الیکشن2018ء:بلیم گیم سے نمبر گیم تک
01 اگست 2018 2018-08-01

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گٹررز نے پاکستان میں انتخابات مکمل ہونے پر عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نئی حکومت کے قیام کے منتظر ہیں۔ان کے ترجمان اسٹیفن دجارک کی جانب سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ’ووٹ ڈالنے کے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے عوام نے ایک جمہوری پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا،قوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے انتخابات کے انعقاد، خواتین کی تربیت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور خواتین کی شمولیت، خصوصی افراد اور دیگر کو پہلی مرتبہ انتخابی عمل میں شامل کرنے پر الیکشن کمیشن کی تعریف کی تھی اور کہا کہ ’’ ’اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نئی حکومت کے قیام کے منتظر ہیں اور پاکستان کے عوام کے لیے مستحکم، جمہوری اور خوشحال مستقبل میں کامیابی کے خواہاں ہیں‘۔پاکستان میں منعقدہ عام انتخابات کے لیے آ ئے ہوئے ا یورپی یونین مبصر مشن نے ملک میں تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے قوانین موجود ہونے کے باوجود انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم نہ کیے جانے کی نشان دہی کی تھی۔ یہ امر لائق توجہ ہے کہ صدر مملکت ممنون حسین نے انتخابات میں گھروں سے نکل کر بڑھ چڑھ کر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے پر پاکستانی قوم کی تعریف کی تھی۔حکومت پاکستان کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی گئی جس میں کہنا تھا کہ’ صدر پاکستان نے انتخابات کے لیے پاکستانیوں کے جذبے کی تعریف کی ہے‘۔ اسی دوران انتخابات میں واضح برتری حاصل کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نے عوام کو سلام اور انتخاب کی مبارک باد پیش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ’مظلوم عورتوں ،بیواؤں ، یتیموں اور بے سہارا لوگوں کو بھی انتخاب مبارک ہو۔ان کا کہنا تھا کہ اللہ نے آج آپ کو وہ لیڈر دیا ہے جو آپ کا خیال رکھے گا،آپ کا منتخب کیا گیا لیڈر آپ کی حفاظت بھی کرے گا‘۔تاہم پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عام انتخابات 2018 کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے چیف الیکشن کمیشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔۔کراچی میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو رداری نے کہا کہ ’ہم جمہوریت پسند ہیں لیکن انتخابات کو مسترد کرتے ہیں جبکہ چیف الیکشن کمشنر فوری طور پر استعفیٰ دیں۔‘انہوں نے سیاسی جماعتوں کو مشورہ دیا وہ اس وقت پارلیمانی فورم کو نہ چھوڑیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پارلیمان میں جاکر اس معاملے کو اٹھائیں گے اور کل جماعتی اے پی سی کی جماعتوں کو بھی مشورہ دیں گے کہ پارلیمنٹ میں آکر احتجاج کریں۔‘

اسلام آباد میں یورپی یونین مبصر مشن کے سربراہ مائیکل گہلر نے پریس کانفرنس کے دوران ابتدائی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ہم سمجھتے تھے کہ نئے انتخابی بل میں مثبت قانونی تبدیلیوں، مضبوط اور ایک غیر جانب دار الیکشن کمیشن کے ہوتے ہوئے سیاسی ماحول نے 2018 کے انتخابی عمل پر منفی اثرات مرتب کیے‘۔یورپی یونین مبصر مشن نے عام طور پر الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے کردار کو سراہا۔مشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 120 سے زائد یورپی یونین کے مبصرین نے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا (کے پی) اور اسلام اباد کے مختلف 113 حلقوں میں مجموعی طور پر 582 پولنگ اسٹیشنوں کے دورے کیے۔ان کا کہنا تھا کہ پولنگ اسٹیشنز کے اندر اورباہر سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی ہوئی تھی جہاں وہ ووٹرز کے شناختی کارڈ دیکھتے اور انہیں قطار میں کھڑے رہنے کی ہدایت کررہے تھے۔یورپی یونین مبصر مشن کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ انتخابات 'فوج کی سربراہی میں اسٹیبلشمنٹ اورعدلیہ کے بطور سیاسی کردار کی' مداخلت اور اثر انداز ہونے کے الزامات کے پس منظر میں ہوئے۔یورپی یونین مشن نے یہ بھی تجزیہ کیا کہ 'انتخابی حوالے سے مخصوص ٹائمنگ، عدلیہ کے فیصلوں کی تحقیقات کی نوعیت یا پاکستان کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے معاملات پر فیصلوں کو کئی اسٹیک ہولڈرز نے عدلیہ کی سیاست میں مداخلت سے تعبیر کیا'۔یورپی یونین مبصر مشن کے مطابق 'اکثریت نے سابق حکمراں جماعت کو ان کی قیادت اور امیدواروں کے خلاف کرپشن کے مقدمات، توہین عدالت اور دہشت گردی کے الزامات کے ذریعے کمزور کرنے کے لیے منظم کوششوں کا اعتراف کیا'۔

انتخابات کے بعد بلیم گیم سے جو عمل شروع ہوا تھا ، اب وہ نمبر گیم کے حصول کی جدو جہد کے دائرے میں داخل ہوچکا ہے۔ ترجمان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے ق لیگ کی حمایت سے پنجاب میں ارکان کی تعداد 149ہو گئی۔ پنجاب میں حکومت سازی کیلئے تحریک انصاف نے نمبرز پورے کر لئے۔ پنجاب میں 8آزاد امیدوار تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔ آزاد ارکان کی شمولیت سے پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد 141ہو گئی۔ مسلم لیگ ق کے 8ارکان بھی تحریک انصاف کی حمایت کریں گے۔ پی ٹی آئی کو پنجاب اسمبلی میں 123نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب پی ٹی آئی کا ہو گا۔ فیصلہ عمران خان کریں گے۔ اتحادیوں کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔ ق لیگ کا وفاق اور پنجاب میں حصہ ہو گا۔ ق لیگ فارمولے کے تحت ہمارے ساتھ ہو گی۔ انہوں نے کہا وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے کیلئے مطلوبہ نمبرز حاصل کر لئے۔ پی ٹی آئی کو وفاق میں 168ارکان کی حمایت حاصل ہو گی۔ خیبر پی کے میں تحریک انصاف کو دوتہائی اکثریت حاصل ہے اور حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔ بلوچستان میں مخلوط حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔ ق لیگ کے ساتھ ملکر پنجاب میں آسانی سے حکومت بنائیں گے۔ اسمبلی میں پی ٹی آئی کو کل 80ارکان کی حمایت ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور پرویزالٰہی نے گزشتہ دنوں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی۔ اعلامیہ تحریک انصاف کے مطابق چودھری شجاعت نے انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے پر عمران خان کو مبارکباد دی۔ ق لیگ نے مرکز اور صوبے میں تحریک انصاف کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ اگر ایک طرف چودھری شجاعت نے کہا پاکستان کے مستقبل کیلئے عمران خان کے منشور سے متفق ہیں۔ پنجاب اور مرکز میں حکومت کی تشکیل میں معاونت کریں گے۔ عمران خان نے چودھری شجاعت پرویزالٰہی سمیت وفد کا خیرمقدم کیا تو دوسری طرف عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) نے 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کو مکمل طور پر مسترد کردیا۔کل جماعتی کانفرنس کے اختتام کے بعد دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ’اکثریت کا دعویٰ کرنے والوں کو مسترد کرتے ہیں میرا خیال ہے کہ اب انتخابی رنجشوں کو فراموش کر کے سیاسی رہنما عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کریں اور جمہوریت کے سفر کو آگے بڑھنے دیں۔


ای پیپر