زلزلے کا پہلا شدید جھٹکا
01 دسمبر 2019 2019-12-01

اندازہ نہیں تھا کہ اتنی تیزی سے پیش رفت ہوگی وقت کروٹ بدلے گا راتوں کی نیندیں اور دن کا چین حرام ہوجائے گا۔ کسی کروٹ چین نصیب نہیں ہوگا۔ کہتے ہیں ستارے گردش میں آجائیں تو غلطیاں سرزد ہونے لگتی ہیں۔ سوچا کیا تھا ہوا کیا، ’’انقلابات میں زمانے کے‘‘ اقتدار کانٹوں کا بستر کبھی تصور میں بھی نہ آیا ہوگا۔ سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں، سادہ کاغذ پر دوبارہ تقرری پھر توسیع، 7 سال کا مکمل تحفظ ،کیا خبر تھی کوئی نامعلوم ’’راہی‘‘ راہ میں آکر راستہ کاٹ دے گا۔ تین دن پہلے زلزلے کا شدید جھٹکا لگا جنہوں نے دست شفقت سر پر رکھا تھا انہوں نے راہ کی ان رکاوٹوں کے بارے میں بتایا ہی نہیں تھا۔ سب ہرا ہی ہرا نظر آتا تھا۔ اس لیے دور کی سوجھ رہی تھی۔ حالانکہ اقتدار کی بھول بھلیوں میں محفوظ راستہ ڈھونڈنا برسوں کی ریاضت، تجربے، اہلیت اور قابلیت کے بغیر ممکن نہیں، ’’لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا۔‘‘ دنیا ہی میں کٹہرے میں کھڑے کردیے گئے ’’ایسی مشکل بھی پڑے گی کبھی سوچا ہی نہ تھا‘‘ جو’’ بڑوں‘‘ کے قہر کا شکار ہوئے ان سے نمٹنا آسان لیکن اپنی غلطیوں سے جان چھڑانا مشکل، قدم قدم پر رکاوٹیں چلنا محال’’ ہوئے ہیں پائوں ہی پہلے نبرد عشق میں زخمی‘‘ بیساکھیاں دیمک زدہ، روزانہ مشاورت کا کیا فائدہ، سارے کردار گھسے پٹے آزمائے ہوئے مہرے، اپنوں کی غلطی پریشان کر گئی، سپریم کورٹ نے پہلے ہی دن نوٹیفکیشن معطل کر دیا، تبدیلی مشن تھا لیکن بد قسمتی سے اتنی تبدیلی آگئی جو وہم و گمان میں نہ تھی۔ کاروبار ریاست ٹھپ، بیورو کریسی میں بد دلی اسٹیبلشمنٹ میں بے یقینی، ذمہ داروں نے کام چھوڑ دیا۔ اکھاڑ پچھاڑ، بیورو کریسی پر عدم اعتماد حکومتوں کو کمزور کردیتا ہے۔ ’’نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پائوں رکاب میں‘‘ وفاق کا استحکام ڈرائونا خواب، اس سب کے باوجود وہی چال ڈھال، رعونت ،وہی رویے وہی مزاج اپنی ذات مقدم، پوری قوم نڈھال، بندہ کرے کولیاں سوہنا رب کرے سولیاں، ایک ہی نوٹس نے کس بل نکال دیے، کیے کرائے پر پانی پھرتا نظر آیا زلزلے کا پہلا جھٹکا ، یا تباہی کا پیش خیمہ، شدت کیا رہی ہوگی گہرائی کتنی تھی۔ اندازے لگائے جا رہے ہیں، آئندہ بھی اسی طرح پکڑ ہوگی۔ آنے والے بھی اتنے ہی سخت اصولوں کے پکے بات کے سچے کورے کاغذوں پر دیے جانے والے احکامات پر پوچھ گچھ ہوگی، کسی نے کہا غلطیاں سرزد ہونا شروع ہوگئی ہیں تباہی کہہ کر نہیں آتی۔ اپنوں نے ایک درجن سے زائد معاملات کی نشاندہی کی جو عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ہی مشکلات کا شکار کردے گا۔ آرمی چیف بہادر، نڈر، بھلے آدمی پروفیشنل سولجر، پتا نہیں خود بھی توسیع چاہتے تھے یا نہیں، آپ چاہتے تھے تو کون سی مشکل حائل تھی ؟آپ کی صوابدید لیکن چہ خوب، طریقہ کار غلط اپنایا گیا اور مشکل میں پھنس گئے۔ چیف جسٹس نے پہلے ہی دن حواس گم کر دیے کہ وزیر اعظم نے کس بنیاد پر توسیع دی یہ صدر کا اختیارہے (صدر بے اختیار ہو تو کیا کیا جائے) فیصلہ کابینہ نے کرنا ہوتا ہے 25 ارکان میں سے گیارہ نے توسیع پر رضا مندی ظاہر کی۔ 14 کی خاموشی کو ہاں سمجھ لیا گیا۔ مدت کا تعین کیسے کرلیا گیا۔ وزیر اعظم نے پہلے توسیع کا لیٹر جاری کردیا۔ پھر بتایا گیا آپ نہیں کرسکتے اس پر صدر نے دو دن بعد منظوری دی وزیر اعظم نے اس کے دو دن بعد دوبارہ منظوری دی نوٹیفکیشن معطل، ایوان اقتدار میں کھلبلی مچ گئی۔ عقلمندوں کی سبکی ہوئی، قانون دانوں کو خفت اٹھانی پڑی۔ جس کے تربیت یافتہ ہیں اس نے تو 8 سال تک خود ہی اپنے آپ کو توسیع دی۔ بہت کچھ کہنے سننے پر وردی اتر سکی۔ حامد خان کبھی اپنے ہوا کرتے تھے کہنے لگے معاملہ میرٹ پر ٹھیک نہ ہو توپر وسیجر سے درست نہیں ہوسکتا۔ خیر گزری کہ چند گھنٹے پہلے 6 ماہ کی توسیع کا فیصلہ آگیا کہا گیا کہ پارلیمنٹ نئی قانون سازی کرے توسیع کا معاملہ قانون سازی کے بعد دیکھا جائے گا۔ خوامخواہ کی پریکٹس، معاملات سے لاعلمی نے دوسروں کی ساکھ اور مورال بھی متاثر کیا، بندہ ارد گرد سے مشاورت کرتا ہے لیکن ارد گرد کے سارے کردار گفتار کے غازی اتنے اپدیشک کہ5 سال کنٹینروں پر دی گئی تربیت کے بعد بھی کردار کے غازی نہ بن سکے۔ گفتار ایسی کہ منہ سے پھول جھڑیں چینلوں پر ایسی فضول گفتگو ایسی بے نقط گالیاں کہ دل و دماغ روشن ہوجائیں اور نئے پاکستان کی’’ برکات‘‘ سمجھ میں آنے لگیں، پہلے شدید جھٹکے سے ثابت ہوگیا کہ سب ایک پیج پر نہیں ہیں جبکہ عالم پناہ سے ایک عالم پناہ مانگنے لگا ہے۔ گھوڑے بگٹٹ دوڑنے لگے تو کون تجسس کرے گا۔ دبے لفظوں میں اپنے ہی صدائے احتجاج بلند کرنے لگ جائیں تو تہہ میں چھپے طوفانوں کی نشاندہی ہونے لگتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے تو جزا و سزا کے ’’فرشتوں‘‘ سے ملاقاتوں کی روداد بتا دی ہے۔ وہ آگ میں بے خطر کود پڑے ہیں جبکہ دونوں بڑی پارٹیوں کے رہنمائوں کی عقل محو تماشائے لب بام رہی۔ مولانا نے رابطوں اور مذاکرات کی پوری کتھا کہانی حتیٰ کہ ڈائیلاگ تک بتا دیے بس سہولت کاروں یا رابطہ کاروں کے نام گول کر گئے۔ بولے ’’کہا گیا تھا بجٹ تک کا انتظار کرلیں میں نے کہا نہیں ،کہا گیا کہ اپریل آنے دیں۔ میں نہ مانا تو دسمبر اور جنوری پر بات طے ہوگئی، جی کا جانا ٹھہر گیا ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے پر تین دن کے ستے چہروں پر مسکراہٹ لوٹ آئی۔ 6 ماہ کی مہلت مل گئی ،کل کس نے دیکھا ،دیکھا جائے گا، میرٹ اور اہلیت کا بھانڈہ شاہراہ دستور پر ہی پھوٹ گیا۔ چہروں پر مسکراہٹیں اندر سے ٹوٹ پھوٹ، وزیر قانون مستعفیٰ ہونے کے بعد پھر وزیر قانون بن گئے۔ بھرم رہ گیا۔ ٹوٹ جاتا تو برا ہوتا، کتنے پینترے بدلے گئے ،کتنی سمریاں بدلیں، توسیع پر اعتراض نہ ہوتا۔ شور دوبارہ تقرری پر مچا دور اندیشی قریب سے ہو کر نہیں گزری۔ اٹارنی جنرل نے فیصلہ تاریخی قرار دے دیا۔ لیکن تاریخ میں بد حواسیوں کا بھی تو ذکر ہوگا۔ اٹارنی جنرل کی دستاویزات اور ان پر فاضل ججوں کے ریمارکس بھی درج کیے جائیں گے۔ پڑھنے والے کیا رائے قائم کریں گے وہی رائے جن سے آج بھی سوشل میڈیا بھرا پڑا ہے کہ ’’کھیلا نہیں جاتا ہے مگر کھیل رہے ہیں‘‘ آل از ویل نہیں آل از ہیل کا منظر درپیش ہے 6 ماہ گزرتے کیا دیر لگتی ہے۔ سوال زیر بحث ،کیا حکومت قانون سازی کرسکے گی؟ نوکری کا معاملہ ہے اس لیے کہہ دیا کہ قانون سازی کرلیں گے مگر ’’کتھوں‘‘ اور کیسے کیا دونوں بڑی پارٹیاں ساتھ دیں گی۔ ایک سیانے نے ضمنی سوال اٹھایا کہ کیوں دیں گی۔ کچھ لیے دیے بغیر کیسے راہ پر آئیں گے۔’’ بگڑی بگڑی میری سرکار نظر آتی ہیں‘‘ این آر او تو صرف کہنے کی باتیں ہیں اصل مسئلہ سہولتوں کے حصول کے سمجھوتے ہیں جنہیں تعاون چاہیے وہ سمجھوتے بھی کریں گے۔ دونوں پارٹیاں گزشتہ پندرہ ماہ سے تم روٹھے ہم چھوٹے کے اصول پر گامزن ہیں۔ خود نہ بولیں ترجمان تو درے برساتے رہتے ہیں۔ بقول غالب ’’وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں‘‘ فاصلے بڑھے ہوئے ہیں پارلیمنٹ گالم گلوچ ایک دوسرے کا گریبان پکڑنے بلکہ مار پیٹ سے بھی دریغ نہ کرنے کا مرکز بن گئی۔ خود مختار ادارے میں بیٹھے لوگ بھی خود مختار نہیں۔’’ جو چاہیںسو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا ‘‘پارٹی لائن کے پابند جبکہ پارٹی کسی لائن کی پابند نہیں۔ قانون سازی کے دوران بھی مغلظات کا سلسلہ بند نہ ہوا تو روزانہ کی طرح واک آئوٹ اور بائیکاٹ جاری رہے گا۔ قانون کیسے بنے گا؟ قومی اسمبلی سے منظور ہوگیا تو سینیٹ میں جا کر اٹک بلکہ لٹک جائے گا حکمرانوں نے اپنی عادتیں نہ بدلیں مفاہمت کی پالیسی نہ اپنائی تو اپوزیشن بھی اپنی ضد نہ چھوڑے گی۔ مولانا ضد کے پکے کہہ دیا کہ فوج کے حساس ترین معاملات پر قبضہ گروپ اور جعلی پارلیمنٹ کو قانون سازی کا حق نہیں دے سکتے قانون سازی کیسے ہوگی؟ یقین دہانیاں کرانے والے ہی آگے بڑھیں۔ این آر او کے تیر چلانے والوں کو مفاہمت کی راہ اپنانے کی تلقین کریں این آر او کے تیر چلیں گے یا مفاہمت کے پھول کھلیں گے۔ اس کا انحصار آنے والے مہینوں کے حالات و واقعات پر ہوگا۔ شومئی قسمت سے 6 ماہ بعد بھی حالات یہی رہے تو نیا بحران پیدا ہوگا۔ فی الحال طوفان تھم گیا یا اس کا رخ موڑ دیا گیا۔ لیکن لہروں میں تلاطم اور پانیوں کی گہرائی میں چھپا اضطراب باقی ہے کون دیکھے گا طوفان اٹھا تو اپنی کشتیاں بچانے کی تدابیر کی جائیں گی۔ اس دوران تبدیلی مشن زور پکڑ گیا تو کیا ہوگا۔ آفٹر شاکس سب کو متاثر کریں گے۔


ای پیپر