01 دسمبر 2019 2019-12-01

میرے لئے طبلے اور دف کی تھاپ پرلال رنگ کے جھنڈے اٹھائے ’ جب لال لال لہرائے گا تب ہوش ٹھکانے آئے گا‘ کے نعرے لگاتے ہوئے لوگوں کا بڑا جلوس خوش کن بھی تھااور حیران کن بھی، وہ اس لئے کہ میں نے نظریاتی اختلاف رائے کو اپنی سیاسی اور معاشرتی زندگی سے عنقا ہوتے ہوئے دیکھا ہے، اب اختلاف صرف اقتدار کے ہونے اور نہ ہونے کا ہے کسی نظرئیے کا نہیں، جو سیاسی جماعت اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے سلیکٹ کر لی جاتی ہے وہ محب وطن بن جاتی ہے اور جسے دھاندلی کر کے ہروا دیا جاتا ہے وہ خودبخود غدار بن جاتے ہیں۔ میں جس شہر ، جس صوبے میں رہتا ہوں وہاں اب بایاں بازو موجود نہیں ، یہاں مقبول دونوں بڑی جماعتیں مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف دائیں بازو کی کہلا سکتی ہیں۔ یہ سمجھا جا رہا تھا کہ گوالمنڈی کے نواز شریف کی نسبت آکسفورڈ کے پڑھے ہوئے عمران خان کی تحریک انصاف لبرل ہو گی مگروہ بہت سارے معاملات میں نواز لیگ سے بھی دوہاتھ آگے ہے، ہاں، ایک پیپلزپارٹی کو بائیں بازو کی نمائندہ سمجھا جاتا تھا مگر اب پیپلزپارٹی کہاں رہی، اس کے ووٹ بہت سارے حلقوں میں تحریک لبیک کے ایک چوتھائی بھی نہیں رہے گویا ہمارے معاشرے میں ابھی تک دائیں بازو کی معتدل جماعتوں کے ساتھ ساتھ اسی بازو کی انتہائی جماعتوں کی گنجائش بھی موجود ہے۔

اب آپ کسی عام نوجوان سے پوچھیں کہ چی گویرا کون تھا تو حرام ہے کسی کو علم ہو۔مجھے یاد ہے کہ جب ضیاءالحق کے دور میں اوراس کے بعد بائیں بازو کی واحد مقبول جماعت پیپلزپارٹی کو عوام میں ڈ س کارڈ کرنے کے لئے کیا کیا حربے اختیار کئے گئے۔ محترمہ نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی ایسی تصویریں پیش کی جاتی رہیں جن میں وہ مغربی لباس میں تھیں اور ان کے ہاتھوں میں شراب کے گلاس ہوتے تھے اور ہمارے مومن حکمران اس پر ہم سے توبہ توبہ کرواتے تھے۔ نواز شریف، پنجاب میں اینٹی بھٹو ہی نہیں بلکہ اینٹی لیفٹ تحریک کے قائد کے طور پر بھی ابھرے تھے حالانکہ گورنمنٹ کالج میں وہ خود بھٹو کے فین ہوا کرتے تھے۔ حمید گل نے انہیں جماعت اسلامی کا تحفہ بھی پیش کیا تھا اور گایا جاتا تھا ،’ بی بی جی کھیہڑا جان دیو، ہُن نویں قیادت آن دیو، جیہڑا غنڈہ اے مشٹنڈا اے، اوہدے ہتھ ترنگا جھنڈا اے‘ کبھی آپ نے سوچا کہ ترنگا کون سا جھنڈا کہلاتا ہے اور ہمیں کس خوبصورتی سے قائل کیا گیا کہ پیپلزپارٹی غدار ہے اور پھر وہ وقت آگیا کہ حب الوطنی کی علامت بن کے ابھارے جانے والے نواز شریف بھی غدار قرار پائے۔

میں نے ’ایشیا سبز ہے‘ کے نعرے بہت مرتبہ سنے، مینار پاکستان پر جتنی محفلیں ہوتی ہیں وہ زیادہ تر ( الحمد للہ) دینی ہوتی ہیں اور جب اس مینار پاکستان پر تحریک انصاف ایک انقلابی ایجنڈے کے ساتھ آئی تو اس نے بھی ایاک نعبد و ایاک نستعین جیسی مبارک آیت کو سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کیا اور بعد ازاں ریاست مدینہ کا تصور بھی سیاسی مقاصد کے لئے بھی بیچنے سے گریز نہیں کیا۔ میں نے جناب فرخ مرغوب کی سوشل میڈیا سے اس کا دعوت نامہ پایا جہاںسٹوڈنٹس یونینز کی بحالی اور انتخابات کے مطالبے کے ساتھ ناصر باغ سے ایک ریلی نکالی جا رہی تھی۔ میں نے لاہور میں سوشلسٹوں کے ایسے بہت سارے چھوٹے موٹے مظاہرے دیکھے ہیں، خیال تھا کہ دو، چار درجن لوگ ہوں گے، ہاتھوں میں کچھ لال رنگ کے جھندے اور کچھ پلے کارڈ ہوں گے مگر ناصرباغ کے سامنے ایک بڑااجتما ع تھااوراس کے شرکا کا جوش اور جذبہ اس سے بھی زیادہ شاندار اور متاثر کردینے والا تھا۔ وہ جاگیرداری اور سرمایہ داری کے خلاف جذباتی تھے، کہہ رہے تھے جب لال، لال لہرائے گا تب ہوش ٹھکانے آئے گا ۔ انقلاب اور آزادی کے حق میں نعرے لگ رہے تھے،پوچھا ،کس سے آزادی، جواب ملا ،موجودہ نظام سے، پوچھا ، آپ لوگ مذہب کے مخالف ہیں، جواب ملا، مذہب ذاتی مسئلہ ہے ریاست کا نہیں۔ان کے پاس دلائل تھے کہ طلبا یونینوں کے انتخابات ہونے چاہئیں، وہ کہہ رہے تھے کہ طلبا سیاست پر پابندی نے غیرنظریاتی اور مفاد پرست سیاستدانوں کا ایوانوں پر قبضہ کروا دیا ہے، یہ سیاستدان ہر دور میں لوٹے ہوتے ہیں کیونکہ ان کا نظریہ صرف اقتدار ہوتا ہے۔ میں کیسے انکار کر سکتا ہوں کہ ہماری طلبا سیاست نے واقعی نظرئیے اورجمہور کے وفادار سیاستدان دئیے ہیں مگر میں نے طلبا سیاست کے ایک ایکٹی ویسٹ کے طور پر طلبا تنظیموں کو سیاسی جماعتوں کا آلہ کار بنتے دیکھا ہے، ان کے پاس اسلحے کے انبار دیکھے ہیں، نوجوان رہنماو¿ں کو قتل کرتے اور قتل ہوتے دیکھا ہے۔ انہیں تعلیمی اداروں ہی نہیں بلکہ تعلیمی اداروں سے باہر بھی قبضے کرتے اور بھتے لیتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ ماں باپ اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں میں پڑھنے کے لئے، انہیں ڈاکٹر ، انجینئر اور استاد بننے کے لئے بھیجتے ہیں، سیاست کرنے اور سیکھنے نہیں بھیجتے۔ میں نے اس طلبا سیاست کا بہت کڑوا سچ دیکھا ہے جو قیادت پیدا کرنے کے میٹھے خوابوں سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔

میری ایک اور آبزرویشن رہی کہ لال لال جھنڈے لہراتے ہوئے اس بڑے اور جوشیلے جلوس میں لاہوریوں کی تعداد شائد بیس فیصد بھی نہیں تھی او رجن کے پاس ان کی مینجمنٹ تھی ان میں لاہورئیے نہ ہونے کے برابر تھے یعنی یہ سوشلزم کا نمائندہ یہ نظریاتی اجتماع درحقیقت لاہور میں امپورٹ کیا گیا تھا۔مجھے لاہور میں مقبول ترین صحافت کرتے ہوئے عشرے گزر گئے اور مجھے آج تک کسی اجتماع اور جلوس میں اتنی اجنبیت اور غیریت نہیں ملی۔ میں نے جتنے لوگوں سے بات کی ان میں سے کوئی خیبرپختونخوا سے تھا تو کوئی بلوچستان سے اپنا تعارف کروا رہا تھا، کسی کا لہجہ چغلی کھا رہا تھا کہ وہ کراچی کا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم لاہور اور پنجاب سے سوشلزم کی سیاست کو بھٹو صاحب کے ساتھ ہی پھانسی پر لٹکا چکے ہیں۔میں پیپلزپارٹی کو بھی سوشلزم کی حقیقی نمائندہ نہیں سمجھتا مگر ہمارے پاس اے این پی اور پی پی پی کے علاوہ عوامی سطح پرکوئی دوسری مقبول مثال بھی موجود بھی نہیں، اے این پی کا بھی پنجاب میں کوئی ووٹ بنک نہیں اور اگر کوئی پنجاب میں آنے والے پختونوں میں تھا بھی تو وہ پی ٹی آئی اچُک کر لے گئی ہے۔ دوسرے میں سمجھتا ہوں کہ لال رنگ والوں سے بھی ایک، دو وہی غلطیاں ہو گئیں جو عورت مارچ والوں سے بہت زیادہ ہوئی تھیں۔ مان لیاکہ طلبا، مزدوروں اور کسانوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کے حقوق کے بھی علمبردار ہیں مگر ایسی حرکت کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ تین عورتیں لال رنگ کی رسیوں سے باندھ کر ایک مرد کو کتے کی صورت بنا کے گھسیٹ رہی ہوں؟


ای پیپر