گلیاں ہون سنجیاں
01 دسمبر 2018 2018-12-01

معیشت اور بڑھتی مہنگائی کا ہر جانب رونا رویا جا رہا ہے۔۔۔ حکومت دعوے کچھ کرتی ہے عمل اس کے برعکس ہوتا ہے۔۔۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے انہوں نے دیسی مرغی، انڈوں اور کٹّوں کی بات عام آدمی کی حالت سودھارنے کے پروگرام اور آئندہ کا منصوبہ سامنے رکھتے ہوئے کی تھی۔۔۔ لیکن مذاق اڑایا جا رہا ہے۔۔۔ تاہم انہیں سوچنا چاہیے اگر دوسری اشیائے صرف کی مانند مرغی اور انڈروں کی قیمتیں بھی عام آدمی کی دسترس سے باہر چلی گئیں اور معیشت کو سنبھالا دینے کا ٹھوس اور پائیدار منصوبہ سامنے نہ آیا تو بات مذاق سے آگے بڑھ کر طعنے کی صورت اختیار کر لے گی۔۔۔ اپوزیشن لیڈر نہیں ماہرین معاشیات کی بھاری اکثریت کہہ اٹھی ہے کہ پرسوں جمعہ کے روز سٹیٹ بینک آف پاکستان کے زبانی اشارے پر روپے کے مقابلے پر ڈالر نے جو غیر معمولی اڑان بھری ہے وہ در حقیقت آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کی جانب حکومت کا قدم ہے۔۔۔ حیران کن بات ہے ایک روز قبل جمعرات کو سو دن پورے ہونے پر وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے اسلام آباد میں جو تقریب منعقد کی گئی اس میں وزیر خزانہ اسد عمر صاحب نے بھرملا قوم کو یقین دلایا اول تو آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہ پڑے گی لیکن اگر اس کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا تو اس ادارے کی کڑی شرائط کی بجائے اپنی شرائط پر کریں گے لیکن اگلے ہی روز روپے کی قیمت کو جس حد تک گراوٹ کا شکار کیا گیا اس سے واضح اور صاف عندیہ ملتا ہے کہ قرضہ حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی پابندیاں قبول کرنے کے لیے زمین ہموار کی جا رہی ہے۔۔۔ قول و فعل کا یہ تضاد حکومت کی ساکھ کو لے بیٹھے گا۔۔۔ ساکھ قائم کیے بغیر کوئی حکومت نہیں چلا کرتی۔۔۔ عالمی ادارے اس کی باتوں پر یقین نہیں کرتے اور عوام کے اندر اعتماد باقی نہیں رہتا۔۔۔ اس وقت صورت حال یہ ہے وزیراعظم عمران خان سے لے کر عام درجہ کے حکومتی ترجمان تیزی کے ساتھ دفاعی پوزیشن لیتے نظر آ رہے ہیں۔ حکومت سنبھالنے کے صرف تین مہینے بعد اتنا بڑا تنزل شاید اس سے پہلے کسی حکومت کو نصیب نہ ہوا تھا لیکن آج کی معروضات میں راقم اس سے بھی گہرے تنزل کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہے۔ جس کی جانب نہایت خاموشی کے ساتھ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ کسی گہری اور بلند سطح پر منصوبہ بندی کے تحت ملک اور قوم کو دھکیلا جا رہا ہے۔ یہ بات خاص و عام کو معلوم ہے کہ آج کی سول حکومت خارجہ پالیسی کے میدان میں کوئی پیش قدمی مقتدر قوتوں کی پیشگی رضا مندی اور واضح اشارے کے بغیر نہیں کر سکتی ۔ اب جو ہمارے سول حکمران بڑے فخر سے کہتے پھر رہے ہیں کہ فوج اور حکومت ایک صفحے پر ہیں اس کے بین السطور مطلب بھی یہ ہے کہ بالائی قوت فیصلہ کرے گی اور حکومت دل و جان کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہو گی۔۔۔ کرتار پور راہداری کا کھلنا اس کی نمایاں مثال ہے گزشتہ اٹھارہ اگست کو ابھی منتخب وزیراعظم نے عہدے کا حلف نہیں اٹھایا تھا کہ آرمی چیف نے تقریب میں مہمان کے طور پر آنے والے سابقہ بھارتی کرکٹر اور مشرقی پنجاب کی موجودہ حکومت کے ایک وزیر نجوت سنگھ سودھی کو آگے بڑھ کر گلے لگایا اور اپنی جانب سے کرتار پور راہدی کھلونے کی پیشکش کر دی۔۔۔ عمران حکومت نے فوراً آمنا و صدقنا کہا اور بھارتی حکومت کی جانب پتا پھینک دیا۔۔۔ تین ماہ بعد پاکستان میں بھارت کی سرحد کے قریب اور بابا گورو نانک کی یاد گار گوردوارے کرتار پور پر منعقدہ تقریب میں سپہ سالار اعظم بنفس نفیس 

شریک ہوئے جس سے بھارت سمیت سب کو باور کرانا مقصود تھا کہ پاکستان کی قیادت عظمیٰ روایتی دشمن ملک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لیے ایسی پیش قدمی کی مخالفت نہیں کرے گی اور سول وزیراعظم کی بھرپور حوصلہ افزائی کرے گی کیونکہ وہ از خود نہیں ان کے طے کردہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے کرے گا۔۔۔

یہ ایک واقعہ قومی مطلع پر ابھرتی ہوئی زیادہ بڑی حقیقت کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ملک کے سب سے بڑے آئینی اور عوام کی جانب سے منتخب کردہ ایوان یعنی پارلیمنٹ کے اندر سوائے حکومتی اور اپوزیشن لیڈروں کی باہمی الزام تراشی کے سوا کچھ ہو نہیں پا رہا۔۔۔ پارلیمنٹ کو عملاً غیر فعال بنا کر رکھ دیا گیا ہے اور اس کی خاطر حکومت اور اپوزیشن کے درمیانے پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کی چیئرمین شپ کا تنازع بظاہر رکاوٹ بن کر کھڑا ہے جبکہ اسی بنا پر دوسری پارلیمانی کمیٹیاں بھی صبح کی روشنی دیکھنے سے محروم ہیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ ملک کا آئینی لحاظ سے سب سے مقتدر اور عوام کا براہ راست منتخب شدہ ایوان قانون سازی کے قابل نظر نہیں آتا۔۔۔ یہ ضروری اور لازمی عمل جو پارلیمنٹ کا فریضہ ہے انجماد کا شکار ہے۔۔۔ اس کا آگے چل کر ملک ، جمہوریت یہاں تک کہ عمران خان کی حکومت کو جو اپنے آپ کو منتخب کہتے نہیں تھکتی فائدہ پہنچے گا یا نقصان اس سے قطع نظر یہ امر ان قوتوں کی آسودگی اور اطمینان خاطر کا باعث ہے جن کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ آئینی اور منتخب ادارے پس منظر میں چلے جائیں۔۔۔ عملاً پالیسی سازی کا کام اس کے پاس نہ رہے اور مقتدر ادارے اپنی مرضی کی سول حکومت کے فرنٹ کو سامنے رکھ کر حقیقی حکمرانی کا لطف اٹھاتے رہیں۔۔۔ یہی نہیں قارئین نے مشاہدہ کیا ہو گا کہ ان دنوں جمہوری پاکستان کی جس حاکم دستاویز کا سب سے کم ذکر کیا جاتا ہے وہ پاکستان کا آئین مملکت اور دستور اساسی ہے جس کے بارے میں اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ قوم کے اتفاق رائے کی مظہر بنیادی دستاویز ہے اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے تلخ ترین قومی تجربے کے بعد منتخب نمائندوں نے تمام اختلافات کو فراموش کر کے سر جوڑ کر بنایا اور نافذ کیا تھامگر بالادست قوتوں کو ہمیشہ سے اس سے انقباض رہا ہے ۔۔۔ آئین کی حکمرانی انہیں کبھی راس نہیں آئی۔۔۔ ماضی میں مارشل لاء لگا کر اسے اکھاڑ پھینکا گیا یا منجمد کر کے رکھ دیا گیا۔۔۔ اس کے باوجود چند کاغذوں کا یہ ٹکڑا اپنے وجود اور حیثیت کو منوانے سے باز نہیں آیا تو اب یہ تدبیر اختیار کی گئی ہے کہ آئین کو اپنی جگہ رہنے دیا جائے لیکن عملاً طاق نسیاں کی زینت بنا رہے۔ منتخب پارلیمنٹ بھی چونکہ آئین کی حکمرانی کی مظہر ہوتی ہے اسے بھی محض ایک ادارے کے طور پر برداشت کر لیا جائے لیکن فی الحقیقت وہ اپنی کارکردگی دکھانے کے قابل نہ رہے۔۔۔ صرف رسوم ادا کی جائیں یا زیادہ سے زیادہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مباحثے کے پلیٹ فارم کا کام دیتی رہے قانون سازی اگرناگزیر ہو جائے تو اس ایوان سے محض اس حد تک کام لیا جائے کہ اس کی حیثیت زیادہ سے زیادہ مہر تصدیق ثبت کرنے والے ادارے یا عام محاورے کے مطابق دو نمبر کی ہو۔۔۔ بعض قومی اور بین الاقوامی مبصرین تو اس صورت حال کو نیم مارشل لاء سے تعبیر کر رہے ہیں۔۔۔ اگر یہ نہ بھی ہو تو اس واضح طور پر نظر آنے والی حقیقت سے انکار ممکن نہیں رہا کہ آئینی اور منتخب ادارے تیزی سے انجماد کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔۔۔ آزاد میڈیا پر جو قدغنیں لگ چکی ہیں اور جس انداز سے لگائی گئی ہیں اس سے مارشل لاؤں کے ادوار بھی شرمائے سے نظر آتے ہیں۔۔۔ آئین اور جمہوریت کے نام پر منتخب ہونے والی حکومت سرعت کے ساتھ رجعت قہقری کا نمونہ بنتی نظر آرہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب اصل حکمرانوں کو یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ سول یا نام نہاد جمہوری حکومتیں کرپشن زدہ ہوتی ہیں یا موجودہ کی مانند نا اہل۔۔۔ اس سارے کام کے پیچھے جو دماغ کارفرما ہے اس کا اصل ہدف پاکستان کے آئینی اور جمہوری عمل کو دنیا اور قوم کے سامنے بے وقعت بنا کر رکھ دینا اور سیاست دانوں کے پورے طبقے کو حکمرانی کے نا اہل ثابت کر رکھ دینا ہے ’’ گلیاں ہون سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے‘‘۔۔۔ یہ ایک سنگین صورت حال ہے جو آگے چل کر کس قسم کے نتائج و ثمرات برپا کرے گی ان کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں لیکن ہمارا قومی المیہ شروع سے یہ رہا ہے کہ ہم سر پر منڈلاتے خطرات کو بھانپ کر بھی ان کے تدارک کے لیے کچھ نہیں کرتے بعد میں رونا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔۔۔ اگر ہم میں یہ ’’صفت‘‘ نہ ہوتی تو شاید مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے خطرات کو جب انہوں نے قومی مطلع پر نمودار ہونا شروع کر دیا تھا عین وقت پر بھانپ کر ان کے فوری تدارک کی فکر کرتے۔۔۔ ایسا نہ ہو سکا۔۔۔ اب ہر برس 16دسمبر کو قائداعظمؒ کے پاکستان کے دو لخت ہو جانے کی صف ماتم بچھائی جاتی ہے لیکن ٹوٹے شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں ہم پچھلی ناکامیوں پر آنسو بہانے کا فریضہ تو خوب ادا کرتے رہتے ہیں مگر سامنے نظر آنے والے خطرات سے آنکھیں بند رکھنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ یہ طرز عمل کب تک جاری رہے گا اور ہماری حرماں نصیبیوں میں اضافہ کرتا رہے گا۔ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ 


ای پیپر