پاکستان اب کسی کی جنگ نہیں لڑے گا:عمران خان
01 دسمبر 2018 2018-12-01

وزیر اعظم پاکستان عمران حان نے اپنے قبائلی علاقہ کے دورہ کے دوران پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کی موجودگی میں سر عام یہ اعلان کیا کہ ’ اب پاکستان کسی کی جنگ نہیں لڑے گا ‘۔میں سمجھتا ہو ں کہ یہ پاکستان کے ہر محب وطن پاکستانی کی دل کی آواز ہے۔میں ذاتی طور پر وزیر اعظم کو اس پالیسی بیان پر مبارک باد پیش کرتا ہو اور امید کرتا ہوں کہ وہ اس پالیسی پر یو ٹرن نہیں لیں گے۔مگر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ یہ بیان دینے کی عمران خان وزیر اعظم پاکستا ن کو فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کے ساتھ قبائلی علاقہ جو کہ اب خیبر پختون خوا کا حصہ ہے جاکر اس ضرورت کیوں پڑی؟ پاکستان نے شروع دن سے ہی برطانیہ کی خارجہ پالیسی بنا سوچے سمجھے اپنا لی یعنی سوویت یونین، روس اور کمیونزم کی مخالفت کیونکہ سوویت یونین(روس) گرم پانیوں تک رسائی چاہتا تھا!۔

ہم نے اندورنی طور پر ترقی پسند اور محب وطن اور ایسے لوگوں کو جو چاہتے تھے کہ پاکستان ایک آزادخارجہ پالیسی اپنائے انہں غدار قرار دے دیا اوران کا ناطقہ بند کردیا۔انہیں ہر طرح کی اذیتیں پہنچائیں اور ان کے خلاف خوب پراپیگنڈہ کیا اور آخر کار کمیونسٹ پارٹی آف پاکستا ن پر پابندی لگا دی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کے ادبی محاذ انجمن ترقی پسند مصنفین اور طلبا محاذ ڈیموکریٹک سٹوڈنٹ فیڈریشن DSFپر پابندی لگا دی۔ پاکستان سرد جنگ کے دور میں کمیونسٹوں کے خلاف عسکری محاذوں سیٹو اور سینٹو میں شامل ہوگیا۔امریکہ نے پاکستانی فوج بنانے میں کچھ مدد بھی کی ۔اس کے علاوہ مالی امداد بھی کی ۔ پاکستان میں ہر تبدیلی امریکہ کی مدد اور خواہش پر ہونی شروع ہو گئی۔یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نواب لیاقت علی خان سے پہلے فوج کے سربراہ جنرل محمد ایوب خان نے امریکہ کا دورہ کیا۔ نواب لیاقت علی خان کے دورہ امریکہ کے پیچھے بھی دلچسپ حقائق ہیں۔امریکہ نے نہرو کو امریکہ کا دورہ کرنے کی دعوت دی مگر پاکستان کے وزیر اعظم نواب لیاقت علی خان کو امریکہ آنے کی دعوت نہیں دی جس کے لئے وہ بہت بے قرار تھے لہٰذا انہوں نے تہران میں پاکستان کے سفیر کے ذریعہ سوویت یونین کے دورہ کی دعوت لی ۔جب امریکہ نے یہ دیکھا کہ سوویت یونین نواب لیاقت علی خان وزیر اعظم پاکستان کو بلا رہا ہے تو اس نے پاکستانی وزیر اعظم کو امریکہ کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

جنرل محمدایوب خان کے ماشل لا کے وقت پاکستان ہر طرح سے امریکہ کے زیر سایہ تھا اور اگر یہ کہا جائے کہ امریکہ کی ایک نوآبادی تھا تو شاید غلط نہ ہو۔مگر جب جنرل محمدایوب خان نے پاکستان میں مارشل لا لگا کر سویلین حکومت کا تختہ الٹ دیا ، 1956ء کا آئین توڑ دیا اور سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں پر پابندی لگا دی تو پاکستان امریکہ کے قریب ترین ہو گیا۔کہتے ہیں کہ امریکہ کو نہ صرف جنرل محمد ایوب خان کے مارشل لا کا علم تھا بلکہ پاکستان میں ہر مارشل لا امریکہ کی آشیر باد سے لگایا گیا۔جنرل محمد ایوب خان امریکہ سے اتنا متاثر تھا کہ اس نے نہ صرف امریکہ کو بڈبیڑ کے مقام پر ہوائی اڈا قائم کرنے کی اجازت دی بلکہ پاکستان میں امریکی طرز کا صدارتی نظام بھی نافذ کر دیا۔امریکہ کا اس قدر عمل دخل بڑھ گیا کہ ہر وزارت میں ہمیں امریکی مشیر نظر آتے تھے۔1965 ء کی جنگ میں امریکہ نے پاکستان اور ہندوستان کی امداد بند کردی اور اس طرح پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں خرابی پیدا ہو گئی۔ پاکستان کا موقف تھا کہ امریکہ نے اس کی ہندوستان کے خلاف جنگ میں مدد نہیں کی ، جبکہ امریکہ کا مؤقف تھا کہ دفاعی معاہدہ کمیونزم کے خلاف تھا۔پھر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے کتاب لکھی ’’Friends Not Masters‘‘ جنرل یحیےٰ کے زمانے میں پاکستان نے امریکہ اور چین کو قریب لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔مگر 1971ء کی جنگ میں امریکی ساتویں بحری بیڑے کا انتظار ہی رہا۔

بھٹو کے دور میں پاکستان سیٹو اور سینٹو سے الگ ہو گیا۔مگر بھٹو کے دور حکومت میں ہی Fifth province/Stratigic Depthکا پلان سامنے آیا۔جنرل محمد ضیا الحق کے دور میں پاکستان نے اسلام کے نام پر افغانستان میں امریکی جنگ لڑی۔ پاکستان نے بعد میں طالبان بنائے اور ان کی کابل میں حکومت بنوائی۔جب اسامہ بن لادن کابل منتقل ہو گیا اور امریکہ میں 9/11کا واقع ہوا تو امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔طالبان کی ساری قیادت اور اسامہ بن لادن کو پاکستان نے پناہ دی۔(آخر کار اسامہ بن لادن ایبٹ آباد پاکستان میں امریکیوں کے ہاتھوں مارا گیا)۔جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کی سرزمین امریکہ کے لئے کھول دی۔ اب دوبارہ وزیر اعظم کے بیان کی طرف آتے ہیں۔ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ پاکستانی فوج نے ہمیشہ امریکہ کا بھر پور ساتھ دیا اور اس کی جنگ لڑی۔جنرل محمد ضیا الحق کو آپ کچھ بھی کہیں مگر اس نے مرنے سے پہلے کھلے عام یہ اعلان کیا تھا کہ ’ہم نے کولوں کی دلالی میں منہ کالا کیا‘۔ دراصل پاکستان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں بات طے نہیں ہے کہ جنگ اور امن کا فیصلہ کون کرے گا ۔

میاں محمد نواز شریف کے زمانے میں جب سعودی عرب نے پاکستان سے یمن میں فوجی تعاون مانگا تو میاں محمد نواز شریف نے یہ معاملہ قومی اسمبلی یعنی منتخب نمائندوں کے سامنے رکھ دیا جنہوں نے یمن میں پاکستانی فوج بھیجنے کی حمائیت نہ کی ۔میں سمجھتا ہوں کہ میاں محمد نواز شریف نے خارجہ پالیسی کے ضمن میں ایک مثبت اور اہم قدم اٹھایا تھا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ موجودہ وزیر اعظم پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ کے مشترکہ اجلاس میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بحث کرواتے اور اعلان کرتے کہ پاکستاناب کسی کی جنگ نہیں لڑے گا ‘۔ ان ساری باتوں کو دہرانے کا مقصد یہ ہے کہ کیا ہماری اصلی قیادت میں اتنی اخلاقی جرأت ہے کہ وہ قوم کو اعتماد میں لے اور خود تنقیدی کرے کہ ماضی میں اس نے امریکہ کے مفادات کی جنگ لڑ کر ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔


ای پیپر