”چودھری جعفراقبال ، عمران خان کیلئے ایک مثال“
01 اگست 2018 2018-08-01

قارئین ، ابھی عمران خان نے حلف نہیں اُٹھایا ، جوں ہی انتخابی نتائج کے مطابق تحریک انصاف کو اکثریت ملنے کے غیرسرکاری نتائج کا اعلان ہوا، تو دوسروں کا ”منہ پیٹنے کی بجائے اپنا ہی سرپیٹ کر رہ گیا، کہ وہ قلم کار اور کالم نگار جو بیس سال سے عمران خان کے خلاف مسلسل بولتے، اور لکھتے چلے آرہے ہیں، اور ان کو یوٹرن کے طعنے دینے والوں نے جنہوں نے خود کو ”الیکشن کمشنر“ سمجھتے ہوئے ”منیرنیازی“ کو اپنے قبیلے کا سردار بنانے کا اعلان کیا ہوا ہے، کینٹ سے ڈیفنس جانے والے جنرل راحیل شریف کے ہمسایے مظہرخان نیازی نے کتنے عرصے سے میرا جینا دوبھر کیا ہوا ہے کہ آپ کے یار نے قبیلے کا سردار کس اختیار کے تحت انہیں قرار دیا ہوا ہے، نیازی صاحب سے پوچھ کر بتائیں اور عمران خان کو وہ جنرل نیازی کے قبیلے کا فرد اور انہیں اس کا پیروکار قرار دیتے رہے، یکدم اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوکر توبہ تائب ہوگئے، اور ان کے دل کا کینہ منٹوں میں ”ہوا“ہوگیا، مگر بقول مظفرعلی شاہ نیر

کیسے پردے میں رہے گی یہ کہانی شب کی

سرخیِ چشم بتادے گی ،گرانی شب کی

عمران خان نے، جس نعرے کے بل بوتے پہ اقتدار حاصل کرنے کی سعی کی ہے کہ میاں نواز شریف کو خوشامدیوں اور چاپلوسوں نے گھیرا ہوا ہے، وہی خوشامدی اب خود عمران خان کو گھیرے میں لینے کی کوشش میں ہیں، اس حوالے سے چوہدری نثار صاحب اور شیخ رشید احمد کا کردار پوری قوم کے سامنے ہے، کیا یہ دونوں حضرات ، سابقہ حکمرانوں کے ساتھی نہیں رہے؟ لیکن مصیبت کے وقت انہوں نے محض انتخاب جیتنے کے لیے اپنے سابقہ میرکارواں کو نشانے پہ لیے رکھا اس میں کوئی شک نہیں، کہ عمران خان کے قریبی ساتھی جو بظاہر تو ان کے دوست دکھائی دیتے ہیں، مگر کسی نے وزارت اعلیٰ کی ”امانت“ عمران خان کے پاس رکھی ہوئی ہے، اور کسی نے وزارت اطلاعات، اور وزارت داخلہ اور خارجہ ان کے پاس ”گروی“ رکھی ہوئی ہے، میرے خیال میں ہمیشہ عمران خان کے پیچھے ”ڈھال“ کی صورت میں بے غرض شخص، سرگودھا کے مہر حیات خان لک کے بیٹے، جن کا نام میں نہیں جانتا ان جیسے مخلص اور ہمدرد ساتھیوں کو اہم ذمہ داریاں دینی چاہئیں، قوم جن کو پہلے ہی آزما چکی ہے، شیخ سعدیؒ کے فرمان کے مطابق آزمائے ہوئے کو دوبارہ آزمانا ، آزمانے والے کی غلطی ہوتی ہے۔

وزیر خارجہ کی حیثیت سے قوم شاہ محمود قریشی کو آزما چکی ہے، وہ اس منصب کے لیے بالکل موزوں ہیں، اور انہیں اس کا تجربہ بھی ہے، اپنی مرضی سے وزارتوں، اور وزیراعلیٰ بننے کی بجائے اپنے چیئرمین کو اس آزمائش سے نمٹنے دیں، ان لوگوں کی مرضی کے مطابق ٹکٹوں کی تقسیم کے موقعے پر جوہنگامہ آرائی ہوئی، وہ قوم اور آپ کے کارکنوں کے لیے قائداعظم کے فرمودات کے بالکل خلاف ہے، ان کے ایک اشارے پہ قوم چپ سادھ لیتی تھی ایک دفعہ ترکی میں ہنگامے اتنے شدید ہوگئے تھے کہ کسی طرح قابو میں نہیں آرہے تھے، تو واقفان حال بتاتے ہیں کہ سکیورٹی اہلکاروں کو کسی نے مشورہ دیا ، کہ فوراً قومی ترانہ لگا دیا جائے، قومی ترانہ لگتے ہی سکوت چھا گیا، اور مظاہرین ساکت وجامد ہوگئے، کاش ہم میں بھی ”جذبہ وطنیت “اس قدر پختہ ہو جائے، کہ عوام اور حکمران ، صرف اور صرف ملکی مفاد کو مقدم رکھیں۔

قارئین محترم، بات ذرا سنجیدہ اور روکھی ہوتی جارہی ہے، میں آپ کو ”چاچا فتی“ کا سچا قصہ سناتا ہوں، جس کو اگر آپ نہیں تو ڈاکٹر اختر شمار ضرور ”انجوائے“ کریں گے چھ فٹ لمبے تڑنگے ، جن کا نام فتح محمد تھا، لیکن محلے میں ان کو چاچا فتی کہتے تھے ، صاف ستھرے کپڑے پہننے والے، بارعب شخصیت پیشے کے لحاظ سے گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس میں ڈرائیورتھے، اور ڈیرہ غازی خان سے لاہور ان کی ڈیوٹی ہوتی تھی، لوگ کچھ روز کی تاخیر تو برداشت کرلیتے تھے، مگر ایڈوانس بکنگ کراکے ان کے ہم سفر بننے کے لیے بے قرار رہتے تھے، مجھے بھی ان کے ساتھ سفر کرنے کا کچھ بار موقعہ ملا، واضح رہے کہ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب (Single Road) ہوا کرتی تھی بس میں بالکل پورے ٹائم پہ وہ سٹیرنگ سنبھال لیا کرتے تھے، اور بالکل پائیلٹ کی طرح وہ اناﺅنسمنٹ کرتے کہ اس وقت ٹھیک آٹھ بجے ہیں، راستے میں بس مظفر گڑھ ۔ساہیوال، ملتان وغیرہ دس منٹ کے لیے رُکے گی، اگر کوئی مسافر وقت پر بس نہ چڑھ سکا تو ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے، تاہم ہم سٹیشن پر آپ کو وقت بتادیا کریں گے اور شام کو ٹھیک چھ بجے لاہور پہنچ جائیں گے، چاچا فتی مجھے نہیں معلوم کہ کتنے پڑھے لکھے تھے، مگر انہیں مطالعے کا بہت شوق تھا، اور وہ ”کمیونسٹ“ بلکہ دہریہ قسم کے تھے، شام چھ بجے پہنچتے وقت، وہ یہ نہیں کہتے تھے، کہ ”انشاءاللہ“ ٹھیک وقت پہ لاہور پہنچ جائیں گے، ایک دفعہ ان کا شدید ترین حادثہ ہوتے ہوتے بچا .... مسافروں نے بے ساختہ کہا، کہ اللہ نے بچا لیا، جسے اللہ رکھے، اسے کون چکھے۔ چاچا فتی ، نے فوراً بریک لگادی، اور کہا کہ حادثے سے تو میں نے بچایا ہے، نعوذ باللہ اللہ کو کہووہ بس چلا دے، ایک دفعہ وہ میرے خالہ زاد بھائی کے پاس آئے، ان کی ”بیٹھک“ گھر سے تھوڑے فاصلے پہ ہے، جہاں ہرکوئی آکر ان سے ملاقات کرسکتا ہے اس وقت وہ سیشن جج تھے، سلام کرکے وہ آکر ان سے کہنے لگے کہ جج صاحب آپ کا قانون کیا کہتا ہے اور اسلام کیا کہتا ہے، چڑیاں اور کبوتر تو آپ کے مذہب میں جائز ہیں کہ انہیں ذبح کرکے عیش کرو، کوے، اور چیلیں کیوں حرام ہیں، اس لیے کہ وہ الٹا آپ کے گلے پڑ جاتی ہیں، بھیڑ، اور بکریاں کیوں حلال ہیں، اس لیے کہ سرجھکائے کھڑی رہتی ہیں، شیر اور چیتے کھانا اس لیے حرام ہیں کہ وہ آپ کو کھانے کے لیے، آپ کے پیچھے پڑ جاتی ہیں، اور آپ کو جان بچانے کے لالے پڑ جاتے ہیں، اور آپ ایسے بھاگ اٹھتے ہیں کہ مڑ کے پیچھے بھی نہیں دیکھتے اس وقت میں بھائی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، ان کا فلسفہ سن کر بے ساختہ، میں اور وہ کھلکھلا کر ہنس پڑے، انہوں نے قرآن اور حدیث کی روسے اس کا اتنا مدلل جواب دیا، کہ چاچا فتی ، قائل ہوگئے، اس وقت چونکہ میں چھوٹا تھا، اس

لیے مجھے پورا جواب تو یاد نہیں .... مگر اتنا یاد ہے کہ اسلام میں کہا گیا ہے کہ کمزور قوم کی سزا بھی موت ہے، یہ مثال دینے کا مقصد یہ ہے کہ حضور کا فرمان ہے کہ کوئی باپ ، اپنے بیٹے کو تعلیم اور آداب سے بہتر کوئی تحفہ نہیں دے سکتا، آپ نے میاں نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بنایا، کہ انہوں نے اپنے بچوں کو لندن بھیج دیا، اور یہی کام آپ نے خود کیا، اگر پاکستان میں ہوتے، تو بشریٰ بی بی، جو آپ کی تربیت کرسکتی ہیں، ان کی نہ کرتیں ؟ اب بھی انہیں پاکستان واپس بلالیں۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ شیریں مزاری صاحبہ کا طرز تکلم، اور انداز نشست وبرخاست بلاشبہ مردانہ ہے، اور لندن سکول آف اکنامکس سے اور امریکہ سے پڑھی ہوئی ہیں، مگر اب تک کی کارکردگی کیا ہے، جو بندہ اپنے خاندان میں جگہ نہ بناسکے، ان کے والد محترم عاشق مزاری صاحب، مال روڈ پہ غالباً پاک عرب کمپنی کے چیئرمین تھے، مگر مزاری قبیلے کے اکابرین انہیں مزاری ماننے اور کہنے سے انکاری تھے، یقین نہ آئے، تو سابق وزیراعظم سردار شیر بازمزاری سے جن کی رہائش ، میرے گھر کے قریب ہی کینٹ میں ہے، ان سے تصدیق کی جاسکتی ہے، جو سرائیکی صوبے کے حامی اور آپ کی پارٹی کے خسروصاحب کے محسن ہیں۔ شیریں مزاری کو عورت مان کر جنرل قمر باجوہ صاحب ، کو اس کے ماتحت کردینا، میرے نزدیک محسن کشی ہے، راحیل شریف صاحب کی مونچھوں اور انداز نقل وحمل سے بھارتی حکمران ان کی ریٹائرمنٹ کی دعا مانگتے اور دن گنا کرتے تھے، رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ہمیشہ حضورﷺ کے پیچھے نماز پڑھا کرتا تھا، حتیٰ کہ کبھی اس کی تکبیر اولیٰ بھی قضا نہیں ہوئی تھی، مگر کیا اللہ تعالیٰ نے اس کا دل پھیر دیا تھا، ابوجہل بھی حضور کا سگا چچا تھا، مگر کیا وہ بدل گیا تھا، آپ کے ساتھ بھی خاصی تعداد میں عبدعنوان ٹولہ ہے جس سے آپ کو انتہائی محتاط رہنے کی شدید ضرورت ہے، اس حوالے سے آپ کو ایک بہترین مثال چودھری جعفر اقبال صاحب کی دی جاسکتی ہے، جو اس دفعہ بھی مسلسل نویں بار انتخاب میں صرف اور صرف اپنی کارکردگی کی بنیاد پہ کامیاب ہوئے ہیں ، ایک دفعہ ایک تقریب میں اتفاق سے میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، بلکہ ان کے ایک فرمانبردار بیٹے چودھری جمیل صاحب نے مجھے بٹھایا تھا، آپ یقین کریں، سابقہ اور اس وقت کے آئی جی سے لے کر ہرچھوٹا بڑا افسر آکر انہیں سلام کرتا، اور کئی تو کنی کترانے کی بجائے گھٹنے چھوتے، اگر چاچا فتی کا بیٹا فوج میں کرنل ہوسکتا ہے اور لندن کے شہزادے ہیلری اپنی فوج کے ساتھ دشمن سے لڑسکتے ہیں، تو لندن میں بیٹھے آپ کے بچے الیکشن کی عمر میں پہنچنے کے بعد اپنے وطن آئیں گے، پاکستان کے عائلی اور شرعی قانون کے مطابق اولاد باپ کی ہوتی ہے، ماں کی نہیں، خدا آپ کو کامیاب کرے، کیونکہ پاکستان دوبارہ الیکشن کرانے کا متحمل نہیں ہوسکتا .... آپ کو کیا ضرورت تھی ، چین کا نام لینے کی، غربت ختم کرنے کے لیے آپ حضور کے تربیت یافتہ حکمران، حضرت عمرؓ کا نام لے سکتے تھے، مگر دونوں صورتوں میں آپ نے ٹرمپ کو اپنا دشمن بنالیا ہے، اب بھی آپ دھرنے کی جگہ حلف اٹھانے پہ اصرار نہ کریں، اور عوام کو خوش کرنے کی بجائے اپنے اللہ کو

خوش کریں، اور اسلام آباد کی جامع مسجد میں تقریب حلف برداری کراکے عالم اسلام کے ہیروبن جائیں، آپ پہ تنقید ، تعریف اور تجویزانشاء اللہ جاری رہے گی۔ قارئین کی رائے۔ 0300-4883224


ای پیپر