کلمۂ حق
01 دسمبر 2018 2018-12-01

افغانستان میں طالبان حملوں میں 3 امریکی فوجی غزنی میں مارے گئے اور 4 زخمی ہو گئے۔ اس واقعے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے رنج و الم میں ڈوب کر ایسا جذباتی بیان جاری کیا، جو امریکہ، نیٹو کے بڑوں نے بھی نہ کیا۔ شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے تہ دل سے اظہارِ ہمدردی اور تعزیت کی ہے پوری قوم اور حکومت پاکستان کی جانب سے۔ یہ احساسات امریکیوں کے خاندانوں اور دوستوں تک پہنچائے گئے کہ ہم زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔ غم کی اس گھڑی میں ہم امریکی حکومت اور ان کے عوام کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کرتے/ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں! (دی نیوز 27 نومبر) فدویت کی کوئی انتہا تو ہو! چاپلوسی کرتے ہم ٹرمپ کی توہین آمیز ٹوئیٹس جس کے آخر میں اس نے ہمیں Fools لکھا تھا، کیا ثابت کر دکھانا ضروری تھا؟ وزیر خارجہ کا المیہ یہ ہوا۔ دل تو میرا اداس ہے ناصرؔ ۔۔۔ شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے۔۔۔ کے مصداق، انہوں نے امریکی مرنے پر اپنے رنج و الم کو پوری قوم کے سر تھوپ ڈالا! اگرچہ اقبال نے کہا تھا۔ کافر کی موت پہ بھی لرزتا ہو جس کا دل۔۔۔ کہتا ہے کون اسے کہ مسلماں کی موت مر۔۔۔ سلالہ پر ہمارے فوجی مار کر امریکہ نے جس ڈھٹائی اور بے حسی کا مظاہرہ کیا تھا وہ ہم بھولے تو نہیں! یہ امریکی کس پُر سے کے مستحق ہیں؟ پاکستانی قوم کے لیے ایسا پیغام، قوی وقار کے منافی ہے۔ امتحان تو یہ ہوا کہ دو ہی دن میں امریکہ نے لشکر گاہ پر حملہ کر کے (ہلمند صوبہ) 30 افغان (مسلمان!) شہری شہید کر دیئے۔ جس میں 16 بچے بھی شامل ہیں اور ابھی ملبے تلے بھی دبے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کی نسبت اس سال امریکی فضائی حملوں میں سب سے زیادہ افغان شہری مارے گئے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کی رگ ہمدردی یہاں کیوں نہ پھڑکی؟ مسلمانوں کے قاتلوں کے مرجانے پر ریاست مدینہ رو دے؟ حالانکہ شہریوں کی ہلاکت پر تو اقوام متحدہ اور ماضی کی افغان حکومتیں بھی احتجاج کرتی رہی ہیں۔ ہم کیوں نہ بولے؟ عوام کی طرف سے ایسے بیانات جاری نہ کیا کریں۔ ہمیں تو مرنا اور دوبارہ جی کر اٹھنا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مطلع فرما چکے ہیں کہ آخرت میں تم اس کے ساتھ اٹھو گے، ہو گے جس سے تم محبت رکھو گے۔ ٹرمپیوں اور نیٹو کے ساتھ اٹھنا۔۔۔؟ پناہ بخدا! مولانا نور الحق قادری سے پوچھ لیا کریں، ریاست مدینہ کے اوامرد نواہی۔ ادھر ہم سکھوں سے محبت میں مرے جا رہے ہیں۔ المیہ یہ بھی تو ہے کہ ہماری کرکٹ ٹیم نما سیاسی قیادت تاریخ پر بھی کما حقہٗ عبور نہیں رکھتی۔ سکھوں کو صرف سکھوں بارے گھڑے گئے لطائف کے حوالے ہی سے جانتے ہیں یہی مبلغ علم ہے۔ اتنا بڑا فیصلہ بلا ویزہ، اپنی جان کے در پے بھارت کے ساتھ کھولنے کا صرف ایک کرکٹر بھارتی وزیر سے ملاقات پر سرگوشیوں اور فرمائشوں پربالا بالا طے ہو گیا؟ معاملہ صرف سکھوں کا نہیں۔ بھارت اور ہمارے مابین کشیدہ تعلقات، کنٹرول لائن کی مسلسل خلاف ورزیوں، دریاؤں کے پانیوں اور مقبوضہ کشمیر میں ہماری شہ رگ پر جبر و ظلم کی اندھیر نگری مچانے جیسے بنیادی حل طلب تنازعات کا معاملہ ہے۔ ہماری طرف سے اتنی بھاری یک طرفہ نوازش پر بھی متکبر بھارت کے نتھنوں سے بچھو ہی جھڑ رہے ہیں۔ شکر گزاری کی بجائے، پوری ڈھٹائی سے ان کی وزیر خارجہ نے نہ صرف آنے سے انکار کیا بلکہ بھارتی وزیر بارے (جوآگئے) فرمایا کہ وہ اپنی ذاتی حیثیت میں آئے ہیں۔ سارک کانفرنس میں شرکت کی دعوت مسترد کی۔ نیز یہ بھی کہ راہداری کھلنے کا مطلب دو طرفہ مذاکرات کا آغاز نہیں۔ ادھر آپ یکطرفہ خیر سگالیاں (ہمیشہ کی طرح) لٹا رہے ہیں، 

اُدھر ایودھیا میں انتہا پسند ہندو ریلے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لیے نعرہ زن ہیں۔ دوسری جانب کشمیری اپنی زخمی آنکھیں اور لہولہان نوجوان سنبھال رہے اور جنازے اٹھا رہے ہیں۔ یہ بھی نہ بھولیں کہ ماضی کے خالصتان کے نقشوں میں یہ گردوارے موجود ہیں۔ ان کی حقیقی وفاداری ہندوستان سے ہے آپ سے نہیں۔ رنجیت سنگھ کا دور حکومت تاریخ سے نکال کر پڑھ لیں۔ نیز پاکستان بنتے وقت ہمارے مشرقی پنجاب سے ہجرت کر کے آنے والے خاندانوں پر کیا بیتی۔ آج تو پوری دنیا کی فضا مسلم دشمن ہے لہٰذا پھونک پھونک کر چلنے کی ضرورت ہے۔ چینی سفارتخانے پر حملہ اور اس میں ’را‘ کا کردار حالیہ چرکا ہے۔ کتنی بار ایک سوراخ سے ڈسے جانے کا ارادہ ہے؟ فارن پالیسی، ایسے منصوبے، گہری سوچ بچار تدبر تحمل کے متقاضی ہوتے ہیں۔ ایک راہداری (سی پیک) سے عہدہ برأ ہونے نہیں پا رہے ایک اور پٹارا نیا اچانک کھول کر بیٹھ گئے ہیں۔ نہ اگلے بن پڑے نہ نگلے۔ ہم تو پہلے بھی سکھ یاتریوں کا بھرپور خیر مقدم کرتے، انہیں ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرتے رہے ہیں۔ اس گوردوارے پر بھی کروڑوں روپیہ ٹیکس دہندگان کا، اس کی آرائش دیکھ بھال پر لگایا جا چکا ہے۔ یہ تو بھارت ہے جہاں ہمارے زائرین رلتے ہیں۔ یہ خدشہ بھی بے جا نہیں کہ یہ اچانک بہ عجلت فیصلہ گورداسپور میں ’قادیان‘ واقع ہونے کی بنا پر ہے۔ اس پر قادیانیوں میں بھی مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ یہ نئی نویلی حکومت اسی طرح دیکھی جا رہی ہے جیسے نو بیاہتا دلہن کے طور طریقے دیکھے جاتے ہیں۔ تشویش کیوں نہ ہو کہ عاطف میاں، آسیہ، اسرائیلی طیاروں کے بعد اچانک یہ سکھ فیصلہ بھی سامنے آ گیا؟ نظریاتی حوالے سے ’ریاست مدینہ‘ کے مجذوبانہ نعرے بیچ میں لگاتے رہنے سے آنکھوں میں دھول جھونکنا ممکن نہیں۔ بعد المشرقین ہے دعوؤں اور تکلیف دہ حقائق میں! سو یہ نعرہ لپیٹ دیجئے یا تاریخ پڑھ لیں اور موازنہ کر دیکھیں۔ 

ریاست مدینہ کے حوالے سے انسانی حقوق کا ایک اذیت ناک باب ہے جو یہاں توجہ طلب ہے۔ شیریں مزاری توجہ فرمائیں۔ خصوصاً وزیراعظم کے حالیہ بیان بابت پرائی جنگ کبھی نہ لڑنے کے عزم کے حوالے سے۔ یوٹرن، سکہ رائج الوقت ہے تو اس جنگ کے بد ترین اثرات میں سے ایک جبری گمشدگیوں ، اغوا کاریوں، پولیس مقابلوں کا شرمناک، الم ناک باب بھی ہے۔ جس پر عالمی انسانی حقوق کے ادارے بھی ہمیں متوجہ کرتے رہتے ہیں۔ وزارت انسانی حقوق، 11 نومبر 2018ء کی ’ڈان‘ اخبار میں ریما عمر (قانونی مشیر برائے ’انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس‘) کا مضمون بہ عنوان ’ملٹری جسٹس‘ ملاحظہ فرمائیے۔ خلاصہ یہ ہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے گزشتہ ماہ 70 افراد کی سزائیں معطل کر کے انہیں رہا کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔ ان پر فوجی عدالتوں نے سزائے موت کا حکم لگایا تھا۔ ہائی کورٹ نے عملاً ان کے خلاف شہادت سرے سے موجود نہ ہونے، اپنے دفاع کے لیے آزادانہ پرائیویٹ وکیل کا حق نہ دیئے جانے، مشکوک اقراری بیانات پر سزا دیئے جانے پر، یہ فیصلہ دیا۔ جبکہ تمام اقراری بیانات میں ایک ہی شخص کی تحریر ، (70 سے زائد افراد) یکساں انداز میں، ایک ہی لب و لہجہ لیے ہوئے تھی۔ ان سب کو پنجاب سے ایک ہی وکیل دیا گیا تھا۔ بنیادی قانونی حق ، کہ وہ آزادانہ اپنے وکیل کے ذریعے حق دفاع رکھتے ہوں، سے محروم رکھا گیا۔ عدالت کے مطابق یہ وکیل صرف ایک ’ڈمی‘ تھا اور مقدمات کی یہ کارروائی کلیتاً پراسیکیوشن کا شو تھا۔ ان میں سے کتنے ہی وہ افراد ہیں جنہیں 2009ء تک سے سکیورٹی اہلکاروں نے اٹھا کر، ان فوجی مقدمات سے بیشتر طویل خفیہ تحویل میں رکھا۔ پشاور ہائی کورٹ کا مفصل فیصلہ اور اس پر ریما عمر کی رپورٹ مشکل حالات میں گھری قوم کی فوج کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اس کی درستگی سویلین حکومت پر ایک بھاری قرض ہے۔ اب یہ کیس سپریم کورٹ کے پاس ہے۔ جس نے اپیل کی سماعت ہونے تک ملزمان کی رہائی (پشاور ہائی کورٹ ) پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ آمنہ جنجوعہ، عمران خان کے بلند ارادوں سے حوصلہ پا کر غمزدہ ، بے یار و مددگار نیم بیوہ کی گئی خواتین، بوڑھے والدین اور باپوں کے دید کو ترستے بچے لیے مظاہرے کے لیے نکلیں۔ امید ہے حکومت نے جس درد مندی دلسوزی کا مظاہرہ آسیہ مسیح کے لیے (بے جا) کیا تھا۔ اپنے مظلوم شہریوں کی داد رسی بھی کرے گی۔ نیز مزید ایسے اغوا کاری اور جبری لاپتگی کے واقعات کی مکمل روک تھام کی جائے۔ مثلاً حال ہی میں کراچی سے صحافی نصر اللہ چوہدری کا اٹھایا جانا متنازع لٹریچر کی آڑ میں۔ صحافی پڑھنے لکھنے والے لوگ ہوتے ہیں (ہونے بھی چاہئیں)۔ ان کے گھروں میں دنیا بھر کے کتب و رسائل ہوتے ہیں۔ مضحکہ خیز جہالت ہے کہ فحش لٹریچر تو متنازع نہ ہو۔ کارل مارکس، ہندو مت، بدھ مت کی کتب پر اعتراض نہ ہو۔ جہاد پر مبنی ، قرآن و حدیث والے کتب و رسائل متنازع اور لائق لاپتگی قرار پائیں؟ وزیراعظم کے حکم کے مطابق اس پرائی جنگ کے پھیر سے نکل آئیں۔ 

’تم میں سے کسی شخص کا کلمۂ حق کہنا اور باطل کو مسترد کرنے کے لیے دلائل دینا اور اپنی جدوجہد سے حق کی نصرت کا اہتمام کرنا میرے (صلی اللہ علیہ وسلم) ساتھ ہجرت کرنے سے بھی افضل ہے‘۔ (حدیث نبویؐ)


ای پیپر