مروت، محبت ۔۔۔ آل ویز ویلکم۔۔۔؟؟
01 اگست 2018 2018-08-01

شکریہ ۔۔۔

میں نے ’’ آل ویز ویلکم ‘‘ کے جواب میں کہا ۔۔۔ تو وہ نوجوان مسکرا دیا ۔۔۔ اُس نے ہاتھ ملانے کے لیے بڑھایا تو میں نے بھی بادلِ نخواستہ ’’شیک ہینڈ‘‘ کیا تو اُس نے ہاتھ پکڑے پکڑے تعارف کرانا شروع کیا ۔۔۔

’’میں سر ملا خان داد سرخیلی پشاور سے ہوں ۔۔۔ میں نے دو بار میٹرک کیا ہے ۔۔۔ اک بار پشور سے ، اک بار لاہور سے ۔۔۔ (میری اُس سکیورٹی گارڈ میں دلچسپی بڑھ گئی ۔۔۔!)

’’یا اللہ خیر ۔۔۔‘‘ میرے منہ سے نکلا اور میں سوچ میں پڑ گیا۔ میں نے دو ایم۔اے کر رکھے ہیں اور میں اس پر دل ہی دل میں شرمندہ ہوں۔ مجھے اپنے دو ایم۔اے ایسے لگتے ہیں جیسے میں نے دو شادیاں کر رکھی ہوں (آج کے دور میں بظاہر دو شادیاں محبوب سمجھی جاتی ہیں اور درپردہ چالیس فیصد مردوں نے یہ ’’محبوب‘‘ کام کر بھی رکھا ہے)۔ مجھے ہمیشہ دو ایم۔اے کرنے والے (اپنے سمیت) بُرے لگتے ہیں۔ میرا فلسفہ یہ ہے کہ بندہ کسی ایک مضمون میں ایم۔اے کر لے پھر اُسی مضمون میں مزید کوئی اعلیٰ ڈگری لے لے یا صبر شکر کر کے بیٹھ جائے ۔۔۔ کیونکہ استاد کمر کمانی جہاں بھی جا کے اپنا تعارف تین ایم۔اے کے ساتھ کرواتا ہے لوگ اسے کئی بار سر سے پاؤں تک دیکھتے ہیں ۔۔۔

یہاں تو ملا خان داد سرخیلی مل گیا جو چار گلیوں کا اکیلا ہی چوکیدار ہے اور خیر سے اُس نے دو بار میٹرک کر رکھا ہے ۔۔۔ ہے ناں ’’بد مزگی‘‘ کی بات ۔۔۔

’’ آل ویز ویلکم ‘‘ ۔۔۔ (میں نے سنجیدگی سے کہا) ۔۔۔ آپ نے خیر سے یہ دو بار میٹرک کیوں کیا ۔۔۔ کیا پشاور میں کوئی فاونٹین ہاؤس جیسا ادارہ نہیں ہے ۔۔۔؟ ‘‘ اُسے میرا اس سوال میں چھپا طنز سمجھ نہ آیا ۔۔۔ اُس نے مسکراتے ہوئے جواب میں پھر بڑی گرمجوشی سے کہا ۔۔۔

’’ آل ویز ویلکم جی‘‘ ۔۔۔ میں سمجھ گیا کہ ملا خان داد سرخیلی کو گائیڈ کرنا چاہئے ۔۔۔ بنیادی طور پر یہ اس پیشے کے لیے فٹ نہیں ہے جو اس نے اپنا لیا ہے ۔۔۔ اُس کی نظروں میں ’’حیا‘‘ ہے ۔۔۔ وہ چوروں/ نونسر بازوں کی بھی احترام سے ملتا ہو گا ۔۔۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا ۔۔۔

مجھے ’’جنت‘‘ یاد آ گئی (مجھے بڑی دفعہ یہ خواہش ہوئی ہے کہ میں والدین سے کہوں کہ ایسے نام نہ رکھا کریں جن کا تذکرہ کرتے ہوئے بندے کو ادب احترام کرنا پڑتا ہے اور ہزار دفعہ اچھی ۔۔۔ بری بات کرنے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے لیکن کیا کریں ۔۔۔ ’’جنت‘‘ ہمیں بہر حال عزیز تو ہے ناں ۔۔۔؟)

مہینے دو مہینے بعد اُس کا پارہ چڑھ جاتا ہے اور وہ غصے میں جو منہ پر آئے کہہ دیتی ہے بولتی چلی جاتی ہے جب آپ ترکی بہ ترکی جواب نہ دیں تو ایک گھنٹے میں چپ کر جاتی ہے اور اگر آپ جواب سوال کے چکر میں پڑ جائیں تو پھر تین چار گھنٹے اس کا پارہ چڑھا رہتا ہے اور دادا جان جو غلطیاں کر کے دنیا سے چلے گئے وہ بھی آپ کے کھاتے میں ڈال دیتی ہے اور آپ کا بھرکس نکال دیتی ہے ۔۔۔ اگر اُس کی بہت سی تلخ باتوں پر چپ رہیں اور مذاق میں کہیں کہ ’’ ۔۔۔ اور کچھ ۔۔۔‘‘ تو ہنس دیتی ہے اور غصے میں کہتی ہے ۔۔۔ ’’ آل ویز ویلکم ‘‘ اور آپ شرمندہ ہو جاتے ہیں ۔۔۔ اور پھر محبت سے رونے لگتی ہے ۔۔۔

اس سال ٹریجیڈی یہ ہوئی کہ جس دن اُس کا میٹرک کا رزلٹ تھا اُس دن اُس کی سالگرہ بھی تھی ۔۔۔ نہ (میرے سمیت) کسی نے سالگرہ پر ’’وش‘‘ کیا نہ ہی رزلٹ پر مبارک دی (بھلا فیل ہونے پر بھی مبارکباد بنتی ہے ۔۔۔؟)

ملا خان داد سرخیلی نے بتایاکہ میں نے پشاور بورڈ سے میٹرک کا امتحان دیا تو لاہور یہ ’’جاب‘‘ مل گیا اور میں بھول گیا ۔۔۔ کہ رزلٹ بھی آئے گا ۔۔۔ لاہور آ کے میں نے سوچا بڑے شہر میں آ گیا ہوں اعلیٰ تعلیم حاصل کر لینی چاہئے۔ موقع ہاتھ سے کیوں جانے دوں ۔۔۔؟ لاہور بورڈ سے میں نے میٹرک کا امتحان دیا اور پھر بھول گیا ۔۔۔

ایک سال بعد میں پشور گیا تو امّاں نے بتایا کہ مبارک ہو تمہارا میٹرک کا رزلٹ آیا پڑا ہے ۔۔۔ میں نے خوشی خوشی رزلٹ کارڈ چیک کیا تو بڑی خوشی ہوئی کہ میں دونوں مضامین اردو اور انگلش میں پاس تھا ۔۔۔

اور باقی مضامین ۔۔۔؟؟ میں نے آہستہ سے پوچھا ۔۔۔ تو اُس نے منہ دوسری طرف کر لیا ۔۔۔ مظفرؔ صاحب وہ بھلا زندگی میں کہاں کام آتے ہیں ۔۔۔؟؟ (اب الجبراء کا چوکیدارے سے کیا تعلق ۔۔۔؟) اردو اور انگلش میں پاس ہو جانا ہی کافی ہے ۔۔۔ پھرمیں چھٹی گزار کے واپس آیا تو یہاں بھی رزلٹ کارڈ پڑا تھا ۔۔۔ کیا حسن اتفاق ہے کہ لاہور بورڈ نے بھی مجھے پاس کر دیا ۔۔۔ یہاں بھی بورڈ کے عملے میں لگتا ہے کچھ اچھے لوگ ہیں ۔۔۔؟

صرف اردو اور انگلش میں ۔۔۔؟؟ میں نے پوچھا تو وہ ہنس کے بولا ۔۔۔ آپ نے ٹھیک سمجھا ۔۔۔؟

اس دوران ایک ہٹا کٹا بندہ پاس سے گزرا اور اُس نے ملا داد خان سرخیلی کو محبت سے سلام کیا ۔۔۔ تو اُس نے کھڑے ہو کر وعلیکم السلام بھی کی اور محبت سے بولا ۔۔۔ ’’ آل ویز ویلکم ‘‘ دس منٹ بعد میں نے ہٹے کٹے کو پاس سے بھاگتے دیکھا تو سمجھ نہ پایا ۔۔۔ کیا ماجرا ہے ۔۔۔ دو خواتین پیچھے سے بھاگتی ہوئی ہانپتی کانپتی آئیں ۔۔۔ ’’یہ ہٹا کٹا ۔۔۔ ہمارا پرس چھین کر بھاگ گیا ہے ۔۔۔‘‘ پکڑو ۔۔۔ اسے ۔۔۔ وہ چیخیں ۔۔۔ مگر ہٹا کٹا ۔۔۔ نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا ۔۔۔ پرس میں بیس ہزار روپے اور دو موبائل فون تھے ۔۔۔ وہ روتے ہوئے بولیں ۔۔۔

میں نے ملا خان داد سرخیلی سے کہا ۔۔۔ خان بھاگ کر اس چور کے بچے کو پکڑو ۔۔۔

جانے دو مظفرؔ بھائی ۔۔۔ یہ ہٹا کٹا روز ہی یہاں سے مجھے ادب سے سلام کر کے گزرتا ہے ۔۔۔ اخلاق کا بڑا اچھا ہے یہ ۔۔۔ پھر کبھی گزرے گا تو پکڑ لوں گا ۔۔۔ ’’ہائیں‘‘ ۔۔۔ کیا رحمدلی ہے ۔۔۔؟

اس دوران میری نظر ملا خان داد سرخیلی کے بہت پیارے موبائل پر پڑی ۔۔۔ وہ اُن دو عورتوں کی تسلی کروانے میں مصروف تھا ۔۔۔ دل چاہا کہ جیب میں ڈال کے نکل جاؤں مگر پھر خیال آیا کہ اس پڑھے لکھے سکیورٹی گارڈ کی نظروں میں میرا امیج خراب ہو جائے گا اور وہ غصے میں لاہور چھوڑ کے کراچی نہ چلا جائے (تیسری بار میٹرک کرنے) ۔۔۔ ورنہ اس کا موبائل میری دسترس میں تھا ۔۔۔ اور منہ میں پانی بھی آ رہا تھا ۔۔۔ اُس کا موبائل دیکھ کے ۔۔۔

چار پانچ دن بعد میرا وہاں سے دوبارہ گزر ہوا تو وہ مجھے دور سے ہی دیکھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔ محبت سے ملا ۔۔۔

سر وہ ہٹا کٹا خود ہی کل آ گیا تھا ۔۔۔ بڑے پیار سے ملا تھا ۔۔۔ ملا داد خان سرخیلی نے ہنستے ہوئے بتایا ۔۔۔ میں نے اُس کو بہت ڈانٹا اور ڈرایا بھی ۔۔۔ وہ چپ رہا ۔۔۔ شرمندہ تھا ۔۔۔ میں نے اُس سے وعدہ لیا کہ وہ آئندہ ایسی غلیظ حرکت کبھی نہیں کرے گا ۔۔۔ عورتوں سے پرس چھننا برُی بات ہے ۔۔۔ ویسے بھی ہمیں عورتوں کا ’’احترام‘‘ کرنا چاہئے ۔۔۔؟

’’اُس کو پولیس کے حوالے کرتے ناں آپ ۔۔۔‘‘ میں نے کہا تو وہ بولا ۔۔۔

مظفرؔ صاحب وہ پھر آ جائے گا ۔۔۔ اگر باز نہ آیا تو اب کی بار میں اُسے نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔ میں چلنے لگا تو خان بولا ۔۔۔ مظفرؔ صاحب سنیں تو ۔۔۔ ’’جی جی‘‘ وہ ہٹا کٹا فلاں ڈھمکاں کل جاتے ہوئے میرا نیا خوبصورت موبائل چرا کے لے گیاجو میں نے قسطوں پر لیا تھا ۔۔۔ ابھی اُس کی صرف دو قسطیں ادا کی ہیں ۔۔۔ چالیس قسطیں باقی ہیں ۔۔۔؟ ملا داد خان سرخیلی نے پریشانی میں بتایا ۔۔۔ میری بردادشت کی حد ختم ہو گئی ۔۔۔ ہٹے کٹے بھی یہاں ہیں اور ملا خان داد سرخیلی بھی اِدھر ہی رہیں گے ۔۔۔ نہ یہ بدلیں گے نہ وہ ۔۔۔

میں نے ملا داد خان سرخیلی سے اجازت چاہی ۔۔۔ اُس نے دودھ پتی منگوا رکھی تھی ۔۔۔ میں نے کھڑے کھڑے وہ پی ۔۔۔ اس دوران ہٹا کٹا نئی بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکل پر گزرا ۔۔۔ اُس نے رُک کر ملا داد خان سرخیلی کو سلام کیا ۔۔۔ ملا داد خان سرخیلی نے نہایت ادب سے سلام کا جواب دیا ۔۔۔ نئی موٹر سائیکل کی مبارک باد دی ۔۔۔ اُس نے شکریہ ادا کیا تو ملا داد خان سرخیلی محبت سے بولا ۔۔۔

’’ آل ویز ویلکم ‘‘ ۔۔۔ "Always Welcome"

اور میں ’’شرمندگی‘‘ سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا ۔۔۔


ای پیپر