علی بابا
01 دسمبر 2019 2019-12-01

نجانے کیوں ہمیں ان وزراء کرام کی یاداشت پے رشک آتا ہے جو ریاست کے ان اہم ایشوز پر اظہار خیال کرتے ہوئے شکوہ کناں ہوتے ہیں کہ اگر ستر سال قبل ان معاملات پرکوئی قانون سازی کی ہوتی تو ان کی سرکار کو یہ دن دیکھنا نہ پڑتے،مگر جب ہماری گستاخانہ نگاہ ان کے اسماء گرامی پے ٹھرتی ہے تو نجانے کیوں ہمارا پنجابی والا’’ ہاسا ‘‘نکل جاتا ہے ہم تاریخ کے اوراق الٹ پلٹ کرتے ہیں تو انکی غالب اکثریت ہمیں ہر دور میں یہی منصب سنبھالے دکھائی دیتی ہے۔ ان میں سے وہ بھی ہیں جنہیں جمہوری عہد میں’’ قومی خدمت‘‘ انجام دینے کا شرف حاصل ہوا، وہ بھی آج کی سرکار کا حصہ ہیں جو باوردی دور میں سرکار کا دم بھرتے رہے،وہ پیارے بھی شامل ہیںجو اس منصب تک پہنچنے کے لیے اپنے ان سیاسی راہنمائوں کو داغ مفارقت دے گئے جو ان کی انگلی پکڑ کر کوچہ سیاست میں لائے تھے۔ ہم ہر گز ان اعدادو شمار پے یقین کرنے والے نہ تھے، اگر سوشل میڈیا ہماری معاونت نہ کرتا اس پے فراہم کردہ فہرست دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ان میں پارٹی بدلنے کی بدرجہ اتم خصوصیات پائی جاتی ہیں، اگر انکی شمولیت کو دوسری سیاسی پارٹی میںشمار کیا جائے تو پیچھے صرف پارٹی سربراہ ہی بچتے ہیں، اس پے ہمیں وہ لطیفہ یاد آرہا ہے کہ کسی شخص نے عوامی خدمت کے لیے لائبریری قائم کی جس سے اک قاری روزانہ کی بنیاد پر کتاب چوری کرتے پھر وہ وقت بھی آن پہنچا جب صرف اس کا بورڈ بچ رہا اک روز اس کے مالک نے ہمت کر کے وہ بورڈ بھی موصوف کے گھر پہنچا کر یہ پیغام دیا کہ اسے اپنے گھر ہی پے آویزاں کر لیں، ہماری سیاسی جماعتوں کا حال بھی اس سے مختلف نہیں، ہر چند پارٹی بدلنے والے اپنی اس ’’واردات‘‘ کو قومی مفاد کے کھاتے میں ڈالتے ہیں پھر وہ مرحلہ بھی آن پہنچتا ہے جب مفادات قومی سے حرکت کرتے کرتے’’ ذاتی‘‘ کے دائرے میں داخل ہو جاتے ہیں،معصومین کی سادگی دیکھئے کہ وہ اس ’’تبدیلی‘‘ کو سرے سے محسوس ہی نہیں کرتے، ان کا دوسرا وصف یہ بھی ہے کہ جمہوریت پے دل وجان سے یقین رکھتے ہیں لیکن اس کا مرکز اپنی پارٹی نہیں ہوتا بلکہ خاندان ہے انکی اولین خواہش اور کاوش ہوتی ہے کہ خاندان کا ہر فرد کسی نہ کسی سیاسی مگر قومی جماعت میں قوم کے وسیع تر مفاد میں شریک ہو کر مسند اقتدار تک پہنچنے کی حتی المقدور کامیابی حاصل کرے، اس میں صنف کی بھی کوئی قید نہیں ہوتی یوں اقتدار کسی نہ کسی شکل میں گھر ہی رہتا ہے، ان میں سے کوئی اپنی کم فہمی یا خودی کی بدولت وزارت سے محروم رہ بھی جائیں تو مشیران سرکار میں تو حصہ ضرور مل ہی جاتا ہے بس’’ گٹس‘‘ کا ہونا لازم ہے۔ان کے اسی ’’جمہوری‘ رویہ‘نے ان کے لئے ہمیشہ اقتدار کی راہ ہموار کی ہے۔

ان کی بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ یہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری صرف اس وقت تک ادا کرتے ہیں جب تلک’’ صاحب اقتدار‘‘ برا جمان رہتا ہے اس کی رخصتی کے ساتھ ہی ان کے رویہ میں بھی جھول آجاتا ہے، دھرتی پے سب سے عزیز شخص میں پھر سو بشری کمزوریاں انھیں نظر آنے لگتی ہیں، نئی سرکار کی راہ میں پھر یہ آنکھیں فرش راہ کیے ہوتے ہیں انکی ’’جمہوریت ‘‘اب نئی کروٹ لے رہی ہوتی ہے فی زمانہ اس اشرافیہ کو ’’ الیکٹیبل‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔

ہمیں تو اعتراف ہے کہ ہماری ریاضی کی وہی صورت حال ہے جو قوم کی بدیشی زبان کی ہے لیکن ان کا حساب کتاب اتنا کمزور ہو گا یہ ہم نے سوچا بھی نہ تھا ،جب اس نظام کی خامیوں کا تذکرہ ستر سال کی گردان سے کیا جاتا ہے تو ہماری سیٹی گم ہو جاتی ہے ہمیں اس سے مفر نہیں کہ ارض پاک کو قائم ہوئے اس سے زائد عرصہ بیت چکا ہے لیکن اس مدت کو کیوں جمہوری دور میں شامل کیا جاتا ہے جس میں وہ خود پابند سلاسل رہی ہے،افسر شاہی سے لے کر’’ عزیزہم وطنوں‘‘ تک نے یہاں اقتدار کو بھی انجوائے کیا ہے، ان کے نامہ عمال کو سیاست دانوں کے کھاتے میں ڈالنا کون سا انصاف ہے؟ اگر موصوف اپنی مدت وزارت کو اس شامل کرتے ہیں تو قوم کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے، لیکن اگر بغیر چھتری کے اقتدار کی بات ہے تو یہ مدت کل ملا کے تیس سال سے زیادہ نہیں ہے ہم سمجھتے ہیں کہ غلط اعداو شمار پیش کر کے قوم کا پنجابی والا’’تراہ‘‘ نکالا جا رہاہے شایداسی بابت مشتاق یوسفی مرحوم کو جھوٹ کی قسمیں بتانے کی حاجت محسوس ہوئی کہ ایک ہوتا ہے جھوٹ دوسرا سفید جھوٹ اور تیسرا اعدادو شمار، ہم آخرالذکر ہی کے ڈسے ہوئے ہیں ہر سرکار اس کا سہارا لے کر قوم کو مطمئن کرتی اور امید دلاتی ہے جب کہ اپوزیشن انکو جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر مایوس کرتی ہے، وہی وزراء کرام جو کل تلک اقتدر کے ا س طرف کھڑے ہو کر سرکار پر برس رہے ہوتے ہیں تو آج اس کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں، سادہ لوح عوام کو اس موقع پے اقبال بڑے یاد آتے ہیں کہ کدھر جائیں تیرے سادہ دل بندے کہ سلطانی بھی عیاری ہے درویشی بھی۔

زمینی حقائق یہ ہیں کہ جمہوری عہد میں اگر انکل سام کی ہدایت یافتہ پالیسیوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ مدت صرف اتنی بچتی ہے جو بیرونی احکامات اور ایجنڈہ سے پاک تھی، اس مناسبت سے ہم اپنے وزراء محترم کی راہنمائی کے لئے عرض کئے دیتے ہیں کہ مایوس ہونے کی قطعی ضرورت نہیں، تاج برطانیہ جس کی ہم کالونی رہے اگر اس ریاست میں جمہوریت کو پھلنے پھولنے اور پختہ ہونے میں اک صدی سے زائد مدت درکا ر تھی ہم تو اس کے سامنے نومولودٹھرے البتہ ہماری یہ کمزوری ضرور ہے کہ ہم نے سامراجی قوانین کو تو سینے سے لگائے رکھا ہے لیکن جمہوری سنہری اصولوں کی نقالی کرنے کی دانستہ کاوش نہیں کی۔

ہمارا گمان ہے اگر تاج برطانیہ کے پاس ہماری طرح کے وزرائے کرام ہوتے تو آج اسکا جمہوری ڈنکا یوں نہ دنیا میں بج رہا ہوتا اس نے تو تمام افسر شاہی کی چھٹی کروادی تھی جو برصغیر کی مملکت خدادا میں وائسرے تک کے فرائض انجام دیتے رہے کیوں کہ انکا مائنڈ سیٹ صرف ’’غلاموں ‘‘کو کنٹرول کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔تاہم ہمارے وزراء کرام خوش قسمت ٹھہرے جنہیں صرف اپنے وطن ہی میں سلیف گورنمنٹ کی بدولت پارٹیاں بدلنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے، دوسرے ممالک میں اراکین پارلیمنٹ کو یہ ’’سعادت‘‘ کہاں نصیب ہوتی ہے یہ ہماری جمہوریت ہی کا خاصہ ہے یوں اقتدار چند خاندانوں میں گردش کرتا رہتا ہے، عوام کو بھی ان تک رسائی کرنا سہل ہوتی ہے ،اگر یہ رسم ہی سرے ہی سے ختم ہو جائے تو سوچئے ان ’’بیچاروں‘‘ مشکلات میں کس قدر اضافہ ہو جائے جنہیں تاحال ستر سال میں اصلاحات نہ کرنے کا غم کھائے جا رہا ہے البتہ انکی دانشمندی یہ ہے کہ سب مل ایک’’ علی بابا ‘‘ تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو انھیں کہیں نہ کہیں سے دستیاب ہو ہی جاتا ہے پھراسی ہی کے گن گاتے ہیں یہی ان کی جمہوریت ہے۔


ای پیپر