طلباء یکجہتی مارچ
01 دسمبر 2019 2019-12-01

29 نومبر کو ملک بھر کے تمام شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں نوجوان طلباء طالبات سڑکوں پر نکلے۔ مختلف شہروں کی اہم سرکوں، چوراہوں اور مقامات پر طالب علموں نے اپنی نئی اٹھان او رانگڑائی کا واضح اظہار کیا۔ انقلابی جذبات، امنگوں اور جرأت سے سرشار ہزاروں طلباء جھومتے گاتے سڑکوں پر نکلے اور اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔ لاہور کے مال روڈ پر ہزاروں طلباء و طالبات نے مارچ کیا۔ نئی امنگ، جذبے اور توانائی سے مزین ہزاروں طالب علموں کی کئی سالوں کے بعد ہونے والی یہ سب سے بڑی سیاسی سرگرمی تھی۔ 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں یہ مناظر عام تھے۔ اس وقت طلباء تحریک بہت مضبوط تھی۔ یہ طلباء ، محنت کشوں اور کسانوں کی تحریکوں کے عروج کے دن تھے۔ انقلاب کی خوشبو ملک کی فضاؤں میں رچ بس گئی تھی۔ پورا ملک انقلاب اور سماجی تبدیلی کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ پاکستان کے محنت کش عوام نے اپنی انقلابی جرأت، صلاحیت اور امنگوں کا کھل کر اظہار کیا۔ پسے ہوئے مظلوم طبقات نے درمیانے طبقے کی انقلابی پرتوں اور دانشوروں کے ساتھ مل کر اس ملک کے طاقتوروں کو للکارا۔ یہ 1968-69ء کے دن تھے۔ جب کھیت کھلیان، فیکٹریاں، گلی اور محلے جاگ اٹھے تھے۔ سر جھکائے ظلم و ستم، استحصال اور نا انصافی برداشت کرنے والے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے طلم و جبر، نا انصافی اور استحصال پر مبنی نظام کو ماننے سے انکار کر دیا تھا اور وہ مساوات ، برابری اور استحصال سے پاک سماج کے قیام کے لیے جدوجہد کے میدان میں اترے تھے۔ یہ پاکستانی سیاسی تاریخ کے وہ سنہری دن تھے جب کمزور طاقتور بن گئے تھے اور طاقتور کمزور ، محنت کشوں، نوجوانوں، کسانوں، خواتین، دانشوروں، ادیبوں، شاعروں اور طلباء نے اپنے انقلابی جذبوں، خیالات اور خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی خاطر عملی جدوجہد کی تھی۔ ایک حقیقی عوامی انقلابی تحریک نے جنم لیا تھا۔ پاکستان کے محنت کش عوامی سیاسی افق پر ابھرے تھے۔ عوام کی مداخلت نے سیاسی افق تبدیل کر دیا تھا۔ نومبر 1968ء میں اس انقلابی ابھار اور تحریک کا آغاز بھی طلباء نے کیا تھا جسے محنت کش طبقے نے نقطہ عروج پر پہنچایا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے طلباء میں ایک نیا ابھار جنم لے رہا ہے۔ طلباء یکجہتی مارچ اسی ابھار اور اٹھان کا اظہار ہے۔ یہ طالب علم طلباء یونین کی بحالی، فیسوں میں کمی، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آمرانہ اقدامات اور خوف کی فضاء کے خاتمے، تعلیم کے بجٹ میں اضافے اور طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے کے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر نکلے۔

یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں طلباء یونینوں پر پابندی عائد ہے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں حکمرانوں اور انتظامیہ کی تعلیم دشمن پالیسیوں کے خلاف بات کرنا اور احتجاج کرنا جرم بنا دیا گیا ہے۔ سیاسی سرگرمی کو ایک باقاعدہ جرم بنا دیا گیا ہے۔ یونیورسٹیوں میں عملاً مارشل لاء نافذ ہے۔ یونیورسٹیاں جو کہ فکر نو کی آبیاری کی آماجگاہ ہوتی ہیں۔ جہاں نت نئے رجحانات، نظریات اور روایات جنم لیتی ہیں۔ جہاں تنقیدی سوچ اور خیالات پروان چڑھتے ہیں۔ انہیں یونیورسٹیوں میں سوچ و فکر پر پہرے بٹھا دیئے گئے ہیں۔ سوال کرنے، روایتی سوچ اور خیالات سے ہٹ کر سوچنے کو جرم بنا دیا گیا ہے۔ جہاں علم، فکر اور خیالات کے نئے جہان آباد ہوتے ہیں۔ جہاں آزادی فکر، اظہار اور مکالمے کا راج ہوتا ہے وہاں پر روایتی حکمران خیالات اور سرکاری بیانیے کو چیلنج کرنا جرم بن چکا ہے۔ فکر، سوچ اور خیالات کی آزادی حقیقی علم کو جنم دیتی ہے۔ خوف، جبر اور جکڑ بندیوں میں روایتی سوچ اور فکر ہی بنتی ہے۔ سب سے حیرت کی بات یہ ہے کہ 1984ء میں ایک آمر نے طلباء یونینوں پر پابندی لگائی تھی جس کا مقصد کالجز اور یونیورسٹیوں میں سیاسی سرگرمیوں اور اظہار رائے کو دبانا تھا تا کہ طالب علموں کی طاقت کو کمزور کیا جا سکے ۔ اس آمریت کو رخصت ہوئے 3 دہائیاں گزر گئیں مگر طلباء یونینیں بحال نہ ہو سکیں۔ اس دوران صرف ایک مرتبہ 1989ء میں طلباء یونینیں بحال ہوئیں مگر اس کے بعد پھر پابندی عائد ہو گئی۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے طلباء یونینوں کی بحالی کا اعلان کیا تھا مگر اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ اس پابندی کی وجہ تشدد کو قرار دیا گیا تھا مگر اس پابندی کے بعد تشدد میں اضافہ ہوا۔ اس تشدد کو بہانہ بنا کر ہر طرح کی سیاسی سرگرمیوں اور بحث و مباحثے کو بند کر دیا گیا۔ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب تک طلباء یونینیں موجود تھیں تو نظریاتی بحث و مباحثے اور مکالمے کا کلچر موجود تھا۔ طلباء یونینیں جمہوریت اور سیاست سکھانے کی بہترین درس گاہیں تھیں۔ طلباء سیاست دراصل سیاسی نرسری کا کام کرتی ہیں مگر خود کو جمہوریت کی چیمپئن کہنے والی سیاسی جماعتیں بھی ان یونینوں کو بحال کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتیں۔ غیر جمہوری قوتیں تو کبھی نہیں چاہتیں کہ ملک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوں۔ جمہوری قدریں اور روایات پروان چڑھیں۔ جمہوری ادارے مضبوط ہوں مگر سیاسی جماعتوں کو تو مختلف سوچ اور انداز اپنانا چاہیے۔ حکمران طبقات اور مقتدر قوتوں کا طلباء یونینوں کی طرف رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ طلباء تحریک اور سیاست سے خوفزدہ ہیں اور ان کا یہ خوف بے جا بھی نہیں ہے۔ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کئی ممالک میں آمریتوں کے خاتمے میں طلباء نے اہم کردار ادا کیا۔ فرانس سے امریکہ اور الجزائر سے انڈونیشیا تک مختلف انقلابی تحریکوں کا آغاز طلباء نے ہی کیا۔ طلباء دراصل سماج میں موجود بے چینی، اضطراب اور غلبے کا سب سے پہلے اظہار کرتے ہیں جس کے بعد دانشور ، محنت کش، صحافی، کسان اور دیگر پر تین شامل ہو کر اسے وسیع عوامی تھریک کی شکل دیتے ہیں۔ پاکستان کے طلباء میں اس وقت بے چینی، غصہ اور اضطراب بڑھ رہا ہے۔ تعلیم کو بہت مہنگا کر دیا گیا ہے۔ فیسوں میں اضافہ معمول بن گیا ہے۔ غریب اور محنت کش خاندانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند ہو رہے ہیں۔ ملازمتوں کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بیروزگاری بڑھ رہی ہے مگر حکمران ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے محض جبر، خوف و ہراس اور انتظامی طور پر طلباء کو متحرک ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کوششیں زیادہ عرصہ کامیاب نہیں ہوں گی۔ طلباء میں ایک نئی اٹھان اور ابھار جنم لے رہا ہے۔ یہ ابھی شروعات ہیں۔ ایک نئی تحریک کی شروعات۔


ای پیپر