسکتا تھا، پر جوکچھ وہ کرتا تھا ہم نہیں کرسکتے“....ایسے ایسے کمال کے جملے وہ بولتے اور لکھتے، ایسی ایسی کمال کی جُگتیں وہ لگاتے، ایسی ایسی حرکتیں کرتے، جس محفل میں ہوتے ”جان محفل“ ہوتے، اُن کی موجودگی میں بات بہت سوچ سمجھ کر کرنی پڑتی تھی،لوگوں کو پتہ ہوتا تھاجواباً کوئی نہ کوئی ایسی بات اُنہوں نے کہہ دینی ہے جواگلے کو شرمندہ کردے گی، ایک بار اُنہیں نظر کی عینک لگ گئی، میں نے اُن سے کہا ”بھائی جان عینک اُتار دیں، عینک لگاکر آپ ”بجو“ لگتے ہیں “ .... وہ بولے ”میں نے اگر عینک اُتار دی پھرتم ”بجو“لگوگے“۔ گورنمنٹ ایف سی کالج میں ہم اکٹھے تھے، وہ انگریزی پڑھاتے تھے میں صحافت.... وہاں ہمارے زوالوجی کے ایک کولیگ پروفیسر امجد طارق ہمارے ساتھ تھے، اُن کے پاس ایک پرانی ”فوکسی“ (گاڑی) ہوتی تھی، اُس گاڑی کی ”ظاہری وباطنی“ دونوں حالتیں اچھی نہیں تھیں، ایک بار دلدار بھٹی کالج کے گیٹ کی جانب پیدل جارہے تھے، پروفیسر امجد طارق نے اپنی ”فوکسی“ اُن کے قریب آکرروکی، اُن سے پوچھا ”بھٹی صاحب اج پیدل ای جارہے او؟“، دلدار نے اُنہیں بتایا”اصل میں آج میرے ڈرائیور کی والدہ کی آنکھوں کا آپریشن تھا، میں نے گاڑی اُسے دے دی، میں نے سوچا کالج قریب ہی ہے (یادرہے دلدار بھٹی، ایف سی کالج کے قریب ہی وحدت کالونی میں رہتے تھے)۔آج پیدل چلے جاتا ہوں، امجد طارق نے اُن سے کہا ”تو آئیں ناں بھٹی صاحب میری گاڑی میں بیٹھیں، آپ جہاں کہتے ہیں میں آپ کو ڈراپ کردیتا ہوں“ .... دلدار بھٹی نے امجد طارق کی اِس پیشکش کے بعد غور سے اُن کی گاڑی (فوکسی) کی طرف دیکھا اور بولے ”سر میں پیدل ای ٹھیک آں مینوں ذرا جلدی اے“ ....وہ جان بوجھ کر کبھی کسی کا دِل نہیں دُکھاتے تھے، جُگت بھی صرف اُسے لگاتے جس کے بارے میں اُنہیں یقین ہوتا جواباً اُنہیں جُگت لگاکر اگلے نے اپنا حساب کتاب پورا کرلینا ہے، ایک بار ہمارے ایک بزرگ شاعر دوست انجم یوسفی کو اُنہوں نے کوئی جُگت لگائی جواباً انجم یوسفی سے کوئی جُگت نہ لگائی گئی تو دلدار نے خود اپنے آپ کو جواباً ایک جُگت لگاکر حساب برابر کردیا، .... فلم ساز جمشید ظفر کو کسی تقریب میں اُنہوں نے کہہ دیا ” آپ کا پتہ ہی نہیں چلتا آپ بابو ہیں یا بی بی ہیں“ ....وہ اُن کی اِس بات کا بُرا منا گئے، اُنہوں نے دلدار بھٹی کو گالیاں نکالنا شروع کردیں، میں قریب ہی کھڑا تھا، مجھ سے برداشت نہ ہوا، میں جمشیدظفر کو مارنے کے لیے اُن کی طرف لپکا دلدار بھٹی نے زوردار جھپا مارکر مجھے روک دیا، مجھ سے کہنے لگے”یار غلطی میری اے“.... اُنہوں نے جمشید ظفر سے معافی مانگ لی، اب اُصولی طورپر جمشید ظفر نے اُنہیں جو گالیاں دی تھیں اُنہیں بھی اُس کی معافی مانگنی چاہیے تھی، جمشید ظفر نے ایسے نہیں کیا، تب زندگی میں پہلی بارمجھے احساس ہوا معافی ہمیشہ بڑا آدمی مانگتا ہے، چھوٹا آدمی ہمیشہ انتقام کی آگ میں جلتا رہتا ہے، سازشیں کرتاہے، دِل میں بغض رکھتا ہے، اُسے اگر مجبوراً کسی سے معافی مانگنی بھی پڑ جائے وہ حیثیت دیکھ کر معافی مانگتا ہے، کمزوروں پر چڑھائی کرتا ہے، طاقتوروں کی جُوتیوں میں گِراہوتا ہے، .... دلدار بھٹی بڑے بہادر انسان تھے، اولاد نہ ہونے کا صدمہ کوئی بہادر انسان ہی برداشت کرسکتا ہے، اُن سے کوئی یہ پوچھتا ”بھٹی صاحب آپ کے بچے کتنے ہیں؟“، وہ مُسکراکرکہتے”اجے تے اسی آپ بچے ہیں“.... وہ واقعی ”بچے“ تھے اور بے شمار انسانی قباحتوں سے بچے ہوئے بھی تھے، اُن کا دِل بالکل بچوں جیسا بڑا تھا، کبھی کبھی وہ بچوں کی طرح روٹھ جاتے اور بچوں کی طرح مان جاتے، ایک بار وہ ہمارے اجمل نیازی سے کسی بات پر روٹھ گئے، کچھ مشترکہ ”دوستوں“ نے ایسی غلط فہمیاں دونوں کے درمیان پیدا کردیں یوں محسوس ہوتا تھا دونوں کی ناراضگی عمر بھر رہے گی، میں نے سوچا دونوں کی صلح کروانی چاہیے، میں اِک روز صبح سویرے اِس مقصد کے لیے اجمل نیازی کی منت ترلہ کرنے اُن کے گھرپہنچا کہ وہ دلدار بھٹی سے معذرت کرلیں، میری حیرت کی انتہا نہ رہی دلدار بھٹی پہلے سے وہاں موجود”ادرک والی چائے“ پی رہے تھے، ہماری بھابی بیگم رفعت اجمل نیازی کے ہاتھوں سے بنی ہوئی ادرک والی چائے اُنہیں بڑی پسند تھی، .... میں نے اُن سے کہا”بھائی جان میں تو آپ کی صُلح کروانے کے لیے اجمل نیازی کو سمجھانے آیا تھا اور آپ پہلے سے یہاں موجود ہیں“.... کہنے لگے ”میں وی اینوں سمجھان ای آیا واں، تے میں اینوں تیرے توں بوہتا چنگا سمجھا سکناآں“،خداترس وہ بہت زیادہ تھے، ایک بار مجھ سے کہنے لگے”یار کل میں دعا کیتی اے ربا مینوں کُجھ میرے لئی وی دے“.... میں نے پوچھا ”بھائی جان کیا مطلب؟ میں سمجھا نہیں؟۔ بولے ”جوکچھ اللہ مجھے دیتا ہے وہ میں مستحقین پر خرچ کرتا رہتا ہوں تو مجھے ملتا رہتا ہے، جیسے ہی کچھ رقم میں اپنے لیے جوڑنا شروع کردیتا ہوں مجھے”شو“ ملنے بند ہوجاتے ہیں“ ....اُن کی اِس بات کا ثبوت یہ ہے وہ وحدت کالونی کے ایک سرکاری کوارٹر میں رہتے تھے، مرتے دم تک وہ اپنا گھرتک نہیں بناسکے۔ البتہ گھر کی تعمیر کے لیے پانچ مرلے کے ایک پلاٹ کے لیے ایک وکیل صاحب کو اُنہوں نے کچھ رقم دی تھی جس سے اُن کے مرنے کے بعد وہ وکیل صاحب مُکر کر مکر کرگئے ، میں نے اُن وکیل صاحب کو اِس کیس میں عدالت میں لے جانے کا سوچا تھا، پھر میں نے سوچا جتنے پیسے اِس کیس پر میرے لگ جانے ہیں اُس سے آدھے پیسوں میں اُس سے بڑا پلاٹ خرید کر بیگم دلدار بھٹی کو دیا جاسکتا ہے، یہ بھی ممکن تھا میں یہ کیس عدالت میں لے جاتا، جج صاحب خود بھی مجھے یہی مشورہ دیتے کہ وکیلوں کے منہ ہم نہیں لگتے تو آپ کیوں لگتے ہیں؟ بہتر ہے دلدار بھٹی کے لیے آپ خود کسی پلاٹ یا گھر کا بندوبست کردیں،.... کالم تو یہ دلدار پرویز بھٹی کے بارے ہے پر گزشتہ روز پنجاب بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے موقع پر جتنی فائرنگ سرعام کچھ وکلاءنے کی، سی سی پی او لاہور محمد عمر شیخ سے میں پوچھنا چاہتا ہوں اُن کے ”عمر شیخ فارمولے“ کا شکار صرف اُن کے ماتحت ہی ہوتے رہیں گے؟؟؟!!


ای پیپر