پٹرول کی قیمتوں میں اضا فہ:عام شہری کے لیے زندگی عذاب
01 اگست 2018 2018-08-01

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر وطن عزیز کے سیاسی،سماجی اور شہری حلقوں کی جانب سے زبردست غم وغصہ کا اظہار یقیناًایک فطری عمل ہے ۔ نگران حکومت جانے کیوں عوام دشمن اقدامات کر رہی ہے۔ مختصر عرصے میں کم ازکم پٹرول کی قیمتوں ظ۔تین بار اضافہ کرچکی ہے۔ کیا نگران حکمران نہیں جانتے کہ پٹرول کی مہنگائی ’’صرف ایک شے ‘‘ کی مہنگائی نہیں ہوتی بلکہ اس کی گرانی کے باعث کئی دیگر اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ نا گزیر ہو جاتا ہے۔یہ گرانی صارفین اور مارکیٹ پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ پیڑول کی گرانی کو بآسانی ’’مادر گرانی ‘‘ بھی کہا جا سکتاہے ۔ پٹرول کی قیمتوں میں عدم استحکام کا سلسلہ گذشتہ کئی برسوں سے ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ عوامی حلقوں کے لئے یہ بات نا قابل فہم ہے کہ ہر چندروز کے بعد پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیوں کر دیا جاتا ہے جبکہ کے پٹرول کی عالمی منڈی میں اس کے نرخوں میں اضافہ کم از کم تین ماہ بعد ہوتا ہے ۔ جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس کے واضح اثرات دیگر اشیائے ضروریہ کے قیمتوں میں عدم استحکام کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔ پٹرول بم کا اصل ہدف عام آدمی ہی

بنتا ہے۔ نگران حکمرانوں کوشاید خب رنہیں کہ ملک میں مہنگائی پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ پٹرول کے نوخوں میں حالیہ اضا فے عوام کی پہنچ سے باہر ہیں اور عوام اس اضافے سے بہت پریشان ہیں۔۔ چند برس قبل تک پٹرول کی قیمت کم از کم اتنی زیادہ نہ تھی کہ عام شہری ایک لیٹر پٹرول خریدتے وقت بدترین قسم کی ناگواری کا اظہار کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ وطنِ عزیز میں زیریں متوسط طبقات اور متوسط طبقات سے تعلق رکھنے والے شہریوں کا ماہانہ بجٹ اس لئے غیر متوازن ہو کر رہ جاتا ہے کہ آئل کمپنیز ایڈوائزری کمیٹی کے مدار المہام ہر پندرہ روز بعد پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کردیتے ہیں۔ صورتحال اس حد تک مخدوش ہوچکی ہے کہ ایک محنت کش اور تنخواہ دار موٹر سائیکل سوار جو پہلے ہر روز کم از کم ایک لیٹر پٹرول خریدا کرتا تھا اب وہ لیٹر کی بجائے پوائنٹس میں پٹرول خریدنے پر مجبور ہے۔ اس کے معاشی حالات اسے اجازت ہی نہیں دیتے کہ وہ اپنی موٹرسائیکل میں ہر روز ایک لیٹرپٹرول ڈالنے کی ’’عیاشی‘‘ کا متحمل ہو سکے۔

محسوس ہوتا ہے کہ وطنِ عزیز کے حکمران نگران طبقات کوعام آدمی کی مشکلات کا سرے سے احساس نہیں ہے۔ محدود وسائل رکھنے والے عام آدمی کو مہنگائی نے اس حد تک پریشان کر رکھا ہے کہ اس کے لئے زندگی عذاب بن چکی ہے۔ اسے کہیں سے بھی راحت کی کوئی خبر سنائی دیتی اور امکان دکھائی نہیں دیتا ہے۔ وہ جدھر رخ کرتا ہے مشکلات اس کا استقبال کرتی ہیں۔ بیروزگاری کی پھیلتی ہوئی شرح نے پڑھے لکھے اور ہنر مند نوجوانوں تک کو بدترین مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ روزگار کے حصول کے لئے صبح اپنے گھر سے نکلتے ہیں

اور رات گئے تک بڑے شہروں کی شاہراہوں پر مختلف نجی کاروباری دفاتر اور مراکز کے چکر لگانے میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ ان کا معمول بن چکا ہے۔ ان کا سفر مایوسی کے ایک ہی دائرے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ انہیں جب ہر سو روزگار کے دروازے بند دکھائی دیتے ہیں تو مایوسی کے عالم میں وہ خودکشی کرنے ہی میں عافیت جانتے ہیں۔ ہنر مند اور تعلیم یافتہ نوجوانوں میں خودکشی کے رجحان میں اضافہ کوئی معمولی بات نہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ کرنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھنے والے وزارت خزانہ اور وزارت پیٹرولیم کے بزرجمہران کسی طے شدہ حکمت عملی کے تحت وطن عزیز میں جہاں ایک طرف عدم استحکام پھیلانے کی ’’ غیر محسوس کوشش‘‘ کر رہے ہیں وہاں دوسری جانب وہ عوام کے معاشی قتل عام کے جرم کا بھی بالواسطہ ارتکاب کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور گرانی کی وجہ سے عام آدمی پہلے ہی زندہ درگور ہو چکا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی بجلی جب گرتی ہے تو عام شہری کے نشیمن کے بچے کچے تنکے بھی خاکستر ہو کر رہ جاتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک منتخب جمہوری حکومت کے دور میں کوئی ایک ’’باڈی‘‘ یا ’’ادارہ‘‘ از خود اس امر کا مجاز ہو سکتا ہے کہ وہ پٹرول ایسی ضروری شے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا از خود مجاز بن جائے اور وہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا تکلف تک بھی گوارا نہ کرے۔

عام آدمی یہ جاننا چاہتا ہے کہ کیا یہ کام پارلیمنٹ کا نہیں ہے کہ وہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے یا کمی کے باب میں کوئی فیصلہ کر سکیں؟ حالات و حقائق نے تو یہ ثابت کیا ہے کہ پٹرول کے نرخوں میں اضافہ کا فیصلہ کرنے والی قوتوں نے پارلیمنٹ کے قیام سے لے کر آج تک کبھی یہ زحمت گوارا نہیں کی کہ وہ اراکین پارلیمنٹ کو یہ بتائیں کہ وہ کن مخصوص حالات، عالمی جبر، داخلی دباؤ یا کلیے اور قاعدے کے تحت آئے روز پٹرول کے نرخوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ جب تک پارلیمنٹ کو اس ضمن میں وجوہات سے آگاہ نہیں کیا جاتا جمہوری ، سیاسی اور عوامی حلقوں کے تحفظات و خدشات بڑھتے رہیں گے۔ شروع شروع میں تو اراکین پارلیمنٹ بھی اس مسئلہ پر ’’بوجوہ‘‘ چپ رہے لیکن قوی امید ہے کہ مستقبل قریب کی پارلیمنٹ میں اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہو گی۔ ایک منتخب جمہوری پارلیمانی نظامِ حکومت کے حامل ملک میں ریاست کے کسی بھی مقتدر ترین اور فیصلہ ساز ادارے کے ذمہ داروں کویہ بتانا ناگزیر ہوچکا ہیکہ جمہوری سیٹ اپ میں پارلیمنٹ ایک بالا دست ادارہ ہوا کرتا ہے اور اہم ترین فیصلوں کا مجاز بھی یہی ادارہ ہو تا ہے ۔ پٹرول کے نرخوں میں ’’ماورائے پارلیمنٹ ‘‘اضافے کا فیصلہ کرنے کا مجاز غیر پارلیمانی اور غیر منتخب بیوکریسی کو بنانا پارلیمنٹ کی توہین کے مترادف ہے۔

مستقبل کے حکمرانوں کو ابھی سے س امر کی جانب بھی توجہ دینا چاہیے کہ جب پٹرول ، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے انتہائی منفی اثرات پاکستانی زراعت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ ماضی میں پٹرول کی مصنوعات میں سال میں 24مرتبہ اضافے کی یہ روایت ایک ایسے ملک کو جس کا بنیادی تشخص زراعت ہے ، زرعی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر سکتی ہے۔ کسی شے میں گرانی کا کوئی فیصلہ خواہ کسی بھی بڑے اقتصادی ماہر نے خواہ کتنے ہی غور و خوض کے بعد کیوں نہ کیا ہو اور جس کی وجہ سے عام آدمی کے لئے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو جائے، فلاحی ، جمہوری اور رفاہی اربابِ حل و عقد کو ایسے فیصلوں پر نظر ثانی کرنا چاہیے۔


ای پیپر