ووٹر کو سلام
01 اگست 2018 2018-08-01

سیاسی جماعتیں تو ابھی سیکھنے کے عمل سے گزر رہی ہیں۔ یہ عمل سست رفتار ہے۔ ویسے بھی سیکھنے کا عمل تدریجی مراحل سے گزر کر ہی پختہ ہوتا ہے۔ لیکن ووٹر کا سیاسی شعور بہت آگے جا چکا۔2018 کے عام انتخابات کے نتائج نے ثابت کر دیاہے کہ ووٹرسٹیٹس کو توڑ چکا۔شدید سیاسی انجینئرنگ اور ویلڈنگ کے باوجود۔
عام انتخابات سے قبل ایک کالم میں درخواست کی تھی اپنے اہل وطن سے کہ ووٹ ضرور ڈالیں۔ ووٹ ڈال دیا ہے تو اس پر پہرا دیں۔ اور پھر سب مل کر ووٹ کی عزت اور حرمت کی رکھوالی کریں۔ان سب سے بڑھ کر اپیل کی تھی کہ سیاسی جماعتوں کو یر غمال بنا کر رکھنے والے الیکٹ ایبلز کو ریجیکٹ کریں۔ ووٹر ان کو نشان عبرت بنائے گا تو سیاسی جماعتوں کو بھی ان زمینی فرعونوں کے چنگل سے نکلنے میں آسانی ہو گی۔ اب اسی عا جز کو خوش فہمی ہر گز نہیں کہ یہ سب کچھ میری اس اپیل کے نتیجے میں ہوا۔ اپنا فرض تھا کہ اپنے حصہ کی شمع جلائے۔ سو وہ جلا دی ہے۔ کہیں کسی ایک کونے کھدرے میں تو بغاوت کی روشنی پھیلی ہو گی۔ الحمداللہ عام انتخابات کے نتائج نے سر فخر سے بلند کر دیا۔عوام الناس ووٹر جس کو یہ الیکٹ ایبلز اپنی جیب کی گھڑی سمجھتے ہیں۔ اس مخلوق،عوام نے ان لوٹوں کو جنہیں تبدیلی بریگیڈ کی سہولت کیلئے الیکٹ ایبل کی انگریزی اصلاح دی گئی تھی۔ کیونکہ لوٹا کہتے ہوئے ذرا شرمندگی سی ہوتی تھی۔بہر حال جس طرح گلاب کے پھول کو جو مرضی نام دیڈالیں وہ گلا ب ہی رہتا ہے۔ اسی طرح لوٹا لوٹا ہی رہتا ہے چا ہے اس کو الیکٹ ایبل کے خوبصورت ریپر میں لپیٹ کر پیش کیا جائے۔اندر سے اٹھتی بدبو بتا دیتی ہے کہ خوشنما ریپر میں کوئی گلی سڑی چیز ہے۔بہر حال 25 جولائی 2018 کے عام انتخابات میں ووٹر نے 80 فیصد لوٹوں کو ریجیکٹ کر دیا۔جو باقی بچے ہیں شکست ان کو چھو کر گزری ہے۔ ایک الیکشن اورہو گیا جمہوری عمل تسلسل سے جاری رہا تو یہ سیاسی پرندے ہر سیاسی بیت الخلاء4 میں سفارشیں کرا کے داخل ہونے والے یہ لوٹے نشان عبرت ہوں گے۔ ووٹر نے آزاد الیکشن لڑ کر جیتنے اور پھر اوپن آکشن میں بکنے والے آزاد ارکان کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا ہے۔ عام انتخابات سے پہلے ایک بہت بڑی تھیوری ڈرائینگ روموں اور ٹی وی چینلوں کے یخ بستہ سٹوڈیو میں بیٹھے کٹ پیسٹ تجزیہ نگار وں نے متعارف کرائی۔ بس جی اتنی بڑی تعداد میں آزاد آئیں گے کہ سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ اور پھر یہ آزاد ارکان حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار اداکریں گے۔پھر ایک اور تھیوری،ٹیبل سٹوری گھڑی گئی جیپ سواروں کے متعلق۔کسی ماہر نے جیپ سواروں کو مستقبل کا وزیر اعظم قرار دیدیا۔کسی تجزیہ نگار،ماہر نجوم نے ایک جیپ سوار کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے اہم ترین قرار دیدیا۔انتخابی نتائج نے جیپ سواروں کو نشان عبرت بنا دیا اور خانہ ساز تجزیہ نگاروں کو شرمندہ ہونے کا موقع فراہم کیا۔ یہ اور بات ہے کہ کاروبار تجزیہ نگاری زور شور سے جاری ہے۔ جیپ کا نشان محض ایک اتفاق تھا۔لیکن بات کا بتنگڑ اور رائی کا پہاڑ بنایا گیا۔ جب پہاڑ کو توڑا گیا تو اس میں سے ایک آدھ نیم مردہ چوہا نکلا۔ماضی کے بعض انتخابات میں بھی ایسے ہی ایک دفعہ چاند ستارہ گروپ اورایک مرتبہ تانگہ کے نشان والے اخباری خبروں میں بہت آگے
تھے۔نتائج آئے تو نہ تانگہ رہا اور نہ کوچوان، چاندستارہ رہا نہ اس نشان والے رہے۔ باقی رہا اور ہمیشہ رہے گا تو بس اللہ کا نام لیں۔اب ایک حسرت باقی ہے۔ کبھی نہ کبھی وہ بھی پوری ہو جائے گی۔آج نہ سہی کل، کل نہ سہی تو پرسوں۔یہ فارورڈ بلاک بنانے والے جن کا ضمیر اچانک جاگتا ہے کبھی ڈنڈے کی ضرب سے کبھی نگاہ ناز سے اور کبھی خفیہ التفات سے۔ مینڈیٹ کسی اورپارٹی سے ملتا ہے۔مذکورہ پارٹی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا مقصد ہوتا ہے۔ قوانین اجازت نہیں دیتے۔لہٰذا اچانک اشارہ ہوتا ہے اور راتوں رات فارورڈ گروپ تشکیل پا جاتا ہے۔ اس فارورڈ گروپ کا کردار کیا ہوتا ہے ہر اہم موقع پر قانون سازی ہو یا کسی ضروری معاملہ میں ووٹنگ تکنیکی طریقے
سے غیر حاضر رہنا۔تا کہ پارٹی کی سبکی ہو اور حکمران جماعت کو فائدہ۔ بدقسمتی سے فارورڈ بلاک 1988 میں میاں نواز شریف نے ہی ایجاد کیا تھا پنجاب حکومت کی تشکیل کیلئے۔پیپلز پارٹی کے ارکان کو توڑ کر حکومت بنائی گئی۔جو اب میں تحریک عدم اعتماد نا کام بنانے کیلئے پیپلز پارٹی نے آئی جے آئی کے چند ارکا ن کو توڑا۔ تحریک عدم اعتماد ناکام بنا دی گئی۔لیکن میاں نواز شریف کی ایجاد کردہ یہ سیاسی برائی آج بھی سیاسی جماعتوں کے گلے میں کانٹوں کا ہار بن کر لٹک رہی ہے۔ 2002 میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان کو توڑ کر پیٹریاٹ گروپ بنایا گیا۔ ان بیس ارکان کی مدد سے حکومت سازی کی گئی۔ اور پانچ سال پورے کیے گئے۔ 2008 میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے مشترکہ حکومت قائم کی چند ماہ بعد مسلم لیگ (ن) الگ ہو گئی تو پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ق) کو ساتھ ملا کر حکومت بنائی اور چلائی۔ 2013 میں تحریک انصاف کو شکست ہوئی۔چند ماہ بعد دھاندلی کا واویلا شروع ہوا۔ پی ٹی آئی نے دھاندلی کے خلاف تحریک شروع کی۔دھرنے کا فیصلہ ہوا تو پی ٹی آئی میں بھی فارورڈ بلاک بن گیا۔ یہ فارورڈ بلاک بھی اسمبلی کی مدت تک قائم رہا۔ مسلم لیگ (ن) نے بھی دس سالہ دور حکومت میں فارورڈ بلاک بنوائے۔ ان کو عہدے دیئے اور خوب سرپرستی کی۔ حالیہ انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے پاس اتنی اکثریت موجود ہے کہ وہ ایم ایم اے کو ملا کر حکومت سازی کر سکتے ہیں۔لیکن ایسا نہیں ہو گا۔ کیونکہ فارورڈ بلاک کی تلوار سر پر لٹک رہی ہے۔ جوکل بو یا تھا آج کاٹنا پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا فی الحال تو پارلیمانی طاقت کو بچانا اصل ترجیح ہے۔
عام انتخابات میں ہارنے والے اکثر الیکٹ ایبلز سے ذاتی سماجی،سیاسی ناطے،رابطے ہیں۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جن لوگوں نے سیاسی بے وفائی کی۔ٹکٹ کے لالچ میں پارٹی کو چھوڑا۔ چوہدری نثار سے لیکر مرتضیٰ ستی تک۔ لیاقت جتوئی سے لیکر جناب صمصعام بخاری تک سب کو ووٹر نے مسترد کر دیا۔ اس سے زیادہ مثبت بات اور کیا ہو گی۔ عوام کا شکریہ۔ ووٹر کو سلام ۔


ای پیپر