میاں نواز شریف کا سیاسی مستقبل
01 اگست 2018 2018-08-01

میاں نواز شریف کو پاکستان کی سیاست میں مقدر کا سکندر کہا جاتا ہے مگر بخت کسی کی جاگیر نہیں۔ ان کے مقدر کو سورج نصف النہاد ہے جیسے ہی ڈھلنے کی جانب بڑھا اس کی رفتار میں تیزی آگئی ہے اور لگتا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں میاں صاحب کے حصے کا رزق پورا ہو چکا ہے۔اس وقت انہیں سیاست اور صحت کے معاملات میں بحران کا سامنا ہے اور معاملات نا قابل واپسی کا پتہ دے رہے ہیں اس سے پہلے یہ ہونا تھا کہ وہ سیاسی بحران کے بعد پہلے ست زیادہ طاقتور بن کر واپس آتے تھے ایسا پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ان کی زوال پزیری طویل بلکہ دائمی نظر آنے لگی ہے۔

البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اقتدار سے سبکدوشی کے بعد میاں صاحب کی come back کرنے کی جدوجہد ان کی مزاحمتی سیاست کانقطہ کمال تھا ایک سال کا یہ عرصہ جو جی ٹی روڈ کے مجھے کیوں نکالا مارچ سے شروع ہوا تھا وہ ان کی اڈیالہ روانگی تک پورے جوش اور ولولے سے جاری رہا۔آخری سٹیج پر انتخابت میں لگتا تھا کہ ان کی جماعت پانسہ پلٹ دے گی مگر یہ نہ ہو سکا۔ ان کی لاہور آمد کو تاریخی بنانے کے لیے ان کی پارٹی کسی کارکردگی کا مظاہرہ کیے بغیر منتشر ہو گئی جو پارٹی کے لیے انتخابات کے موقع پر ایک ناکامی ثابت ہوئی۔ میاں صاحب کو ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ ان کی معزولی کے بعد حادثاتی طور پر پارٹی کی باگ ڈور انہیں شہباز شریف کے حوالے کرنا پڑی جس پر وہ قطعی راضی نہ تھے کیونکہ ان کا عدف یہ تھا کہ وہ مریم نواز کو اپنی جانشین دیکھنا چاہتے تھے۔ انتخابات کے نتائج نے ثابت کیا کہ شہباز شریف کی قیادت میں وہ کرشم شازی نظر نہیں آئی جو میاں نواز شریف کی شخصیت کا خاصہ تھی وہ عوامی جلسوں میں اپنی مائیک توڑ پرفارمنس کے باوجود وہ مقام نہ حاصل کر سکے جو (ن) لیگ کے چاہنے والون نے نواز شریف کو دے رکھا تھا۔ بلکہ کئی موقوں پر تو شہباز شریف کا گراف مریم نواز سے بھی نیچے نظر آیا۔ بطور پارٹی سربراہ شہباز شریف کو میاں صاحب اور مریم کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ ان کی ریلیوں جلسوں عوامی اجتماعات اور آخر میں وطن واپسی کو وجہ سے (ن) لیگ کی سیٹوں میں خاصا اضافہ ہو گیا اگر میاں نواز شریف الیکشن کے آخری ایام میں پاکستان نہ آتے تو شاید (ن) لیگ کی سیٹوں کی تعداد اس سے بھی کم ہوتی۔

پاکستان کی سیاست نے کسی کے ساتھ وفا نہیں کی لہٰذا میاں نواز شریف بھی اس سے استثنیٰ نہ حاصل کر پائے۔ پارٹی نے جب دیکھا کہ ان کے قائد کے دن گنے جا چکے ہیں تو ایک بڑی تعداد نے (ن) لیگ کو ڈوبتا ہوا جہاز سمجھ کر سمندر میں چھلانگیں لگانا شروع کر دیں۔ بہت سے لوگ مخالفین کے کیمپ میں جا گھُسے جہاں انہیں

خوش آمدید کہا گیا یہ لوگ اگر فرار کا راستہ اختیار نہ کرتے تو شاید نتیجہ کچھ نہ کچھ مختلف ہوتا۔ لیکن اس پیش رفت میں میاں صاحب کے لیے بھی عبرت کا سامان ہے کیونکہ 2013 ء میں (ق) لیگ پر راتوں رات مارے جانے والے شب خون کو ماسٹر مائنڈ وہ خود تھے چوہدری برادران سے میاں صاحب کی نفرت کا یہ عالم تھا کہ سوائے ان کے پوری کجی پاری (ق) لیگ معافی مانگ کر تمام تر مشکلات کے باوجود اپنا پارٹی تشخص برقرار رکھا۔ میاں صاحب کو تو شاید اڈیالہ میں یہ خبر بعد میں پتہ چلی ہو گی کہ جن چوہدری برادران کو وہ دیکھنا گوارا نہیں کرتے تھے ان کے جانشین شہباز شریف نے پنجاب میں حکومت سازی کی کوشش میں چوہدری صاحب کو صلح کے پیغامات روانہ کیے جو ٹھکرا دیے گئے۔

الیکشن کے نتائج کے بعد میان نواز شریف نہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ انہوں نے واپس آ کر غلطی کی ہے ان کی جماعت اگلے پانچ سال کے لیے اپوزیشن میں بیٹھے گی اور انہیں اپنی سزا اور اس ضمن میں مزید مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ میاں صاحب کے سیاسی status میں جس تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اس میں اخباری تجزیات پیچھے رہ جاتے ہیں اور خبریں آگے نکل جاتی ہیں اس وقت جبکہ وہ اڈیالہ جیل سے صحت کی وجوہات کی بناء پر پمز ہسپتال منتقل ہو چکے ہیں ہو سکتا ہے یہ کالم شائع ہونے تک دہ ایک دفعہ پھر اپنی جگہ تبدیل کر لیں۔

کچھ اسی طرح کی خبریں مل رہی ہیں کہ انہیں علاج کے لیے لندن روانہ کرنے کا ساچا جا رہا ہے۔ یہ بھی شنید ہے کہ یہ کام دانستہ طور پر نگران حکومت کے دور میں انجام پزیر ہو گا تاکہ نئی حکومت پر ڈیل کا الزام نہ لگے۔ کھوجی حضرات نے تو سعودی سفیر کی عمران خان سے ہونے والی ملاقات کو بھی پمز سے نتھی کیا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ میاں نواز شریف کی سہولت کاری کے عوض نئی حکمران جماعت کو پنجاب میں حکومت سازی میں جوابی سہولت کاری کی پیش کش کسی میز پر موجود ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے اگر اس دفعہ میاں نواز شریف اس مرحلے پر منظر سے ٹسنے اور آف شور زندگی گزارنے پر آمادہ ہو گئے تو یہ ان کی سیاست کا غروب آفتاب ہو گا۔

دوسری طرف ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ ایون فیلڈ کے وہ فلیٹ جن کا منی ٹریل نہ ہونے کی وجہ سے میاں صاحب کو جیل ہوئی ہے میاں صاحب نے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے اس کو خالی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے ان فلیٹس کے سامنے مظاہرے کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا گو وہ رک چکا ہے مگر یہ کسی بھی وقت پھر شروع ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی جس محل کی وجہ سے میاں صاحب کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑا وہ ان کے لیے کوئی نیک شگون یہ سکون کو زریعہ نہیں بن سکتا لہٰذا شریف فیملی نے ان محلات کو چھوڑنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ میاں صاحب کی زندگی کے نشیب و فراز بڑے گہرے ہیں کہاں رائے ونڈ سے ایون فیلڈ تک پھیلے ہوئے محلات اور کہاں اٹک قلعے سے اڈیالہ جیل تک قیدو بند اور عقوبت خانے۔

راج نیتی کے اس خطرناک کھیل میں تاریخ کو مریم نواز کے ساتھ ہمدردی کی ضرورت ہے۔ میاں نواز شریف کی یہ بد قسمتی تھی کہ وہ اتنی بھاری اکثریت اور پارٹی پر مکمل کنٹرول کے باوجود اپنے بچوں کو سیاست میں نہ لا سکے۔ ان کے دونوں بیٹے تو سیاست کے لیے مطلوبہ calibre نہیں رکھتے تھے جس وجہ سے قرئحہ فال مریم کے نام نکلا لیکن اس پر ان کا ہوم ورک مکمل نہیں تھا ۔ جس کی وجہ سے مریم نواز پرواز سے پہلے ہی حالات کا شکار ہو گئی۔ شریف خاندان نے مریم کے ساتھ زیادتی کی اور حسن اور حسین نے اپنی جگہ پر مریم کو پھنسا دیا ہمارے مشرقی کلچر میں بیٹیوں کو ایسی آزمائش سے دور رکھا جاتا ہے اور اگر بات یہاں تک آجائے تو فیملی کے میل ممبرز اپنی خواتین کو جیل سے بچانے کے لیے ان کا جرم بھی اپنے اوپر لی لیتے ہیں لیکن مریم نواز کے معاملے میں حقیقت اس کے بر عکس ثابت ہوئی۔

میاں صاحب کو اپنے ہر دور حکومت میں سڑکیں بنانے کا شوق لے ڈوبا ان کا سارا زور اس بات پر تھا کہ ملکی ترقی کا راز سڑکوں کی تعمیر میں ہے حالانککہ قوموں کی تعمیر کا نصب العین سڑکوں کی تعمیر سے کہیں زیادہ اہم ہوتا ہے۔ جب ملک میں صحت تعلیم روزگار زراعت کاروبار کے مواقع سکڑتے جائیں گے تو ان موٹرویز کو قوم کیا کرے گی میٹروبس اور اورنج ٹرین کی اہمیت اپنی جگہ مگر بھوکے کو تو موٹروے نہیں بلکہ روٹی درکار ہوتی ہے۔ میاں نواز شریف کا تعلق ایک بہت بڑے کامیاب کاروباری گروپ سے تھا جو ہر دم ترقی کی نئی منازل طے کرتا جا رہا تھا مگر جب وہ ملک چلاتے تھے تو قومی ایئر لائن قومی سٹیل ملز قومی ریلوے سب خسارے میں جاتے تھے۔ ملک کا گردشی قرضہ 500 ارب سے 1000 ارب عبور کر گیا ان کی حکومت آخری دور حکومت میں تاریخ کا بھاری قرض لیا گیا اور ملک کا معاشی خسارہ بلند ترین رہا۔ کرپشن نے ملک کے نظام کو اپنی بے رحم گرفت میں جکڑے رکھا اور عوام کا معیار زندگی اور عزت نفس نچلی سطح پر پہنچ گئی۔ لیکن تاریخ کا ستم یہ ہے کہ ان کے چاہنے والے آج بھی اسی طرح عشق کرتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ وقت کا قاضی میاں نواز شریف کی تقدیر کے فیصلے میں کیا لکھتا ہے۔ بقول شاعر

حُسن والے حُسن کا انجام دیکھ

ڈوبتے سورج کو وقت شام دیکھ


ای پیپر