دریا کا سامنا
01 اگست 2018 2018-08-01

عمران خان کا وزیراعظم بننے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا چاہتا ہے۔۔۔ چند روز کی بات ہے اگر نئی قومی اسمبلی کے اراکین کی سادہ اکثریت کا ووٹ لینے کے قابل ہو گئے جس کے امکانات قدرے مبہم ہونے کے باوجود معدوم نہیں تو ہفتہ دو ہفتہ کے اندر ایوان صدر کی تقریب میں عہدے کا حلف اٹھا لیں گے۔۔۔ موصوف پارلیمنٹ کے اندر عددی لحاظ سے کمزور ترین وزیراعظم جبکہ دونوں ایوانوں میں ان کی اپوزیشن مضبوط ترین ہو گی۔۔۔ عمران چھوٹی چھوٹی کئی جماعتوں اور آزاد اراکین کے سہارے حکومت چلانے پر مجبور ہوں گے اس امکان کے بارے میں وہ انتخابات سے چند روز پہلے بی بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں یہ کہہ کر پریشانی کا اظہار کر چکے ہیں کہ معلق پارلیمنٹ مصیبت ہو گی۔۔۔ لیکن ریاستی معاملات پر گہری نگاہ رکھنے والے مبصرین کی رائے ہے جب تک ان کا پیچھا تگڑا رہے گا چنداں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔ کم از کم ایک ڈیڑھ برس تک رومانس جاری رہے گا۔۔۔ اس کے بعد بھی اگر ورلڈ کپ جیتنے والا ہمارا کھلاڑی وفاداری یا من چلے کے الفاظ میں تابعداری کا خلوص بھرا مظاہرہ کرتا رہا اور سہروردی، بھٹو، نواز شریف یہاں تک کہ محمد خان جونیجو کی مانند بلنڈرز نہ کیے، شوکت عزیز بن کر رہا جنہوں نے مطیع بن کر جنرل مشرف کے ساتھ آخری وقت تک نبھائی تھی تو قیاس کیا جا سکتا ہے مدت پوری کر لیں گے۔۔۔ لیکن یہ ہماری ستر سالہ تاریخ کا منفرد واقعہ ہو گا۔۔۔ عمران خان اس ’’آزمائش‘‘ پر پورے اترے تو ہر کوئی ان کی خوش بختی پر ناز کرے گا۔۔۔ پنجاب میں بھی ان کی جماعت عددی اکثریت نہ ہونے کے باوجود حکومت بنانے کے دہانے پر کھڑی ہے۔۔۔ صوبہ خیبر پختونخوا ان کی مٹھی میں بند ہے اور بلوچستان میں ’’باپ‘‘ جیسی سیاسی آسمانوں کے پیچھے سے نازل ہونے والی صوبائی جماعت کے ساتھ اتحاد کا اعلان ہو چکا ہے۔۔۔ گویا وفاق سمیت تین صوبوں کے اندر حکومت یا اقتدار میں شراکت ہو گی۔۔۔ پنجاب جیسے سیاسی لحاظ سے طاقتور صوبے میں حال البتہ مرکز یا وفاق سے بھی پتلا ہو گا۔۔۔ یہاں پر نام کی اکثریت بھی نہیں۔۔۔ اسے Manufacture کیا جا رہا ہے۔۔۔ آزاد اراکین اور مشہور زمانہ چودھری برادران کی مدد حاصل کی جا رہی ہے چودھری پرویز الٰہی نے شرط تو وزیراعلیٰ کی رکھی تھی۔۔۔ اس منصب پر وہ جنرل مشرف کے دور میں پانچ سال تک براجمان رہے۔۔۔ لیکن اقتدار پنجاب کے اس خاندان کو شاید اتنا عزیز ہے کہ خبروں کے مطابق سپیکر کے کم تر عہدے پر بھی راضی بتائے جاتے ہیں۔۔۔ یہ عہدہ ان کے پاس نواز اور شہباز کے 1997ء تا 1999کے دور میں بھی تھا۔۔۔ مگر اس پر مطمئن نہ تھے نگاہ وزیراعلیٰ کی کرسی پر رہی جو مشرف کے طفیل 2002ء کے انتخابات کے نتیجے میں مل گئی تاہم ڈکٹیٹر کا زوال شروع ہوتے ہی 2008ء کے چناؤ میں (ق) لیگ کی شکست کی وجہ سے چھن گئی۔۔۔ جوڑ توڑ کے چونکہ یہ برادران بادشاہ ہیں۔۔۔ منظور وٹو کی مانند وہ بھی اس میدان کے شہوار ہیں۔۔۔ وٹو صاحب کی وفاداریاں بدلنے کا ٹریک ریکارڈ رکھنے والی سیاست، عین انتخابات کے موقع پر پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر تحریک انصاف کا سہارا لینے کے باوجود ان کے کام نہ آئی۔۔۔ اپنے بیٹے اور صاحبزادی تینوں کی نشستوں پر شکست سے دو چار ہوئے ہیں۔۔۔ چودھری برادران نے البتہ چار ایک کے قریب سیٹوں پر ’’فتح عظیم‘‘ حاصل کر کے سودے بازی کو پوزیشن مضبوط کر لی ہے۔۔۔ عمران کی ضرورت بن گئے ہیں حالانکہ ہمارا متوقع وزیراعظم نواز شریف اور زرداری کی مانند انہیں بھی ڈاکو اور لٹیروں کے القابات سے سرفراز فرماتا رہا ہے۔۔۔ لیکن ’’سیاست‘‘ بھی آخر کوئی چیز ہوتی ہے۔۔۔ اس دیوی کے چرنوں پر دو ایک اصولوں کے خون کی قربانی دینا پڑے تو مہنگا سودا نہیں۔۔۔ ویسے بھی ہمارے عظیم کھلاڑی اور سیاسی شطرنج کے بازی گر چودھری برادران میں ایک قدر مشترک ہے وہ ہے اوپر والوں کی نظر کرم لہٰذا خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دو دیوانے منچلا مگر یہ کہنے سے باز نہیں آ رہا کہ

چودھری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ بنے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔۔۔ اس کی خاطر وہ کوئی بھی شہ مات دے سکتے ہیں۔۔۔ مشتری ہو شیار باش۔۔۔

پنجاب کے علاوہ وفاق میں بھی جناب عمران کو ملکی تاریخ کی مضبوط ترین اور منہ زور اپوزیشن کا سامنا ہو گا۔۔۔ یہ ایک جماعت نہیں بلکہ تین بڑی پارٹیوں مسلم لیگ (ن) ، پیپلزپارٹی اور متحدہ مجلس عمل کا گرینڈ الائنس ہو گی۔۔۔ انتخابی دھاندلیوں پر جوشور قیامت اٹھتا رہے گا وہ اپنی جگہ مگر قانون سازی کے معاملات، در پیش زبردست بلکہ چنگھاڑتا ہوا اقتصادی و مالی چیلنج، خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کے نازک امور سمیت ہر نوع کے چیلنج اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اندر رتی برابر اکثریت کی وجہ سے ایک کے بعد دوسرے معرکے سے دو چار ہونا پڑے گا۔ منیر نیازی کا مشہور شعر صادق آئے گا۔۔۔

ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

قومی اسمبلی کے اندر زیادہ نہیں تو چھوٹے چھوٹے اتحادیوں اور مفاد پرست آزاد ارکان کی بدولت ننھی سی اکثریت سے یقیناًمتمتع ہوں گے مگر ایوان بالا سینیٹ میں اپوزیشن کا کوہ گراں ہو گا۔۔۔ بھاری اکثریت اس کے پاس ہو گی۔۔۔ قانون سازی کا ہر ہر مرحلہ نت نئے طوفانوں کا پیش خامہ بن سکتا ہے۔۔۔ اس عالم میں تبدیلی کا ایجنڈا کیسے اور کیونکر بروئے کار لایا جائے گا۔۔۔ یہ سیاسیات ملکی کے طالبعلموں کے لیے مشاہدے اور مطالعے کا اہم اور دلچسپ موضوع ہو گا۔۔۔ مگر یہ کیا کم ہے عمران خان وزرارت عظمیٰ کا لباس فاخرہ زیب تن کریں گے۔۔۔ پراٹوکول کا کروفر ہو گا۔۔۔ غیر ملکی دوروں کی چکا چوند ہو گی۔۔۔ زندگی میں نئی بہار آ جائے گی۔۔۔ جمائما خان لندن کی سوشل سوسائٹی کے نام فخر سے ٹویٹ کریں گی۔۔۔ دیکھو میرے بیٹوں کا باپ وزیراعظم بنا کتنا اچھا لگ رہا ہے۔۔۔ پاکستان جیسا پچھلے ستر سالوں سے چلتا آرہا ہے ویسا آئندہ بھی چلتا رہے گا۔۔۔ اس کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔۔۔ مملکت خداداد پر اس کے محافظوں کا سایہ قائم رہے کچھ نہیں ہونے دیں گے۔۔۔ جمہوریت کے نام پر ایک تماشا لگائے رکھنا مقصود ہے سو اس کا شغل جاری رہے گا۔۔۔ اگلی باری کے لیے ہر ایک کی نگاہیں ان کی جانب اٹھتی رہیں گی:

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے

اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

جمہوریت صرف چند اصولوں اور ان کے پرچار کا نام نہیں نہ ایسی مالا ہے جس کے دانوں پر ورد کیا جاتا رہے۔۔۔ اصولوں کے ساتھ اس نظام مملکت میں صحتمند اور پائیدار روایات بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہیں۔۔۔ ان کی پیروی اور پابندی میں کامیاب اور ثمر آور سیاست کا راز مضمر ہے۔۔۔ برطانیہ جسے پارلیمانی جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے اس ملک میں سرے سے تحریری آئین موجود نہیں۔۔۔ میگنا کارٹا کے نام سے تیرہویں صدی کے وسط کی ایک دستاویز پائی جاتی ہے۔۔۔ جسے انگریز لوگ بڑے فخر کے ساتھ اپنے کامیاب جمہوری سفر کا پہلا سنگ میل قرار دیتے ہیں۔۔۔ اس کی چند سطور سے بس اس قدر رہنمائی ملتی ہے کہ بادشاہ کو تمام اختیارات کا مالک نہیں ہونا چاہیے نوابوں (Lords) پر مشتمل پارلیمنٹ کو بھی تھوڑا سا حق حاصل ہے۔۔۔ اس کے بعد ایسی زبردست اور قابل اتباع پارلیمانی روایات نے جنم لیا جن کے نتیجے میں بادشاہ کی حکومت بالآخر اس کے محل کے اندر مقید ہو کر رہ گئی اور پارلیمنٹ کے ’ہاؤس آف لارڈز‘ کی جگہ عام آدمی کے ووٹوں سے مضبوطی حاصل کرنے والے ’ہاؤس آف کامنز‘ نے سب سے مقتدر پارلیمانی ادارے کا مقام حاصل کر لیا۔۔۔ اس میں اکثریت کی مالک سیاسی جماعت کا قائد وزیراعظم کا عہدہ سنبھالتا ہے منتخب وزراء کی کابینہ سے مل کر حکومت چلاتا ہے۔۔۔ کسی کی مجال نہیں مداخلت کرے یا غیر آئینی حق جتلائے۔۔۔ ادارے موجود ہیں۔۔۔ فرائض بھی سر انجام دیتے ہیں مگر ان کے کردار نام کی کوئی چیز جمہوریت کی منڈی میں نہیں پائی جاتی۔۔۔ یہ سب کچھ لکھا ہوا نہیں۔۔۔ بس روایات ہیں جو وہاں کے نظام حکمرانی کے اندر جڑوں تک سرائت کر گئی ہیں انہیں برطانوی جمہوریت کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیا جاتا ہے۔۔۔ اس نظام کی نقل میں جس جس ملک کے اندر تحریری آئین نافذ کیا گیا اس میں روایات کو بھی برابر کی اہمیت دی گئی پاکستان میں مگر آئین تو کجا اعلیٰ روایات کا بھی قدم قدم پر خون کیا گیا۔۔۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد وفاق اور صوبوں میں جو منتخب حکومتیں وجود میں آئیں ان کے زیر سایہ ایک روایت کو جنم ملا۔۔۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت تھی۔۔۔ اگرچہ قطعی اکثریت اس کے پاس نہ تھی۔۔۔ مخالف جماعتیں مل کر حکومت بنا سکتی تھیں۔۔۔ مگر وزیراعظم کی جانب سے صحت مند روایت کا پاس و لحاظ کیا گیا اور صوبے میں عمران خان کی جماعت کے حق حکمرانی کو تسلیم کیا گیا۔۔۔ اسی طرح آزاد کشمیر میں پیپلزپارٹی کے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم کی تیاری ہو چکی تھی۔۔۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اس کی بھی حوصلہ شکنی کی گئی۔۔۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے آج اگر مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف میں خاموش سمجھوتہ ہو جاتا کہ مرکز کے اندر عمرانی جماعت کی جتنی بھی کچھ اکثریت ہے اس کا احترام کیا جائے گا اور پنجاب میں (ن) لیگ کو اس کی معمولی عددی برتری کی بنا پر حکومت سازی کا حق دیا جائے گا۔۔۔ دونوں حکومتوں کو اپنے اپنے مینڈیٹ کے مطابق چلنے دیا جائے گا اور کوئی غیر جمہوری رکاوٹ کھڑی نہیں کی جائے گی۔۔۔ ایسا اگر کر لیا جاتا تو جوڑ توڑ کا موجودہ خلفشار جنم لیتا نہ ناقابل عبور دریاؤں کا سامنا ہوتا ایک صحت مند اور مضبوط روایت پروان چڑھ کر ملک جمہوریت اور عوام سب کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی۔۔۔ مگر اس کے برعکس فارورڈ بلاکوں کی مکروہات کا سہارا لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔۔۔ ابن الوقتوں کی بیساکھیوں پر حکومتیں قائم کی جا رہی ہیں۔۔۔ محلاتی سازشیں زور پکڑ رہی ہیں۔۔۔ سیاست بدنام ہو گی اور سیاستدان بھی۔۔۔ جمہوریت کا نام لینے والے معلوم نہیں کس کے ایما پر جمہوری اصولوں اور روایات کا گلا گھونٹ دینے پر تلے ہوئے ہیں۔


ای پیپر