”بھنوراور بَگولہ“ 
01 دسمبر 2020 2020-12-01

قارئین کرام، میاں محمد نوازشریف کی والدہ محترمہ کے انتقال پر پاکستان کا کونسا ایساسیاستدان ہوگا، کہ جس نے تعزیت کے علاوہ ان کی بلندی درجات کی دعا نہ کی ہو۔ وطن عزیز کے حکمرانوں سے لے کر حزب مخالف کے تمام ارکان نے باہمی اخوت کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے، مرحومہ کے حق میں دعائیں کیں، تو میں سوچوں میں گم ہوگیا، کہ ہم اخلاقی گراوٹ کے کس مقام پر ہیں، کہ کسی کی موت پر تو ہمیں اسلامی روایات یاد آجاتی ہیں بصورت دیگر تو وہ ایک دوسرے کا نام لیتے ہوئے اتنے آگ بگولہ ہو جاتے ہیں، کہ فواد چودھری صاحب جیسے وزیر باتدبیر بھی صحافیوں پہ مکے برسا دیتے ہیں، اور کسی بحث ومباحثے میں مختلف جماعتوں کے مہمان بھی دلیلوں بلکہ آئے ہوئے وکیلوں کی تقریروں سے درگذر کرنے کے بجائے یا تو کسی کے منہ پہ سیاہی مل دیتے ہیں، یا پھر گلاس یا چائے کا کپ میز پر انڈیل دیتے ہیں، اور پھینکنے سے بھی دریغ نہیں کرتے، اور عوام کہتے ہیں (پترگالاں تے میں ضرور کڈاں گا) حتیٰ کہ کرونا کی بقول تحریک انصاف کے عمائدین کے، کہ نہ تو ایس اوپیز کی احتیاط کے بھی روا نہیں۔ اگر مولانا فضل الرحمن کا جلسہ کرنا مناسب نہیں تھا تو وزیراعظم عمران خان کے جلسوں کا بھی تو کوئی جواز نہیں بنتا۔ بہرحال اپوزیشن اور حکومت کی یہ لے دے، آج کی بات نہیں یہ قائداعظمؒ کی رحلت کے بعد ہی سے شروع ہوگئی تھی، اور آج کی پی ڈی ایم سے پہلے تحریک نظام مصطفیٰ بھی بن چکی ہے، جس کے روح رواں لاہور کے نامور وکیل باجوہ صاحب تھے، جنہیں بڑی مہارت اور ہنرمندی سے اس وقت کے حکمران پاکستان پیپلزپارٹی کے جناب ذوالفقار علی بھٹو نے نہایت خوش اسلوبی سے ایسے شیشے میں اُتارا کہ مدت ہوئی، ان کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا۔ 

موجودہ پی ڈی ایم جس میں حزب اختلاف کی گیارہ جماعتیں شامل ہیں ان کا واسطہ بھی ایک اور نامور اور قدکاٹھ کے مالک باجوہ صاحب سے ہے، دیکھیں اب تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، یا قوم کو پاکستان ڈیموکریٹ پارٹی تاریخ پہ تاریخ دیتی ہے، کیونکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے، آدمی کی قابلیت اس کی زبان کے پیچھے ہوتی ہے، اور رسول پاک کا ارشاد بھی یہی ہے مومن کی زبان دل کے پیچھے رہتی ہے، یعنی بولنا چاہتا ہے، تو پہلے دل میں سوچ لیتا ہے، تب زبان سے بات نکالتا ہے، اب مولانا فضل الرحمن صاحب تو متذکرہ بالا فرمان سے ضرور آگاہ ہوں گے، نجانے مجھے رہ رہ کر امریکہ کی ریاست فلوریڈا کا وہ مقام کیوں یاد آرہا ہے، تقریباً 1950ءسے یہ مشہور ہے، فلوریڈا ریاست کے مغربی ساحل سمندر کے 13لاکھ سے 39لاکھ کلومیٹر کے اندر ایک ایسی جگہ ہے، جہاں، کشتیاں، جہاز، حتیٰ کہ ہوائی جہاز بھی اچانک غرق ہوکر غائب ہوجاتے ہیں، اس جگہ کوبرمودا ٹرائی اینگل BERMUD TRIANGEL، یا شیطان (DEVIL)بھی کہا جاتا ہے، اس کے علاوہ امریکہ میں ہری کین بگولہ (HURRICAN) اور (TORNDO)ہری کین مسلسل کئی دن تک چلتا رہتا ہے، اور اس کی رفتار اتنی زیادہ ہوتی ہے، کہ وہ وہاں گھروں کی نہ صرف چھتیں تک اُڑالے جاتا ہے، بلکہ بڑی سے بڑی عمارتوں کو بھی گرا دیتا ہے، اور اس کی وارننگ بار بار امریکی میڈیا پر دی جاتی ہیں، اوربازار مکمل طورپر بند کردیئے جاتے ہیں، اور لوگ تہہ خانوں میں چلے جاتے ہیں۔ دورجانے کی ضرورت نہیں، ہمارا پاکستان بھی تو کسی سے پیچھے نہیں۔ مصطفیٰ کھر سابق وزیراعلیٰ پنجاب ، نے زرعی زمین کالا خطائی روڈ لاہور نارنگ منڈی میں لی ہوئی ہے، وہاں بھی سنا ہے کہخنزیروں کی بڑی بہتات ہے، بہتات تو اسلام آباد میں بھی بہت ہے، اور ان کو رات گئے سڑکوں پہ دوڑتے پھرتے میں نے بھی کئی دفعہ دیکھا ہے، بہرحال میں بات کررہا تھا، مصطفیٰ کھر کے علاقے نارنگ منڈی کی وہاں بھی نجانے کس کی وجہ سے، اچانک شدید بگولہ ، بھنور کی شکل میں آتا ہے، وہ بگولہ، بھنور کی شکل اختیار کرکے اُوپر کی طرف بڑی تیزی سے چلا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ ٹریکٹر، اور ٹرالیوں کو اُڑا کر بہت دور پھینک دیتا ہے۔ جیسے آج کل کچھ سیاسی پارٹیوں کے کارکن بھی راستے میں کھڑے کنٹینروں کو کہیں کے کہیں پھینک دیتے ہیں، اور رکاوٹ کے سارے حربے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ 

اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمارے وطن عزیز کی خیریت رکھے، اس لیے تو مفکر اسلام حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ 

میرے سودائے ملوکیت کو ٹھکراتے ہوتم 

تم نے کیا توڑے نہیں کمزور قوموں کے رجاج

 یہ عجائب شعبدے کس کی ملوکیت کے ہیں!

راجھدانی ہے !مگر باقی نہ راجہ ہے نہ راج

دورمت جائیے، زمینی حقائق سے نابلد اکابرین ملک وملت ابھی تک اس بات پر متفق نہیں کہ سکول اور تعلیمی درس گاہیں، بند ہونی چاہئیں یا نہیں، اور اگر چھٹیوں کی تاریخ دے بھی دی جاتی ہے، تو کہا جاتا ہے، کہ طالب علم درس گاہوں میں نہ آئیں، مگر اساتذہ ضرور درس گاہ آئیں۔ 

مقام صد حیف اور افسوس ہے، کہ کیا اساتذہ انسان نہیں ہیں؟ ادھر مدارس نے تمام مدرسے کھلے رکھنے کا اعلان کردیا ہے، حضرت علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں، 

پُر ہے افکار سے ان مدرسے والوں کا ضمیر

خوب وناخوب کی اس دور میں ہے کس کو تمیز

لیکن تاجروں نے بھی بازار بند نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے، اور پاکستان بھر میں امتحانات بھی ملتوی کردیئے گئے ہیں اور یوں بھنور اور بگولہ یک جا ہوگئے ہیں۔ اور عمران خان، آتش فشاں، وزیر باتدبیر شیخ رشید کے مشورے پر بننے کو تیار لگتے ہیں، وطن عزیز کی خیر یا اللہ۔ 


ای پیپر