نئی صبح مبارک۔۔۔؟؟؟
01 اگست 2018 2018-08-01

حالیہ 2018ء کے انتخابی نتائج کو کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ حقیقت ہے کہ پانامہ سکینڈل سے لوٹ مار کے حقائق اور قیادتوں کا حقیقی کردار منظر عام پر آنے کے بعد تبدیلی و نجات عوام کی اولین ترجیح تھی جس کی تکمیل کیلئے عوام گھروں سے نکلے اور انہوں نے ووٹ ڈالے گوکہ تبدیلی و احتساب سے خوفزدہ عوام دشمنوں نے انتخابات کو سبوتاژ کرنے اور عوام کو انتخابی عمل میں شرکت سے روکنے کیلئے ہر ہتھکنڈا آزمایا مگر عوام نے پاک افواج پر اعتماد و اعتبار اور افواج پاکستان نے امن و تحفظ کو یقینی بناکر عوام کو بلاخوف و خطر اپنی مرضی کی قیادت کے انتخاب کا موقع فراہم کیا جبکہ عوام نے کرپشن و کمیشن اور امن و عوام دشمنوں کی سرپرستی کے ذریعے عوام کی زندگی میں مسائل‘ مصائب‘ پریشانیاں‘ مایوسیاں اور بھوک و اندھیرے لکھنے والوں کو ووٹ کے ذریعے مسترد کرکے ان سے جمہوری انتقام لیا جس کے بعد انتخابات کی شفافیت پر انگلی اٹھانا اور اپنی شکست کو دھاندلی قرار دینا وہ سیاسی روایت ہے جس پر ہر عوام

دشمن ہمیشہ سے کاربند ہیں، انتخابات کے نتیجہ میں تبدیلی کسی سیاسی جماعت یا کسی فرد کی نہیں بلکہ عوام کی فتح ہے کیونکہ یہ عوام کی ضرورت‘ خواہش اور عوام کا فیصلہ ہے جس کیخلاف آواز اٹھانا جمہوریت نہیں فسطائیت ہے عوام سے ٹھکرائے چند سیاستدان مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں جنہیں ناکام بنانا ہوگا، سیاسی جماعتوں کا اتحاد‘ جمہوریت کیلئے ہی نہیں ملک و عوام کیلئے بھی مفید ہوگا! عمران خان کو پاکستان میں گیم چینجر کی حیثیت حاصل ہے‘ جمہوری طرز عمل و دانشمندانہ فیصلے جمہوریت و پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتے ہیں ! پارلیمانی سیاست کے حامی عمران ذاتی و سیاسی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دیں!

پاکستان کے عوام نے تبدیلی کے حق میں جو فیصلہ دیا ہے‘ سالہا سال سے پاکستان کے اقتدار‘ اختیار اور وسائل پر قابض ظالم‘ استحصالی اور کرپشن میں ملوث نیب زدہ طبقہ و ٹولے نے اسے مسترد کرکے نہ صرف عوام کے انتخابی و جمہوری حق کی تذلیل و توہین کی ہے بلکہ انتخابات کالعدم کرنے اور از سر نو انتخابات کرانے کا مطالبہ کرکے الیکشن کمیشن کو بھی جانبدار قرار دیا‘ الیکشن میں موجود افواج پاکستان پر جانبداری کا الزام لگایا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قومی وسائل‘ اختیارات‘ اقتدار اور خزانے کو باپ کا مال سمجھنے والے عوام دشمن لوٹی گئی دولت کی واپسی اور احتساب و جرائم کی سزا کے خوف سے عوام دشمنی کے بعد اب جمہوریت و ملک دشمنی پر بھی اتر آئے ہیں اور ازسر نو انتخابات کا مطالبہ کرکے معاشی بدحالی کا شکار پاکستان کو مزید 22ارب روپے کا مزید چونا لگانا چاہتے ہیں، کیونکہ تبدیلی کے مخالفین کی عوام دشمنی سے جمہوریت ڈی ریل ہوسکتی ہے، عوام مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے بد ظن ہورہے تھے جس کا اظہار حالیہ الیکشن میں پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دے کر کیا گیا جمہوریت کی بقا و سلامتی کیلئے عمران خان کو بھی وسیع تر قومی مفاد میں تمام سابقہ معاملات بھول کر تمام سیاسی و جمہوری قوتوں سے تعلقات و اتحاد پر توجہ دینا چاہئے مگر احتسابی عمل کو بھی مکمل غیر جانبداری و رفتار سے جاری رکھنا چاہئے! دوسری طرف پہلی بار اقتدار کی بہاروں سے دور ہونے والے مولانا فضل الرحمن نے الیکشن کے دو روز بعد ہی منہ سے آگ اگلنا شروع کردی کہ ہم دیکھیں گے کہ یہ ایوان کیسے چلاتے ہیں، یہ دھمکی عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے، بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی شکست خوردہ عناصر نے نئے الیکشن کا مطالبہ کر دیا، مولانا نے کہا کہ دھاندلی کے خلاف سیاسی جماعتیں متحد ہیں دوبارہ انتخابات کے انعقاد کے لیے تحریک چلائیں گے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول نے انتخابی نتائج مسترد کئے جانے کے باوجود پیپلز پارٹی نے ایوان میں جانے کا فیصلہ کیا ہے جو خوش آئند ہے۔

عوام نے ہر بار ہر حکومت سے تازہ زخم کھائے اسی لئے اب وہ واقعی تبدیلی چاہتے تھے جو حالیہ 2018 ء کے الیکشن میں مل گئی عوام مہنگائی، بیروزگاری سے چھٹکارہ چاہتے تھے عوام ملک کو لہلہاتا دیکھنا چاہتے تھے، عوام ملک کو ترقی کرتا دیکھنا چاہتے تھے عوام تعلیم اور صحت کی سہولتیں چاہتے تھے لیکن ہوا سب کچھ اس کے برعکس ملک کے نام پر قرض لیکر حکمرانوں نے اپنی نسلوں کو ’’پالا پوسا‘‘ عوام دو وقت کی روٹی کو ترستے رہے اور حکمران عیاشیوں میں لگے رہے ہر بار روٹی کپڑا اور مکان کے نام پر، لوڈشیڈنگ کے نام پر

کشمیر اور اسلام کے نام پر عوام سے ووٹ لئے گئے جھوٹ اور منافقت کی سیاست کو پروان چڑھایا گیا جس کا خمیازہ عرصہ سے تاج حکمرانی اپنے سر سجانے والے ’’گرگوں‘‘ نے حاصل کرلیا اور اسی پر تحریک انصاف کو انصاف کرنے کا اللہ نے موقع دیا بجائے اس کے کہ ہم انہیں ویلکم کرتے راہ میں ابھی سے روڑے اٹکانے شروع کر دیئے ہیں جو نیک شگون نہیں، قوم کی سوچ تبدیل ہوئی وہ مبارکباد کے مستحق ہیں اس کے ساتھ ساتھ عمران خان کو بھی یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اب پاکستانی عوام وہ والی نہیں رہی کہ انہیں ’’ہانک‘‘کر جدھر مرضی موم کی گڑیا بنا لیا جائے اب یہ اچھے اور برے کی تمیز خود کر سکتے ہیں اس لئے عمران خان کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہونگے ورنہ پانچ سال گزرتے دیر نہیں لگتی، مسائل کا حل اسی صورت ممکن ہے کہ ریاست مدینہ بنانے کیلئے طرز حکمرانی بھی اسی طرح کا ہو کہ جب عام آدمی بھی خلیفہ وقت سے سوال کر سکتا تھا۔


ای پیپر