لہو لہو کشمیر
01 دسمبر 2019 2019-12-01

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کو نہیں نایاب ہیں ہم

آج مجاہد اسلام جنرل حمیدگلؒ کی شدت سے یادآرہی ہے کشمیر کے بارے میں ان کا موقف واضح تھا جنرل صاحب جب تک آئی ایس آئی کے سربراہ رہے یقین کریں کشمیرمیں مجاہدین بھارتی فوج کوتگنی کاناچ نچاتے رہے یہی خبریں سننے کوملتی تھیں کہ آج مجاہدین نے ایک میجر سمیت پانچ بھارتی فوجیوں کوجہنم رسیدکردیا جنرل صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد مسئلہ کشمیر ہمارے حکمرانوں کے لئے سیاسی نعرہ بن کررہ گیا کشمیر کے نام پر سابق حکمرانوں نے کشمیر کو ووٹ اسکورکے طورپراستعمال کیا جنرل صاحب ایک بات اکثرکہا کرتے تھے پالیسی میں تسلسل ہونا چاہئے لیکن بدقسمتی سے آج تک ہماری کسی بھی پالیسی میں تسلسل نہیں رہا جس کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے ۔جب جنرل صاحب ریٹائرڈہوئے توبھارت کے مشہورنیوزچینل دُوردرشن میں بریکنگ نیوزکافی دنوں تک چلتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ جنرل صاحب کے درجات بلند فرمائے اوران کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین

یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت

جنت کسی کافر کوملی ہے نہ ملے گی

ٓٓٓٓ یہ جولائی سن 2003 ء کی بات ہے کہ ہم چاردوست سیروسیاحت کے لئے گلگت اوراسکردوگئے اـن دنوں وہاں مذہبی فسادات عروج پرتھے ہمارے قیام کے دوران دولوگ قتل ہوگئے ہم جس ہوٹل میں مقیم تھے وہاں کے ویٹرنے ہمیں خبردارکرتے ہوئے کہا صاحب جی باہر کرفیو لگ گیا ہے پلیز آپ لوگ باہرنکلنے سے پرہیز کیجئے گا ہم گیارہ گھنٹے کرفیو کی زدمیں رہے وہ گیارہ گھنٹے ہمارے لئے قیامت سے کم نہیں تھے اورآج جب مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کوکرفیومیں گھرے 120دن سے زائد ہوگئے ہیں بھارت کی درندہ صفت فوجیں اتنی بڑی تعداد میںنہتے کشمیریوں کی نسل کشی اورمظلوم کشمیری لڑکیوں اوربچیوں کوفروخت کرنے پر مامورہیں کہ اس کی مثال دُنیا میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی،حیوانوں کا شکارکرنے والی زہریلی ترین پیلٹ گن سے معصوم کشمیری بچوں کوشہید کیا جارہا ہے،اب تک بھارتی فوج نے بارہ ہزارسے زائد کشمیری نوجوانوں کو گھروں سے اُٹھا کرجیلوں میں بندکررکھا ہے ، ہرطرف ظلم وستم کابازارگرم ہے قربان جائیے کشمیرکے نوجوانوں کے حوصلوں پر جو سب کچھ برداشت کررہے ہیں ان کے حوصلے بلند اورعزم مصمم ہے ،کشمیری نوجوانوں میں برہان وانی کی روح سرایت کرگئی ہے،آزادی کے متوالے بھارتی مظالم کا بھرپور مقابلہ کررہے ہیں …؎

ظلم پھرظلم ہے بڑھتا ہے تومٹ جاتا ہے

خون پھرخون ہے ٹپکے گاتوجم جائے گا

عالمی مسلم حکمران بھارت کے کشمیریوں پر ظلم وستم پر مکمل طورپرخاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ، عالمی مسلم برادری بے حسی کی انتہا کوپہنچ چکی ہے ،اس صورت حال پرجتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے…؎

یوںتوسیّدبھی ہو،مرزابھی ہو،افغان بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو بتائوتومسلمان بھی ہو؟

بھارتی فوج کے ظلم وستم اورانسانیت سوزبربریت پردل خون کے آنسوروتا ہے ،سرگودھا سے میرے ایک احساس پسند دوست محترم قاری امجدصاحب ہر ہفتے فون کرکے پوچھتے ہیں رانا بھائی کشمیرکے مسلمانوں پرکرفیوکب ختم ہوگا؟ہمارے مسلم الحاج حکمران کشمیریوں کے بارے میں کب آواز بلندکریں گے؟قاری صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ کے حبیب حضرت محمدﷺ کا فرمان ہے مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اورمسلمان ایک جسم کی مانند ہے جس کا ایک عضومیں دردہوتوپوراجسم درد ہونے لگتا ہے۔‘‘ہمارے احساس پسندحکمرانوں کو آخر کیا ہوگیاہے کہ ایک دوسرے کی مددکرنے کی بجائے آنکھیں بند کر کے گہری نیند سورہے ہیں…؎

وائے ناکامی متاع کاررواںجاتا رہا

کاررواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

آر ایس ایس جیسی مسلم کش تنظیم کی کوک سے جنم لینے والی بی جے پی کا بس نہیں چل رہا ورنہ یہ ہندوستان کے مسلمانوں اورمسلم کشمیری کا وجودہی ختم کرڈالے،اسی تنظیم نے آج کشمیر میں ہرطرف قیامت صغریٰ کامنظر برپا کررکھا ہے، آج کشمیرمیں ایک جنازہ اٹھانے کے لئے درجنوں جنازے اٹھانا پڑرہے ہیں کشمیری اپنے شہداء کوگھروں میں دفنانے پرمجبورہیں۔ …؎

سنا ہے بہت سستا ہے خون وہاں کا

اِک بستی ہے جسے لوگ کشمیر کہتے ہیں

بانی پاکستان قائداعظم ؒ نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیر کے بارے میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح نے فرما یا تھاکشمیر ہمارا ہے اور قدرت نے اسے ہر طرح سے پاکستان کا جزو بنایا ہے یہ پاکستان کا ہو کر رہے گا باقی بات رہ گئی ِاقوام متحدہ کی تو یہ ادارہ جن کے تحفظ کے لیے بنا تھاان کے تحفظ کے لیے اپنی پوری ایماندار ی اور دیانت داری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے،چین نے 1962ء کی جنگ میں بھارت کے دانت کھٹے کرتے ہوئے پاکستان کومخلصانہ اپیل کی تھی کہ تم کشمیر پر قبضہ کرلو بہت سنہری موقعہ ہے شائداس کے بعد پھر یہ موقعہ دوبارہ نہ ملے، ہم ہر طرح سے تمہارے ساتھ ہیںلیکن اس وقت کی حکومت نے امریکہ کی باتوں میں آکر گولڈن چانس گنوایادیا اور دوبارہ اس گولڈن چانس کوحاصل کرنے کے لیے تین جنگیں کرڈالیں جس سے سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہ ہوسکا،اب کیا پچھتائے ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت والا محاورہ وطن عزیز کی قسمت میں درج ہوگیااب وزیراعظم عمران خان نے کشمیرکے ایشوکو عالمی سطح پراجاگرکیا ہے اب ہمیں اس پالیسی کو تسلسل دینے کی ضرورت ہے اس سے ’’ کشمیر بنے گاپاکستان‘‘کا خواب بہت جلد پوراہوجائے گا۔انشاء اللہ


ای پیپر