سیاسی تبدیلی
01 اگست 2018 2018-08-01

تحریک انصاف کی انتخابی کامیابی کی صورت میں ملک میں ایک بار پھر سیاسی تبدیلی برپا ہو چکی ہے۔ اسی طرح کی تبدیلی 2008 اور2013ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں بھی برپا ہوئی تھی۔ ایک جماعت کی حکومت ختم ہوئی اور اس کی جگہ دوسری جماعت کی حکومت نے لے لی۔ 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت برسراقتدار آئی تھی اور مسلم لیگ (ق) کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس طرح 2013ء میں پیپلز پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور مسلم لیگ (ن) برسراقتدار آئی جبکہ 2018ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور تحریک انصاف حکومت بنانے جا رہی ہے۔

تحریک انصاف چونکہ پہلی بار عام انتخابات میں کامیابی ہوئی ہے اور یہ تبدیلی اور نیا پاکستان کا نعرہ لگا کر برسراقتدار آرہی ہے اس لئے تحریک انصاف کے ووٹروں اور حمایتیوں کو اس سے بہت ساری امیدیں وابستہ ہیں۔ تبدیلی کے تمام تر نعروں اور دعوؤں کے باوجود پاکستان میں ایک بار پھر محض سیاسی تبدیلی رونما ہونے جا رہی ہے جس کے نتیجے میں حکمران جماعت وزیر اعظم ،کابینہ، گورنرز اور چند وزرائے اعلیٰ کے چہرے تبدیل ہو جائیں گے مگر 70 سال سے قائم معاشی ، سماجی ، سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ جوں کا توں موجود رہے گا۔ جبر اور استحصال پر مبنی نظام اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود رہے گا۔

جن لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیئے ہیں ان کو امید ہے کہ پاکستان میں بہت کچھ بدلنے والا ہے۔ خاص طور پر پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد پولیس ظلم کرنا چھوڑ دے گی۔ یہ حکمرانوں کو خوش کرنے کے لئے قانون کی دھجیاں اڑانا بند کر دے گی۔ پٹواری رشوت نہیں لیں گے۔ سرکاری اداروں میں ہر کام میرٹ پر اور قانون کے مطابق ہو گا۔ رشوت اور بدعنوانی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ملک سے تمام مافیا ختم ہو جائیں گے اور اجارہ داریوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ان کا خیال ہے کہ ملک کی معیشت نئی پندیوں اور منازل کو چھو لے گی۔ لاکھوں نئے گھر بنیں گے اور 5 سالوں میں ایک کروڑ ملازمتیں مہیا کی جائیں گے۔

اب سوال یہ ہے کہ محض سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں یہ سب کچھ بدل جائے گا یا اس کے لئے معاشی ، سماجی اور انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی بھی ضروری ہے۔ مگر پہلے 100 کے پروگرام اور تحریک انصاف کے منشور کے مطابق تو موجودہ معاشی ، سماجی ، سیاسی اور انتظامی ڈھانچے میں تو بڑی تبدیلیاں رونما نہیں ہوں گی۔ محض بدعنوان ، نااہل اور مافیا سیاست دانوں کی جگہ نیک نام ، اہل اور محب وطن عوامی سیاستدان سنبھال لیں گے جن کی برکت سے تمام عوامی مسائل حل ہوتے جائیں گے۔

تحریک انصاف کے حامیوں اور کارکنوں کا پورا حق ہے کہ وہ اس فتح کا جشن منائیں اور اس کامیابی کو جو چاہیں نام دیں۔ اسے وہ انقلاب سمجھیں یا موجودہ نظام کی کایا پلٹ مگر حقیقت اپنی جگہ پر موجود ہے اور وہ تلخ حقیقیت یہ ہے کہ حکمران طبقے کے ایک حصے نے دوسرے حصے کو شکست دے دی ہے۔ حکمران طبقے کے ایک حصے کی حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا ہے جس پر بدعنوانی، ملکی خزانے کو بیداری سے لوٹنے، ملک سے غداری اور مذہب سے چھیڑ چھاڑ کے سنگین الزامات عائد کئے گئے۔ اب اس ملک میں حکمران طبقے کا وہ حصہ برسراقتدار کا حصہ رہے ہیں۔ سرمایہ داروں ، جاگیرداروں، قبائلی سرداروں اور نودولتیوں کی ایک حکومت کا خاتمہ ہوا ہے تو اس کی جگہ پر سرمایہ داروں ، جاگیرداروں، بڑے تاجروں، قبائلی سرداروں اور نودولتیوں کی حکومت قائم ہونے جا رہی ہے۔ پاکستان میں دراصل حکمران اشرافیہ کے مختلف حصے سیاسی جماعتوں کے ذریعے اپنا تسلط اور غلبہ قائم کئے ہوئے ہیں۔ اس بات سے خاص فرق نہیں پڑتا کہ کونسی جماعت کی حکومت قائم ہوتی ہے مگر حکمران اشرافیہ کی اجارہ داری اور غلبہ قائم رہتا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت بھی اس اشرافیائی اقتدار کا تسلسل ہے۔ اس حکومت میں بھی حکمران طبقات کے طبقاتی مفادات کا تحفظ کرنے والی پالیسیاں جاری رہیں گی۔ حکمران طبقات کی دولت میں اضافہ جاری رہے گا جبکہ محنت کش عوام کا استحصال بھی جاری رہے گا۔ کم از کم اجرت کے نام پر غلامانہ اجرتوں اور مزدوری کا نظام قائم رہے گا۔ طبقاتی تفریق بڑھتی رہے گی۔ غربت میں اضافہ جاری رہے گا۔ آزاد منڈی کی معاشی پالیسیاں جو اس ملک میں غربت ، بے روز گاری ، افلاس اور طبقاتی تفریق میں اضافے کا سبب ہیں وہ بلا روک ٹوک جاری رہیں گی۔ نیو لبرل ازم اور آزاد منڈی کے حامی دانشور اور ماہرین ہی اس ملک کی معیشت کی بھاگ دوڑ سنبھالیں گے۔ ان کے تجویز کردہ حل اور رد اصلاحات کی بدولت ہی ہماری معیشت اس حال کو پہنچی ہے۔ اس ملک میں بنیادی نوعیت کی ریڈیکل اصلاحات کی ضرورت ہے جو سماجی ، معاشی ، سیاسی اور انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کے ذریعے بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی یہ تھی کہ وہ مروجہ نظام میں بنیادی تبدیلیاں اور اصلاحات متعارف کروانے میں ناکام رہی۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے منشور میں اصلاحات کے حوالے سے جتنے بھی وعدے کئے تھے ان میں سے کوئی بھی پورا نہیں ہوا۔ نہ تو پولیس میں اصلاحات ہوئیں اور نہ ٹیکس نظام میں تبدیلیاں کی گئیں۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے منشور میں انتظامی اور عدالتی اصلاحات کی بھی بات کی تھی مگر اس حوالے سے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے بنیادی معاشی ایجنڈے اور نظریات میں خاص فرق نہیں ہے۔ دونوں کی نظریاتی احساس دائیں بازو کے نظریات اور آزاد منڈی کے نیو لبرل خیالات ہیں جن پر تحریک انصاف کی معاشی پالیسیوں اور اقدامات کی عمارت کھڑی ہے۔

تحریک انصاف اسی طرح حکمران طبقات کی نمائندہ جماعت ہے جس طرح کی جماعت مسلم لیگ ہے۔ پیپلز پارٹی بھی کم و بیش تھوڑے بہت فرق کے ساتھ اسی حکمران طبقے کی جماعت ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت بھی اشرافیہ کی نمائندہ حکومت ہو گی جو اس کے مفادات کے لئے کام کرے گی۔ اس حکومت کا طبقاتی کردار بھی کم و بیش وہی ہو گا جو کہ مسلم لیگ (ن) یا مسلم لیگ (ق) کی حکومتوں کا تھا۔ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی اسی روایتی سوچ کے حامل ہیں جو کہ 70 برس سے اس ملک کے غریب اور محنت کش عوام کو غربت ، جہالت اور معاشی بدحالی میں زندگی گزارنے پر مجبور کرنی ہے۔ تحریک انصاف کی سیاسی تبدیلی پر جشن ضروری منایئے مگر یہ یاد رکھئے کہ یہ محض سیاسی تبدیلی ہے نہ کہ سماجی تبدیلی جو کہ سماج کی طبقاتی ہیت کو تبدیل کرتی ہے۔


ای پیپر