کرپشن،احتساب، ٹماٹر اور عدالتیں
01 دسمبر 2019 2019-12-01

پاکستان میں چھوٹی کرپشن کرنا جرم اور بڑی کرپشن کرنا باعث عزت، باعث فخر اور باعث تکریم ہے۔ پاکستان میں کرپشن کرنے کے تین اصول ہیں۔ پہلا اصول یہ ہے کہ چھوٹی کرپشن نہیں کرنی۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ بڑی کرپشن کرنے کے بعد نیب کا 33فیصد حصہ علیحدہ کر لیں۔ 20فیصد حصہ جلسوں، رشوتوں اور غنڈہ گردی کے لیے مقرر کر دیں۔ باقی 45فیصد کسی کاروبار میں لگا دیں۔ تیسرا اصول یہ ہے کہ پیسہ ان کاروباروں میں لگائیں جہاں سے منافع کی شرح پانچ سو فیصد ہو۔مثلاً شوگر انڈسٹری، ٹیکسٹائل، کنسٹرکشن وغیرہ۔ جب آپ پر مشکل وقت آئے تو سب سے پہلے جلسوں کے لیے مختص رقم نکالیں۔ اگر اس سے کام نہ بنے تو رشوتوں کے لیے مختص رقم نکال لیں۔ اگر اس سے بھی بات نہ بنے تو نیب یا مقتدر قوتوں کے ساتھ پلی بار گین کر کے شہزادوں، بادشاہوں اور مہاراجوں جیسی زندگی گزاریں۔اس فارمولے کے تحت آپ پاکستان میں حکومت بھی کر سکتے ہیں، مظلوم بھی ثابت ہو سکتے ہیں اور مقبول عوامی رہنما بن کر ساری زندگی گزار سکتے ہیں۔

اب بات کر لیتے ہیں خان صاحب کے احتساب کی۔ خان صاحب نے تقریر میں ہمیشہ کی طرح یہ ثابت کرنے کی کوشش ہے کہ صرف وہ ٹھیک ہیں اور باقی پورا پاکستان کرپٹ اور مفاد پرست ہے۔ اسی لیے پورا پاکستان ان کے گلے پڑ گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے ناراضگی چیئرمین نیب کے بیان سے ظاہر کر دی اور عدالت نے ناراضگی چیف جسٹس کے دو ٹوک بیان سے عیاں کر دی ہے۔ جہاں تک بات رہ گئی عوام کی تو وہ عمران خان کے احتساب کا تمسخر اڑاتی دکھائی دے رہی ہے۔ خان صاحب آپ لاکھ تقاریر کر کے سچے ثابت ہونے کی کوشش کر لیں سچ یہی ہے کہ آپ بھی اسی بوسیدہ نظام کے پروموٹر ہیں۔ آپ خود غلط ہیں اس لئے آپ ہر قیمت پر احتساب کرنے کے نعرے کو عملی شکل نہیں دے پا رہے۔ آپ جانتے ہیں کہ اگر آپ مقتدر قوتوں کے خلاف جائیں گے تو وہ تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کو تیز کر دیں گے۔ اس کیس میں امریکہ، اسرائیل اور ہندوستان سمیت بہت سے ممالک سے رقم تحریک انصاف کے اکاونٹ میں جمع کروانے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جو فیصلہ تاخیری حربوں کی نظر ہو چکا ہے وہ ایک ہفتے میں سنا دیا جائے گا۔ تحریک انصاف بطور جماعت الیکشن کمیشن میں بلیک لسٹ ہو جائے گی۔ تحریک انصاف کے تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز اور سینٹرز نا اہل ہو جائیں گے اور وزیراعظم عمران خان سے سابق وزیراعظم بن جائیں گے۔ دوسروں کی طرح آپ بھی جیل میں ہوں گے اور این آر او مانگ رہے ہوں گے۔

آئیے اب ایک نظر ٹماٹروں کی قیمت اور وزرا کے بیانات پر ڈال لیتے ہیں۔یوسف زئی صاحب فرماتے ہیں کہ ٹماٹر مہنگے ہیں تو دہی کا استعمال کر لیں۔ ٹماٹر خود ہی سستے ہو جائیں گے۔ جناب یہ نایاب فارمولہ ہر پاکستانی شہری کو پتہ ہے۔ آپ یہ بتائیں کہ زخیرہ اندوزوں کے خلاف آپ نے کیا کاروائی کی ہے؟ جو کام آپ کے کرنے والے تھے وہ کیے ہیں؟ اگر مشورے ہی دینے ہیں تو عوام اس معاملے میں خود مختار ہے۔ ان کے پاس اس سے بھی بہتر حل موجود ہیں۔ آپ کی سروس کی ضرورت نہیں ہے۔اس کے علاوہ علی امین گنڈاپور نے فرمایا ہے کہ ٹماٹر مہنگا ہونا پاکستان کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس کا فائدہ بھی پاکستانیوں کو ہو رہا ہے۔ مہنگا ٹماٹر بیچنے سے منافع بھی پاکستانی ہی کما رہے ہیں۔ کوئی باہر سے آ کر تو نہیں کما رہا۔ لہذا ٹماٹر مہنگا ہونے پر شور نہیں مچانا چاہیے۔علی امین گنڈا پور کی اس فہم و فراصت کے سامنے میری عقل و شعور و دانش نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ میں اس قابل بھی نہیں رہا کہ یہ سوال ہی پوچھ لوں کہ گنڈا پور نے یہ بات شہد پی کر کی ہے یا نمکو کھا کر۔

ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی لیکن عوام بھی اپنی زمہ داریوں سے بری الزماں ہونے میں مسرت محسوس کرتی ہے۔ہم بحیثیت قوم موسی کی تلاش میں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی کام نہ کرنا پڑے اور ریاست ہر کام کر کے ہمارے سامنے رکھ دے۔ چند لوگ ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہیں اور اپنی عقل و شعور کے مطابق مسائل کا آسان حل نکال لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بدولت ہی معاشرے ترقی کرتے ہیں۔ میرے ایک دوست سابق مجسٹریٹ ہیں۔ ٹماٹر مہنگے ہوئے تو انھوں نے گھر کی چھت پر کچھ گملوں میں ٹماٹر کی پنیری لگا لی۔ چند دن بعد ٹماٹر تیار ہو گیا ہے۔ انھوں نے مجھے یہ تصویر بھیجی ہے۔ پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ ریاست پر تنقید بھی کریں اور اسے سیدھے راستے پر چلنے کی تلقین بھی کرتے رہیں لیکن اپنی ضرورت کے مطابق گھر میں ٹماٹر اگا لیں۔حکومت مافیا کی کمر توڑنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ آئیے اب یہ نیک کام اپنے زور بازو سے کرتے ہیں۔

آئیے اب عدالتی فیصلوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جناب اطہر من اللہ نے یہ کہہ کر وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست واپس کر دی ہے کہ عدلیہ کو تنقید سننی اور برداشت کرنی چاہیے جبکہ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب آصف سعید کھوسہ صاحب نے اسی تنقید پر وزیراعظم کو کھری کھری سنا دی اور آرمی چیف کی ایکسٹنشن کی معطلی کانوٹیفیکشن بھی مبینہ طور پر اسی تنقید کا جواب قرار دیا گیا۔ ایک ہی عمل کے دو مختلف ردعمل ہیں۔ کیا عدالتیں کنفیوز ہیں؟ کس عدالت کی بات مانی جائے اور کسے نظرانداز کر دیا جائے؟ اس طرح کے کنفیوزڈ رد عمل کے احتساب کا بھی کوئی نظام موجود ہونا چاہیے۔ گو کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت کی جا سکتی ہے لیکن ماضی کے فیصلے دیکھتے ہوئے اس سے کوئی امید لگانا عبث ہے۔

سن 2013 میں طاہر القادری صاحب کے اسلام آباد دھرنے کی دوران چیف جسٹس افتخار چوہدری نے وزیراعظم پاکستان جناب راجہ پرویز اشرف کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ جسے بعد میں واپس لینا پڑا۔سن 2018 میں ثاقب نثار صاحب نے پرویز مشرف کو واپس لانے کے لیے بھاگ دوڑ شروع کر دی۔ جس کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی تھی۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب آصف سعید کھوسہ صاحب نے اپنی ریٹائرمنٹ سے چند دن پہلے آرمی چیف کی ایکسٹنشن کا نوٹیفیکیشن معطل کیا اور پھر بحال کر دیا۔ میری ذاتی رائے ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے عدلیہ کا کردار سیایسی ہو جاتا ہے۔ ان اقدامات کا کوئی فائدہ نہیں صرف نقصان ہی دیکھنے میں آیا ہے۔ مثلاً فیصلے کے ساتھ ہی سٹاک مارکیٹ بری طرح نیچے گر گئی تھی۔ اب چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب آصف سعید کھوسہ صاحب نے جزل قمر جاوید باجوہ صاحب کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کر دی ہے۔ چھ ماہ میں قانون سازی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ چیف جسٹس صاحب جاتے ہوئے آرمی چیف کو مزید مضبوط کر گئے ہیں۔ اب حکومت قانون سازی کرے گی۔ اپنی مرضی سے آرمی ایکٹ اور آئین میں تبدیلیاں کرے گی اور وزیراعظم صاحب جتنے وقت کے لیے چاہیں آرمی چیف کو ایکسٹنشن دے سکیں گے۔


ای پیپر