الیکشن 2018ء سے میں نے کیا سیکھا
01 اگست 2018 2018-08-01

الیکشن 2018ء مکمل ہو گیا ہے لیکن جاتے جاتے بہت سے سبق دے کر گیا ہے۔ اس الیکشن نے مجھے کیا کچھ سکھایا ہے آئیے ایک نظر اس پر ڈالتے ہیں۔ اس الیکشن سے میں نے سیکھا ہے کہ ملک پاکستان کی عوام کی پہلی ترجیح ذاتی انا کی تسکین ہے، دوسری ترجیح سیاسی پارٹی ہے اور آخری ترجیح ملک پاکستان ہے۔ مثال کے طور پراگر کوئی شخص آپ کو نا پسند ہے اور وہ ن لیگ یا تحریک انصاف کو پسند کرتا ہے تو آپ اپنی ذاتی اناکی تسکین کے لیے ن لیگ یا تحریک انصاف کے مخالف ہو جاتے ہیں۔ اور اس حقیقت سے قطعہ نظر کے ن لیگ یا تحریک انصاف اچھی ہے یا بری آپ اسے ہر لحاظ سے برا ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ برا ثابت کرنے کے عمل میں ملک کے فائدے اور نقصان کا رتی برابر بھی خیال نہیں آتا اور آپ کو اس عمل سے جو واحد فائدہ حاصل ہوتا ہے وہ ہے آپ کی جھوٹی انا کی تسکین۔ میں نے سیکھا کہ سیاسی پارٹیوں کے اکثر سپورٹر اپنی پارٹی اور پارٹی رہنماؤں کے صحیح فیصلوں کے ساتھ غلط فیصلوں کو بھی سپورٹ کرتے ہیں۔ چاہے وہ فیصلے ملک پاکستان کے لیے کتنے ہی نقصان دہ کیوں نہ ہوں۔ اس سپورٹ کی وجہ ان کی پارٹی رہنماؤں سے محبت نہیں بلکہ محالف سپورٹروں کے سامنے خود کو سچا ، ذہین، سمجھداراور اعلی ترین ثابت کرنا ہے تاکہ ذاتی انا کو تسکین مل سکے۔

میں نے سیکھا کہ ملک پاکستان میں پارٹی رہنماؤں کی تقلید کرنے کے پیچھے ان کے کام یا پالیسی کا بھی کوئی عمل دخل نہیں ہوتا بلکہ زیادہ تر ورکر پیسوں اور چند معمولی فائدوں کے عوض کسی پارٹی کو سپورٹ کرتے ہیں۔ جب وہ ایک مرتبہ کسی پارٹی کو سپورٹ کرتے ہیں تودوسرے پارٹی کے سپورٹر ان کے حریف بن جاتے ہیں۔ جب دونوں پارٹیوں کے سپورٹر آمنے سامنے ہوتے ہیں تو ہر کوئی اپنی پارٹی کے رہنما کو ہیرو اور دوسری پارٹی کے رہنما کو زیرو ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں اور اس امر کی تکمیل کے لیے وہ تمام اخلاقی حدیں بھی پار کر جانے کو اپنا اعزاز سمجھتے ہیں۔ لیکن اس سپورٹ کرنے کی وجہ ان کی پارٹی رہنماؤں سے محبت نہیں ہوتی بلکہ ذاتی انا کی تسکین ہوتی ہے۔ ۔

میں نے یہ بھی سیکھا کہ ہمارا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے ملک کے ان پڑھ، جاہل، مزدور، بھکاری، ماشکی، ہوٹلوں کے چھوٹے، ویگنوں کے کنڈیکٹر، ریلوے کے کلی، دفتروں کے چپڑاسی، ورکشاپوں کے مُ نے ، چوہدریوں کے کامے، وڈیروں کے ہاری اور ٹرک ڈرائیور جیسے طبقے کے لوگ تعصب کا شکار ہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کے پڑھے لکھے، سمجھ بوجھ رکھنے والے، دین اور دنیا کا ادراک کرنے والے، مثبت سوچ رکھنے کا درس دینے والے، صحیح اور غلط کی تمیز رکھنے والے، دوسروں کو ہر وقت نصیحت کرنے والے،صبر اور شکر کابھاشن دینے والے، متوازن سوچ کا درس دینے والے، دوسروں کی برائیوں کو نظر انداز کر کے ان کو اچھائیوں کی طرف دیکھنے کی تائید کرنے والے دو دو حج اور چار چار عمرے کرنے والے اور خود کو اللہ اور اللہ کے رسول کے دین کا ٹھیکیدار سمجھنے والے لوگوں میں کسی مخصوص گروپ، پارٹی یاشخص کے متعلق تعصب کی نظر کا موجود ہونا ہے۔ یہ لوگ خود کو نیوٹرل کہتے ہیں لیکن آپ جیسے ہی ان کے پسندیدہ سیاسی لیڈر یا شخص کے متعلق کوئی اعتراض اٹھائیں گے تو ان کا سارا گیان، علم ، نیوٹرل ہونے کا دعوی، صبر کرنے کی نصیحتیں اور مثبت سوچ رکھنے کا دعوی سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ہوا میں اڑ جاتا ہے اور وہ آنکھیں پھاڑ کر، اپنی جگہ سے اچھل کر، دونوں ہاتھوں اورپیروں کا استعمال کر کے اپنے پسندیدہ شخص اور پارٹی کو ہیرو اور اپنے ناپسندیدہ شخص اور پارٹی کو زیرو ثابت کرنے کی کوششوں میں لگ جاتے ہیں۔اور پھر سینہ تان کر یہ جھوٹ بھی بولتے ہیں کہ ہم تو کسی پارٹی یا شخص کو سپورٹ نہیں کرتے اور یہاں تک کہ یہ جھوٹا دعوی بھی کر جاتے ہیں کہ ہم تو کسی سے بھی تعصب نہیں رکھتے۔

میں نے سیکھا کہ ہمیں تنقید برائے تنقید نہیں کرنی چاہیے۔ تنقید اس طرح کی جانی چاہیے کہ اس میں اصلاح کا پہلو ہو۔ تنقید برائے اصلاح قوموں کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ لیکن اگر آپ تنقید صرف اس لیے کر رہے ہیں کہ آپ نے اپنی نفرت اور بغض کا اظہار کرنا ہے تو وہ تنقید آپ کو بھی برباد کر دے گی اور آپ سے محبت کرنے والوں اور آپ کی عزت کرنے والوں کو بھی آپ سے دور کر دے گی۔آپ کی پسند یا ناپسند کا معیار کسی کی شکل یا سنی سنائی باتیں نہیں ہونا چاہیے بلکہ کسی سیاسی جماعت یا سیاسی شخص کو پسند یا نا پسند کرنے کے لیے اس کی اچھائیاں اور برائیاں ایک مرتبہ ضرور دیکھ لیں۔ میں نے یہ سیکھا کہ آپ نئی سیاسی قیادت کو وقت دیں۔ آپ انھیں اپنی خواہشوں کا شکار مت بنائیں۔ اگر آپ کی سوچ کے مخالف پارٹی الیکشن جیت گئی ہے تو آپ اگلے ہی لمحے یہ مت کہنا شروع کر دیں کہ آپ نے تو مدینہ کی ریاست بنانے کا دعوی کیا تھا تو بتائیں کتنے دنوں میں مدینہ کی ریاست بنا کر دیں گے؟ آپ فورا ہی یہ مطالبہ مت کردیں کہ تین سو ڈیم کب بنائیں گے؟ آپ اگلے ہے لمحے یہ مت کہنا شروع کر دیں کہ آپ تو بڑی بڑی باتیں کرتے تھے اب دیکھتے ہیں کہ آپ کتنے پانی میں ہیں؟ آپ یہ مت کہیں کہ اس قیادت نے کچھ نہیں کرنا اس نے ناکام ہو جانا ہے۔ آپ یہ مت کہیں کہ یہ امریکہ اور روس کے ایجنٹ ہیں، آپ یہ مت کہیں کہ انھوں نے مدینہ کی ریاست کہاں بنانی ہے بلکہ اپنے بنی گالہ کے محل میں سویمنگ پول بنا کر عیاشی کریں گے۔آپ کی اس طرح کی باتیں جہاں سیاسی قیادت کو دل برداشتہ اور مایوس کرتی ہیں وہاں آپ کے امیج کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ آپ کی رائے محترم ہونے کی بجائے متنازعہ ہو جاتی ہے

میں نے سیکھا ہے کہ سیاسی قیادت کو وقت دینا چاہیے۔ ان کی کارکردگی کو مانیٹر کریں۔ ان کے مسائل اور وسائل کو سامنے رکھیں اگر انھوں نے کچھ دعوے کیے ہیں تو آپ ان دعوں کی تکمیل کے لیے انھیں سپورٹ کریں۔ انھیں ہمت دیں کہ آپ قدم بڑھائیں ہم آپ کیساتھ ہیں۔ آپ ہر وقت اپنی مخالف سیاسی قیادت کے خلاف تنقید کے لیے مواد اکٹھا کرنے کی بجائے اپنی طاقت انھیں مسائل کے حل کے لیے تجاویز دینے پر لگائیں اور آپ کے ارد گرد جو لوگ ہیں انھیں بھی ملکی مسائل کے حل کے لیے اپنا اپنا حصہ ڈالنے کی تلقین کریں۔ آپ انھیں پانچ سال دیں۔ اگر آپ پانچ سال میں ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوتے تو آپ ان پر مثبت تنقید کریں اور ان کے خلاف ووٹ ڈال دیں جو آپ کا جمہوری حق ہے۔

اس طرح کے عمل سے ہی ہم اپنے معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکیں گے۔ ورنہ جانوروں کی طرح لڑتے اور کتوں کی طرح بھونکتے ملک پاکستان کی عوام کو ستر سال ہو گئے ہیں۔ہم آج بھی بے چین اور مضطرب ہیں۔ ہم آج بھی بے صبرے ہیں۔ ہم آج بھی ایک ہی لمحے میں بغیر کسی وجہ کے آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ہم آج بھی چھوٹی سی بات پر ایک دوسرے کا گریبان پکڑ لیتے ہیں۔ ہم آج بھی جھوٹی اناوں کی حفاظت کے لیے ملک کا نقصان کر دیتے ہیں۔ گویا ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں زمانہ جاہلیت میں لوگ کھڑے تھے۔ گویا ہم نے چودہ سو سال کی اسلامی تاریخ اور ستر سال آزادی کے بعد بھی کچھ نہیں سیکھا ہے۔


ای پیپر