اسر ا ئیل کی راہ پہ چلتا ہوا بھا رت
01 دسمبر 2019 2019-12-01

مسئلہ کشمیر کا حل کشمیر یو ں کی امنگو ں کے تحت ہو نا چا ہیے‘ ،ایسا نعر ہ ہے جس کی مسلمہ حقیقت سے خود بھا رت بھی کھل کر انکا ر نہیں کر پا تا۔ یہی و جہ ہے کہ بھا رتی حکومت منظم اور مربوط طریقے سے دنیا کی ا ٓنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے کشمیر کی ڈیمو گرافی کی تبدیلی پر کمربستہ ہے۔کہنا یہ ہے کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کے جس گھنائونے منصوبہ کو ا ٓئینی ترامیم 370 اور 35-A کا جو نام نہاد سیکولر اور جمہوری لبادہ پہنایا ہے اس پر عالمی رائے عامہ ان دنوں دنیا کے ہر فورم پر بول رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس کشمیر کو مودی حکومت اپنا اٹوٹ انگ سمجھتی تھی اور اسے پاکستان کے شدید مزاحمانہ کردار اور کشمیر کاز سے مادی، اخلاقی، سیاسی اور انسانی وابستگی کے استدلال کے جواب میں ہمیشہ دو طرفہ مسئلہ کی اوٹ میں چھپانے کی شرمناک کوشش کرتی رہی۔ ا ٓج کل ہر باضمیر شخص دو اسباب کی بنا پر کشمیریوں پر بھارتی ظلم و بربریت پر نالاںہے اور کثیر جہتی عالمی فورمز پر بھارتی سیکورٹی فورسز کی بہیمانہ فوجی کارروائی کے خلاف کھل کر تنقید کرتا ہے۔ اس میں ایک تو بھارت کی اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کے بنیادی استصواب رائے کے حق کو تسلیم نہ کرنا اور دوسرے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے بعد اب وادی کی مسلم اکثریتی ا ٓبادی کو اقلیت میں کرنے کی سرتوڑ کوشش ہے۔ بھارت نے یہ سبق اسر ائیل سے سیکھا ہے اور اب بھا رت اور اسرائیلی گٹھ جوڑ ایک عالمی حقیقت بن چکا ہے۔ امریکی شہر نیویارک میں کشمیری پنڈتوں اور بھارتی باشندوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی قونصل جنرل سندیپ چکرورتی نے اعتراف کیا ہے کہ نریندر مودی انتظامیہ کشمیر میں ہندو ا ٓباد کاری کو نوآبادیاتی یقینی بنانے کے لیے اسرائیل کی طرز پر قائم کردہ قبضہ بستیوں کی تعمیر کرے گی۔ انہوں نے کہا اگر اسرائیل فلسطینی علاقوں میں اپنے لوگوں کو ا ٓباد کرسکتا ہے تو ہم بھی اس کی پیروی کرتے ہوئے کشمیر میں ہندوئوں کو بساسکتے ہیں۔ وا ہ ،مسٹر چکر ورتی ، وا ہ! ا ٓ پ کے اس اعتراف سے حریت قیادت کے موقف کی تصدیق ہوگئی ہے کہ بھارتی مقبوضہ علاقے میں ا ٓبادی کا تناسب بگاڑنے اور کشمیریوں کو اپنے وطن میں بے گھر کرنے کے لیے اسرائیلی ہتھکنڈے ا ٓزمارہا ہے۔ بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے ایک رہنما رام مادھو نے کہا کہ ان کی ہندو قوم پرست جماعت تقریباً 2 سے 3 لاکھ ہندوئوں کو وادی کشمیر میں لانے کے لیے پُرعزم ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے 5؍ اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے تناظر میں مقبوضہ کشمیر میں نافذ پابندیوں، ذرائع ابلاغ اور ٹیلی فون سروسز کی معطلی کے خلاف دائر کی جانے والی عرض داشتوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

بھارتی حکومت عالمی ذرائع ابلاغ اور پروپیگنڈے کے محاذ پر بھی سرگرم ہے۔ اس کے زیر اثر اہل قلم، مورخ، سیاسی مبصرین کشمیر کی پیداشدہ صورتحال کی نئی تاریخ لکھنے میں مصروف ہیں۔ نئے گمراہ کن پیراڈائمز کے تحت کشمیر کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تنازعہ کشمیر پر جاری شدہ ایک رپورٹ میں کشمیری حریت پسندوں کے سیاسی، سماجی اور تزویراتی، معاشی اور فکری ارتقا کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ کے مرتبین نے کشمیر کی ڈیموگرافک ترتیب اور ازسرنو ا ٓباد کاری کے حوالے سے بھی ممکنہ صورت گری پر روشنی ڈالی ہے۔ ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو کشمیر ان دنوں بھارتی دہشت گردی، تزویراتی، طالع ا ٓزمائی اور جنگجویانہ مہم جوئی سے عبارت ہے وہ خوبصورت جنت نظیر وادی عہد قدیم میں خطے کی پُرامن انسانی اکائی شمار ہوتی تھی۔ اسے علمی، فکری اور سماجی و معاشرتی ترقی اور پُرامن بقائے باہمی کے حوالہ سے منفرد حیثیت حاصل تھی۔ یہ اس رپورٹ کا ابتدائیہ تھا جس میں کہا گیا کہ کشمیری عوام مذہبی کثرت پسندی، رواداری اور امن پسندی کے لحاظ سے اہم سیاسی علاقہ تھا۔ دیگر حوالوں سے بھی کشمیر کے سیاسی، لسانی، معاشی اور انسانی معاملات کا ایک غیرجانبدار تجزیہ پیش کیا گیا تھا۔ ایسے حقائق بھی تحقیق سے ثابت کیے گئے کہ کشمیری عوام کو بیسوی صدی سے اکیسویں صدی کے ا ٓغاز تک استعماری اور علاقائی طاقتوں کی باہمی سیاسی و معاشی کشمکش سے شدید نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی جبکہ بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جمانے کے بعد نوآبادیاتی طرز حکمرانی سے کشمیری عوام کی سیاسی اور سماجی زندگی کو زہر ا ٓلود کرنے کی ظالمانہ سازش شروع کی اور سیاسی ملی بھگت، وحشیانہ معاشی گٹھ جوڑ سے کشمیری حریت پسندوں کی جدوجہد ا ٓزادی کو کچلنے کے لیے مرکزی حکومت کو کشمیر کی داخلی خودمختاری کو تاراج کرنے کے لیے گرین سنگل دے دیا۔ ایک سیاسی مبصر کے مطابق مودی سرکار نے ا ٓرٹیکل 370 اور 35-A کے ذریعے ظلم و بربریت کی انتہا کردی۔ تا دمِ تحر یر اس کا لم کے، کشمیر میں جا ری بھا ر تی فوجی محاصرے کو 120سے ز یا دہ روز گز ر چکے ہیں۔ بھارت کے سنجیدہ اور فہمیدہ سیاسی رہنما، کانگریسی دانشور، بی جے پی مخالف قلم کار سمیت بے شمار فنکار، ادیب، سماجی شخصیات، غیر ملکی سفارت کار اور بھارت کے سابق معتبر ججز اور دفاعی مبصر مودی بربریت کو بھارت کے جمہوری اور سیکولر موقف اور پالیسیوں سے متصادم قرار دے رہے ہیں۔ بی جے پی حکومت نے کشمیر کو انسانیت کا قید خانہ بنادیا ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین کے پارلیمنٹرینز اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے لے کر انسانی اور شہری ا ٓزادیوں کی علمبردار سینکڑوں، مقامی، علاقائی اور عالمی فورمز پر بھارتی سیکورٹی فورسز کی غیر انسانی کارروائیوں کے خلاف نہ صرف احتجاج کیا بلکہ عالمی ضمیر سے سوال کیا کہ انسانی حقوق کی لغت میں کیا کشمیر کے معانی بدل گئے ہیں؟ کیا انسانی ضمیر میں کشمیریوں کے لیے کوئی خلش باقی نہیں رہی؟یہا ں یہ ذ،کر دلچسپی سے خا لی نہیں ہو گا کہ گزشتہ دنوں سابق بھارتی وزیرخارجہ یشونت سنہا نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا تاکہ اپنی ا ٓنکھوں سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا مشاہدہ کرسکیں۔ لیکن بھارتی سیکورٹی فورسز نے انہیں کسی سے ملنے نہیں دیاگیا۔ ان کا دورہ 22 نومبر سے 26 نومبر تک جاری رہا، تاہم وہ محصور رہے۔ ان سے ’’گریٹر کشمیر‘‘ ڈیلی کے مدیر محمود الرشید نے ایک تفصیلی انٹرویو کیا۔ اس گفتگو میں یشونت سنہا نے کہا کہ بھارت کشمیر کی تقسیم سے خنجر سے کشمیر کے قلب کو گھائل کر رہا ہے۔ اسے کشمیر کی قانونی حیثیت بدلنے کا کوئی حق نہیں، اس ناروا اقدام کو بدلنا ہوگا۔ یہ یہ صورتحال دیر تک جاری نہیں رہے گی۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مودی حکومت کشمیر کے جغرافیہ کو بدلنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ادھر پلوامہ کے علاقے دربگام میںشہید ہونے والے دو کشمیری نوجوانوں کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔ شہدی نوجوانوں کو ازادی اور پاکستان کے حق میں بھارت کے خلاف فلک شگاف نعروں کی گونج میں سپرد خاک کیا گیا۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے ’’انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ‘‘ نے جھوٹے مقدمے میں نظربند معروف کشمیری تاجر ظہور احمد وٹالی کی ضلع بڈگام میں چھ کروڑ روپے مالیت کی اراضی قبضے میں لے لی۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق سائبر سیکورٹی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان اور بھارت میں خطرناک سائبر وار شدت اختیار کرگئی ہے۔مگر رونا تو اس با ت کا ہے کہ حقائق کے ا ٓئینہ میں بھارت کو دیکھنے کی عادت نہیں۔ اس وقت عالمی ضمیر کے لیے کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کی دیوانگی بھارت کے اعصاب پر سوار ہے۔ اس کا حوالہ ’’فارن پالیسی‘‘ اور ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کی حالیہ تفصیلی رپورٹوں میں بھی موجود ہے۔ لہٰذا لازم ہے کہ عالمی برادری کشمیریوں کو غیر انسانی محا صبے سے نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔


ای پیپر