سرکاری رہائشگاہوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کا بڑا حکم
01 اگست 2018 (12:05) 2018-08-01

اسلام آباد: چیف جسٹس ثاقب نثار نے متعلقہ عدالتوں کوسرکاری رہائشگاہوں کے مقدمات 15 روزمیں نمٹانے کاحکم دیتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کودوبارہ تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی جبکہ سپریم کورٹ نے چیف سیکریٹری بلوچستان کوبھی نوٹس جاری کردیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہماراکام الاٹمنٹ نہیں،غیرقانونی قابضین سے رہائشگاہیں خالی کراناہے اور سب سے خراب کارکردگی بلوچستان کی ہے۔ منگل کو چیف جسٹس آف پاکستان میاں محمد ثاقب نثار نے سپریم کورٹ میں سرکاری گھروں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ پنجاب میں سرکاری گھروں کاقبضہ خالی کرانے سے متعلق کیاصورتحال ہے؟جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پنجاب میں بھی وفاقی حکومت کے گھروں کوخالی کرایاجارہاہے جبکہ وفاق کے سرکاری گھروں کے 71 مقدمات زیرالتواہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ رہائشگاہوں سے متعلق زیرالتوامقدمات کی تفصیلات دیں، 15 روزمیں زیرالتوامقدمات کونمٹانے کاحکم دیں گے۔

جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے زیرالتوامقدمات کی تفصیلات فراہم کردیں اور چیف جسٹس ثاقب نثار نے متعلقہ عدالتوں کوسرکاری رہائشگاہوں کے مقدمات 15 روزمیں نمٹانے کاحکم دے دیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہماراکام الاٹمنٹ نہیں،غیرقانونی قابضین سے رہائشگاہیں خالی کراناہے اور سب سے خراب کارکردگی بلوچستان کی ہے۔جس پر وکیل درخواست گزارنے موقف اپنا یا کہ صوبے کی تمام الاٹمنٹ وزیراعلی بلوچستان نے کیں۔ سپریم کورٹ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کودوبارہ تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے چیف سیکریٹری بلوچستان کونوٹس جاری کردیا۔


ای پیپر