لوگ تو خان سے جلتے ہیں
01 اگست 2018 2018-08-01

25 جولائی کے جنرل الیکشن کے بعد تحریک انصاف قومی میں 116 اور پنجاب اسمبلی میں 123 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے امیدوار ایک سے زائد حلقوں سے بھی جیتے ہیں لہٰذا تازہ رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے پا س وزیر اعظم کے انتخاب کے لئے 106 ووٹ ہوں گے،تحریک انصاف کے عہدیدار بڑے پر اعتماد ہیں کہ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں حکومت بنانے کے لئے وہ مطلوبہ ہدف حاصل کر چکے ہیں ،۔مگر ساتھ ہی اپوزیشن بھی یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ تحریک انصاف کو اتنی آسانی سے حکومت نہیں بنانے دیں گے۔حکومت تو وہی بنائے گا جو زیادہ ممبرز کو ساتھ ملائے گا مگر اس وقت زیادہ اہم بات عمران خان جس نئے پاکستان اور تبدیلی کی بات کرتے تھے وہ ہے۔عمران خان نے اپنی تقریر میں جس طرح کے بلند و بانگ دعوے کیے اور جس طرح پاکستان کا نقشہ اپنی تقریر میں کھینچا ہے میرے جیسا ناقد بھی ان کا مداح ہو گیا ہے۔ عمران خان نے نہایت مدبرانہ اور بڑے تحمل سے اپنی فاتحانہ تقریر کی۔

جس میں انہوں نے کہا کہ وہ انتقامی سیاست نہیں کریں گے۔وہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست جیسی ریاست بنائیں گے۔سادگی اختیار کی جائے گی۔احتساب ہو گا اور سب سے پہلے وہ اپنے آپ اور اپنی پارٹی کو احتساب کےلئے پیش کریں گے۔مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں تحریک انصاف نے چار حلقوں کو کھولنے کا کہا تھااور بعد میں یہی چار حلقے پاکستان کے طویل ترین دھرنے کا سبب بھی بنے۔ خان صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ اپوزیشن جو حلقے بھی کہتی ہے وہ کھولنے کے لئے تیار ہیں مگرجب خواجہ سعد رفیق نے حلقہ کھولنے کے لئے درخواست دی تو تحریک انصاف کے عہدیدار اور وکلاءعدالت پہنچ گئے کہ یہ حلقے نہیں کھولے جا سکتے۔ خان صاحب نے کہا انتقامی سیاست نہیں کریں گے۔مگر خان صاحب کے قریبی دوست زلفی بخاری نے نجم سیٹھی کو کس حیثیت میں نئی نوکری ڈھونڈنے کا عندیہ دیا۔ زلفی بخاری کیا کسی کمیشن کے سربراہ ہیں جو انہوں نے نجم سیٹھی کو کرکٹ بورڈ کی چیئرمین سے فارغ کرنے کی دھمکی دی۔ زلفی بخاری یہ بھول گیا کہ اس پاکستان میں کرکٹ کو دوبارہ زندہ کرنے والا نجم سیٹھی ہی ہے۔

پرانے پاکستان میں خان صاحب نے سینیٹ الیکشن میں ووٹ بیچنے پر کے پی سے کئی ممبران کو شو کاز نوٹس دے کر پارٹی سے فارغ کر دیا۔ مگر اب نئے پاکستان میں آزاد امیدواروں کو پارٹی میں شامل کرنے کے لئے کیا شرائط رکھی گئی ہیں ،پرانے پاکستان میں وہ حرام تھا اور نئے پاکستان میں یہ خرید وفروخت "حلال" ہو گئی؟

خان صاحب جب احتساب کی بات کرنے ہیں تو لوگ فورا سوال کرتے کہ 3 سال تک کے پی میں احتساب بیورو سربراہ سے محروم رہااور جس نے احتساب کرنے کی کوشش کی اسے فارغ کر دیا گیا۔

مگر اس سب کے باوجود میں ذاتی طور پر چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ پنجاب میں حکومت بنائے۔اویس توحید صاحب نیو نیوز کی ٹرانسمیشن میں بیٹھے تھے تو کہنے لگے کہ عمران خان کو ایک دفعہ حکومت کا مزا ضرور چکھنا چاہیئے اور ہم سب کو یہ موقع دینا چاہیئے تاکہ انہیں اندازہ ہو کہ باہربیٹھے باتیں کرنے اور حکومت میں بیٹھ کر کام کرنے میں کتنا فرق ہوتا ہے۔

عمران خان صاحب نے اپنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بیان تو دیا کہ افغانستان کے ساتھ مستحکم تعلق چاہتے ہیں اور انڈیا کے ساتھ بھی۔ اگر انڈیا ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے۔مگر سوال یہ ہوتا ہے کہ ہمارے مقتدرادارے اجازت دیں گے کہ وہ ایک آزاد خارجہ پالیسی یہ عمل پیرا ہو سکیں۔

عالمی جریدے"دی ٹائم " میں لندن کے تھنک ٹینک ایشا پیسفک پروگرام کی ماہر فرزانہ شیخ کا ایک آرٹیکل شائع ہوا جس میں انہوں نے لکھا "کہ عمران خان وزیر اعظم تو بن گئے ہیں لیکن پالیسی سازی میں ان کا کردار اپنے پیشرووں سے زیادہ نہیں ہو پائے گا"۔

مراد سعید نے الیکشن سے پہلے تقریر کرتے ہوئے جذباتی انداز میں کہا تھا کہ جس دن عمران خان وزیر اعظم بنیں گے جتنا قرضہ پاکستان کا ہے وہ اوور سیز پاکستانی ایک دن کے اندر اندر بھیج کر پاکستان کو عالمی قر ضوں سے نجات دلادیں گے ۔مگر برُا ہو اُس شخص کا جو یہ افواہ پھیلا رہا ہے کہ پاکستا ن کو بیل آو¿ٹ کرنے کے لیے اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا آیشن لینا پڑ ے گا۔مگر میرا یقین پھر بھی تبدیلی پر ہے۔مین ان سب باتوں کے باوجو د کسی کی بات کو نہیں سُن رہا۔میںخوش قسمت ہوں جو اپنی آنکھو ں سے نیا پاکستان بنتے ہوئے دیکھ رہا ہوں جہا ں پر فورتھ شیڈول والے لوگ بھی نئے پاکستان میں اپنا حصہ ڈالیں گے اور جہانگیر ترین اُن کو حکومت میں شامل کرنے کے لیے کوئی بھی کسر اٹھا نہیں رکھ رہے ۔جہا نگیر ترین کے حوالے سے بہت سے لوگ اول فول کہتے ہیں کہ وہ نااہل ہے وہ کس چکر میں حکومت سازی میں لگا ہوا ہے اگر کسی اور جماعت کا بندہ ہوتا تو ہمارا میڈیا ابھی تک اُس کے خلاف بول بول کر ہلکا ن ہو چکا ہوتا میں نے اُ سے جواب دیا کہ جہا نگیر ترین بے لوث اور مخلص آدمی ہیں وہ صرف نیا پاکستان بنارہے ہیں ۔

جب نیا پاکستان بن جائے گا وہ آرام سے سائیڈ پر ہو جائیں گے انھیں کسی عہدے کا لالچ نہیں وہ تو صرف اخلاص نیت سے یہ کا م کر رہے ہیں اور کسی کی نیت پر شک کرنا بڑا گنا ہ ہے۔ایک دوست بتانے لگا کہ یار یہ کونسی تبدیلی ہے کہ عمران خا ن نے جہانگیر ترین کو کہا ہے کہ ایم کیوایم سے بات کرے اور وہ کراچی کے شہریوں کا قاتل اور سارے مسائل کی وجہ سمجھے جاتے تھے ۔اُن سے ہا تھ ملا لیں ۔دوست میرا جذ باتی ہے میں نے اُ سے سمجھا یا کہ خرابی کو دورکرنے کے لیے سٹم کاحصہ بننا پڑتا ہے ۔جو بھٹک جائےں انھیں ساتھ ملانا چایئے اور وہ قاتل پرُانے پاکستان میں تھے نئے پاکستان میں وہ کراچی کے صلا ح کار اور مصلح ہوںگے۔کوئی کچھ بھی کہے میری تو عمران خان اور نئے پاکستان سے بہت امید یں ہیں ۔جہاں پر ائیویٹ سکولز بند ہو جائیں گے ۔اور بچے سرکاری سکولوں میں پڑ ھیں گے۔ جہاں امیر اور غریب کے لیے ایک جیسا انصاف ہو گا ۔ اور میں گو رنرہا وسز کو لائبریریو ں اور وزیر اعظم ہاوس کو عجائب گھر میں بدلتا ہوا دیکھوں گا۔

کوئی کچھ بھی کہے پر میرا یقین ہے کہ عمران خان یہ ضرور کام کریں گے وہ پنجاب پولیس کو لگام دے کر اسے بالکل غیر سیا سی بنا دیں گے۔ عمران خان زلفی بخاری اور ان جیسے کئی دوستوں کو کوئی بھی عہدہ نہیں دیں گے ۔وہ فوراً سے پہلے احتساب کاکام شروع کریں گے جن پر پہلے نیب میں کیسز چل رہے ہیں ۔ میرا یقین ہے کہ عمران خان ہی اس ملک میں سے غرُبت ختم کر سکتا ہے ۔امیر اور غریب کو یکساں صحت کی سہو لیات فراہم کرسکتا ہے اب کوئی کچھ بھی کہے وہ دن دور نہیں جب گرین پاسپورٹ والے کو بے عزت نہیں ہونا پڑے گا اور نہ ہی لائن میں لگنا پڑے گا اب ایف ٹی ایف اے کی گرے لسٹ میں بھی نہیں رہیں گے ۔ڈالر قابو میں آجائے گا قرضے بھی اُترجائیں گا اب ہمارا مسیحا آگیا ہے کوئی کچھ بھی کہے حاسد لوگ بہت باتیں کر یں گے مگر آپ نے ماننی نہیں کیونکہ اب نیا پاکستان بننے کو ہی ہے جہاں سب دُکھ درددور ہو جائیں گئے اور ہم ایک خو شحال زندگی گزاریں گے ۔


ای پیپر