اللہ اللہ !
01 دسمبر 2018 2018-12-01

حضرت واصف علی واصف ؒ نے فرمایا تھا ” خوش قسمت وہ ہے جو اپنی قسمت پر خوش ہے“....انسان سب سے لڑسکتا ہے مقدر سے نہیں لڑسکتا ، جو اس کے مقدر میں ہے اسے مل کر رہتا ہے، جو مقدر میں نہیں ہے وہ دعاﺅں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اور جو مقدر میں ہے وہ بددعاﺅں سے کھویا بھی جاسکتا ہے، مقدر اللہ بناتا ہے، وہ چاہے مقدر بدل بھی سکتا ہے، تقدیر پر کسی کا زور نہیں، کسی جگہ میں نے پڑھا تھا ایک صحابی ؒ آپ کے پاس حاضر ہوئے اور پوچھا ”اگر اللہ نے سب کچھ مقدر میں لکھ دیا ہے پھر ہم مانگتے کیوں ہیں؟“....آپﷺ نے فرمایا ”ہوسکتا ہے اللہ نے کسی کے مقدر میں یہ لکھا ہو مانگے گا تو ملے گا“ .... اللہ جانے کیوں ہم نے ”دعا“ کو صرف نماز ہی کا ایک حصہ بنا رکھا ہے، اللہ سے ہروقت اور ہرحال میں مانگتے رہنا چاہیے، اللہ نے کون سا ہمارے لیے کوئی وقت مقرر کررکھا ہے کہ فلاں وقت ہم اللہ سے مانگ سکتے ہیں فلاں وقت نہیں مانگ سکتے، یہ بات مجھے میرے والد صاحب نے سمجھائی تھی، میں ایف سی کالج میں رہتا تھا، سردیوں کی نصف شب گھر کی گھنٹی بجی، والد صاحب نے آکر مجھے اٹھایا اور بولے باہر سٹیفن آیا ہے، سٹیفن ہمارے ایف سی کالج کا عیسائی الیکٹریشن تھا، اب جی سے میں نے کہا ” یہ کوئی وقت ہے اس کے آنے کا ؟ اسے کہیں صبح آئے“....ابوجی بولے ” اس کا بیٹا ابھی تک گھر نہیں آیا، وہ پریشان ہے، تم باہر جاکر اس سے ملو“ .... میں نے پھر کہا ”ابوجی اس سے کہیں صبح آئے، میں اس وقت اسے نہیں مل سکتا “....اس پر ابا جی سخت غصے میں آگئے، لحاف میرے اوپر سے کھینچتے ہوئے بولے ” تمہاری اوقات کیا ہے ؟ ۔ اللہ سب سے بڑا ہے، کیا اللہ نے کوئی وقت مقرر کیا ہے کہ اس کے بندے فلاں وقت اس سے مانگ سکتے ہیں فلاں وقت نہیں مانگ سکتے؟۔ جب اللہ نے کوئی وقت مقرر نہیں کیا تو تمہاری کیا حیثیت ہے ؟۔....یہ میرے لیے ایک بہت بڑا سبق تھا ، جو میں آج تک نہیں بھولا ، اسی وجہ سے اب میں اکثر رات کو اپنا موبائل فون اپنے سرہانے رکھتا ہوں کہ کب اللہ مجھ پر رحم فرمادے اور کسی ضرورت مند کا مجھے وسیلہ بنا دے.... ابھی تین ماہ پہلے میں ٹورنٹو (کینیڈا) میں تھا، اس روز طبیعت ذرا خراب تھی، میں نے سونے سے پہلے اپنا موبائل فون آف کردیا، اس روز میں نے نیند کی گولی بھی لی تھی، یہ گولی لینے سے اکثر ایسے ہوتا ہے رات میری آنکھ نہیں کھلتی، اس رات مگر آنکھ کھل گئی، میں اٹھ کر واش روم گیا، واپس آکر لیٹا نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ میں نے ایسے ہی جی بہلانے کے لیے فون آن کرلیا، فیصل آباد سے میرے ایک جاننے والے کے کئی مسیجز اور کالز آئی ہوئی تھیں، میں ابھی مسیجز پڑھ ہی رہا تھا اس کی مجھے کال آگئی، میں نے اس کی بات سنے بغیر ذرا ڈانٹنے کے انداز میں اس سے کہا ”آپ کو پتہ ہے میں اس وقت کینیڈا ٹورنٹو میں ہوں، دونوں ملکوں کا وقت بارہ گھنٹے کا فرق ہے اور یہاں اس وقت آدھی رات ہے“ ....وہ بولا ” مجھے پتہ ہے مگر میں اس وقت بہت پریشان ہوں، ہماری لاہور ایئرپورٹ سے عمرے کی فلائٹ ہے، میں اس وقت ایئرپورٹ پر ہوں، بوڑھے والدین اور بچے بھی میرے ساتھ ہیں، ہماری ٹکٹیں کنفرم ہیں، مگر پی آئی اے والے فرما رہے ہیں آپ کو اگلی فلائٹ پر کل بھیجا جائے گا، اب میں سامان سمیت سب کو واپس لے کر کیسے جاﺅں؟ جب کہ پتہ یہ چلا ہے جن کی سیٹیں چانس پر تھیں کسی تگڑی سفارش پر ہماری کنفرم سیٹیں کینسل کرکے انہیں بھجوایا جارہا ہے “.... میں نے فوری طورپر لاہور ایئرپورٹ پر تعینات پی آئی اے اور ایف آئی اے کے کچھ دوست افسروں سے رابطہ کیا جن کی کوششوں سے آدھے گھنٹے بعد یہ مسئلہ حل ہوگیا۔ اس کے بعد میں نے اٹھ کر دورکعت نوافل شکرانہ ادا کیے کہ اللہ نے کیسے ایک ضرورت مند کا وسیلہ بنانے کے لیے مجھ پر اپنی خاص رحمت فرمائی اور نصف شب مجھے اٹھا دیا۔ اس کے بعد میں نے اپنا موبائل فون دوبارہ آف کردیا۔ فوراً ہی مجھے نیند آگئی۔ صبح اٹھا مجھے لگا یہ کوئی خواب تھا۔ میں نے فون چیک کیا یہ حقیقت تھی۔ ایسی حقیقتوں سے اللہ سب کو سرفراز فرمائے، ....میں عرض کررہا تھا تقدیر پر کسی کا زور نہیں، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے عزت، ذلت، زندگی، موت، رزق سب اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے، ان میں سے کچھ بھی انسان کے ہاتھ میں دیا ہوتا انسان جو پہلے ہی تکبر کے عروج پر پہنچا ہوا ہے اس کی کیا حالت ہوتی ؟ ۔ اللہ مگر رحیم وکریم ہے۔ اتنا رحیم اور کریم جو اسے مانتے ہیں ان کا بھی اب ہے جو نہیں مانتے ان کا بھی ہے، جو اس کی مانتے ہیں، ان کا بھی رب ہے، جو نہیں مانتے ان کا بھی ہے، ہمارا المیہ مگر یہ ہے ہم اللہ کو مانتے ہیں اللہ کی نہیں مانتے، ہماری زندگی سے برکت ساید اسی لیے اٹھ گئی، برکت اب شاید اپنی زندگیوں میں ہم پیدا کرنا بھی نہیں چاہتے، ہمارا سارا زور دولت پیدا کرنے پر ہے، دولت سے مگر سکون کب کسی کو ملا ہے ؟۔ دولت بادشاہوں کے پاس بھی بہت ہے، سکون مگر ”فقیروں“ کے پاس ہے، جن کے پاس سب کچھ ہے وہ ہروقت کچھ نہ کچھ کھونے کی فکر میں مبتلا رہتے ہیں۔ جن کے پاس کچھ نہیں سوائے شکرگزاری کے تو یہ دولت ان سے بھلا کون چھین سکتا ہے ؟۔.... عزت ،شہرت دولت، اللہ کی نعمتوں سے زیادہ ” آزمائش“ ہیں۔ ان آزمائشوں پر کوئی کوئی پورا اترتا ہے کسی کو اللہ اس کی اوقات سے زیادہ عزت دے کر آزماتا ہے۔ کسی کو اس کی اوقات سے زیادہ شہرت دے کر آزماتا ہے اور کسی کو اس کی اوقات سے زیادہ دولت دے کر آزماتا ہے، کسی کسی کو یہ تینوں عطا کردیتا ہے ، اور وہ بڑا ہی بدقسمت انسان ہے جو اپنے اعمال سے یہ ثابت کردے وہ ان میں سے کسی ایک نعمت کے بھی قابل نہیں تھا، اور وہ بڑا ہی خوش قسمت انسان ہے جسے اللہ ہرطرح کی نعمتوں اور سہولتوں سے نوازے اور وہ مسلسل اس یقین میں مبتلا رہے اللہ جب چاہے سب چھین سکتا ہے، پر عاجزی اختیار کرے، پھر اللہ اور نوازتا ہے، نوازتا ہی چلے جاتا ہے۔ اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں، اللہ سے ہروقت مانگتے رہنا چاہیے ، پھر کسی اور سے مانگنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ ہماری بدقسمتی یا المیہ یہ ہے ہم اللہ سے مانگتے ہوئے شرماتے ہیں اور جن سے مانگتے ہوئے ذرا نہیں شرماتے وہ دینے کا کوئی اختیار ہی نہیں رکھتے، جو اللہ سے نہیں مانگتا وہ سب سے مانگتا ہے اور ملتا پھر بھی نہیں ہے، میں ایک بار ایران گیا، وہاں ایک بزرگ سے میری ملاقات ہوئی، ان کے چہرے پر نورہی نور تھا۔ ایسا نورانی چہرہ میں شاید پہلی بار دیکھ رہا تھا، انہوں نے فرمایا ” میں تمہیں کوئی دعا دینا چاہتا ہوں“ ،.... میں نے عرض کیا ”دعا فرمائیں، اللہ مجھے اپنے پسندیدہ راستے پر چلا دے “۔....میرے نزدیک اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکرگزار ہونا اور انسانیت کی خدمت سے بڑھ کر پسندیدہ راستہ اور کوئی نہیں ہوسکتا !!


ای پیپر