اجالوں کی دنیا کا مسافر
01 اگست 2018 2018-08-01

عمران خان کی جیت سے گویا پوری دنیا میں خوشی کی لہر ابھر آئی ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ وہ مشکلات میں گھری زندگی کو ان سے نجات دلانا چاہتا ہے وہ اپنے سینے میں وہ دل رکھتا ہے جو کمزوروں، مجبوروں اور بے بسوں کے لیے دھڑکتا ہے!
ذوالفقارعلی بھٹو کے بعد یہ دوسرا لیڈر ہے جس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے ملک اور اس کے عوام کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرڈالے گا۔ کپتان نے یہ ثابت کیا کہ وہ خالی خولی دعوؤں اور وعدوں پر انحصار نہیں کرتا وہ عمل کی دنیا کا باسی ہے۔ لہٰذا اس نے جہاں شفاخانے بنائے تو وہاں درسگاہیں بھی بناڈالیں۔ اور مزید درسگاہیں اور شفاخانے تعمیر کرنے کی راہ پر رواں ہے مگر افسوس کہ اسے اس کے سیاسی حریف ترچھی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں شاید اس لیے کہ وہ عوام کی خدمت بھرپور طورسے کرتا ہے تو وہ ان کے سامنے سر جھکانا بھول جائیں گے۔ اور ان کے برابر آکھڑے ہوں گے۔ ؟
عمران خان کی سوچ عوامی ہے وہ طمع لالچ اور خودغرضی سے مبرا ہے اسے صرف اور صرف ملک اور اس کے لوگوں سے محبت کرنا ہے ان کے لیے ہر اس رکاوٹ کو عبورکرجانا ہے جو ان کے درمیان آتی ہو۔ لہٰذا وہ اپنے ارادوں میں مضبوط ہونے پر آج پاکستان کا وزیراعظم بننے جارہا ہے۔ مگر ان کے مخالفین کو یہ گوارا نہیں وہ طرح طرح کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ عمران خان نے دھاندلی کی ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ کامیابی کی مچان پر بیٹھ سکے۔۔۔؟
انہیں معلوم ہونا چاہیے عوام کی غالب اکثریت ان سے چھٹکارا چاہ رہی تھی۔ کیونکہ وہ ان پر غیرمحسوس انداز سے تاحیات مسلط ہونے کے منصوبے بناچکے تھے اس حوالے سے پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) نے کیا لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے آپس میں سیاسی محاذ گرم نہیں کررکھا تھا۔ جبکہ وہ اندر خانے ایک ہی سمت کو بڑھ رہے تھے ایسا اس لیے کیا گیا کہ انہوں نے کھربوں کی دولت کو ادھر سے ادھر کیا۔ بیرون ملک محل بنائے۔ جائیدادیں بنائیں اور کاروبار کیے جس سے ملک کی معاشی حالت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ۔ صرف یہی نہیں انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی سے یہاں ایسے افراد کو اپنا دست و بازو بنایا جو طاقتور تھے انہیں مالی اعتبارسے اتنا مستحکم کیا کہ وہ غریب عوام پر اپنا رعب ودبدبہ ڈال کر انہیں بھیڑ بکریوں کی مانند جدھر چاہیں ہانک کرلے جائیں۔ نج کاری کے عمل کو وسیع تر کرنے کے پروگرام ترتیب دیا گیا تاکہ ہمیشہ کے لیے وطن عزیز ان کی دسترس میں چلا جائے۔ مگر پاکستان کے عوام کو یہ سب قبول نہیں تھا لہٰذا وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ انہیں کسی سچے ، کھرے سیاسی رہنما کے پیچھے چل پڑنا ہوگا عمران خان منظر پر ایک نکتے برابر موجودتھا مگر اس کی صدا میں سوز تھا دردتھا اور کرب تھا لہٰذا وہ جلدہی ملک کے لوگوں کی آواز بن کر ان کے درمیان آگیا۔ کہا گیا ملک لوٹنے والوں کی طرف سے وہ سیاست کے رموز سے ناواقف ہے۔ اسے کیا معلوم کہ ملک کیسے چلائے جاتے ہیں وہ کرکٹ کھیلے کرکٹ۔ مگر اس نے مصمم ارادے کے ساتھ آگے بڑھنا شروع کردیا وہ آندھیوں اور طوفانوں سے گھبرایا نہیں اپنی منزل کی جانب خلوص نیت سے بڑھتا رہا۔ وہ اقتدار کی باگ اس لیے اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا تھا کہ اس کے پاس اختیارات آجائیں تو پھروہ پوری آزادی سے اپنے خوابوں کو مجسم کرسکتا ہے اس کے خواب کیا تھے۔ لوگوں کو غربت افلاس اور بے بسی سے چھٹکارا دلانا۔ مہذب قوموں کے ہم پلہ بنانا۔ ہرپاکستانی کی عزت نفس کو محفوظ بناکر اس کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا اور آزادی کے مفہوم سے آشنا کراکر انہیں خودداری کے زینے پر لے جانا۔ اب وہ انتخابات جیت کر ان سب کے قریب پہنچ گیا ہے کیوں پھر یہ سیاسی بہروپیے اس کو تکلیف دہ صورت حال سے دوچار کرنے کا پروگرام بنارہے ہیں اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور وہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ابھی کپتان نے حلف نہیں اٹھایا کہ ترقی یافتہ ممالک کے لوگ اور مقتدر حلقے خوشی سے جھوم رہے ہیں۔ اس کے ویژن کی داد دے رہے ہیں اور تو اور بھارت جس نے شورمچا دیا تھا کہ اب عمران خان آرہا ہے جو نجانے کیا کر ڈالے گا وہ امن محبت اور خوشحالی کے گیت گانے لگا ہے کیونکہ اسے یقین ہوچلا ہے کہ عمران خان کی حکومت میں وہ قدرے سکون محسوس کرے گا کہ وہ تنازعات کو بذریعہ گفت وشنید حل کرنے کی کوشش کرے گا اس کا مشن ہی غربت بھوک بیماری اور جہالت کا خاتمہ ہے لہٰذا اسے اب ویسا ہی سوچتے ہوئے پاکستان سے تعلقات کار قائم کرنے ہیں۔
بہرحال ملک کو جتنے معاشی جھٹکے لگنے تھے لگ چکے اب امید واثق ہے ایسا نہیں ہوگا کیونکہ پیسا آئے گا یہاں سے بھی قومی خزانے میں جائے گا کیونکہ اسے علم ہے کہ اب اس کا ناجائز استعمال نہیں ہوگا۔ پورا پورا حساب کتاب ہوگا۔ وجہ اس کی یہی ہے کہ بدعنوانی نے ملک کی معیشت کی بنیادی ہلا کر رکھ دی ہیں جس پر قابو پانا انتہائی لازمی ہے۔ بونے تجزیہ نگار جو خود کو اعلیٰ وارفع سمجھتے ہیں کہتے ہیں کہ کپتان کیسے ملک کو سنبھالے گا اسے تو خزانہ خالی ملا ہے۔ اس کے پاس کون سا الہ دین کا چراغ ہے وہ دیکھیں گے کہ دنیا بھر سے اسے بلاوے آئیں گے کہ وہ ان کے سرمایے کو لے جاکر اپنے استعمال میں لائے کیونکہ انہیں اس پر بھروسا ہے۔ کہ وہ ایک پائی بھی خوردبرد نہیں کرے گا نہیں ہونے دے گا لہٰذا اعتماد کی فضا میں ہرطرف ہریالیاں ہی ہریالیاں نظر آتی ہیں خوشحالی کے در وا کھلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ میں یہ بھی عرض کردوں کہ اب ہرپاکستانی کو اپنے ہونے کا احساس ہوا ہے کیونکہ ان کا وزیراعظم ولیڈر ذاتی نہیں اس دھرتی کے لیے آگے بڑھے گا اسے خوشبوؤں سے مہکائے گا۔ میں یہ جذبات سے مغلوب ہوکر نہیں کہہ رہا۔ ایک حقیقت وسچائی بیان کررہا ہوں کیونکہ میں نے عمران خان کی آنکھوں میں وہ چمک اور اس کے لہجے میں وہ اپنائیت دیکھی ہے جو کسی انسان دوست اور درویش کی آنکھوں اور لہجے میں نظرآتی ہے۔ لہٰذا مجھے کوئی شبہ نہیں کہ وہ عوامی خواہشات کو ملحوظ خاطر نہیں رکھے گا۔ عوام کا اب فرض بنتا ہے کہ وہ ان سیاسی گدھوں پر نگاہ رکھیں جو عمران خان کی راہ میں دیوار بننے کی کوشش میں ہیں اور ہوں گے۔ صرف اس لیے کہ کہیں وہ
عوام کی سوچ نہ بدل دے کہ وہ ان کے مدمقابل آکر ان کی عیش و عشرت کی زندگی کو ان سے چھین لیں۔ ان کے لوٹ مار کے ذریعے بنائے گئے اثاثوں کو بحق سرکار ضبط کروادیں۔ مگر یہ ہوکررہے گا آخرکب تک مٹھی بھر اشرافیہ مظلوم عوام کی رگوں سے خون کشید کرتی رہے گی انہیں تعلیم صحت اور جہالت کے چنگل میں دے کر اپنے جیون میں بہاروں کے رنگ بھرے گی۔ میں پھر کہتا ہوں کہ اجالا بکھر رہا ہے۔ تاریک دور کے راہی منظر سے غائب ہونے جارہے ہیں اب دنیا ماضی کی تلخیوں کو فراموش کرتے ہوئے زندہ رہنے کے تصورحیات سے بغلگیر ہونے جارہی ہے کیونکہ شعوری ارتقا نے ہر عیاری اور اقتدار کی ہوس کو عیاں کردیا ہے لہٰذا وہ نظام کہنہ کو مٹانے چل پڑے ہیں۔ وطن عزیز میں بھی ایک ایسی قیادت نے انہیں اپنے پاؤں پہ کھڑے ہونا سکھا دیا ہے لہٰذا وہ طوفانوں سے ٹکرانے کا عزم ظاہر کررہے ہیں طاقتور کتنے ہی ان کے گرد جال بنیں وہ مکڑی کا جالا ثابت ہوں گے۔ خون چوسنے والی جونکیں احتساب کے پیاز سے نہیں بچ پائیں گی یوں قومی و جود ان سے نجات پالے گا۔


ای پیپر