سیاسی دباؤ سے آزاد پولیس !!
01 اگست 2018 2018-08-01

انتخابات کا مرحلہ اپنے اختتام کو پہنچا ۔ پاکستان اب ایک نئے جمہوری دور میں داخل ہوا چاہتا ہے ۔ سیاسی جوڑ توڑ عروج پر ہیں لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو بھی سیاسی جماعت ایک بار حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے اسے اپنی مدت پوری کرنے دی جائے ۔ ایک مستحکم پاکستان کے لئے جمہوری عمل کو ہر صورت جاری رہنا چاہئے ۔ اسی طرح اس بار اپوزیشن بھی انتہائی مضبوط ہو گی لہذا امید یہی ہے کہ پاکستان ترقی کی جانب اپنا سفر جاری رکھے گا ۔ مضبوط اپوزیشن اگر اپنا حقیقی کردار ادا کرے تو یقیناًحکومت پر بھی دباؤ رہے گا کہ اسے ہر صورت اپنے وعدے پورے کرنے ہیں اور عوامی ترقی پر توجہ دینی ہے ۔

انتخابات کے حوالے سے بہت سے ایسے واقعات بھی رونما ہوئے جو تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں ۔ میری زیادہ توجہ انتخابی سکیورٹی پر مرکوز تھی اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں الیکشن کے نام پر جس خون ریزی اور غنڈہ گردی کا کلچر چلتا ہے وہ بہت خوفناک ہے ۔ اس بار بھی بم دھماکے اور لڑائی جھگڑوں کی خبریں سامنے آتی رہیں لیکن پنجاب میں ایسا نہیں ہوا ۔ میں نے اس ساری صورت حال کو ایک فریم میں کیس سٹڈی کے طور پر دیکھنے کی کوشش کی ہے ۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ وہ کونسے عوامل رونما ہوئے کہ جو پنجاب جاگیرداروں اور وڈیروں کے الیکشن کی وجہ سے دھونس دھاندلی کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا اب کی بار پر امن رہا ۔ پنجاب میں ہی یہ الزام بھی لگتا تھا کہ جاگیر دار پولیس اور دیگر اداروں کو ساتھ ملا کر پولنگ اسٹیشنز پر اثر انداز ہوتے تھے ۔ ایک رائے یہ بھی تھی کہ اگر مقامی پولیس ان کا ساتھ نہ دے تب بھی کم وسائل اور مختصر افرادی قوت کی وجہ سے ان کے مقابل کھڑی نہیں ہو سکتی تھی ۔دوسری جانب 2018 کے الیکشن میں یہی با اثر سیاست دان پولیس سے نالاں رہے ۔ ہوائی فائرنگ ہی نہیں الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر بھی ان بااثر افراد کے خلاف مقدمات درج ہوئے اور ان کے خلاف کاروائیاں ہوئیں ۔ پنجاب نے یہ سب پہلی بار دیکھا تھا اور دلچسپ بات یہ تھی کہ ایسا کسی ایک جماعت کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ اعداد و شمار کے مطابق قانون شکنی پر جن کے خلاف پولیس نے کاروائیاں کیں ان میں تمام قابل ذکرسیاسی جماعتوں سمیت آزاد اراکین اور ان کے حامی بھی شامل تھے ۔ میرے خیال میں ایسا اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب پولیس کے اہلکار کو معلوم ہو کہ اسے بااثر افراد کے خلاف کاروائی پر کسی قسم کے دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔

یہ وہ پولیس کلچر ہے جس کا ذکر ہم نے کتابوں میں پڑھا تھا کہ انگریز دور میں ایک تنہا اہلکار بھی ڈاکوں کا جتھہ گھیر کر اکیلا ہی تھانے لے جاتا تھا اور عوام اس کے مددگار بنتے تھے ۔ قیام پاکستان کے بعد پولیس کو سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تو یہ کارکردگی اور رعب بھی ختم ہونے لگا ۔ اب ایک بار پھر قانون کی حکمرانی کا تاثر قائم ہوا ہے جس کا کریڈیٹ انتہائی پڑھے لکھے آئی جی پنجاب ڈاکٹر سید کلیم امام کو جاتا ہے ۔ اس کا اندازہ ایک اور واقعہ سے بھی ہوتا ہے ۔ انتخابات کے بعد لاہور میں تحریک انصاف کے نو منتخب رکن اسمبلی کے ڈیرے پر رات گئے فتح کے جشن کے دوران ہوائی فائرنگ کی گئی ۔ کسی شہری نے فوری طور پر 15 پر کال کی اور اگلے ہی لمحے مقامی تھانے کا ایس ایچ او وہاں پہنچ گیا اور قانون شکنی سے روکنے کی کوشش کی جس پر وہاں موجود لوگوں نے فتح کے خمار میں اس کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔ یہاں ہم ایسے آئیڈیل ازم کے حامیوں کے لئے یہ بہت اہم بات تھی کہ ایک تھانے دار کے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں تھی کہ قانون شکنی کرنے والا نہ صرف رکن اسمبلی ہے بلکہ ممکنہ حکمران جماعت کا حصہ بھی ہے ۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہوئی کہ زخمی تھانے دار اور اہلکاروں کو ہسپتال پہنچایا گیا تو وہاں آئی جی پنجاب ڈاکٹر سید کلیم امام اورڈی آئی جی آپریشنز لاہور شہزاد اکبر سمیت دیگر سینئر پولیس افسران بھی پہنچ گئے ۔ یہ آدھی رات کا وقت تھا ۔ آئی جی پنجاب نے فوری طور پر ملزمان کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیئے جس پر پہلے تو رکن اسمبلی مفرور ہو گئے لیکن بالآخرگرفتاری دینی ہی پڑی ۔ ایک نو منتخب رکن اسمبلی کو حلف برداری سے قبل جیل یاترا نے یہ تو سمجھا دیا ہوگا کہ اب وہ دور لد گیا جب پولیس کو عہدے یا طاقت کے زور پر دباؤ میں رکھا جا سکتا تھا ۔ یہ نیا پنجاب ہے جہاں پر امن انتخابات کو یقینی بنانے والے آئی جی پولیس کے نزدیک قانون کی حکمرانی سے اہم کچھ نہیں ۔ میں نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ جب پولیس قیادت اپنے اہلکاروں کو عزت اور اعتماد دے گی تب ہی پولیس کلچر تبدیل ہو سکے گا۔ خوش قسمتی سے موجودہ آئی جی پنجاب نے سب سے پہلے یہی کام کیا ہے ۔ انہوں نے اپنی فورس پر واضح کیا کہ قانون شکنی کے مرتکب افراد کے خلاف بلاتفریق کاروائی کی جائے ۔ انتخابی کمپین کے دوران بھی قانون کی یہ حکمرانی سبھی جماعتوں کے حوالے سے یکساں نظر آئی اور انتخابات کے بعد بھی پولیس کے ایسے ایکشن واضح کرتے ہیں کہ کوئی امیر ہو یا غریب ، حاکم ہو یا رعایا، اب سبھی کے لئے قانون کی پابندی لازم ہے ۔

گزشتہ دنوں ایسے کئی واقعات تواتر کے ساتھ رپورٹ ہوئے ہیں ۔ اس حوالے سے اعداد و شمار ہمیں ایک نئے پنجاب کی نوید سنا رہے ہیں ۔ یقیناًپنجاب پولیس کی اس تبدیلی کا کریڈیٹ ہمارے کئی سیاست دان لینے کی کوشش کریں گے لیکن تاریخ کے اوراق میں یہ لکھنا لازم ہے کہ پنجاب پولیس کی تبدیلی کسی سیاست دان یا سیاسی جماعت کی بجائے آئی جی پنجاب اور ان کی ٹیم کی مرہون منت ہے ۔ وہ لمحہ پنجاب پولیس کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا جب ایک تھانیدار رکن اسمبلی سے مرعوب ہوئے بغیر کاروائی کرتا ہے اور آئی جی پنجاب فرض کی راہ میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو پشت پناہی کا احساس دلانے آدھی رات کو ہسپتال پہنچ جاتے ہیں ۔ آئی جی پنجاب کا فورس کے ساتھ کھڑے ہونے کا یہی وہ عمل ہے جس نے پولیس فورس کا مورال انتہائی بلند کر دیا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ حقیقی تبدیلی بھی وہی ہوتی ہے جومحکمہ کے اندر سے جنم لے۔ آئی جی پنجاب نے نگران حکومت کے دوران پولیس کلچر تبدیل کیا ہے اور یقیناًاپنے حصے کا کام احسن انداز میں سر انجام دیا ہے اب ہم نئی حکومت سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنے کے لئے قانون سازی کرے گی۔ یہ لازم ہے کہ پولیس کے اندرونی فیصلے کسی سیاسی یا عوامی عہدے کی بجائے محکمہ پولیس کے سربراہ کے اختیار میں ہوں تاکہ وہ اپنی ٹیم کو بہتر انداز میں میدان عمل میں اتار سکے ۔ اگر ماضی کی طرح اہم تبادلے اور پوسٹنگ آرڈرز کسی ایسی جگہ سے ہونے لگے جہاں سیاست تو ہو لیکن پروفیشنل مہارت کو پرکھنے کا تجربہ نہ ہو تو پھر ہم اس بڑی کامیابی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔


ای پیپر